Muhammad Arif retweeted
غیر مسلم ہونے کے باوجود تجاوزات کے خلاف کارروائی میں ان کا طریقۂ کار دیکھیں اور ایک ہم ہیں جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جنت کے ٹھیکے دار بنے پھرتے ہیں جیسے جنت کی کنجیاں ہمارے ہاتھ میں ہوں۔
اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ عدل، رحم، اخلاق اور انسان کی عزت و تکریم کا بھی نام ہے۔ اصل پہچان مذہبی دعووں سے نہیں بلکہ ہمارے کردار اور عمل سے ہوتی
ملیے این سی سی آئی ملتان کے نئے انچارج سے
انکا "سائبر پیٹرولیم" کا یونٹ جو آپکے "سوشل آف میڈیا" کو مانیٹر کر رہا.🤦
ماشاءاللہ کیسے کیسے ہیرے چن چن کر لگائے ہیں۔
کوئی بتا سکتا ھے کہ اس بندے کی خاندان شریفیہ کے لیے کیا خدمات ہیں۔
Muhammad Arif retweeted
دوسروں کے لیے آسانی
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا»
“آسانی پیدا کرو، سختی نہ کرو، خوشخبری دو اور نفرت نہ دلاؤ۔”
(صحیح البخاری، حدیث 69؛ صحیح مسلم، حدیث 1734)
ہر انسان اپنی زندگی میں کسی نہ کسی مشکل سے گزر رہا ہوتا ہے، چاہے وہ اپنے چہرے پر مسکراہٹ ہی کیوں نہ سجائے ہوئے ہو۔
ایسے میں ہمارے الفاظ کسی کے لیے مزید بوجھ بن سکتے ہیں یا اس کے دل کو سہارا دے سکتے ہیں۔
کوشش کرو کہ تم سے ملنے والا انسان تمہارے رویے کی وجہ سے خود کو مزید تنہا محسوس نہ کرے۔
جس موسمِ گرما میں شہزادی ڈیانا کی موت ہوئی، اس نے اپنی ایک سہیلی سے کہا تھا کہ اس کی زندگی میں صرف ایک ایسا شخص ہے جو کبھی اسے دھوکا دے کر اس کی ذاتی باتیں فروخت نہیں کرے گا۔ انتیس سال گزرنے اور بے شمار دولت کی پیشکشیں ہونے کے باوجود، اس شخص نے آج تک ایسا نہیں کیا۔ ڈیانا کے اردگرد موجود تقریباً ہر دوسرے شخص نے اس کی کہانی سے پیسہ کمایا۔
اس کے بٹلر نے مبینہ طور پر ایک اخبار کو اپنی کہانی تقریباً تین لاکھ پاؤنڈ میں فروخت کی جبکہ فوج کے اس افسر نے بھی، جس سے ڈیانا محبت کرتی تھی - اس کے محبت بھرے خطوط ایک کروڑ پاؤنڈ میں فروخت کرنے کی کوشش کی - اس افسر کا نام جیمز ہیوٹ تھا - 2003ء میں اس کے پاس ڈیانا کے 64 خطوط موجود تھے - ان میں سے بہت سے خطوط اس زمانے میں لکھے گئے تھے جب وہ خلیجی جنگ کے دوران ڈیوٹی پر تعینات تھا - اطلاعات کے مطابق، ڈیانا نے ایک مرتبہ اس سے کہا تھا کہ وہ یہ خطوط جلا دے -
ہیوٹ اس سے پہلے بھی 1994ء میں شائع ہونے والی کتاب Princess in Love میں تعاون کر چکا تھا - جس میں ڈیانا کے ساتھ اس کے معاشقے کی پوری کہانی بیان کی گئی تھی - یہ کتاب ڈیانا کی زندگی ہی میں شائع ہوئی تھی اور وہ اسے پڑھ بھی سکتی تھی۔
ان خطوط کے لیے کبھی ایک کروڑ پاؤنڈ کی رقم ادا نہیں کی گئی - اسی سال ستمبر تک بہترین پیشکش صرف چھ لاکھ پاؤنڈ رہ گئی تھی - پھر 2024ء میں اطلاعات سامنے آئیں کہ ان خطوط کو ایک امریکی نیلام گھر کے ذریعے دس لاکھ ڈالر تک میں فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی - اس سے پہلے ہیوٹ یہ خطوط قرض حاصل کرنے کے لیے ضمانت کے طور پر بھی رکھ چکا تھا - لیکن جس شخص پر ڈیانا کو اعتماد تھا - وہ ایک ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر حسنات خان تھے -
