Imperfect خام خیالوی (@Imperfectfact) header
Imperfect خام خیالوی (@Imperfectfact) profile picture

And who is better in speech than one who invites to Allah and does righteousness and says, Indeed, I am of the Muslims.(Quran:Fussilat 41:33)

Valley Stream, NY
Joined November 2018
Photo by Imperfect خام خیالوی (@Imperfectfact)Photo by Imperfect خام خیالوی (@Imperfectfact)Photo by Imperfect خام خیالوی (@Imperfectfact)Photo by Imperfect خام خیالوی (@Imperfectfact)Photo by Imperfect خام خیالوی (@Imperfectfact)Photo by Imperfect خام خیالوی (@Imperfectfact)Photo by Imperfect خام خیالوی (@Imperfectfact)Photo by Imperfect خام خیالوی (@Imperfectfact)Photo by Imperfect خام خیالوی (@Imperfectfact)Photo by Imperfect خام خیالوی (@Imperfectfact)
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍكَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍكَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
8
20
1
91
خاک سے پیدا ہوئے ہیں دیکھ رنگا رنگ گل ہے تو یہ ناچیز لیکن اس میں کیا کیا چیز ہے #بہادر_شاہ_ظفر #اردو_شاعری
4
35
لے گئے آنکھوں ہی آنکھوں میں وہ دل ہوشیاری اپنی غفلت ہو گئی #داغ_دہلوی #اردو_شاعری
3
50
جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ نہیں دکھلا سکتا۔ کیسا بھدا اعتراض ہے کہ الفاظ پہلے سے موجود تھے۔ الفاظ کی موجودگی زندہ زبان کی ترجمانی ہے کہ اسی زبان میں قرآن نازل ہوا جو لوگ سمجھتے تھے۔ سورہ ابراھیم آیت 4
میں کئی دن سے اے آئی کی مدد سے قرآن کے الفاظ پر تحقیق کررہا تھا۔ تحقیق بڑا بھاری لفظ ہے۔ یوں کہہ لیں کہ قرآن کے الفاظ شمار کررہا تھا۔ اے آئی نے شمار کرکے بتایا کہ قرآن میں الفاظ کی کل تعداد 74608 ہے۔ اگر تکرار نکال دیں، یعنی بار بار آنے والے لفظ کو ایک بار گنیں تو یہ تعداد 4254 رہ جاتی ہے۔ اس کے بعد میں نے اے آئی کو عربی لغت معجم الدوحہ فراہم کی۔ یہ ویسی ہی لغت ہے جیسے ارد ڈکشنری بورڈ کی "اردو لغت تاریخی اصول پر" ہے۔ یعنی اس لغت میں ہر لفظ کے معنی کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسے سب سے پہلے کب اور کہاں استعمال کیا گیا۔ اے آئی نے اس جانچ میں اٹھارہ گھنٹے لگائے۔ معلوم ہوا کہ قرآن میں آنے والے 3802 الفاظ قرآن سے پہلے جاہلی شاعری یا قدیم کتبوں میں موجود تھے۔ صرف 452 الفاظ ایسے ہیں جن کا پہلا استعمال قرآن میں رپورٹ ہوا ہے۔ ان نتائج کو "قرآن نے یہ الفاظ تخلیق کیے" کے طور پر پیش کرنے سے پہلے احتیاط ضروری ہے۔ یہ صرف اتنا بتاتے ہیں کہ لغت میں ان الفاظ کا قدیم ترین درج استعمال قرآن میں ہے۔ جاہلی شاعری اور نثر کا بڑا حصہ محفوظ ہی نہیں رہا، اس لیے کسی لفظ کا پہلے کا نہ ملنا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ لفظ پہلے استعمال نہیں ہوتا تھا۔ یہ الہامی یعنی خدا کی کتاب کا ذکر ہوا۔ اب ایک گناہگار غیر مسلم انسان ولیم شیکسپئیر کا اعمال نامہ دیکھیں۔ شیکسپئیر نے اپنی تحریروں میں 8 لاکھ 84 ہزار الفاظ لکھے۔ ان میں سے تکرار نکال دیں تو بھی تعداد 29 ہزار سے زیادہ ہے۔ آکسفرڈ انگلش ڈکشنری کے مطابق شیکسپئیر نے 1700 نئے الفاظ تخلیق کیے۔ نوٹ: یہ پوسٹ لسانیات سے متعلق ہے۔ اس کا مقصد [اگر کوئی شیکسپئیر تھا تو اسے] خدا [اگر کوئی ہے تو] سے برتر ثابت کرنا نہیں۔
3
59
جوارئیے میچ ہارتے ہارتے جیت گئے ہیں #PAKvENG
2
3
356
Imperfect خام خیالوی retweeted
محمد ﷺ ہمارے، بڑی شان والے ہیں ❤️❤️❤️
11
15
2
56
710
Imperfect خام خیالوی retweeted
If you’re going to manufacture anti Muslim content, at least learn how Muslims pray first. This is embarrassing 🙈 A Muslim performs sujood (prostration) twice in each rak‘ah of prayer not 3 😂 Google is free, mfr
On a train in Italy you don't pray on the floor in the middle of people. That's not prayer, it's a show of force. Everyone is free to believe what they want, but public space must be respected. Enough with fanaticism.
