جو دل چاہے خبر بنا دو،اتنے بھی بے باک نا ہو، سب کے گریبان جھانکنے والو،کیوں اپنا گریبان چاک نا ہو

Joined April 2012
جیو نیوز کا خبر دینے کا طریقہ: لاہور میں ایل پی جی کی قیمت 600 روہے اور کراچی میں 530 روپے لیکن جیو نیوز نے خبر کی ٹائٹل میں کراچی کی قیمت لکھی حالانکہ لاہور میں قیمت زیادہ ہے
1
9
1,087
Pk News Watch retweeted
ملک اور ریاست کے مفادات الگ ہیں، جبکہ حکومت اور اقتدار کے مفادات ضروری نہیں کہ ہمیشہ ان سے ہم آہنگ ہوں۔ اس لیے حکومت اور حکمرانوں پر تنقید کو لازماً ملک دشمنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر یہ اصول درست ہے تو ماضی کی حکومتوں اور آج جیلوں میں بند رہنماؤں اور کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والوں پر ماضی کی تنقید کو بھی ریاست دشمنی قرار دینا چاہیے تھا، مگر ایسا نہیں ہے۔ ماضی میں صحافیوں نے تنقید کی اور اس کے نتائج بھی بھگتے ہیں۔ صحافت کا بنیادی کام طاقت اور اقتدار کو جواب دہ بنانا ہے، اور یہ کام اسی وقت کرنا ضروری ہے جب جواب دہ کیے جانے والے اقتدار میں ہوں۔ یقیناً ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو واقعی ریاست دشمنی کے مرتکب ہوں، اور ایسے عناصر وقت کی حکومت کے حامیوں اور مخالفین، دونوں میں موجود ہو سکتے ہیں۔ لیکن نام لیکر تعین اور ثابت کیا جانا ضروری ہے۔ ملکی تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں پر وقت کے حکمرانوں نے غداری کے فتوے لگائے، وہ بعد میں محب وطن ثابت ہوئے۔ صحافیوں کا فرض ہے کہ وہ دیانت داری، اخلاص اور پیشہ ورانہ غیر جانب داری کے ساتھ رپورٹنگ کریں، ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر رہیں اور کسی کی حمایت یا مخالفت کے بجائے حقائق کو سامنے لائیں۔ اور سب سے اہم بات ریاست کے چوتھے ستون ہونے کے ناطے اقتدار کو جواب دہ بنائیں، حکمرانوں سے سوال کریں، جن کے پاس اختیار ہے ان سے سوال کرنا ترجیح ہونی چاہیے۔
دنیابھرمیں صحافی اپنےملک اورریاست کے مفادات کادفاع کرتےہیں لیکن پاکستان میں عجیب فیشن چل رہاہےجس نے شہرت کمانی ہوپیسہ بناناہو یامقبولیت کا شارٹ کٹ لیناہووہ اپنےہی ملک اور ریاست کےخلاف زہراگلناشروع کردیتاہے ،بھلااپنےہی ملک کوبدنام کرکےداد اور مراعات سمیٹنا کون سی صحافت ہے؟؟؟
5
16
1
43
2,314
"ایک صحافی کی سب سے بڑی بددیانتی یہ ہے کہ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولے": عمر چیمہ
14
2
96
13,883
عاصمہ شیرازی بمقابلہ عاصمہ شیرازی: حکومت اور ائی ایم ایف کا معاہدہ
2
1
5
837
یہ اکاؤنٹ انوسٹیگیشن کے نام پر جھوٹی اور اے ائی ویڈیو بنا کر شئیر کررہا ہے۔ @Kashifabbasiary
2
1,270