دونوں کی ملاقات 27 اگست 1995ء کو ہوئی - حسنات خان کو آج بھی یاد ہے کہ وہ پیر کا دن تھا اور برطانیہ میں سرکاری تعطیل تھی - ڈیانا ہسپتال میں اپنے ایک مریض کی عیادت کے لیے آئی تھیں - ڈیانا کی سوانح عمری لکھنے والے کرسٹوفر اینڈرسن کے مطابق، ڈیانا حسنات خان کو آپریشن کرتے ہوئے دیکھنے کے لیے سیاہ رنگ کی وِگ اور دھوپ کا چشمہ پہن کر چپکے سے ہسپتال پہنچ جاتی تھیں تاکہ کوئی اسے پہچان نہ سکے -
وہ ان کے خاندان سے ملنے کے لیے لاہور بھی گئی - یہاں تک کہ اس نے اپنے بٹلر سے ایک پادری کے بارے میں دریافت کروایا کہ آیا اس کی اور حسنات خان کی شادی ہو سکتی ہے یا نہیں - کئی سال بعد حسنت خان نے خود بھی اس بات کی تصدیق کی - لیکن حسنات خان یہ بھی سمجھتے تھے کہ ڈیانا سے شادی کرنے کی کیا قیمت چکانا پڑ سکتی ہے -
اجنبی لوگ انہیں ڈاک کے ذریعے ایسی تصاویر بھیجتے تھے جن میں ان کی تصویر کاٹ کر لگائی گئی ہوتی اور ان کی گردن کے گرد پھندہ بنا ہوتا - ان کا خیال تھا کہ 1996ء ہی سے ان کے صوتی پیغامات یعنی وائس میل ہیک کیے جا رہے تھے - ڈیانا کی موت کی تحقیقات کرنے والی عدالتی کارروائی میں اپنے بیان کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ ڈیانا کے ساتھ زندگی گزارنا ان کے لیے جہنم بن جاتا کیونکہ وہ جس شخصیت کی مالک تھیں - اس کے ساتھ یہ سب ہونا تقریباً ناگزیر تھا - دونوں کے تعلقات 1997ء کے موسمِ گرما میں ختم ہو گئے۔
اس کے چند ہفتے بعد ڈیانا پیرس میں ایک کار حادثے میں ہلاک ہو گئیں - حسنات خان ان کے جنازے میں شریک ہوئے - اس کے بعد ڈیانا کی زندگی اور موت سے پیسہ کمانے کا سلسلہ باقاعدہ عروج پر پہنچ گیا - پال بریل کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کی بیس لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوئیں - ڈیانا کے بیٹوں، شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری نے اس کتاب کو ’’سرد مہری پر مبنی اور ناقابلِ معافی دھوکا‘‘ قرار دیا -
2021ء میں ہونے والی ایک آزادانہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ صحافی مارٹن بشیر نے ڈیانا کا مشہور Panorama انٹرویو حاصل کرنے کے لیے ان کے بھائی کو جعلی بینک اسٹیٹمنٹس دکھائے تھے - دوسری طرف حسنات خان نے اس مصنف سے بات کرنے سے انکار کر دیا جس نے ان دونوں کے تعلقات پر پوری کتاب لکھی تھی - حسنات خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وہ کتاب کبھی پڑھی ہی نہیں - 2013ء میں جب نومی واٹس کی فلم میں یہ تاثر دیا گیا کہ حسنات خان نے فلم کی منظوری دی تھی تو انہوں نے اس دعوے کو صریح جھوٹ قرار دیا -
حسنات خان نے اپنی خاموشی صرف چند مواقع پر توڑی اور ان مواقع پر بھی ان کا مقصد ڈیانا کا دفاع کرنا تھا - انہوں نے کہا کہ مارٹن بشیر نے ڈیانا کی وہی خوبی ان کے خلاف استعمال کی جس کی وجہ سے عوام ان سے محبت کرتے تھے: ان کی جذباتی کمزوری اور دوسروں کے سامنے اپنے احساسات کا اظہار کرنے کی صلاحیت۔ اس موسمِ گرما میں ڈیانا نے اپنی سہیلی سے جو بات کہی تھی، وہ بالکل سادہ تھی: ’’ہر کوئی مجھے دھوکا دے کر بیچ دیتا ہے۔ حسنات وہ واحد شخص ہے جو کبھی مجھے دھوکا دے کر نہیں بیچے گا۔‘‘
