
Official Account of M/o #Planning, #Development & #Special_Initiatives | #PlanningCommission | Govt of Pakistan| Our Mission: Strong Economy Strong Pakistan
Islamabad
Joined August 2013
- Tweets39.8K
- Following921
- Followers146K
- Likes3.8K
Pakistan’s defence and diplomatic achievements bring a greater responsibility: to build an economy that can sustain its sovereignty.
At the High-Level Policy Conclave on “Post US–Iran War: Peace and Economic Dividends for Pakistan,” Planning Minister Prof. Ahsan Iqbal emphasised that international recognition must translate into lasting economic progress. A strong defence rests on a strong economy, while peace creates the conditions for investment, trade and opportunity.
His message sets a clear direction: safeguard stability, connect diplomatic credibility with greater market access, and strengthen Pakistan’s capacity to compete globally. Achieving URAAN Pakistan’s $100 billion export target by 2035 is central to turning national resilience into enduring prosperity.
#URAANPakistan #EconomicDiplomacy #ExportLedGrowth
بھارت نے پاکستان کی معاشی مشکلات کو دفاعی کمزوری سمجھنے کی غلطی کی، مگر پاکستان نے اپنے عزم اور صلاحیت سے یہ اندازہ غلط ثابت کر دیا۔
وفاقی وزیرِ پروفیسر احسن اقبال نے اعلیٰ سطحی پالیسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے 2025 میں بھارتی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا۔ دوسری جانب، امریکہ ایران تنازع میں کشیدگی کم کرانے کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی قیادت اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کا اعتراف ملک کے عالمی تشخص میں ایک مثبت تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
اعلیٰ سطحی پالیسی کانفرنس: «امریکہ ایران جنگ کے بعد: پاکستان کے لیے امن اور معاشی ثمرات»
@betterpakistan #Pakistan #RegionalPeace #EconomicDiplomacy #USIRANWAR
دوسری جنگِ عظیم کے بعد امن، معاشی تعمیرِ نو اور عالمی نظم و نسق کے لیے قائم کیے گئے ادارے آج اپنی افادیت اور بدلتے تقاضوں سے مطابقت کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان اداروں میں جامع اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ عالمی نظام میں بڑھتا عدم استحکام اور خطے میں پھیلتی کشیدگی پاکستان کے لیے بروقت پالیسی تیاری اور مؤثر سفارت کاری کی اہمیت بڑھا رہی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کا ایران اور خلیجی خطے کی جانب پھیلاؤ سنگین مضمرات رکھتا ہے۔ ان حالات میں علاقائی امن کا تحفظ اور بدلتی عالمی صورتِ حال کا درست ادراک، پاکستان کے ترقیاتی مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
وفاقی وزیرِ پروفیسر احسن اقبال
گول میز کانفرنس: «امریکہ ایران جنگ کے بعد: پاکستان کے لیے امن اور معاشی ثمرات»
بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں پاکستان کی تجارت، سرمایہ کاری اور ترقی کو کیسے تحفظ دیا جائے؟
وفاقی وزیرِ پروفیسر احسن اقبال کی زیرِ صدارت گول میز کانفرنس میں علاقائی امن، امریکا ایران تنازع کے معاشی اثرات اور پاکستان کی آئندہ پالیسی ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل (ر) زبیر محمود حیات اور ماہرین نے بھی شرکت کی۔
وفاقی وزیر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امن کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی اور سفارتی کامیابیوں کے ساتھ پائیدار معاشی پیش رفت ضروری ہے۔
اُڑان پاکستان کا ہدف 2035 تک 100 ارب ڈالر کی برآمدات ہیں۔ اس کے لیے زیادہ پیداوار، مسابقتی مصنوعات، نئی منڈیوں تک رسائی اور مؤثر معاشی سفارت کاری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
#AhsanIqbal #URAANPakistan #RegionalPeace #EconomicDevelopment #ExportLedGrowth #Pakistan
عالمی کشیدگی کے پاکستان کی تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی پر ممکنہ اثرات کا بروقت جائزہ اور پیشگی پالیسی تیاری قومی اہمیت کی حامل ہے، تاکہ ابھرتے ہوئے خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے اور امن کے ثمرات کو معاشی مواقع میں بدلا جا سکے۔
