Pinned Tweet
Pakistan Zindabad
Pak Fauj Zindabad
#پالستان_میری_پہلی_محبت
#پاکستان_میری_آخری_محبت
پاکستان میرا آخری حوالہ - پاک فوج میری محافظ -
کلاسرا صاحب امید ہے مولانا کے ایمان کا آپکو اچھی طرح معلوم ہوگا۔ اگر نہیں تو مشرف دور میں ۔ بے نظیر دور میں اسی مولانا کے تقاریر اٹھا کر دیکھ لیں۔ مولانا کا ایمان اتنا مظبوط نہیں۔ ہاں چرب زبان ضرور ہے ایک وزارت کی مار ہے یہ بے ایمان منافق مولوی۔ آپ پنجاب سے ہیں آپکو یہ زیادہ بہادر لگتا ہے مگر ہم پٹھان اس بے ایمان مولبی کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اسی لیے تو یہ کبھی اپنے یونین کونسل بھی نہیں جیت سکا۔ یہ تندور کی روٹیاں تھوڑنے والا مولانا ہے ۔۔۔۔
@KlasraRauf
سیّد ذادِی retweeted
جس جج کے سامنے کیس لگا ہوا ہے، اسی جج کی مسلسل کردار کشی PTI سوشل میڈیا کر رہا ہے… اور پھر انصاف بھی اسی جج سے مانگا جا رہا ہے! صحافی کا یہ سوال
‼️پی ٹی آئی سوشل میڈیا ہمارے کنٹرول سے باہر ہے۔ سلمان اکرم راجہ
‼️اگر سوشل میڈیا ٹیم واقعی بے قابو ہو گئی ہے یا بغاوت کر رہی ہے، تو بطور سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی، سلمان اکرم راجہ صاحب پی ٹی آئی کے آئین کے مطابق سوشل میڈیا ٹیم کے سربراہ کو ہٹا کر نیا سربراہ کیوں نہیں مقرر کر لیتے؟
@salmanAraja
سیّد ذادِی retweeted
سیاحوں کے لیے دنیا کا سب سے خطرناک ملک.
غیر ملکی خاتون پر وحشیانہ حملہ، زیادتی اور تشدد نے بھارت کی نام نہاد تہذیب کا جنازہ نکال دیا ہے۔ ایسے شرمناک اور لرزہ خیز واقعات ثابت کرتے ہیں کہ وہاں نہ اپنے محفوط ہیں نہ غیر ملکی مہمان!
"یہ ہمارے کنٹرول میں نہیں، مریخ پر بیٹھے ہیں!" قانون کا ڈنڈا پڑتے ہی پی ٹی آئی کی بزدل قیادت کا پرانا ڈرامہ شروع. جب آفیشل ہینڈلز تمہارے ہیں، بیانیہ تمہارے فتنہ خان کا ہے اور گالیاں تمہاری ہدایت پر دی جاتی ہیں، تو اب لاتعلقی کا یہ ناٹک کسے بیچ رہے ہو؟ تم کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک فسطائی پروپیگنڈا سرکس بن چکے ہو.
@salmanAraja
"سوشل میڈیا ہمارے کنٹرول سے باہر ہے" سلمان اکرم راجہ کا یہ عذر گناہوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے.
