M Azhar Siddique (@AzharSiddique) header
M Azhar Siddique (@AzharSiddique) profile picture

Advocate Supreme Court of Pakistan, Human Rights Activist & Pro Bono Publico Lawyer, Columnist

Lahore, Pakistan
Joined January 2011
Photo by M Azhar Siddique (@AzharSiddique)Photo by M Azhar Siddique (@AzharSiddique)Photo by M Azhar Siddique (@AzharSiddique)Photo by M Azhar Siddique (@AzharSiddique)Photo by M Azhar Siddique (@AzharSiddique)Photo by M Azhar Siddique (@AzharSiddique)Photo by M Azhar Siddique (@AzharSiddique)Photo by M Azhar Siddique (@AzharSiddique)
عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قانونی مشاورت، اہل خانہ سے ملاقاتوں اور آزادانہ طبی معائنے کی سہولیات نہ دینے پر آئی جی جیل خانہ جات پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو قانونی نوٹس جاری۔ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں پر حکام کو تین روز کا حتمی نوٹس دے دیا۔ تین ہفتے گزرنے کے باوجود حکام نے قانونی نمائندگی کا جواب نہیں دیا، نہ وکلا اور اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دی، محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو آزاد میڈیکل بورڈ، مکمل طبی ریکارڈ اور اہل خانہ کے نامزد ڈاکٹروں تک رسائی فراہم کی جائے، قانونی نوٹس۔ قید کسی شہری کے بنیادی آئینی حقوق ختم نہیں کرتی، قیدی کو وکیل تک رسائی، علاج معالجے اور اہل خانہ سے ملاقات کا حق حاصل ہے، محمد اظہر صدیق۔ اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سہولیات کی عدم فراہمی آئین پاکستان، جیل قوانین اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں کے منافی ہے، قانونی مؤقف۔ سپریم کورٹ کے 18 اگست 2026 اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے یکم ستمبر 2026 کے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ۔ حکام تین روز میں ملاقاتوں، آزاد میڈیکل بورڈ اور طبی ریکارڈ کی فراہمی یقینی بنائیں، بصورت دیگر قانونی کارروائی ہوگی۔ عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا، قانونی نوٹس۔ عدالتی احکامات کی عدم تعمیل پر توہین عدالت کی کارروائی اور آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت آئینی درخواست دائر کرنے کا انتباہ۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں اور طبی سہولیات سے متعلق یکم اگست 2026 سے اب تک کی سی سی ٹی وی فوٹیج، وزیٹر رجسٹر اور انٹرویو لاگز محفوظ کیے جائیں، قانونی مطالبہ۔ معاملہ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے من مانی حراست اور متعلقہ خصوصی نمائندوں کے سامنے بھی اٹھایا جائے گا، محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ۔
410
M Azhar Siddique retweeted
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل ردوبدل کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا جوڈیشل ایکٹوزم پینل کے سربراہ اظہر صدیق نے متفرق درخواست دائر کی نو اکتوبر سے 29 اکتوبر تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پندرہ مرتبہ ردبدل کیا گیا موقف پندرہ مرتبہ قمیتوں کے ردبدل میں گیارہ مرتبہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ تین مرتبہ کمی کی گی موقف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ملک میں مہنگائی ہوچکی ہے موقف شہری مہنگائی سے پس چکے ہیں موقف عدالت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا ریکارڈ عدالت پیش کرنے کا حکم دے استدعا
1
11
55
1,899
M Azhar Siddique retweeted
اظہر صدیق ایڈووکیٹ کا سپر نٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس #BOLNews #BreakingNews
1
2
733
تیل کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل، حکومتی پالیسی پر سنگین سوالات اٹھا دیے، جوڈیشل ایکٹوزم پینل جوڈیشل ایکٹوزم پینل نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر شفاف اور مسلسل ردوبدل کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا چیئرمین جوڈیشل ایکٹوزم پینل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے پٹرولیم قیمتوں کے تعین کا مکمل ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کی درخواست دائر کر دی 9 اکتوبر سے 29 اکتوبر تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 مرتبہ ردوبدل کیا گیا، درخواست میں انکشاف حکومت 24 گھنٹے کے اندر بھی پٹرولیم قیمتوں میں تبدیلی کر رہی ہے، عوام کو قیمتوں کے تعین کا کوئی واضح فارمولا نہیں بتایا جا رہا پٹرول کی قیمت میں 21 روپے 5 پیسے فی لیٹر کمی ہوئی، جبکہ ڈیزل 4 روپے 95 پیسے فی لیٹر مہنگا ہو گیا 15 مرتبہ قیمتوں میں ردوبدل کے دوران ڈیزل کی قیمت میں 11 مرتبہ اضافہ، 3 مرتبہ کمی اور ایک مرتبہ کوئی تبدیلی نہیں ہوئی حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کس فارمولے کے تحت مقرر کر رہی ہے؟ جوڈیشل ایکٹوزم پینل کا اہم سوال عالمی منڈی، پلوٹس ریٹس اور دیگر اخراجات کا حوالہ کافی نہیں، حکومت اصل اعداد و شمار اور مکمل حساب کتاب سامنے لائے، درخواست آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع، ڈیلر مارجن، فریٹ چارجز اور دیگر ٹیکسوں کی تفصیلات عوام سے کیوں چھپائی جا رہی ہیں؟ پٹرولیم قیمتوں کا تعین عوامی معیشت سے براہ راست جڑا معاملہ ہے، حکومتی فیصلے شفاف اور قابل احتساب ہونے چاہئیں، اظہر صدیق ایڈووکیٹ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ٹرانسپورٹ، زراعت، ٹیوب ویلز اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے پٹرولیم قیمتوں میں غیر متوقع تبدیلیوں کا بوجھ بالآخر عام شہری اور کم آمدنی والے طبقے کو برداشت کرنا پڑتا ہے 30 اکتوبر کے نوٹیفکیشن کے تحت پٹرول اور ڈیزل پر 80 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی مقرر، درخواست میں تفصیلات طلب پٹرول اور ڈیزل پر 5 روپے فی لیٹر کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی عائد، حکومت سے اس کی وجوہات اور مالیاتی بنیاد واضح کرنے کا مطالبہ آرٹیکل 19-A شہریوں کو معلومات تک رسائی کا بنیادی حق دیتا ہے، پٹرولیم قیمتوں کا مکمل فارمولا بھی عوام کے سامنے آنا چاہیے حکومت کو پابند کیا جائے کہ ہر نئی قیمت کے نوٹیفکیشن کے ساتھ مکمل پرائس بریک اَپ بھی جاری کرے، جوڈیشل ایکٹوزم پینل لاہور ہائیکورٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت سے قیمتوں کے تعین کی منظوری، متعلقہ حکام اور مکمل سرکاری ریکارڈ طلب کیا جائے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کا مؤقف: عوام پر اربوں روپے کا مالی بوجھ ڈالنے والے فیصلوں کو شفافیت اور آئینی احتساب سے بالاتر نہیں رکھا جا سکتا۔
1
3
450
M Azhar Siddique retweeted
اہم ترین طلالchنےبھی قیصرshکی بات کی تصدیق کردی جب @shazbkhanzdaGEO کےپروگرام میں کامران مرتضی نےکہا قیصرshکےARYکوانٹرویومیں انکشاف ہواکہ مولاناکی تجویزتوکابینہ میں ائی ہی نہیں جس پرطلالch نےکہامحسن نقوی ،دیگروزراء نےایمرجنسی لگانےسےپہلےبات کرنےکاکہا لیکن ڈارsbتوکچھ اورکہہ رہے
قیصرشیخ نےکہاوفاقی کابینہ میں محسن نقوی سمیت وزراء نےkpمیں گورنر راج میں جلدی نہ کرنےکاکہااورPTIکو موقع دینےکاکہا پہلےسیشن میںحکومت سےمولانا سےہوئی کسی بات کا ذکرنہ ہواناہیCMکی تبدیلی کی بات ہوئی ڈارsbاورمولاناکی ایوان میں تقاریربھی پوسٹ کاحصہ @MoulanaOfficial @BarristerGohar
11
2
47
18,021
M Azhar Siddique retweeted
جیسے کیانی صاحب کو نہیں پتہ نا کہ بار الیکشن میں نظریہ نامی چڑیا کا کوئی گزر نہیں
اہم خبر جسٹس مسحن اختر کیانی کے استعفی کے پیچھے کا پلان ملاحظہ فرمائیں۔ پلان یہ تھا کہ جج صاحب سپریم کورٹ بار کے الیکشن سے ایک روز قبل استعفی دیں گے اور استعفے میں کہانی بھی لکھیں گے اور پھر سپریم کورٹ کے ووٹرز متاثر ہوکر انڈیپینڈنٹ گروپ کے خلاف ووٹ دیں گے اس طرح ایک تحریک کی شکل بن جائے گی لیکن استعفی میں درج کی گئی کہانی کمزور اسکرپٹ کے باعث کامیاب نہ ہوسکی اور وکلا میں پذیرائی نہ ملنے کی وجہ سے ووٹرز کو متاثر نہ کرسکی ۔ اور یوں انڈیپینڈنٹ گروپ نے کلین سویپ کردیا
5
36
340
9,657
کسی کو پتہ ہے کہ یہ کیس اتنا اہم کیوں ہے؟ ہائی کورٹ کس اختیار کے تحت یہ کیس سن رہا ہے؟
4
692
M Azhar Siddique retweeted
بڑی خبر، مقدمے سے بری ہونے پر کریکٹر سرٹیفکیٹ بنوانے والے شہریوں کے لیے خوشخبری مقدمے سے بری ہونے پر اس کیس کا حوالہ کریکٹر سرٹیفکیٹ میں نا دیا جائے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ جاری، عدالت کی اس حوالے سے آئی جی اسلام آباد کو طریقہ کار وضع کرنے کی ہداہت قانون شہریوں کو جو حق دے چکا اس کے لیے عدالت آنا ضروری نہیں ،عدالت نے بریت کے بعد ایف آئی آر کا کریکٹر سرٹیفیکیٹ میں حوالہ غیر قانونی قرار دے دیا اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ایاز شوکت نے مفاد عامہ کا بڑا فیصلہ جاری کر دیا.