یہ کیسا فیکٹ چیک ہے؟ بی بی سی نے فیکٹ چیک کرکے یہی بتایا اور یہ اکاؤنٹ اس فیکٹ چیک کو پراپیگنڈا کرکے الٹا بی بی سی کو غلط کہہ رہا ہے۔
فیکٹ چیک ✅ فیک نیوز الرٹ‼️ بی بی سی اردو نے سوشل میڈیا پر ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پشاور کی بی آر ٹی بسیں پنجاب منتقل کی جا رہی ہیں۔ یہ تاثر گمراہ کن ہے، کیونکہ بسوں کی پنجاب منتقلی کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہ ویڈیو اگست 2026 کی ہے، جس میں بی آر ٹی کی بسیں کراچی سے پشاور لائی جا رہی تھیں۔ ویڈیو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر شیئر کرکے یہ جھوٹا تاثر دیا جا رہا ہے کہ پشاور کی بی آر ٹی بسیں پنجاب منتقل کی جا رہی ہیں۔ #KPFactCheck #KPK
1
11
1,183
منیب فاروق بمقابلہ منیب فاروق ڈاکٹر کا نام "م" سے شروع ہوتا ہے ڈاکٹر کا نام "م" سے نہیں "ف" سے شروع ہوتا ہے
2
2
5
1,482
یہ 2023 کی ویڈیو ہے ⚠️
یہ کیا ھے ۔۔انکا مقابلہ کون کرے گا ۔۔وقت ھے ابھی بھی طاقت کے نشے سے باہر نکل آو ۔۔
7
1,083
پاکستان کے بڑے بڑے نیوز چینلز کے حالات، ایسے میں نیوز چینلز کو کوئی کیوں سیریس لے گا؟
پی ٹی آئی وفد مسودے کے کسی ایجنڈے پر راضی نہ تھا تو پھر میڈیا پر یہ خبریں کس نے چلوائیں کہ پی ٹی آئی نے گھٹنے ٹیک دیئے؟شرائط تسلیم کر لیں؟
1
10
1,390
وجاہت کاظمی کی طرف سے جھوٹی معلومات شئیر کرنے کا سلسلہ جاری ہے
وجاہت کاظمی جس طرح کی صحافت کررہے تھے، اب انکو سرکاری نوکری ملنے پر مبارکباد کی بجائے طنز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
1
7
1,488
جیو نیوز کے سینیئر صحافی اور تمغہ امتیاز لینے والے وقار ستی اے ائی ویڈیو شئیر کرتے ہوئے۔ @GeoFactCheck
6
66
1
401
11,552
صحافی طارق افاق کی خبر جھوٹی نکلی ائی جی پولیس اور چیف سیکرٹری نے سہیل سرکار کے اجلاس میں شرکت کی
1
1
1,453
غریدہ فاروقی کئی سال پرانی ویڈیو کو پی ٹی ائی کے ستائیس ستمبر کے احتجاج سے جوڑ رہی ہیں
کرن ناز اور غریدہ فاروقی کی طرف سے ایک بار پھر ایک جیسی ٹوئیٹس
3
13
1,437
وجاہت کاظمی جس طرح کی صحافت کررہے تھے، اب انکو سرکاری نوکری ملنے پر مبارکباد کی بجائے طنز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
وجاہت کاظمی کی طرف سے جھوٹی معلومات شئیر کرنے کا سلسلہ جاری ہے، اس بار ایڈیٹ ٹوئٹ شئیر کرتے ہوئے
1
21
3
169
13,093
خبر انڈیا کی ہے لیکن زاحد گشکوری نے اپنے یوٹیوب ویڈیو کو تھم نیل ایسے لگایا ہے کہ جیسے یہ پاکستان کی خبر ہو
صحافی زاحد گشکوری اے ائی ویڈیوز کے بعد اب اے ائی تصاویر بھی شئیر کرنے کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے
4
1,824
فخر درانی کے ااس مثبت رپورٹنگ کو ایک سال سے زائد عرصہ ہوگیا ہے۔
10
1,408