عدلیہ اور ججوں پر حملے باقاعدہ پلاننگ کے تحت کروائے جاتے ہیں اور جب پھٹنے کی باری آئے تو کنٹرول سے باہر ہونے کا رونا رویا جاتا ہے۔ اگر واقعی بے قابو ہو چکے ہیں تو پارٹی آئین کا استعمال کرتے ہوئے اس ڈیجیٹل ونگ کے سربراہ کو فارغ کرنے میں کس چیز کا ڈر ہے؟
@salmanAraja
مولانا صاحب کو کیا ہوگیا ؟ اپنے ہی بھائی اور سوشل میڈیا ٹیم کے ہیڈ ضیاء الرحمن کو نشانے پر رکھ کیا
🚨مجھے اپنے بھائی ضیاء الرحمن کے اخلاقی کردار کا معلوم نہیں تھا کہ وہ اتنے گر سکتے ہیں اور جمیعت کے سوشل میڈیا ٹیم کو گالم گلوچ پر لگایا ہوا۔ مدرسوں کے بچوں حافظ قرآن کو موبائیل تھمایا ہوا ہے اور وہ گالیاں دے رہے ہیں۔ مفتی محمود مرکز کو سوشل میڈیا کا اڈہ بنایا ہوا ۔ مجھے تو انکے سوشل میڈیا پوسٹس دیکھ کر حیرانی ہونی ہوتی ہے کہ کیسے حافظ قرآن ہیں۔ فضل الرحمن
@ziaurrehman76
@MoulanaOfficial
سیّد ذادِی retweeted
مولانا فضل الرحمن کے شدید گِلے شکوے: پختونخواہ کی گورنر شپ اور وفاقی وزارتوں سے محرومی
پشاور کے ایک صحافی کی مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ملاقات کا احوال
مولانا فضل الرحمن کے ساتھ بیٹھ کر ایسا لگا کہ ان کے ہاں آندھی آئی ہو اور سب کچھ تباہ ہو گیا ہو۔
مولانا صاحب نے انٹرویو سے پہلے ریاست سے اپنے گِلے شکوے کیے اور کھل کر اظہارِ خیال کیا۔
مولانا صاحب کے مطابق صوبے پر گورنری کا حق ہمارا ہے۔ اگر ریاست ہمیں پختونخواہ کی گورنر شپ آفر کرتی تو ہم بہترین خدمت کر سکتے تھے۔ سمدھی غلام علی سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کے علاوہ موجودہ وفاقی حکومت نے ہمیں نظر انداز کیا۔ ہمیں کوئی وزارت نہیں دی گئی۔ میری خواہش تھی کہ اسعد محمود کو وزارت ملے، بھائی عطا الرحمن صاحب کو ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ ملے، چھوٹے بیٹے کو پختونخواہ میں مشیر بنا لیتے، اور بھائی ضیاء الرحمن کو ثمر ہارون بلور کی جگہ پختونخواہ کا وزیرِ اطلاعات مقرر کرتے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ ہمارے ساتھ سوتیلے کا سلوک کیوں ہو رہا ہے؟
صحافی کے مطابق مولانا صاحب کے گِلے شکوے درست ہیں۔ اگر مولانا صاحب وزارتیں ملنے یا پختونخواہ حکومت میں حصہ ملنے پر خاموش ہو جاتے تو ان کو حصہ دینا چاہیے تھا۔
مولانا صاحب کی آخری بات کا ذکر کہ جب میں موجودہ حکومت کے وزراء اور مشیروں کا پروٹوکول دیکھتا ہوں یا ان کی عزت دیکھتا ہوں تو میرا خون کھول جاتا ہے کہ ہمیں آخر کیوں یہ عزت نہیں دی گئی! آخر ہم نے کون سی خدمت کرنے سے انکار کیا تھا؟
@KhawajaMAsif
@TararAttaullah @MohsinnaqviC42
"دوسروں کے پروٹوکول دیکھ کر خون کھولتا ہے" اقتدار کی ہوس کی اس سے بڑی اور کیا مثال ہوگی؟
صوبے اور مرکز میں صرف اپنے بھائیوں، بیٹوں اور سمدھیوں کے لیے عہدوں کی تمنا! مولانا صاحب کو دکھ اس بات کا نہیں کہ عوام تکلیف میں ہیں، دکھ صرف یہ ہے کہ اربوں کی وزارتیں اور مراعات ان کے خاندانی ٹولے کو کیوں نہ ملیں۔ یہی ان کا اصل روپ ہے.