2
21
90
2,942
گورنر راج اور غیر منتخب لوگ!!
مولانا صاحب خیبرپختونخوا میں اپنا حصہ مانگ رہے تھے!ہماری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھیں، حکومت کے ہاتھ بہت کچھ لگ چکا ہے، ثمر ہارون بلور نےخاموشی توڑدی!! #NeoNews #LatestUpdates #SamarHaroonBilour
1
4
7
1,231
سچ جان کر جیو! @CMShehbaz
5
22
825
کوئی فائدہ پاکستانی نظام انصاف کو؟
انصاف کا ایک اور سنگِ میل طے! سپریم کورٹ آف پاکستان اور سپریم کورٹ آف کوریا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط۔ایک طرف عدلیہ کو انتظامیہ کے اثر و رسوخ کا سامنا ہے تو دوسری جانب ادارے کے سربراہان کے بیرونِ ملک دوروں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ متعدد ممالک کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے جا رہے ہیں۔
1
482
M Azhar Siddique retweeted
انصاف کا ایک اور سنگِ میل طے! سپریم کورٹ آف پاکستان اور سپریم کورٹ آف کوریا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط۔ایک طرف عدلیہ کو انتظامیہ کے اثر و رسوخ کا سامنا ہے تو دوسری جانب ادارے کے سربراہان کے بیرونِ ملک دوروں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ متعدد ممالک کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے جا رہے ہیں۔
6
9
5
82
4,875
🌹 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 🌹 🤲 اے پاک پروردگار! ہمیں صحت و سلامتی عطا فرما، ہماری زندگی کے تمام مشکل راستوں کو آسان فرما اور ہماری زندگیوں کو خوشگوار، پُرامن اور پُرسکون بنا دے۔ یا اللہ! ہمیں خیر و برکت، خوشحالی، عافیت اور نیک اعمال سے بھرپور لمبی عمر عطا فرما۔ ہمارے دلوں کو اطمینان، گھروں کو محبت اور رزق کو برکت نصیب فرما۔ اے ربِ کریم! ہمیں، ہمارے اہل و عیال، عزیز و اقارب اور تمام پیاروں کو اپنے حفظ و امان میں رکھ۔ ہمیں وہ سب کچھ عطا فرما جو ہمارے حق میں، ہماری آل و اولاد اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے بہتر ہو۔ ہمیں ہر شر، پریشانی، بیماری اور ناگہانی آفت سے محفوظ فرما۔ ہماری جائز دعاؤں کو قبول فرما اور دنیا و آخرت میں کامیابی و سرخروئی نصیب فرما۔ آمین یا رب العالمین! 🤲🌹 🌅 صبح بخیر! 💐
2
372
M Azhar Siddique retweeted
After 27th Constitutional Amendment, the biggest challenge for the superior courts is to establish their judicial authority. It is an open secret that the executive has a dominant role now in the appointment of judges. In May last year, the SC ordered the federal government to carry out legislation for giving right of appeal to the civilians who convicted by the military courts in May 9, 2023 cases. However, the order is yet to implement so far. Interestingly, both the SC and the FCC are silent on the non-implementation of the judicial order in the military courts case. On the other hand, dozens of PTI activists, convicted by military courts are behind the bar and waiting for a legislation so they can appeal against their convictions
Amid an ongoing challenge regarding the non-implementation of superior courts' orders, the Federal Constitutional Court (FCC) has reminded the executive that compliance with a judicial decision is a constitutional requirement, not a matter of courtesy. tribune.com.pk/story/2637896…
1
12
30
1,723
M Azhar Siddique retweeted