اسی تناظر میں وفاقی وزیرِ پروفیسر احسن اقبال کی زیرِ صدارت ’’امریکا ایران تنازع کے پاکستان پر اثرات: قیامِ امن اور معاشی استحکام کے لیے پالیسی ترجیحات‘‘ کے موضوع پر کانفرنس منعقد ہوئی۔ سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل (ر) زبیر محمود حیات نے بھی شرکت کی۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی بے یقینی کے دور میں پاکستان کے استحکام کا تحفظ، برآمدات میں اضافہ اور سرمایہ کاری کا فروغ بنیادی ترجیحات ہیں۔ پاکستان کے پُرامن سفارتی کردار کے معاشی ثمرات حاصل کرنے کے لیے جغرافیائی سیاست کے ساتھ جغرافیائی معیشت پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ معاشی خودمختاری کا راستہ برآمدات میں اضافے سے گزرتا ہے۔ پاکستان خطے میں استحکام کا زریعہ ہے اور اس استحکام کو پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد بنانا قومی ذمہ داری ہے۔
وفاقی وزیر کا مکمل خطاب
#AhsanIqbal #URAANPakistan #EconomicDevelopment #ExportLedGrowth #usiranwar
Federal Minister Prof Ahsan Iqbal highlights the Government’s commitment to inclusive development under the leadership of Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif.
Public institutions, including PIMS, provide speech and language therapy services. Alongside professional support, fair access to education and employment helps people who stutter participate with confidence and dignity.
On International Stuttering Awareness Day, we urge public and private institutions to promote respectful classrooms, inclusive workplaces and equal opportunities, advancing the SDG commitment to leave no one behind.
#InternationalStutteringAwarenessDay #LeaveNoOneBehind #InclusiveDevelopment #SDGs #Pakistan
Every shipment carrying “Made in Pakistan” carries a promise. When we are honest about our products, check their quality and deliver on time, buyers gain a reason to return. Repeat orders support jobs and help build a national brand the world can trust.
Keep the promise. Earn the trust. Grow Pakistan’s exports.
#MadeInPakistan #BuildTrust #ExportQuality #PakistanExports #ResponsibleBusiness #ZimadarShehri
تربیلا سے توانائی کا نیا باب, صاف بجلی، روزگار اور معاشی ترقی کی جانب اہم قدم۔
تربیلا پانچواں توسیعی پن بجلی منصوبہ ٹنل نمبر 5 کے ذریعے قومی نظام میں مزید 1,530 میگاواٹ صاف اور قابلِ اعتماد بجلی شامل کرے گا۔ یہ منصوبہ پاکستان کے آبی وسائل سے توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سرپرستی، پی ایس ڈی پی کے تعاون اور آبی وسائل ڈویژن کی نگرانی میں واپڈا منصوبے پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ عالمی بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے مالی تعاون سے زیرِ تعمیر اس منصوبے نے ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں اور مقامی کاروبار و معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا ہے۔
#Tarbela #Hydropower #CleanEnergy #PSDP #MinistryOfPlanning
The Establishment of Stroke Intervention & Expansion of Critical Care Facilities at PIMS (2024–27) is designed to strengthen specialised stroke intervention and critical-care services at Pakistan Institute of Medical Sciences, Islamabad.
With a total project cost of Rs 7,220.956 million, this initiative can help improve access to timely, specialised treatment for critically ill patients, supporting medical teams when rapid diagnosis, intervention and intensive care are most urgently needed.
Aligned with the Equity, Education, Health & Population pillar of URAAN Pakistan, the project reflects the Government’s priority of strengthening public healthcare institutions and making advanced care more accessible to people.
Because in a medical emergency, timely care can make all the difference.