منقول شد -
Muhammad Arif retweeted
Replying to @TheRealPCBMedia
@TheRealPCBMedia I am Special Artist Umer .I wish to gift my handmade paintings to England players as a token of love and respect because they are our honoured guests in Pakistan. Please give me a chance at Gaddafi Stadium to showcase my art. Your support can change my life
ملیحہ لودھی کے قلم سے
امریکہ کی اعلیٰ فوجی قیادت اور محکمۂ خارجہ کے حکام کے ساتھ ایک ملاقات میں، جس میں، میں نے بھی واشنگٹن میں پاکستان کی سفیر کی حیثیت سے شرکت کی، ہمارے امریکی ہم منصبوں نے پیشکش کی کہ اگر پاکستان اپنے جوہری پروگرام کو منجمد کرنے اور افزودگی کی حد کی تصدیق کے لیے ایک مرتبہ معائنے کی اجازت دینے پر رضامند ہو جائے تو ہمارا تمام فوجی سازوسامان، بشمول ایف سولہ طیارے، ہمیں واپس کر دیا جائے گا۔
*By Maleeha Lodhi_*
In one meeting with top US military and State Department officials, which I also attended as Pakistan’s ambassador to Washington, our American interlocuters offered to release all our equipment including the planes if Pakistan agreed to freeze its nuclear programme and allow a one-time inspection to verify a cap on enrichment. Gen Kakar listened patiently and then politely told his hosts:_
_*“Gentlemen, I come in friendship but we in the East do not measure our relationship in planes and tanks. You can keep our F16s and our money. Our national security is non-negotiable.”*
https://www.dawn.co8m/news/1910469/the-nuclear-factor
*UNDOUBTEDLY A GREAT ARMY CHIEF GENERAL KAKAR_*
۔ . ۔ *꧁🌹﷽
_*🌺اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه💐*
"
*جو دفتر، فیکٹری یا کسی اور جگہ میں آپ کا ماتحت ہے۔۔۔*
*وہ اپنے گھر کا سربراہ بھی ہے۔۔۔*
*لہذا اخلاقیات کا خیال رکھا کریں۔۔۔!!!*
۔ . *🌻☕*_"
جماعت اسلامی، حافظ نعیم کی پیٹرول کی قیمت کم کروانے کے لئے شہباز شریف سے ملاقات،
کمیٹیاں بنانے پر اتفاق کروا کر حافظ صاحب واپس تشریف لے آئے۔
🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣
جو مجھ میں بولتا ہے میں نہیں ہوں
یہ جلوہ یار کا ہے میں نہیں ہوں
علی بولے درِ خیبر اُلٹ کر
یہ شانِ مصطفیٰ ہے میں نہیں ہوں
میرے پردے میں آ کر اور کوئ
تماشا کر رہا ہے میں نہیں ہوں
کہا منصور نے سولی پہ چڑھ کر
انا الحق کی صدا ہے میں نہیں ہوں
جو میں ہوتا۔ خطا مجھ سے ہوتی
مجھے ڈر کاہے کا میں نہیں ہوں
میری آنکھوں کی پتلی میں تو دیکھو
وہی جلوہ نما ہے میں نہیں ہوں
منقول
Muhammad Arif retweeted
جی ٹی روڈ کا سب سے بڑا عذاب -
واش روم !
مجھے کام کے سلسلے میں پورے پاکستان میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ کبھی موٹروے، کبھی جی ٹی روڈ، کبھی بس، کبھی کار - جو سواری مل جائے۔
موٹروے پر پھر بھی گزارہ ہے، کچھ جگہوں کو چھوڑ کر آپ کو صاف ستھرے واش روم مل جاتے ہیں۔
*لیکن اصل اذیت ہے جی ٹی روڈ پر !
