Nadeem Akram retweeted
ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا گورنر آج ایک تقریب میں گیا لیکن نعرے عمران خان کے لگتے رہے ، کسی ایک بھی پاکستانی نوجوان نے نوازشریف یا زرداری کا نام تک نہیں لیا ،
پاکستان کی تاریخ میں مرنے کے بعد کوئی سیاستدان ایسے بے وقعت نہیں ہوا جیسے موجودہ حکمران زندگی میں ہی irrelevant ہو چکے ہیں ، پاکستان بدل رہا ہے
Nadeem Akram retweeted
مریم نواز شریف کا پنجاب
Nadeem Akram retweeted
William Ernest Henley, Invictus
(1875):
"It matters not how strait the gate,
How charged with punishments the scroll,
I am the master of my fate:
I am the captain of my soul."
Nelson Mandela recited this poem to fellow prisoners on Robben Island.
Try as they might, with narrower gates and longer lists of punishments, they cannot own Imran Khan's will, and they will not break him.
@oxwali
#StopRiskingKhansLife
Nadeem Akram retweeted
نئے صوبے بنانے کا کام منتخب عوامی حکومت کا ہوتا ہے ،اس وقت پاکستان میں کوئی منتخب عوامی حکومت نہیں ہے۔
جسکو عوام نے مینڈیٹ دیا اس عمران خان کو ناحق قید رکھا گیا ہے۔
Nadeem Akram retweeted
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔
Nadeem Akram retweeted
جب عدالتیں حکمرانوں کے تابع ہو جائیں تو انصاف کا فیصلہ مقدمے کی سماعت سے پہلے ہی ہو جاتا ہے۔
**جبر کی داستان**
نمبر 3: عدالتوں کو خاموش کرنا
1972 میں فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس نے مارشل لا نافذ کیا۔ اپوزیشن سینیٹر نینوی اکینو کو گرفتار کر لیا گیا۔ سپریم کورٹ نے ان کی حراست کو برقرار رکھا، جبکہ ایک فوجی عدالت نے انہیں سزائے موت سنا دی۔
21 اگست 1983 کو جلاوطنی سے وطن واپس آنے پر نینوی اکینو کو قتل کر دیا گیا۔ لیکن ان کی جدوجہد جاری رہی۔ 1986 میں عوامی مزاحمت نے مارکوس کی حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا اور کوری اکینو صدر بنیں۔
**سبق: نینوی اکینو کو کسی عدالت نے رہائی نہیں دلائی۔ ان کے عوام نے ان کی جدوجہد کو آگے بڑھایا۔**
جب ادارے ناکام ہو جائیں تو عوام کی جرات، اتحاد اور اجتماعی جدوجہد ہی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔
@oxwali
@amnesty @hrw @UNHumanRights @ICJ_org @hrcpakistan @fidh_en
#ShiftImranKhantoHospital
Nadeem Akram retweeted
مجھ پہ جو جرم ثابت ہوا، وہ وفا کا تھا!
#FreeKhalidKhursheed
Nadeem Akram retweeted
پشاور سے کراچی تک، پاکستان کی سیاسی تاریخ نے اتنی بے حسی اور دوہرا معیار شاید ہی کبھی دیکھا ہو!
ایک طرف اقتدار اور نظام کے "لاڈلے" ہیں، جن کی ایک آہ پر نجی ہسپتالوں کی رپورٹس، جاتی امرا کے وی آئی پی کمرے اور لندن کے پرآسائش آئی سی یو کے راستے کھول دیے جاتے ہیں۔ اور دوسری طرف 24 کروڑ عوام کا مقبول ترین قائد عمران خان، جس کی بینائی اور صحت کے بنیادی حقوق پر بھی پہرے بٹھا دیے گئے ہیں۔
سپریم کورٹ کا واضح حکم بھی جن کے خوف کو دور نہ کر سکا، جنہوں نے سیکیورٹی کے حیلے بہانوں سے نجی ہسپتال میں منتقلی روک کر چند گھنٹوں میں واپس جیل دھکیل دیا!
یہ قانون نہیں، یہ ایک خوفزدہ اور شکستہ پا نظام کی بوکھلاہٹ ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے: جبر سے اعصاب توڑے جا سکتے ہیں، عوامی طاقت اور نظریہ نہیں!