370
3,285
64
19,305
478,332
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں خبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے #علامہ_اقبال #Government
2
1
9
138
محترم کا استبدلال ہے کہ جب خدا کسی واقعہ کو بیان کرے تو وہ کلام خدا کا نہیں اس شخص کا ہو جاتا ہے جسے خدا بیان کر رہا ہے۔ گمراہی کی اس سے بڑی مثال شاید ہی ہو کہ اس بنیاد پر قرآن کے خدا کے کلام ہونے سے انحراف کیا جائے۔ جسے خدا گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔
کیا قرآن خدا کا کلام ہے؟ خدا قرآن کا واحد متکلم نہیں ہے، بلکہ خدا کے علاوہ بھی کئی متکلمین ہیں جن کے اقوال قرآن میں موجود ہیں اور ان کو بطورِ قرآن پڑھا جاتا ہے۔ سب سے پہلے یہ آیات ملاحظہ کیجیے، اور بولا فرعون ! اے دربار والو ! مجھ کو معلوم نہیں تمہارا کوئی حاکم میرے سوا۔‘‘ (سورہ قصص، 38)۔ فرعون نے کہا! اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟(سورہ طٰہٰ، 49)۔ فرعون نے کہا! اور رب العالمین کیا ہے؟ (سورہ شعرا، 23)۔ عورتوں نے کہا: ’’اللہ کی پناہ! یہ شخص کوئی انسان نہیں ہے، یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے۔‘‘ (سورہ یوسف، 31)۔ ان آیات میں یہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ یہاں خدا کلام نہیں کر رہا، یعنی ان آیات میں خدا متکلم نہیں ہے، بلکہ خدا صرف ایک راوی یا بیان کنندہ (Narrator) کا کردار ادا کر رہا ہے۔ میں یہ توقع نہیں کر سکتا کہ خدا نے فرعون یا عورتوں کے الفاظ و مفہوم میں کوئی رد و بدل کر دیا ہو یا ان کے الفاظ کو توڑ مروڑ دیا ہو۔ مختصر یہ کہ جو آیات پیش کی گئی ہیں یہ خدا کا کلام نہیں ہے، بلکہ ان میں دوسرے لوگ کلام کرتے ہیں۔ قرآن کے خدا کا کلام نہ ہونے کا ایک اہم ثبوت خدا اور ابلیس کے درمیان ہونے والا مکالمہ ہے۔ اس مکالمے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہاں ایک نہیں دو متکلم ہیں۔ اب ہم اس مکالمے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، اور ہم نے تم کو پیدا کیا، پھر صورت دی، پھر کہا فرشتوں کو سجدہ کروآدم کو، تو سجدہ کیا مگر ابلیس۔ نہ تھا وہ سجدہ والوں میں۔ کہا تجھ کو کیا مانع تھا کہ سجدہ نہ کیا ، جب میں نے فرمایا؟ بولا ، میں اس سے بہتر ہوں۔ مجھ کو تو نے بنایا آگ سے اور اس کو بنایا خاک سے۔ کہا تو اتر یہاں سے، تجھ کو یہ نہ ملے گا (کوئی حق نہیں) کہ تکبر کرے یہاں، سو نکل، تو (ان میں سے ہے جو)ذلیل ہے۔ بولا، مجھ کو فرصت (مہلت) دے، جس دن تک لوگ جی اٹھیں (دوبارہ اٹھائے جائیں گے)۔ کہا تجھ کو فرصت ہے۔ بولا، تو جیسا تو نے مجھے بد راہ (گمراہ) کیا ہے، میں بیٹھوں (گھات لگاؤں)گا ان کی تاک میں تیری سیدھی راہ پر۔ پھر اُن پر آؤں (کو گھیروں گا) گا آگے سے اور پیچھے سے، اور داہنے سے اور بائیں سے، اور نہ پائے گا تو ان میں شکر گزار۔ کہا، نکل یہاں سے مردُود کھدیڑا (ٹھکرایا ہوا)۔ (سورہ اعراف، 11۔