لاہور سے راولپنڈی، لاہور سے ملتان، ساہیوال، راولپنڈی سے مانسہرہ، گلگت، سکردو، دیر، چترال - آپ جس بھی روٹ پر چلے جائیں، راستے میں جو واش روم ملتے ہیں، اللہ معاف کرے، وہاں جا کر جان نکل جاتی ہے۔
نہ صفائی، نہ پانی، نہ دروازہ ٹھیک، بدبو ایسی کہ الٹی آ جائے۔ اور ستم یہ کہ یہی ہوٹل آپ سے کھانے کا 2000 کا بل لیتے ہیں، چائے کا 150 لیتے ہیں، اور کچھ جگہوں پر واش روم استعمال کرنے کے الگ 50 روپے بھی لے لیتے ہیں۔ پیسے لینے میں شرم نہیں آتی، صفائی رکھنے میں موت آتی ہے۔
میری حکومتِ پاکستان، موٹروے پولیس، فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ سے گزارش ہے:
خدارا اس مسئلے پر نظرِ ثانی کریں!
1. جتنے بھی ہائی وے پر ہوٹل ہیں، ان کے لیے صاف واش روم لازمی قرار دیا جائے۔
2. باقاعدہ چیکنگ ہو، جرمانہ ہو۔
3. خواتین اور بچوں کے لیے الگ اور صاف واش روم کا انتظام ہو۔
یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے، صرف تھوڑی سی انسانیت اور ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ مسافر آپ کے مہمان ہیں، انہیں عزت دیں۔
اگر آپ بھی اس اذیت سے گزرے ہیں تو اس پوسٹ کو شیئر کریں، شاید کسی صاحبِ اختیار تک بات پہنچ جائے۔
#GT_Road #Pakistan #TravelIssues #CleanPakistan
Muhammad Arif retweeted
Replying to @ArifRetd
do not worry, Pakistanis will only complain for the shortage of such "facilities"....
"
*مٹی سے مٹی ہونے کے درمیانی وقت کو زندگی کہتے ہیں۔۔۔*
*اس مختصر وقت میں جو اللہﷻ کو راضی کر گیا وہ بقاء پا گیا۔۔۔!!!*
۔ . *🌻☕*_"
A USEFUL ADVICE FOR SENIOR CITZENS
---
*ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے افراد کیلئے ایک بڑا مفید مشورہ - ضرور سنیں*
کیا آپ جانتے ہیں کہ ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں روزانہ تقریباً دس گولیاں کھانا عام بات ہو گئی ہے؟
میرے والد کو ہی دیکھ لیں۔
ان کے دل کے ڈاکٹر نے انہیں چار گولیاں دی ہوئی ہیں،
ان کے شوگر کے ڈاکٹر نے انہیں انسولین اور دوائیاں دی ہوئی ہیں،
اور پیٹ اور ہڈیوں کے ڈاکٹروں نے اپنی الگ دوائیاں دی ہوئی ہیں۔
ان سب کو جمع کریں تو وہ روزانہ تقریباً بیس گولیاں کھا رہے ہیں۔
لیکن بات یہ ہے کہ یہ ایسا نہیں ہے کہ یہ ایک دن میں ہوا ہو۔
یہ سالوں میں آہستہ آہستہ ہوا ہے۔ ہر بار جب وہ کسی ڈاکٹر کے پاس گئے، ایک نئی دوا لکھ دی گئی۔
اور عام طور پر میں نے دیکھا ہے کہ ایک ڈاکٹر دوسرے ڈاکٹر سے بات نہیں کرتا۔ اس لیے دوائیاں جمع ہوتی جاتی ہیں۔
اس حالت کو جب ایک بوڑھا شخص کئی سالوں تک بہت ساری دوائیاں کھاتا ہے، تو اسے *پولی فارمیسی (Polypharmacy)* کہتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ کئی بار یہ دوائیاں ایک دوسرے کے ساتھ ری ایکٹ کرتی ہیں۔
ایک دوا دوسری دوا کے اثر کو ختم کر دیتی ہے۔
یا اس کا سائیڈ ایفیکٹ جسم پر آ جاتا ہے، جسے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بڑھاپے کی وجہ سے ہو رہا ہے، لیکن وہ دراصل دوا کی وجہ سے ہوتا ہے۔