@KhawajaMAsif @TararAttaullah @MohsinnaqviC42
سیّد ذادِی retweeted
پشاور کے صحافی کی مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ملاقات کا احوال۔
مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بیٹھ کر ایسا لگا کہ ان کے ہاں آندھی آگئی ہوں۔ اور سب کچھ تباہ ہوگیا ہوں ۔
مولانا صاحب نے انٹریو سے پہلے ریاست سے اپنے گلے شکوے کئے۔ اور کھل کر اظہار کردیا۔
مولانا صاحب کے مطابق صوبے پر گورنری کا حق ہمارا ہے اگر ریاست ہمیں پختونخواہ کی گونر شپ آفر کرتی تو ہم بہترین خدمت کرسکتے تھے۔ سمدھی غلام علی سے اچھا کوئی نہیں ہوسکتا تھا۔ اسکے علاوہ موجودہ وفاقی حکومت میں ہمیں اگنور کیا گیا۔ ہمیں کوئی وزارت نہیں دی گئی۔ میری خواہش تھی کہ اسعد محمود کو وزارت ملیں بھائی عطاءالرحمان صاحب کو ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ ملیں چھوٹے بیٹے کو پختونخواہ میں مشیر بنا لیتے۔ بھائی ضیاءلراحمن کو ثمر ہارون بلور کی جگہ پختون خواہ کا وزیر اطلاعات مقرر کرتے ۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ ہمارے ساتھ سوتیلے کا سلوک کیوں ہورہا ہے
صحافی کے مطابق مولانا صاحب کے گلے شکوے درست ہیں۔ اگر مولانا صاحب وزارتیں ملنے یا پختونخواہ حکومت میں حصہ ملنے پر خاموش ہوجاتے ہیں تو انکو حصہ دینا چاہییں تھا۔
مولانا صاحب کی آخری بات کا ذکر کہ میں جب موجودہ حکومت کے وزیروں مشیروں کا پروٹوکول دیکھا ہوں یا انکی عزت دیکھتا ہوں تو میرا خون کھول جاتا ہے کہ ہمیں آخر کیوں یہ عزت نہیں دی گیی! آخر ہم نے کونسی خدمت کرنے سے انکار کیا تھا ؟
سیّد ذادِی retweeted
طلعت صاحب میری شیاشت کو شمجھنے کی کوشش کریں !🤔
@TalatHussain12 کیا آپ کچھ شمجھے یا نہیں؟
@iHafizHamdullah
دین کے نام پر دکانداری چمکا کر 45 ارب کے اثاثے بنانے والے اب احتساب کے نام سے ہی کانپتے ہیں. پنڈی کی مسجد کی غربت سے اقتدار اور اربوں کے اپارٹمنٹس تک کا سفر صرف اور صرف عوام کا حق مار کر طے کیا گیا۔ نیب اور FBR کو اس 45 ارب کے نام نہاد بادشاہ کا فوری کڑا احتساب کرنا ہوگا
بے نامی جائیدادوں اور کرپشن کا سچ سامنے آیا تو صحافیوں پر ہاتھ اٹھا دیا.
