یو کے کچھ سال پہلے ہنگاموں میں لوٹ مار پر ایک بلینئیر کی بیٹی کو سب سے زیادہ سزا دی ہوئی۔
وجہ اس کا معاشی/ معاشرتی سٹیٹس تھا۔
ایسے ہی ہادی اور ایمان نے کار سرکار میں مداخلت کر کے قانون اپنے ہاتھ میں لیا۔
جسے لگتا ہے سزا زیادہ ہے، وہ پولیس والے کی وردی کو ہاتھ لگا کہ دیکھ کے۔
If this fails us, let it be.
We have a country to run. The couple knew what they were doing when they assaulted policemen and removed barriers.
They were there to provide security protocol to visiting team. What if the team was attacked due to this?
Amir Rasheed retweeted
بیرئیر ہٹانے کا جرم نہی سکیورٹی پروٹوکول کمپرومائز کرنے کا جرم ۔۔ وہاں کھڑے سینکڑوں لوگوں کو اکسانے کا جرم ریاستی مہمانوں کی سکیورٹی کمپرومائز کرنے کا جرم ۔ کار سرکار میں مداخلت کا جرم ۔۔ بلاشبہ صحافت غلاظت کا ڈھیر ہے
ایمان اور ہادی کے خلاف بئیر ئیر ہٹانے کے “جُرم” میں دس دس سال کی سزا قابل مذمت اور افسوسناک ہے۔ دوسری جانب عمران خان کی بہنوں کی قید اور دوران حراست نورین نیازی کا عارضہ دل بے حد افسوسناک ہے۔ سیاست میں ذاتی عناد شامل نہیں ہونا چاہئیے۔ کل مریم نواز صاحبہ جیل میں تھیں اور آج خان صاحب کی بہنیں۔مانا کہ سیاست بے رحم ہے مگر کچھ خُدا کاخوف ضرور رکھیں ۔
Amir Rasheed retweeted
اُڑی بابا:
پولیس بیرئیر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت پر جاگیردارنی ایمان مزاری اور اس کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو 10 ٫ 10 سال قید بامشقت کی سزائیں 😎
یہ میاں بیوی بہت بڑے بدمعاش بنے پھرتے تھے
آئے روز کوئی نہ کوئی تماشہ کھڑا کیا ہوتا تھا
انہیں رگڑا لگنا ہی چاہئے تھا
Amir Rasheed retweeted
متبادل: ایلیٹ کے غم، ایلیٹ کے سنگ! ایمان اور ہادی کے خلاف اس جرم کی سزا شاید معاف کر دی جائے گی، مگر ایلیٹ کے لیے ایلیٹ کے دل میں ابھرتا دکھ دیکھنا پرلطف ہے۔ ان دونوں نے زور زبردستی کر کے کار سرکار میں مداخلت کی جب کہ باقی تمام دنیا اس بیرئیر پر رکی ہوئی تھی۔ اس "جرم" سے زیادہ اس خیال کی اہمیت ہے جس کے تحت ایلیٹ خود کو کسی ضابطے کے تحت محسوس نہیں کرتی اور جب ایسی سمبالک سزائیں ملتی ہیں تو اپنی طرز کی دوسری ایلیٹس کی آنتوں میں دکھ، درد اور تکلیف شروع ہو جاتی ہے۔ نیز، اگلی مرتبہ دل کی بیماری کو یہ نوٹس ملنا چاہیے کہ جیل میں موجود کسی بندے پر نازل نہ ہو۔
ایمان اور ہادی کے خلاف بئیر ئیر ہٹانے کے “جُرم” میں دس دس سال کی سزا قابل مذمت اور افسوسناک ہے۔ دوسری جانب عمران خان کی بہنوں کی قید اور دوران حراست نورین نیازی کا عارضہ دل بے حد افسوسناک ہے۔ سیاست میں ذاتی عناد شامل نہیں ہونا چاہئیے۔ کل مریم نواز صاحبہ جیل میں تھیں اور آج خان صاحب کی بہنیں۔مانا کہ سیاست بے رحم ہے مگر کچھ خُدا کاخوف ضرور رکھیں ۔
Yes, it will because now strong, powerful and educated people who know the law are punished severely.
Human rights lawyers are not exception and they should refrain from criminal activities.