تو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟
سال میں ایک بار آپ کو چاہیے کہ آپ ساری دوائیوں کی لسٹ لے کر کسی ایک اچھے فزیشن کے پاس جائیں، بہتر ہو اگر وہ جیریاٹریشن (بوڑھے افراد کا ماہر ڈاکٹر) ہو۔
وہ آپ کی دوائیوں کی پوری لسٹ دیکھ کر اندازہ لگائے گا کہ:
کیا ہم کچھ دوائیاں بند کر سکتے ہیں؟
کیا ہم دوائیوں کی تعداد کم کر سکتے ہیں؟
کیا دوا نہ دینا، ایک نئی دوا دینے سے بہتر آپشن ہے؟
طب میں اس شعبے کو *ڈی-پریسکرائبنگ (De-prescribing)* کہتے ہیں۔ اور یہ بوڑھے مریض کی مجموعی دیکھ بھال کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا دوا لکھنا۔
کسی نے جان بوجھ کر اتنی ساری دوائیاں نہیں لکھیں۔ یہ ایک ایک کر کے جمع ہوتی گئیں۔ لیکن سال میں ایک بار، کم از کم ایک بار، ساری دوائیوں کا جائزہ ضرور لینا چاہیے اور اس کا جائزہ لینا چاہیے۔
*- ڈاکٹر سنجے اروڑہ*
*چائنہ میں چھتر مارنے والی مشین ۔ وقت کی بچت ۔ ویڈیو دیکھ کر غریب عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ اس سے وقت کی بچت ہوگی ۔*😂😃
عسکری حکمت عملی میں 1 ہنگامی تبدیلی:
عقرباء کے میدان میں پہلے ہولناک تصادم کے بعد اسلامی لشکر میں شدید انتشار پھیل چکا تھا۔ مسیلمہ کذاب کے 40000 جنگجوؤں کے سیلاب نے مدینہ کے لشکر کو پیچھے دھکیل دیا تھا۔ اسی نازک ترین لمحے میں سپہ سالار خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے 1 انتہائی کٹھن لیکن تزویراتی فیصلہ کیا۔ انہوں نے تمام قبائل کو 1 دوسرے سے الگ ہونے کا حکم دیا تاکہ ہر قبیلہ اپنے پرچم تلے لڑے اور یہ واضح ہو سکے کہ دشمن کس سمت سے دراندازی کر رہا ہے۔ اس 1 فیصلے نے قبائلی غیرت اور مسابقت کے جذبے کو 1 نئی آگ دے دی۔ بکھرا ہوا لشکر دوبارہ منظم ہوا اور مجاہدین نے موت کی بیعت کر کے تلواروں کی مٹھیاں مضبوطی سے تھام لیں۔ اب یہ محض 1 روایتی جنگ نہیں تھی، بلکہ ریاستِ مدینہ کی بقا کی 1 فیصلہ کن جدوجہد تھی۔
دوبارہ صف بندی کے بعد مہاجرین اور انصار نے 1 ایسا جوابی دھاوا بولا جس نے بنو حنیفہ کے اعصاب ہلا کر رکھ دیے۔ انصار کے علمبردار ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ شہید نے اپنے لیے 1 گڑھا کھودا اور اس میں کھڑے ہو گئے تاکہ پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ ہی نہ بچے۔ مہاجرین کے علمبردار سالم مولی ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ شہید نے پرچم تھامے ہوئے دادِ شجاعت دی یہاں تک کہ وہ شدید زخمی ہو کر شہید ہو گئے۔ زید بن خطاب رضی اللہ عنہ شہید نے مسیلمہ کے سب سے خطرناک کمانڈر نہار الرجال کو 1 طویل دست بدست لڑائی کے بعد واصل جہنم کیا، جو خود بھی پہلے مسلمان تھا مگر مرتد ہو کر مسیلمہ کا دست راست بن چکا تھا۔ اس 1 کامیابی نے بنو حنیفہ کی صفوں میں 1 گہری نفسیاتی دراڑ ڈال دی۔