17)۔ قرآن میں پیش کیے گئے اس مکالمے سے یہ نکتہ قطعی طور پر عیاں ہو جاتا ہے کہ اس میں شیطان بھی خدا کی طرح متکلم ہے، یعنی قرآن صرف خدا کا کلام نہیں ہے، بلکہ شیطان کے الفاظ بھی قرآن میں شامل ہیں۔ یوں کہیں کہ قرآن شیطان کا کلام بھی ہے۔ خدا اس میں صرف ایک بیان کنندہ ہے۔ ایک ناول نگار جب کہانی وضع کرتا ہے تو اس میں مختلف کردار تخلیق کرتا ہے۔ عام طور پر وہ کردار فرضی ہوتے ہیں۔ لہذا یہ نکتہ اٹھایا جا سکتا ہے کہ ان کرداروں کا خالق خود ناول نگار ہے۔ قرآن کوئی ناول نہیں ہے۔ قرآن ایک تاریخی واقعے کو بیان کرتا ہے، جس میں متکلم واحد نہیں ہے۔ قرآن شیطان کو ایک تاریخی کردار سمجھتا ہے،اور خدا اور شیطان کے درمیان مکالمہ جو کہ قرآن کا حصہ ہے وہ قرآن میں متکلم واحد ہونے پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ اس لیے خدا کو قرآن کا ’’مطلق متکلم‘‘ کہنا درست نہیں ہے۔ قرآن مکمل طور پر خدا کے الفاظ نہیں ہیں، بلکہ دیگر کرداروں کے الفاظ بھی ہیں جن کو خدا ’’ٹھیک ٹھیک‘‘ (بالحق) بیان کرنے کا دعویٰ بھی کرتا ہے۔ اگر قرآن میں سے دوسرے تمام کرداروں کا کلام حذف کر دیا جائے تو قرآن ناقابلِ فہم ہو جاتا ہے۔ عمران شاہد بھنڈر
26
جنم دن دیاں ہاردک ودھائیاں 🎂 @ShehrRajpoot
1
1
62
یہ کہیں سے بھی کریلے قیمہ جیسا نہیں لگ رہا 🤣
You have to name him the last thing you ate
47
چونا نمبر 9876 میری پوری دنیا ہی تم ہو۔۔۔۔🤣🤣🤣
1
69
یادوں کے پتے سنبھالا ہے یادوں کو ہر دم سینے سے لگا کر جیسے ہمدم رت خزاں کا ایسا مقام آگیا نئی جہتوں کو دوام آگیا کہتی ہوا زرد پتوں سے کیا شور ہے کیسا دور ہے بہت اپنے رنگ پر تھا گماں نہ تھا ہم سا کوئی کہاں نئے سماں نئی آبیاری ہے پرانے گئے نئے کی باری ہے #خیال_خام #اردو_زبان
5
3
85
Happy Birthday..... mera khiyal si tusi aijad hoye si🤣 @pakistanipeeeps
2
2
1
3
345
آپ کے سر پہ لولاک کا تاج ہے، آپ ہی کو فقط فخر معراج ہے آپ کے ہاتھ اسلام کی لاج ہے، یا نبی مصطفےٰ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
2
1
1
9
99
اَنا نے ہاتھ اُٹھانے نہیں دیا ورنہ مری دُعا سے وہ پتھر پگھل بھی سکتا تھا تمام عمر ترا منتظر رہا محسن یہ اور بات کہ رستہ بدل بھی سکتا تھا​ #محسن_نقوی #Poetry #اردو_زبان
🤖 Made with AI
2
7
65
ایجرٹن روڈ پر کھڑا ایوان اقبال، ایل ڈی اے پلازہ کو جھولتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
8 اکتوبر 2005 جب ہولناک زلزلہ آیا تب 8 بج کر 52 منٹ پر آپ کہاں تھے؟
2
1
73
Say NO to terrorism. No matter who commits it, terrorism has no justification. No innocent life should ever be a target. Violence and fear cannot build a better future. Peace, humanity and justice must prevail. Stand united against terrorism, hatred and violence.
1
8
259
لے ہاں گلورے بھلا ڈران نال باز آن گے🤣
小狗完整的童年😆😆😆
1
2
150