#PSDP2026_27 #UraanPakistan #PIMS #StrokeCare #CriticalCare #PublicHealth #Islamabad
M/o Planning, Development and Special Initiatives retweeted
ضلع موسیٰ خیل، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان محمد لقمان جعفر کا یہ محبت بھرا پیغام سن کر دل کو دلی خوشی اور طمانیت ہوئی۔ یونیورسٹی آف نارووال سے انگلش لٹریچر میں ڈگری مکمل کر کے وہ اور ان کے ساتھی نہ صرف اپنے علاقے کا نام روشن کر رہے ہیں بلکہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ پاکستان کے تمام صوبے ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔
ہم نے ہمیشہ بلوچستان کے طلبہ کو اپنے مہمان کی طرح سمجھا ہے اور ان کے لیے ہاسٹل و تعلیمی سہولیات کو اولین ترجیح بنایا ہے تاکہ کسی بھی طالبعلم کو پردیس کا احساس نہ ہو۔ لقمان اور ان کے ساتھیوں کو گریجویشن پر دلی مبارکباد؛ مجھے پختہ یقین ہے کہ یہی باہنر اور تعلیم یافتہ نوجوان آگے چل کر بلوچستان کے مسائل حل کریں گے اور ملکی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
#UniversityOfNarowal #BalochistanYouth #HigherEducation #YouthEmpowerment #InspirationalStory #EducationForAll #URAANPakistan
برآمدی لاگت میں کمی اور پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک بروقت رسائی کے لیے حکومت اڑان پاکستان کے تحت سڑکوں، ریلوے، بندرگاہوں اور فضائی کارگو کو ایک مربوط ترسیلی نظام سے منسلک کرنے کا کام آگے بڑھا رہی ہے۔
دسویں قومی اقتصادی مشن برائے انٹرماڈل کنیکٹیوٹی اور لاجسٹکس کے اجلاس میں وفاقی وزیرِ احسن اقبال نے متعلقہ وزارتوں کو کارگو خدمات کی کارکردگی اور باہمی رابطہ بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
ان کوششوں کا مقصد برآمدکنندگان کو ایسی خدمات فراہم کرنا ہے جن کے ذریعے وہ عالمی خریدار تک اپنی مصنوعات تیزی اور قابلِ اعتماد انداز میں پہنچا سکیں۔ بہتر ترسیل سے خریدار کا اعتماد مضبوط کرنے، نئے آرڈرز حاصل کرنے اور 100 ارب ڈالر کی برآمدات کے ہدف کی جانب پیش رفت میں مدد ملے گی۔
’’آئی ایم ایف پر انحصار سے مستقل نجات کے لیے آئندہ 10 برسوں میں برآمدات کم از کم 100 ارب ڈالر تک پہنچانا ہوں گی۔ یہ ہدف بلند ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ ملکی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر، استحکام برقرار رکھ کر اور معاشی ترقی پر توجہ مرکوز کرکے پاکستان یہ منزل حاصل کر سکتا ہے۔‘‘
پروفیسر احسن اقبال
اڑان پاکستان کے دسویں قومی اقتصادی مشن کے تحت «انٹرماڈل کنیکٹیوٹی اور لاجسٹکس کی مسابقت» کے موضوع پر گول میز اجلاس سے خطاب۔
ایک برآمدی آرڈر صرف کارخانے میں تیار نہیں ہوتا؛ اس کی کامیابی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب مصنوعات مقررہ وقت پر عالمی خریدار تک پہنچ جائیں۔
اس سفر میں سڑک، ریل، بندرگاہ اور فضائی کارگو کے درمیان رابطہ کمزور ہو تو تاخیر بڑھتی ہے۔ تاخیر سے اضافی اخراجات ہوتے ہیں، کاروبار کا سرمایہ پھنستا ہے اور خریدار اگلا آرڈر کسی دوسرے ملک کو دے سکتا ہے۔
اڑان پاکستان کا دسواں قومی اقتصادی مشن، «انٹرماڈل کنیکٹیوٹی اور لاجسٹکس»، اسی پورے ترسیلی سفر کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔
وفاقی وزیرِ پروفیسر احسن اقبال کی زیرِ صدارت اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کو کارگو خدمات کی کارکردگی اور باہمی رابطہ بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی۔ واضح اہداف اور قابلِ پیمائش کارکردگی کے اشاریوں کے ذریعے مشن کی پیش رفت جانچنے پر بھی زور دیا گیا۔