#خان_کو_طبی_سہولت_دو
Nadeem Akram retweeted
اللہ کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے کچھ اور سوال:
۱) جب آپ کو پتہ ہے کہ ملک ڈوبتا جا رہا ہے، غربت کے نئے ریکارڈ بن رہے ہیں اور لوگ بہت پریشان ہیں تو آپ کبھی سوچتے ہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟
۲) کبھی سوچا ہے کہ عمران خان کو قیدِ تنہائی میں کون سی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں رکھا ہے؟ کوئی ایسی رولنگ ہے نہیں ہے عدالت کی تو کس طرح عاصم منیر سے کوئی سوال نہیں پوچھتا کہ اتنی زیادہ کھلے عام قانون کی خلاف ورزی کیوں کر رہے ہیں؟
۳) عمران خان کی فیملی کو کیوں ابھی تک جیل میں رکھا ہے اور طبعی سہولیات کیوں نہیں فراہم کی جارہی ؟ اگر آپ کی فیملی میں سے کسی کے ساتھ اتنا ظلم ہوگا تو بھی چپ رہیں گے؟ کیوں ایک ڈکٹیٹر کو اجازت ہے کہ کسی عوامی لیڈر کی اور اس کے خاندان کی جان خطرے میں ڈالے۔ کسی کو کچھ ہوا تو اپنے آپ کو زمہ دار سمجھیں گے یا ضمیر جواب دے چکا ہے؟
۴) ہر کچھ دنوں میں اپنی ہی عوام کا قتل عام کرتے ہیں آپ کے ساتھی۔ کبھی پوچھا ہے کہ کیسے کر لیتے ہیں؟ ان سے دوستی رکھتے ہیں یا ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔ کبھی سوچا ہے اللہ کو کیا جواب دیں گے؟
۵) آپ میں سے کافی لوگ اعلیٰ عہدوں پر پہنچیں گے کسی دن۔ جب وقت بدلے گا اور آپ سے سوال ہوگا کہ جب ظلم عروج پر تھا تب آپ نے کچھ کیا تھا یا صرف تماشہ دیکھتے تھے؟ کوئی پوچھے گا کہ آپ نے اپنے بچوں کو قتل کی روزی کیوں کھلائی تو کوئی جواب ہوگا؟
۶) قتل عام، عورتوں اور بچوں کے ساتھ ظلم، کھلے عام قانون کو روندنا، اور عوام کے ساتھ روز ظلم کے خلاف آپ اپنے بڑوں سے سوال نہیں پوچھتے تو کیا آپ بھی گنہگار نہیں ہیں؟ اللہ نے جتنی آواز دی ہے اس کو ضائع کر کر اپنے آپ کو اللہ کی فوج کیسے کہہ لیتے ہیں؟
یہ وقت تو گزر جائے گا، کافی سارا تو گزر بھی گیا، مگر آپ کا پچھتاوا شاید کبھی کم نہ ہو! زندگی صرف سانسیں لینے کا نام نہیں ہے، اللہ نے جو کچھ دیا ہے اس امانت کو ٹھیک طرح استعمال نہیں کیا تو پھر کیا جیا!
Nadeem Akram retweeted
“پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا!
غلاموں کی کوئی زندگی نہیں ہوتی، غلام قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔
تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا!
جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ میں جیل میں بھی آزاد ہوں مگر میری قوم باہر ایک ایسی قید میں ہے جہاں نہ آزاد عدلیہ ہے نہ آزاد جمہوریت نہ ہی آزاد میڈیا۔ تمام پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا!
یہ لوگ فرعون بنے بیٹھے ہیں، جنہوں نے آپ کو غلام بنا رکھا ہے۔ پاکستانیو سن لو میری بات، آپ دنیا کے سب سے عظیم لیڈر محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہیں۔ آپ کا کلمہ ہے "لا إله إلا الله" نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللّہ کے۔ یاد رکھیں، آپ پچیس کروڑ ہیں! اگر آپ خوف کے سامنے جھُک گئے تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے، غلامی سے بہتر موت ہے، پرواز صرف آزاد لوگوں کی ہے۔ قرآن کی آیت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اللّہ ان کے خوف دور کر دیتا ہے، میں ایمان والوں سے کہہ رہا ہوں آپ نے کھڑا ہونا ہے! آزادی کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔
میں غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ چاہے کچھ بھی کر لیں میں نہ ہی جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی، اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے!
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں “یا موت یا آزادی” جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انہیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا، ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ تیاری پکڑیں!