🚨🚨#BREAKING: In a highly controversial and sham trial anti terrorism court sentences 10 years imprisonment each to #Pakistan’s most devoted and prominent human rights defenders @ImaanZHazir and @AdvHadiali. Pakistani state continue punishing the globally recognised couple for their human rights work and domestically loved by all marginalised segments of the society for representing them probono.
The punishment is correct as both are lawyers themselves, being officers of the court, they were fully aware of the consequences when the interfered against the protocol & assaulted policeman.
Ten years gor imaan and hadi for 'removing a barrier'. A decade in jail is what rapists usually get dawn.com/news/2032728
عام شہری یہ کرتا تو عرصہ ہوۓ سزا یافتہ ہو چکا ہوتا اور میڈیا میں خبر تک نہ ہوتی
کرکٹ ٹیم کا پروٹوکول تھا، پسند نہیں بھی تو بھی انتظار کرتے، جو کیا وہ کار سرکار کیں مداخلت ہی تھی
پولیس والے نے بیرئیر مارا، اور ہادی نے پولیس والے کو
وردی میں موجود اہلکار ہی ریاست ہے
🚨🚨
یہ بیرئیر ہٹانے پر انسانی حقوق کے وُکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ دہشتگرد قرار اور دس سال سے زائد قید کی سزا، واضح رہے کہ وڈیو میں دونوں کے ہاتھ میں اسلحہ چھوڑیئے کوئی چھڑی بھی نظر نہیں آرہی لیکن پولیس اہلکار ضرور ایمان مزاری کو بیرئیر مار کر زخمی کرتا ہے۔
دورِ باطل میں حق پرستوں کی
بات رہتی ہے، سر نہیں رہتے
Amir Rasheed retweeted
سوال:- کیا کسی کو تھپڑ مارنا جرم ہے کہ نہیں؟
جواب:- بالکل جرم ہے۔
سوال:- جب تھپڑ مارنا جرم ہے تو تھپڑ مارنے والا مجرم ہے کہ نہیں؟
جواب:- بالکل مجرم ہے
۔
۔
اگر ایک فرد جرم کرتا ہے تو مظلوم سے یہ جرم کروانا کیسے انصاف کہلا سکتا ہے؟
بات تھپڑ سے آگے لے جاتےہیں کوئی شخص کسی بیگناہ+
Amir Rasheed retweeted
Now you can play Subway Surfers on Hyderabad’s roads!
.
Watch our documentary on Sindh on Raftar’s YouTube channel.
یہاں بغیر ہیلمیٹ کے موٹر سائکل چلانے پر معافی نہیں مل رہی لیکن نورین لغاری اور بلوچ دہشت گرد قوم کی بیٹیاں سمجھی جاتی ہیں
پھر بھی کُچھ لوگوں کو ڈومیسائل کا فرق پنجاب کا ہی نظر آتا ہے
یہ تصویر اُس وقت کی ہے جب بی ایل ایف کے بانی رہنما اور سرغنہ بھارتی پالتوں دہشت گرد اللہ نذر کی اہلیہ سرحد پار کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں آئی تھیں۔ ریاستی اداروں نے بلوچ روایات اور اسلامی تعلیمات کا پاس رکھتے ہوئے ان کی عزت و حرمت کا خیال رکھا اس وقت کے وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے ریاست کی طرف سے ان کے سر پر چادر چڑھائی اور انہیں رہا کر دیا۔ یہ ہے اصل بلوچ روایات کا احترام، جہاں اختلاف اور دشمنی کے باوجود خواتین کے وقار کو پامال نہیں کیا جاتا۔
مگر آج بلوچ ناموس اور حقوق کے نام پر مسلح جدوجہد کا دعویٰ کرنے والے ڈاکٹر اللہ نذر جیسے رہنماؤں سے سوال ہے کہ بلوچ بیٹیوں کے ہاتھوں میں ہتھیار تھما کر انہیں پہاڑوں میں مسلح سرگرمیوں کی طرف دھکیلنا کون سی بلوچ روایات ہیں؟
ریاستی اداروں نے مشکل حالات میں بھی خواتین کے احترام کے اصول کو مقدم رکھا مگر افسوس الہ نظر اور بشیر زیبِ جیسے بھارتی ٹکڑوں پر پلنے والے سفاک درندہ جو صبح شام بلوچ حقوق اور بلوچ ناموس کا چورن بیچتے ہیں چند ٹکوں کے عیوض بلوچ ناموس کو سربازار نیلام کرتے پھر رہے ہیں۔
#Balochistan
لاہور جیمخانہ کے مسلے کا حل بہت آسان ہے.