اس کا معیشت سے براہِ راست تعلق ہے: بہتر ترسیل کاروباری لاگت کم کرنے اور خریدار کا اعتماد بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔ زیادہ آرڈرز سے پیداوار اور روزگار کے مواقع بڑھ سکتے ہیں، جبکہ زیادہ برآمدات ملک کے لیے زرمبادلہ کماتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ مؤثر لاجسٹکس، پاکستان کو آئندہ 10 برسوں میں کم از کم 100 ارب ڈالر کی برآمدات کے ہدف تک پہنچانے کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔
آئی ایم ایف سے مستقل نجات کیسے ممکن ہے؟ وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے برآمدات کو اس منزل تک پہنچنے کا بنیادی راستہ قرار دیا ہے۔
اڑان پاکستان کے تحت دسویں قومی اقتصادی مشن برائے انٹرماڈل کنیکٹیوٹی اور لاجسٹکس کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی مصنوعات کا معیاری ہونا ہی کافی نہیں؛ عالمی خریدار تک ان کی بروقت اور قابلِ اعتماد ترسیل بھی ضروری ہے۔
اسی مقصد کے لیے وفاقی وزیر نے متعلقہ وزارتوں کو سڑکوں، ریلوے، بندرگاہوں اور فضائی نقل و حمل کے درمیان ربط بہتر بنانے اور واضح اہداف کے تحت کارکردگی بڑھانے کی ہدایت کی۔
قرضوں پر انحصار سے معاشی خودانحصاری کی جانب پیش رفت کے لیے درکار اقدامات پر وفاقی وزیر کا مکمل خطاب
برآمدات میں اضافے اور تجارتی لاگت میں کمی کے لیے اڑان پاکستان کے تحت سڑکوں، ریلوے، بندرگاہوں اور فضائی نقل و حمل کو ایک مربوط، جدید اور خودکار لاجسٹکس نظام سے منسلک کرنے کی سمت پیش رفت کی جا رہی ہے۔
دسویں قومی اقتصادی مشن برائے انٹرماڈل کنیکٹیوٹی اور لاجسٹکس کے اجلاس میں وفاقی وزیرِ پروفیسر احسن اقبال نے متعلقہ وزارتوں کو واضح اہداف اور قابلِ پیمائش کارکردگی کے اشاریوں کے تحت کام آگے بڑھانے کی ہدایت کی۔ اس اقدام کا مقصد ترسیل میں تاخیر کم کرنا، پاکستانی مصنوعات کی لاگت گھٹانا اور عالمی منڈیوں تک ان کی بروقت اور قابلِ اعتماد رسائی یقینی بنانا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ 10 برسوں میں برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے مؤثر تجارتی رابطوں اور پالیسیوں کے تسلسل کو بنیادی ترجیح دی جا رہی ہے۔ حکومت کی توجہ ایسے مربوط نظام کی تشکیل پر مرکوز ہے جو صنعت و تجارت کی ضروریات پوری کرے، ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ کی مسابقتی حیثیت مضبوط بنائے اور بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لیے برآمدی معیشت کو مستحکم بنیاد فراہم کرے۔
It begins with an ordinary evening: another spoon of sugar in the tea, a soft drink with snacks, another day without a walk. Repeated over time, these choices can raise the risk of type 2 diabetes. A health concern can then take time, income and opportunity from the whole family.
The good news is that families can change the story together. Choose water more often, eat a variety of foods in sensible portions, make walking part of the day and avoid tobacco. These steps can help prevent or delay type 2 diabetes.
Start with one family choice today. Healthier families help build a stronger Pakistan.
#PreventDiabetes #HealthyFamilies #ChooseWater #WalkTogether #ProductivePakistan #ZimadarShehri
Diabetes often develops quietly; but its impact can change the lives of individuals and entire families.
The Prime Minister National Program for Prevention of Diabetes, with a total project cost of Rs 6.8 billion, places prevention at the centre of the national health agenda. By encouraging greater awareness and healthier everyday choices, the programme can help families understand diabetes risk before serious complications develop.
Aligned with the Equity; Education, Health & Population pillar of URAAN Pakistan, this initiative reflects an important development priority: building a healthier nation by investing in prevention today.