میرا اپنی پوری قوم، اپنے کارکنان اور پارٹی قیادت کو پیغام ہے کہ آپ کا کپتان آج بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے! میں قید و بند کی صعوبتیں اس لیے برداشت کر رہا ہوں تاکہ میری قوم کو آزادی مل سکے۔ ہم نے کسی بھی صورت ظلم اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکانا۔ یاد رکھیں اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، اس کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اس ظلمت کی رات کا خاتمہ قریب ہے، انشاءاللّہ انصاف اور آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا!”
- عمران خان
#مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی
#حق_كى_جيت_ہو_گى
Nadeem Akram retweeted
Wall of Shame series for Media Touts of the illegal regime in Pakistan.
Muneeb Farooq
In addition to supporting unconstitutional acts, this person also conducted forced interview of Sheikh Rasheed.
He carried threats to Imran Khan, PTI workers and supporters while representing a fascist dictator Asim Munir. His choices of supporting fascism and defending massacres will haunt him and his generations forever.
#PakistanUnderFascism
#WallOfShame
Nadeem Akram retweeted
عاصم رجیم کا اپنی ہی عوام پر گولیاں برسانے کا سلسلہ برقرار:
ڈی چوک سے راولاکوٹ تک پاکستانی عوام لہولہان!
#PakistanUnderAsimLaw
Nadeem Akram retweeted
نورین خان کا بلڈ پریشر اچانک کیسے بڑھ گیا؟
عمران خان کا بلڈ پریشر جو عمر بھر نارمل رہا، 192 تک کیسے پہنچا؟
اور اب ڈاکٹر عظمٰی خان کا بلڈ پریشر بھی مسلسل شوٹ کر رہا ہے اور علاج نہیں مل رہا۔
یہ سب اتفاق ہے؟
#خان_کو_طبی_سہولت_دو
Nadeem Akram retweeted
یہ الفاظ مولانا فضل الرحمان کے ہیں۔۔غور سے سنیے ۔۔ دن بدلتے ہیں تو دل بھی بدل جاتے ہیں ۔
“جو تمہیں گالیاں دے وہ صدر وزیر اعظم ، وزیر اعلی اور وزیر دفاع بن جائے اور جو کہے کہ یہ ملک بھی میرا ہے اور فوج بھی میری ہے وہ آج جیل میں ہے اور اس کی پارٹی کو جلسہ کرنے کی بھی اجازت نہیں “
Nadeem Akram retweeted
سارا پاکستان لہو لہان!
یہ آیا نہیں اسے لایا گیا ہے!
#خان_کو_طبی_سہولت_دو .
Nadeem Akram retweeted
“پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا!
غلاموں کی کوئی زندگی نہیں ہوتی، غلام قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔
تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا!
جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ میں جیل میں بھی آزاد ہوں مگر میری قوم باہر ایک ایسی قید میں ہے جہاں نہ آزاد عدلیہ ہے نہ آزاد جمہوریت نہ ہی آزاد میڈیا۔ تمام پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا!
یہ لوگ فرعون بنے بیٹھے ہیں، جنہوں نے آپ کو غلام بنا رکھا ہے۔ پاکستانیو سن لو میری بات، آپ دنیا کے سب سے عظیم لیڈر محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہیں۔ آپ کا کلمہ ہے "لا إله إلا الله" نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللّہ کے۔ یاد رکھیں، آپ پچیس کروڑ ہیں! اگر آپ خوف کے سامنے جھُک گئے تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے، غلامی سے بہتر موت ہے، پرواز صرف آزاد لوگوں کی ہے۔ قرآن کی آیت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اللّہ ان کے خوف دور کر دیتا ہے، میں ایمان والوں سے کہہ رہا ہوں آپ نے کھڑا ہونا ہے! آزادی کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔
میں غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ چاہے کچھ بھی کر لیں میں نہ ہی جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی، اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے!
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں “یا موت یا آزادی” جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انہیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا، ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ تیاری پکڑیں!
میرا اپنی پوری قوم، اپنے کارکنان اور پارٹی قیادت کو پیغام ہے کہ آپ کا کپتان آج بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے! میں قید و بند کی صعوبتیں اس لیے برداشت کر رہا ہوں تاکہ میری قوم کو آزادی مل سکے۔ ہم نے کسی بھی صورت ظلم اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکانا۔ یاد رکھیں اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، اس کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اس ظلمت کی رات کا خاتمہ قریب ہے، انشاءاللّہ انصاف اور آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا!”
- عمران خان
#مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی
#حق_كى_جيت_ہو_گى




























