نئے صوبوں کے قیام پر تحریک تحفظ آئین پاکستان کا پالیسی بیان:
"جہاں تک نئے صوبوں کے قیام کا تعلق ہے آئینِ پاکستان میں صوبوں کی تشکیل کا طریقہ کار پوری صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
اس کے برعکس، محض انتظامی احکامات (ایگزیکٹو آرڈر) کے ذریعے اضلاع کی طرز پر صوبے بنانا، پاکستان کی اساس پر براہِ راست حملہ تصور کیا جائے گا۔
ہم ان قوتوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ کسی بھی ایسے غیر آئینی اقدام کی صورت میں عوامی ردِعمل کو روکنا ممکن نہیں رہے گا اور پوری قوم سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر نکل آئے گی۔
پاکستان اب مزید کسی ایسے بحران یا مہم جوئی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
— قائدِ حزبِ اختلاف، محمود خان اچکزئی
#LongMarchOnSeptember27th
"سکینڈل نہیں، ایک بات ضرور ہوتی ہے کہ آپ کو کسی بات کا ڈر یا خوف ہوتا ہے۔ لیکن جب آپ کو ایک انشورنس پالیسی دے دی جائے، کہ پاکستان پیپلز پارٹی، یہ آپ کی انشورنس پالیسی ہے، آپ تب تک اقتدار میں رہیں گے جب تک یہ نظام قائم ہے۔ تو میں وہی کہہ رہا ہوں کہ انہیں ایک انشورنس پالیسی مل گئی ہے۔ جیسے آپ کوئی انشورنس پالیسی لیتے ہیں، تو آپ کو یہ ضمانت ملتی ہے کہ خدانخواستہ آپ کو کچھ ہو جائے تو آپ کے خاندان کو کوریج ملے گی۔ تو یہ ان کی انشورنس پالیسی ہے۔ ان کو دراصل یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ آپ جو مرضی کریں، آپ کو ہٹایا نہیں جائے گا۔"
معاشی ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان محمد زبیر عمر @Real_MZubair
اگر میں عمران خان سے ملوں، تو میں انہیں کیا مثال دوں گا؟ نیلسن منڈیلا کی۔ دیکھیں، ان کی پوری سیاہ فام کمیونٹی کے ساتھ زیادتی ہوتی تھی۔ کہا جاتا تھا کہ سیاہ فام اس شہر میں نہیں آ سکتے۔ آپ اس ریسٹورنٹ میں نہیں جا سکتے۔ آپ اس بس میں نہیں بیٹھ سکتے۔ آپ اس سکول میں نہیں جا سکتے۔ اس سے زیادہ ظلم تو ہو ہی نہیں سکتا۔ ستائیس سال کی قید کاٹی، سختیاں برداشت کیں، بہت زیادتیاں ہوئیں۔ جب وہ اقتدار میں آئے تو انہوں نے کیا کیا؟ میں جوہانسبرگ میں آئی بی ایم میں کام کرتا تھا، اس لیے مجھے وہاں جانے کے کئی مواقع ملے۔
معاشی ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان محمد زبیر عمر @Real_MZubair
اس ایک نامزد لفظ کو شامل کرنے کے لیے محسن نقوی صاحب تین گھنٹے غائب ہو گئے۔ وہ اپنے باس سے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے، اب ان کا باس کون ہے، یہ آپ جانتے ہیں۔ زرداری صاحب تو اس بات پر خفا تھے، ان کی صدارتی ٹیم اس پر ناراض تھی کہ جب وہ پروکلیمیشن پر دستخط کر رہے تھے تو وہ ویڈیو میڈیا میں کس نے جاری کی؟ وہ تو اس پر بھی خفا تھے اور انہیں دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی گن پوائنٹ پر ان سے یہ کام لے رہا ہے۔
تو بات یہ ہے کہ محسن نقوی صاحب نے اس ایک نامزد لفظ کو ڈالنے کے لیے ہمیں تین گھنٹے انتظار کرایا۔ مجھے اپنی بات مکمل کرنے دیں، اس سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے پاس اختیار کتنا تھا۔ لیکن یہ سارا قصہ ایک طرف رکھیں۔