اشفاق بھائی! ملک میں دو آئینی ترامیم کے ذریعے عدلیہ کے اختیارات اور خودمختاری پر کاری ضرب لگائی گئی، عدلیہ کو حکومتی اثرورسوخ کے تابع کرنے کی راہ ہموار کی گئی، مگر وکلا خاموش رہے اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز نے عدالتی امور میں خفیہ ایجنسیوں کی مبینہ مداخلت کے خلاف خط لکھا،مگر وکلا برادری ان ججز کے ساتھ کھڑی ہونے کے بجائے خاموش تماشائی بنی رہی وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے ذریعے عدالتی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں اور سپریم کورٹ کے آئینی کردار کو محدور کیا گیا مگر وکلا خاموش رہے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ جیسے سینئر ججز نے استعفے دیے، مگر وکلا کی خاموشی نہیں ٹوٹی لاہور ہائیکورٹ میں سنیارٹی لسٹ میں پندرہویں نمبر پر موجود جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا، سنیارٹی اور عدالتی روایات پر سوالات اٹھے وکلاء خاموش رہے عدلیہ کی آزادی، خودمختاری، آئینی تشخص اور ادارہ جاتی وقار ایک ایک کرکے زد میں آ رہے تھے تو وکلا کہاں تھے؟ تو کیا جسٹس محسن اختر کیانی صاحب کو یہ نہیں پتہ کہ عدلیہ کیساتھ سارے کھلواڑ پر وکلاء خاموش تماشائی بنے رہے یا اپنے مفادات پر خاموش رہے بہت ساروں کو خرید لیا گیا ؟ یہ سارا کچھ دیکھنے کے باوجود جسٹس کیانی کو وکلاء سے امید تھی ؟اور انھوں نے استعفی دے دیا ؟ جانیں دیں بھائی
اہم خبر جسٹس مسحن اختر کیانی کے استعفی کے پیچھے کا پلان ملاحظہ فرمائیں۔ پلان یہ تھا کہ جج صاحب سپریم کورٹ بار کے الیکشن سے ایک روز قبل استعفی دیں گے اور استعفے میں کہانی بھی لکھیں گے اور پھر سپریم کورٹ کے ووٹرز متاثر ہوکر انڈیپینڈنٹ گروپ کے خلاف ووٹ دیں گے اس طرح ایک تحریک کی شکل بن جائے گی لیکن استعفی میں درج کی گئی کہانی کمزور اسکرپٹ کے باعث کامیاب نہ ہوسکی اور وکلا میں پذیرائی نہ ملنے کی وجہ سے ووٹرز کو متاثر نہ کرسکی ۔ اور یوں انڈیپینڈنٹ گروپ نے کلین سویپ کردیا
2
16
1
72
2,688
پچھلے دنوں ایک دوست نے کہا کہ اسے ہیرو بننے کی ہوس میں اپنے ساتھیوں کی نوکریوں کو خطرے میں ڈالنے کا کوئی شوق نہیں بس یہی باتیں ہیں جن کی وجہ سے اس دور میں پیش آنے والے کئی واقعات پر شور مچانے کی بجائے صبر کر لیتے ہیں تا کہ ساتھی یہ نہ کہیں کہ تم تو ہیرو بن جاؤ گے لیکن ہماری نوکری چلی جائے گی لیکن یہ تو سچ ہے کہ موجودہ دور پچھلے دور سے زیادہ سخت ہے
A journalist’s greatest strength is not the power of his pen, but the courage to write what others are afraid to say.
47
20
3
172
18,652
M Azhar Siddique retweeted
کبھی زندگی میں FIRنہیں دیکھی آج عدالتوں کے چکر لگا رہا ہوں!میری بیوی اور سالیوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن۔۔۔ عظمیٰ خان کے شوہر کی میڈیا سے جذباتی گفتگو! #HumNews #Pakistan #LatestNews #BreakingNews
32
579
6
1,780
58,224
پاکستان کہاں لا کھڑا کیا؟ @CMShehbaz
بھارت میں غربت کی شرح میں غیرمعمولی کمی۔ 2011 سے2023 کے درمیان انتہائی غربت کی شرح27فیصدسے2.6 فیصد پرآگئی۔پاکستان میں2018 کےبعدسےغربت میں اضافے کاٹرینڈ۔ انتہائی غربت کی شرح 23فیصد۔ورلڈبینک کی رپورٹ
2
572
M Azhar Siddique retweeted
بھارت میں غربت کی شرح میں غیرمعمولی کمی۔ 2011 سے2023 کے درمیان انتہائی غربت کی شرح27فیصدسے2.6 فیصد پرآگئی۔پاکستان میں2018 کےبعدسےغربت میں اضافے کاٹرینڈ۔ انتہائی غربت کی شرح 23فیصد۔ورلڈبینک کی رپورٹ
106
389
42
1,678
116,634