تمام ممبران اسمبلی اور انکی فیملیز کو بغیر انتظار کے ممبر شپ کی اجازت مل جائے تو ایک دن میں یہ مسئلہ حل ہو جائے گا.
گیلانی خاندان کے چشم و چراغ نے لاہور جمخانہ کلب کو اربوں روپے مالیت کی قیمتی سرکاری زمین کوڑیوں کے بھاؤ دینے کے حق میں تاویلیں پیش کرکے جی حضوری کی نئی مثال قائم کر دی۔
موصوف نے نصیحت فرمائی کہ اس معاملے پر جذباتی دلائل نہ دیے جائیں، مگر جواب بھی خوب ملا کہ روٹی، کپڑا اور مکان بھی تو ایک جذباتی نعرہ تھا!
تین ارب روپے کا سرپلس رکھنے والے اشرافیہ کے اس کلب کو تقریباً 100 ایکڑ قیمتی زمین انتہائی معمولی نرخوں پر دینے کا آخر کیا جواز ہے؟
لاہور جمخانہ کلب کی تاریخ طبقاتی امتیاز سے داغ دار رہی ہے، اور آج بھی وہاں "Maids, Drivers and Servants Not Allowed" جیسے امتیازی الفاظ آویزاں ہیں۔
سوال صرف سرکاری زمین کی بندربانٹ کا نہیں، بلکہ اس اشرافیہ نواز سوچ کا بھی ہے جو عوامی وسائل پر مراعات یافتہ طبقے کا حق تسلیم کرتی ہے، مگر عام آدمی کے بنیادی حقوق کی بات کو جذباتیت قرار دیتی ہے۔
Nice joke. Send next.
🚨 Barcelona have been fined €602 following Atlético Madrid's complaint to the RFEF regarding how the Julián Alvarez saga was handled.
The fine was imposed under Article 133 as failure to comply with orders, instructions, agreements, or regulatory obligations.
❗️ Barcelona plan to appeal, reports @elchiringuitotv.
جس دن ریاست اس کو مارے گی، جشن کا سماں ہو گا!
بشیر زیب بلوچ نے ہتھیار کیوں اٹھائے؟
بشیر زیب نے 2014 میں اپنی تحریر میں اعتراف کیا کہ وہ ڈاکٹر اللہ نذر اور ان کے نظریے سے متاثر ہوئے تھے اور مسلح جدوجہد کرنا چاہتے تھے۔ اسی تحریر کے مطابق انہوں نے پہلے اللہ نذر کی تنظیم بی ایل ایف میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی، لیکن خاطر خواہ جواب نہ ملنے پر بی ایل اے کا انتخاب کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلح راستے کا انتخاب ان کے سیاسی و نظریاتی رجحان سے منسلک تھا۔
ان کیساتھ بھی کوئی محرومی کوئی ریاستی جبر نہیں ہوا تھا ۔ بلکہ شدت پسند نظریات نے ان کی زہن سازی کی ۔ بشیر زیب طلبہ سیاست سے وابستہ رہے اور بی ایس او آزاد کے چیئرمین بھی رہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بشیر زیب دور طالعلمی سے ہی مسلح تنظیموں کیساتھ رابطے میں تھے ۔
بشیر زیب نے 2014 میں شائع ہونے والی اپنی تحریر آزادی کی شاہراہ پر مختصر سفر: کچھ تضاد میرے سامنے میں اس کا اعتراف بھی کیا ہے ۔ ان کے نظریات بھی شدت پسند قوم پرستی پر مشتمل ہیں اور یہ لفظ پنجابی سے شدید نفرت کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بی ایل اے شناختی کارڈ پر پنجاب کا پتا دیکھ کر ہر ایک شخص کو قتل کردیتی ہے چاہے وہ بلوچ ہی کیوں نہ ہو ۔
