اعزاز سید نے بغیر تحقیق کیے مریم نواز سے مقبوضہ کشمیر کے ویڈیو پر مطالبہ کردیا @ShahidAslam87
یہ پرانی ویڈیو انڈیا کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کی ہے ⚠️
2
1,812
یہ پرانی ویڈیو انڈیا کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کی ہے ⚠️
کون ہے یہ عورت اور کیوں اس شخص کو مار رہی ہے
1
1
1
3,082
صحافی طیب بلوچ ، جمائما گولڈ سمتھ کی اے ائی ویڈیو شئیر کرتے ہوئے۔
2
1,287
سہیل وڑائچ، پاکستان کے سب سے بڑے اخبار کے سینئر کالم نگار
’’YOU TOO BRUTUS‘‘ ’’مجھ سے بھول ہو گئی‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سہیل وڑائچ صاحب کی دس پیش گوئیاں، جو وقت کی کسوٹی پر پوری نہ اتر سکیں سہیل وڑائچ پاکستان کے معروف کالم نگار اور سیاسی تجزیہ نگار ہیں۔ ان کے کالم ملکی سیاست کے منظرنامے کو سمجھنے کے لیے پڑھے جاتے ہیں، لیکن سیاست میں پیش گوئی ایک الگ فن ہے؛ یہاں الفاظ لکھے جاتے ہیں اور پھر وقت ان کا امتحان لیتا ہے۔ وڑائچ صاحب کی گزشتہ چند برسوں کی تحریروں میں ایسی متعدد پیش گوئیاں اور سیاسی اندازے بھی ملتے ہیں جو بعد کے حالات سے مختلف ثابت ہوئے۔ چند نمایاں مثالیں ملاحظہ ہوں: 1۔ ’’کالاباغ ڈیم: سب رکاوٹیں ختم!‘‘ 19 ستمبر 2018ء۔ ہیلو ہیلو ساتھیو مجاہدو ! وڑائچ صاحب نے لکھا کہ کالاباغ ڈیم کی تمام بڑی رکاوٹیں ختم ہوچکی ہیں اور اس کی تعمیر اب کسی بھی وقت شروع ہوسکتی ہے، بلکہ ڈیم ’’ہر صورت بن کر رہے گا‘‘۔ نتیجہ: 2026ء آ گیا، مگر نہ ڈیم بنا، نہ تعمیر شروع ہوئی اور نہ سیاسی اتفاقِ رائے پیدا ہوسکا۔ 2۔ ’’الیکشن 2023ء‘‘ 20 فروری 2021ء اس کالم میں اندازہ تھا کہ عمران خان کی حکومت 2023ء تک چلے گی اور عام انتخابات بھی 2023ء میں ہوں گے۔ نتیجہ: حکومت اپریل 2022ء میں ختم ہوگئی اور عام انتخابات 2023ء کے بجائے 8 فروری 2024ء کو ہوئے۔ 3۔ ’’گنتی پوری ہے!‘‘ 15 مارچ 2022ء وڑائچ صاحب نے اندازہ لگایا کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگی، شہباز شریف وزیراعظم بنیں گے اور اسمبلیاں اپنی آئینی مدت پوری کریں گی۔ نتیجہ: پہلے دو اندازے درست نکلے، مگر صوبائی اسمبلیاں مدت پوری نہ کرسکیں اور اگست 2023ء میں تحلیل ہوگئیں۔ 4۔ ’’تحریک انصاف جب تک کمزور نہیں ہوتی الیکشن نہیں ہوں گے‘‘ 9 جولائی 2023ء جیو کے پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ میں یہ سیاسی پیش گوئی سامنے آئی کہ تحریک انصاف کے کمزور ہوئے بغیر انتخابات نہیں ہوں گے۔ (حالانکہ یہ پتھر پہ لکیر تھا، بقول قاضی صاحب !) نتیجہ: 8 فروری 2024ء کو انتخابات ہوئے، جبکہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار قومی اسمبلی میں ایک بڑا انتخابی گروپ بن کر سامنے آئے۔ 5۔ ’’اس کے آنے کے بعد؟