سب سے آخری رات، جس شخصیت نے ہماری ہی دعوت پر اس پورے معاملے میں مداخلت کی، جسے پوری قوم جانتی ہے کہ وہ ایک زیرک، بزرگ اور کمٹمنٹ والے سیاستدان ہیں؛ مولانا فضل الرحمان صاحب۔ ہماری طرف سے ان سے کہا گیا کہ کیا آپ اس میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں؟ ہماری ملاقات ہوئی، جس میں میں خود موجود تھا۔ مولانا صاحب نے کہا کہ میری تو حکومت کے ساتھ کٹی ہے، لیکن اگر آپ لوگ چاہتے ہیں تو میں اپوزیشن کی طرف سے ثالثی اور سہولت کار کا کردار ادا کروں گا۔ ہم نے کہا، بسم اللہ دیکھ لیں۔
پہلے حکومت کی ٹیم آتی ہے اور مولانا صاحب سے ملتی ہے۔ پھر وہ ٹیم جا کر وزیر اعظم کو اس ساری صورتحال پر اپ ڈیٹ کرتی ہے۔ اس کے بعد وزیر اعظم اور مولانا صاحب کی ملاقات ہوتی ہے۔ مولانا صاحب جب وہ ملاقات کر کے واپس آتے ہیں، تو وہ ہمیں پیش رفت سے آگاہ کرتے ہیں اور اس چیز پر ایک اتفاقِ رائے بن جاتا ہے۔
جب مولانا صاحب ہماری تجاویز پر حکومت کو جواب دے رہے تھے، تو انہیں بتایا گیا کہ چونکہ وزیر اعظم صاحب جلدی سو جاتے ہیں (اس وقت رات کے 11 بج رہے تھے)، اس لیے اب صبح ہی ان سے بات ہو سکے گی۔ چنانچہ فجر کے وقت مولانا صاحب نے خود ہمیں بریف کیا کہ میری وزیر اعظم صاحب سے بات ہو گئی ہے اور طے پایا ہے کہ میں ادھر ہی آ رہا ہوں۔
وہاں جا کر اس پورے معاملے پر یہ اتفاق ہوا کہ ہم اپنا لانگ مارچ ختم کر دیں گے اور اگلے دن آپ ہمیں عمران خان تک رسائی دیں گے۔ حکومت نے مولانا صاحب کے ساتھ واضح طور پر یہ کمٹمنٹ کی تھی۔ یہ بھی طے پایا کہ وکلاء بھی جائیں گے، فیملی کی جو بہنیں ہیں انہیں بھی رہا کیا جائے گا، اور ہمیں عمران خان صاحب سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی تاکہ حکومت کے ساتھ چلنے والے معاملات پر ہم ان کی رضامندی لے سکیں۔
لیکن اگلی صبح 9 بجے کابینہ میٹنگ بلا لی گئی، حالانکہ اتوار کا دن تھا۔ اور قوم کو یہ 'خوشخبری' سنائی گئی کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ ہو گیا ہے۔
ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی @YousafzaiHusain
"میرے خیال میں جب آپ سیاست کے میدان میں ہوتے ہیں تو آپ کو سیاسی آپشنز اور ٹولز کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔ میرا ماننا ہے کہ اس وقت اسمبلیاں چھوڑنا ایک غلط فیصلہ تھا، اور مجھے یہ بھی علم ہے کہ انہیں اس فیصلے کی طرف دھکیلنے والے کون تھے۔ آج وہ لوگ جو اس فیصلے کے محرک تھے، وہ خود منظرِ عام سے غائب ہیں۔
اس ملک کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ہم نے سیاسی جماعتوں کو مکمل طور پر ایڈہاک ازم پر چلایا ہے۔ میں مجموعی طور پر بات کر رہا ہوں، میری مراد صرف پی ٹی آئی نہیں بلکہ پورا کا پورا سیاسی نظام اسی خامی کا شکار ہے۔ آپ مجھے کوئی ایک ایسی جماعت بتا دیں جو ایک حقیقی اور منظم نظام کے تحت چل رہی ہو۔"
ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی @YousafzaiHusain
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan retweeted
آپ فرعون سے طاقتور نہیں ہے۔ وہ بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرتا تھا۔ آپ بھی بسم اللہ کرئے۔ پارلیمینٹ میں کوئی بولتا ہے تو آپ گالیاں دینے شروع کر دیتے ہو۔ آج اُن تمام لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں جنہوں نے۲۶ویں اور ۲۷ویں ترمیم میں وٹ دیا تھا۔ آج ایک اور شریف جج نے استعفی دیا