اسلامی لشکر کے اس بے جگری اور مسلسل دباؤ کے سامنے بنو حنیفہ کا 40000 کا دیوہیکل لشکر بالآخر ٹوٹنے لگا۔ مسیلمہ کذاب کو جب اپنی شکست واضح نظر آنے لگی تو اس نے اپنے جنگجوؤں کو 1 وسیع اور اونچی دیواروں والے باغ کی طرف پسپا ہونے کا حکم دیا، جسے 'حدیقۃ الرحمٰن' کہا جاتا تھا۔ حریف فوج تیزی سے اس باغ میں داخل ہوئی اور اندر سے لوہے کے بھاری دروازے بند کر لیے۔ یہ باغ 1 ناقابل تسخیر قلعہ بن چکا تھا جہاں سے بنو حنیفہ کے تیر اندازوں نے باہر موجود اسلامی لشکر پر تیروں کی بارش شروع کر دی۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بخوبی اندازہ تھا کہ اگر اس محاصرے نے طول پکڑا تو دشمن دوبارہ منظم ہو سکتا ہے، اس لیے اس لوہے کے دروازے کو فوری کھولنا ناگزیر تھا۔
اس اعصاب شکن محاصرے کے دوران 1 ایسا واقعہ پیش آیا جو عرب کی عسکری تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔ براء بن مالک رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہوں نے مجاہدین کو 1 حیران کن پیشکش کی کہ انہیں 1 ڈھال پر بٹھا کر نیزوں کی مدد سے باغ کی اونچی دیوار کے اوپر سے اندر پھینک دیا جائے۔ یہ 1 یقینی موت کی طرف چھلانگ تھی کیونکہ اندر ہزاروں بپھرے ہوئے دشمن موجود تھے۔ ساتھیوں نے ہچکچاہٹ کے بعد انہیں دیوار کے پار پھینک دیا۔ براء رضی اللہ عنہ سیدھے دشمن کے ہجوم میں گرے اور انہوں نے تن تنہا تلوار چلاتے ہوئے دروازے کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ ان کے جسم پر 80 سے زائد تلواروں اور تیروں کے زخم آئے، لیکن انہوں نے اپنی جان پر کھیل کر باغ کا بھاری دروازہ اندر سے کھولنے میں کامیابی حاصل کر لی۔
دروازہ کھلتے ہی اسلامی لشکر 1 بپھرے ہوئے طوفان کی طرح باغ کے اندر داخل ہو گیا۔ یہ کھلے میدان کی جنگ نہیں تھی بلکہ 1 محدود جگہ پر ہونے والا ہولناک دست بدست تصادم تھا، اسی لیے تاریخ میں اس باغ کا نام 'حدیقۃ الموت' (باغِ موت) پڑ گیا۔ خون اس قدر بہا کہ باغ کی مٹی کیچڑ بن گئی۔ اس گھمسان میں ابو دجانہ رضی اللہ عنہ شہید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا سرخ رومال باندھ کر بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ دروازہ ٹوٹنے کے وقت اور اندر داخل ہونے کی کشمکش میں انہوں نے اپنے جسم کو ڈھال بنا کر کئی ساتھیوں کو بچایا اور زخموں سے چور ہو کر 1 عظیم مجاہد کی طرح جامِ شہادت نوش کیا۔
باغ کے اندر لاشوں کے ڈھیر لگتے جا رہے تھے۔ اسی دوران وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ کی نظر مسیلمہ کذاب پر پڑی جو 1 دیوار کے قریب کھڑا اپنے لوگوں کو لڑنے پر اکسا رہا تھا۔ وحشی رضی اللہ عنہ نے اپنا وہی مشہور نیزہ پوری طاقت سے پھینکا جو مسیلمہ کے جسم کے پار ہو گیا۔ عین اسی لمحے 1 انصاری صحابی نے آگے بڑھ کر اپنی تلوار سے اس کے سر پر وار کیا۔ مسیلمہ کے گرتے ہی بنو حنیفہ کا جنگی جنون اور جھوٹی عقیدت دونوں دم توڑ گئے۔ باغ کے اندر موجود ہزاروں جنگجو مارے گئے۔ اس پوری جنگ میں دشمن کے تقریباً 21000 افراد ہلاک ہوئے جبکہ اسلامی لشکر کے 1200 مجاہدین نے جام شہادت نوش کیا، جن میں 70 سے زائد جلیل القدر حفاظ قرآن بھی شامل تھے۔ یہ اسلامی تاریخ کی سب سے فیصلہ کن فتح تھی جس نے فتنہ ارتداد کی کمر ہمیشہ کے لیے توڑ دی۔