فضل الرحمٰن کے گھر کے باہر رپورٹنگ کرنے والی ٹیم پر انصار الاسلام کے کارندوں کا حملہ ثابت کرتا ہے کہ یہ ٹولے قانون، آزادیِ صحافت اور بنیادی انسانی حقوق کا کس قدر دشمن ہے۔ اس کھلی غنڈہ گردی پر فوری اور سخت ترین قانونی کارروائی ہونی چاہیے
سیّد ذادِی retweeted
اب تو اسٹیبلشمنٹ کی چھٹی😂😜
خواجہ سرا اپنے سب سے بڑے گاہک #قبضہ_گروپ_مولوی اور اپنے گرو کامران مرتضی عرف کامی چھمک چھلو کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے منظر عام پر آ گئے۔
خواجہ سراؤں نے کہا کہ ہم فضل الرحمان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں
فضلو اگر بات خواجہ سراؤں تک آ ہی گئی ہے تو فیر در فٹے منہ✋🏿✋🏿
سیّد ذادِی retweeted
نام ہے حافظ حمد اللہ اور کام ہے ابلیس والے۔۔۔
زرتاج گل اگر میرے ساتھ سو جائیں تو اسکو میں عمران خان سے زیادہ تسکین دے سکتا ہوں۔ مولانا ڈیزل کا پیروکار
اپنی بیٹیوں کے بارے میں کیا خیال ہے کا آپکی بہن بیٹیاں بھی دوسروں کے لئے ہیں؟ کیا دوسرے لوگ آپکے بیٹیوں کے بارے میں ایسا سوچ سکتے ہیں ؟
@iHafizHamdullah
سیّد ذادِی retweeted
جس ماں کا حافظ حمد اللہ جیسا بیٹا ہو تو وہ صرف ماں نہیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کے لئے شرمندگی کا باغث بنتا ہے۔
اپنے داڑھی اور پگڑی کو دیکھ کر ہی شرم کرلو بے شرم انسان۔ سولہ سالہ لڑکی تمہاری بیٹی نہیں بلکہ نواسی کی جگہ ہوگی۔ بے غیرت تم پر آکر رکھ جاتی !
@iHafizHamdullah
شہریار آفریدی نے فضل الرحمٰن اور ان کے چیلوں کا اصل روپ بے نقاب کر دیا.
حافظ حمد اللہ سے کبھی دین کی بات نہیں سنی، ماسوائے دنیاوی مفادات اور فضلو ڈیزل کے ناپاک دفاع کے۔ شہریار آفریدی کا آمین کا چیلنج ثابت کرتا ہے کہ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کو اپنے کرپٹ قائد کے گناہوں کا پورا علم ہے.
@iHafizHamdullah
منبر و محراب کی حرمت، داڑھی اور پگڑی کا تقاضا اخلاق اور احترام ہوتا ہے۔ حافظ حمد اللہ کا ایک کمسن لڑکی کے ساتھ یوں غیر مناسب اندازِ گفتگو انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔ دینی اقدار کی نمائندگی کرنے والوں کو اپنے رویے اور زبان کا محاسبہ کرنا چاہیے.
@iHafizHamdullah
دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سرحدوں پر نہیں، سوشل میڈیا کے فرنٹ پر بھی لڑی جا رہی ہے.
غیر تصدیق شدہ خبریں پھیلانا دہشت گردوں کے بیانیے کو تقویت دینا ہے۔ ایک ذمہ دار شہری بنیں، حقائق کی تصدیق کریں اور فیک نیوز کا مہرہ بننے سے صاف انکار کریں
ووٹ کشمیریت اور اسلام کے نام پر لینا ہے، شادی دہلی کی منظوری اور سیکولر کلب کی خوشنودی کے لیے کرنی ہے۔
تین نسلوں کا یہی سودا چل رہا ہے۔
تین نسلوں سے شیخ عبداللہ خاندان خود کو کشمیری مسلمانوں کی شناخت کے محافظ کے طور پر بیچ رہا ہے، جبکہ اس خاندان کی اپنی ذاتی زندگی کا اس شناخت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ شیخ عبداللہ سے فاروق عبداللہ اور اب عمر عبداللہ تک، نعرہ ہمیشہ اسلام، کشمیریت اور خودمختاری کا لگایا، ووٹ لینے کے لیے، لیکن اپنے گھر کے اندر فیصلے ہمیشہ دوسری دنیا کے کیے۔ انگریز بیوی، بیٹی کی شادی کانگریس خاندان میں، اور اب دوسری شادی ایک کشمیری پنڈت صحافی سے۔
کسی کے ذاتی فیصلے پر اعتراض نہیں، اعتراض سیاسی منافقت پر ہے۔ جو خاندان اپنے گھر میں ایک کشمیری مسلمان بہو نہیں لا سکا وہ پوری وادی کی مسلمان شناخت کی حفاظت کا دعویٰ کیسے کرتا ہے!!