‘‘ 24 اکتوبر 2023ء نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد وڑائچ صاحب نے لکھا کہ ’’اسے اقتدار دینے کی تیاریاں‘‘ کی جاچکی ہیں۔حالانکہ (کہنے والے تو کہتے تھے کہ دلی دوراست) نتیجہ: نواز شریف واپس تو آئے، مگر وزیراعظم شہباز شریف بنے۔ نواز شریف خود چوتھی بار وزیراعظم نہیں بن سکے۔ 6۔ ’’الیکشن 2024ء کا انتخابی اندازہ‘‘ فروری 2024ء انتخابات سے صرف چند روز قبل ن لیگ کے لیے تقریباً 100 سے 110 نشستوں کا اندازہ پیش کیا گیا۔ نتیجہ: ن لیگ کی جنرل نشستیں تقریباً 75 رہیں، جبکہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے اس سے زیادہ جنرل نشستیں حاصل کیں۔ 7۔ ’’بنگلہ دیش ماڈل آ رہا ہے؟‘‘ 7 فروری 2024ء انتخابات سے ایک دن قبل اندازہ لگایا گیا کہ نواز شریف وزیراعظم ہوں گے، ن لیگ حکومت بنائے گی اور پیپلز پارٹی وفاق میں اپوزیشن میں بیٹھے گی۔ نتیجہ: وزیراعظم نواز شریف نہیں بلکہ شہباز شریف بنے، جبکہ پیپلز پارٹی اپوزیشن کے بجائے حکومت کی اہم اتحادی بن گئی اور آصف علی زرداری صاحب صدر منتخب ہوئے۔ اسی کالم میں پاکستان کے لیے بنگلہ دیش طرز کے ایک مستحکم سیاسی بندوبست کے طویل عرصے تک چلنے کی توقع ظاہر کی گئی۔بلکہ چند ہی ماہ بعد خود بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کا طویل سیاسی بندوبست ختم ہوگیا، جبکہ پاکستان میں بھی ایسا دس سالہ مستحکم ماڈل وجود میں نہیں آیا۔ YOU TOO BRUTUS . 8 انتخابات کے بعد عمران خان کے لیے ریلیف، مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کے ذریعے ایک نئے جمہوری دور کی امید ظاہر کی گئی۔ نتیجہ: وسیع تر سیاسی مفاہمت کا وہ راستہ اختیار نہ ہوسکا؛ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان کشیدگی برقرار رہی۔ 9۔ ’’کھچڑی پکنے لگی ؟‘‘ 13 جولائی 2024ء اس کالم میں بظاہر مستحکم سیاسی بندوبست کے اندر پیدا ہونے والی ممکنہ تبدیلیوں اور ’’متبادل انتظام‘‘ کی بحث کی گئی۔ 10۔ ’’ونڈر بوائے‘‘ سہیل وڑائچ صاحب نے ’’ونڈر بوائے‘‘ کی آمد کا عندیہ دیا، جسے معروف کالم نگار نصرت جاوید صاحب کے کالم ’’دیدہ ور سے ونڈر بوائے تک‘‘ میں موضوع بنایا اور اس انتظار کو سموئیل بیکٹ کے معروف ڈرامے Waiting for Godot سے تشبیہ دی۔ نتیجہ: ونڈر بوائے آیا نہیں، مگر اس کا انتظار ضرور سیاسی موضوع بن گیا۔ ’’ونڈر بوائے‘‘ کا انتظار… کہیں Waiting for Godot تو نہیں؟ نتیجہ: بعد کے حالات نے اس سیاسی نقشے کو سادہ انداز میں آگے بڑھنے نہیں دیا اور متوقع سیاسی تبدیلیاں اس انداز میں سامنے نہیں آئیں۔ مقصد کسی کی دل آزاری نہیں، صرف پیش گوئی اور حقیقت کے فاصلے کو دکھانا ہے۔ تجزیہ غلط ہو سکتا ہے، مگر سیاسی پیش گوئی کا فیصلہ ہمیشہ وقت کی عدالت کرتی ہے۔ (جاری ہے)
2
1,636