#PSDP2026_27 #URAANPakistan #DiabetesPrevention #PublicHealth #HealthierPakistan
پاکستان کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کو سرمایہ کاری، جدت اور روزگار کے مواقع میں بدلنے کی جانب اہم قدم۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 10 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں دانش آئی ٹی پارک کا افتتاح کیا۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) اور کوریائی شراکت داروں کے تعاون سے تعمیر کردہ یہ 12 منزلہ مرکز اسٹارٹ اَپس، تحقیق، روبوٹکس اور ٹیکنالوجی کی تربیت کے لیے ایک مربوط پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔
عالمی معیار کی دفتری سہولیات، انکیوبیشن اور تحقیقی مراکز، جدید آئی سی ٹی انفراسٹرکچر اور ٹئیر تھری ڈیٹا سینٹر سے آراستہ یہ منصوبہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور تقریباً 7,500 براہِ راست روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی تعمیر، پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل میں سرمایہ کاری۔
#DaanishITPark #DigitalPakistan #PSDP #URAANPakistan @betterpakistan @MoitOfficial
وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات میں چیف، بین الاقوامی تجارت و مالیات ونگ، شاہد اقبال مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے دعائیہ اجتماع منعقد ہوا۔ وفاقی وزیرِ احسن اقبال نے مرحوم کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی مغفرت و بلندیٔ درجات کے لیے دعا کی۔
وزارت کے افسران اور ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ شاہد اقبال ایک خاموش طبع، محنتی، دیانت دار اور فرض شناس افسر تھے، جنہوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری لگن سے ادا کیں۔
زندگی کی ناپائیداری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل اہمیت منصب کی نہیں، اس کردار اور خدمت کی ہے جو ہم اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔ سرکاری ذمہ داری ایک امانت ہے، جس کا تقاضا ہے کہ ہر شخص خود احتسابی کرے کہ اس کی محنت اور فیصلوں سے ادارے اور عوام کے لیے کیا بہتری آئی۔
انہوں نے افسران اور ملازمین پر زور دیا کہ اپنی ذمہ داریاں اس دیانت داری اور احساسِ فرض کے ساتھ ادا کریں کہ تبادلے، ریٹائرمنٹ یا دنیا سے رخصتی کے بعد لوگ انہیں عزت اور اچھے لفظوں میں یاد رکھیں۔
اللہ تعالیٰ شاہد اقبال مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور اہلِ خانہ و رفقائے کار کو صبرِ جمیل دے۔ آمین۔
ایک کاشت کار گھرانے کے لیے مویشی محض جانور نہیں، خوراک، آمدن، جمع پونجی اور مشکل وقت کا سہارا ہوتے ہیں۔ ان کی صحت سے پورے خاندان کا روزگار اور معاشی تحفظ وابستہ ہوتا ہے۔
7.35 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے جانوروں کی بیماریوں کی نگرانی اور تدارک کے قومی پروگرام کا مقصد بیماریوں کی مؤثر نگرانی اور قومی و بین الاقوامی معیارات کے مطابق مویشیوں کی شناخت اور نقل و حرکت کے ریکارڈ کا نظام بہتر بنانا ہے۔
مویشیوں کی درست شناخت اور بیماریوں کی بروقت نشاندہی سے کاشت کاروں کو اپنے جانوروں کی حفاظت اور معاشی نقصانات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ جانوروں اور ان سے حاصل ہونے والی مصنوعات کا مستند ریکارڈ خوراک کے تحفظ کے ساتھ ملکی و عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات پر اعتماد بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
اُڑان پاکستان کے ماحولیات، پانی اور غذائی تحفظ کے ستون سے ہم آہنگ یہ منصوبہ دیہی روزگار کے تحفظ اور جانوروں و انسانوں کی صحت کی نگہداشت کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
صحت مند مویشی، محفوظ خوراک اور مضبوط ذریعۂ معاش؛ یہی پائیدار دیہی ترقی کی بنیاد ہے۔
#PSDP2026_27 #UraanPakistan #FoodSecurity #LivestockDevelopment