اصل المیہ یہ ہے کہ جب عمر عبداللہ دہلی سے مسکراتی تصویریں پوسٹ کر رہے ہیں کہ "ایک نیا سفر شروع"، عام کشمیری مسلمان وہیں پرانے سفر میں پھنسا ہوا ہے، روزانہ تلاشیاں، آپریشن، بے روزگاری، ریاستی تشخص کا کوئی نام و نشان نہیں، الیکشن کے وعدے ہوا میں، اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا ذکر تک اب ان کی تقریروں سے غائب ہے۔ ان کے لیے اب لڑائی کیبنٹ میں ردوبدل کی ہے، جبکہ کشمیریوں کے لیے اب بھی بقا کی۔
یہ شادی نہیں، اس خاندان کی اس پرانی عادت کی آخری کڑی ہے جس نے اقتدار میں رہنے کے لیے ہمیشہ دہلی کے ہندو اکثریتی نظام سے منظوری لی۔ ووٹ مسلمان شناخت کے نام پر لینا ہے اور داد وصول کرنی ہے دہلی کے سیکولر کلب میں۔ یہی وہ سودا ہے جس نے کشمیری مسلمان کی اصل شناخت کو آہستہ آہستہ بیچ دیا ہے۔
سیّد ذادِی retweeted
تین نسلوں سے شیخ عبداللہ خاندان خود کو کشمیری مسلمانوں کی شناخت کے محافظ کے طور پر بیچ رہا ہے، جبکہ اس خاندان کی اپنی ذاتی زندگی کا اس شناخت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ شیخ عبداللہ سے فاروق عبداللہ اور اب عمر عبداللہ تک، نعرہ ہمیشہ اسلام، کشمیریت اور خودمختاری کا لگایا، ووٹ لینے کے لیے، لیکن اپنے گھر کے اندر فیصلے ہمیشہ دوسری دنیا کے کیے۔ انگریز بیوی، بیٹی کی شادی کانگریس خاندان میں، اور اب دوسری شادی ایک کشمیری پنڈت صحافی سے۔
کسی کے ذاتی فیصلے پر اعتراض نہیں، اعتراض سیاسی منافقت پر ہے۔ جو خاندان اپنے گھر میں ایک کشمیری مسلمان بہو نہیں لا سکا وہ پوری وادی کی مسلمان شناخت کی حفاظت کا دعویٰ کیسے کرتا ہے!!
اصل المیہ یہ ہے کہ جب عمر عبداللہ دہلی سے مسکراتی تصویریں پوسٹ کر رہے ہیں کہ "ایک نیا سفر شروع"، عام کشمیری مسلمان وہیں پرانے سفر میں پھنسا ہوا ہے، روزانہ تلاشیاں، آپریشن، بے روزگاری، ریاستی تشخص کا کوئی نام و نشان نہیں، الیکشن کے وعدے ہوا میں، اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا ذکر تک اب ان کی تقریروں سے غائب ہے۔ ان کے لیے اب لڑائی کیبنٹ میں ردوبدل کی ہے، جبکہ کشمیریوں کے لیے اب بھی بقا کی۔
یہ شادی نہیں، اس خاندان کی اس پرانی عادت کی آخری کڑی ہے جس نے اقتدار میں رہنے کے لیے ہمیشہ دہلی کے ہندو اکثریتی نظام سے منظوری لی۔ ووٹ مسلمان شناخت کے نام پر لینا ہے اور داد وصول کرنی ہے دہلی کے سیکولر کلب میں۔ یہی وہ سودا ہے جس نے کشمیری مسلمان کی اصل شناخت کو آہستہ آہستہ بیچ دیا ہے۔