"ایک انسان کو 24 گھنٹوں میں سے 22 گھنٹے 7 بائی 10 کے سیل کے اندر رکھا جاتا ہے۔
ابھی جو گرمیاں گزری ہیں، خان صاحب نے صرف ایک ہی شکایت کی ہے کہ مجھے باہر جانے کا موقع بھی نہیں دیا جاتا۔
میرا اندر کا سیل اوون کی طرح گرم ہو جاتا ہے، یعنی اس میں چیزیں پکتی ہیں۔ وہ عمران خان جس نے کبھی اتنی دھوپ نہیں دیکھی تھی اور شہزادوں کی طرح زندگی گزاری تھی۔
عمران خان اب پاور پالیٹکس سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ اگر ان کا مقصد وزیراعظم ہی بننا تھا، یا وزیراعظم ہی بننا ہے، تو اس وقت بھی اگر وہ ایک شخص کو فون کریں یا کوئی رابطہ کریں، جس کے اردگرد پاکستان کی تمام تر پاور گھومتی ہے، تو وہ یہ آپشن استعمال نہیں کر رہے۔"
ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی
"ہمیں پی ٹی آئی کو جو نصیحت کرنی تھی، ہم کر چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کے لوگوں کو اس وقت بکھرنے کی نہیں بلکہ یکجا ہونے کی ضرورت ہے اور ان کے رہنماؤں کو اس وقت ذاتی رائے دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ صوبوں سے متعلق کوئی بھی حتمی فیصلہ بانی پی ٹی آئی کے سوا کوئی اور نہیں کر سکتا۔
ہمیں اپنے بیانیے کو کبھی بھی غیر محتاط رویے اور خود کش حملے سے خراب نہیں کرنا چاہیے۔ محمود اچکزئی اپوزیشن لیڈر بننے کے لیے بانی پی ٹی آئی کے پاس نہیں گئے تھے، بلکہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی خاطر اپنی پرانی دوستیوں کو قربان کیا ہے۔ اس لیے اپنا سارا ملبہ محمود اچکزئی کے اوپر نہیں ڈالنا چاہیے۔ یاد رکھیں کہ سیاسی مسائل ہمیشہ صبر و تحمل سے حل ہوتے ہیں، عجلت سے نہیں۔"
وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان، قائد حزب اختلاف سینٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔
ابھی حال ہی میں، سات آٹھ مہینے پہلے کی بات ہے، کچھ ہمارے دوست پی ٹی آئی کی قیادت سے ملنے جیل کے اندر گئے تھے۔ شاید اس میں خلائی مخلوق کے نمائندے بھی تھے۔
تو خان صاحب سے ان کی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ خان صاحب نے کہا کہ یہ جیل میرے لیے خدا کی نعمت ہے۔
میں پہلے جلدی جلدی نماز پڑھتا تھا، میں اب سکون سے نماز پڑھ رہا ہوں۔
میں پہلے قرآن کا صحیح ترجمہ بھی نہیں پڑھ سکتا تھا، اب ایک کے بجائے میں چار قرآن کی تفاسیر پڑھ رہا ہوں۔
میں یہ کتابیں پڑھ رہا ہوں۔ خدا نے ان کو ایک وقت دیا ہے اور وہ ان کے لیے غنیمت ہے۔ اور انسان کی سب سے بڑی اصلاح جیل کے اندر ہی ہوتی ہے۔
تو میرا تو اپنا یقین اور پختہ عزم اور ایمان ہے کہ انشاءاللہ جو عمران خان جیل کے اندر گیا تھا اور جو عمران خان جیل سے باہر آئے گا، اس میں زمین اور آسمان کا فرق ہوگا۔
ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی
پارٹی کا ایک نظام موجود ہے، اس کا ایک چیئرمین موجود ہے، اس کا سیکرٹری جنرل موجود ہے اور پارٹی کی تنظیم موجود ہے، ان کو اسی کے مطابق چلنا چاہیے۔ لوگوں کے سامنے ہمیں اپنے اندرونی معاملات سرعام نہیں لانے چاہیے۔ سمجھداری دکھائیں، آپ کا بہت نقصان ہو چکا ہے۔ پاکستان کے عوام نے آپ کو مینڈیٹ دیا تھا، آپ اس کی حفاظت نہیں کر سکے اور وہ آپ سے چھین لیا گیا ہے۔
ابھی یہ وقت نہیں ہے کہ آپ آپس میں الجھیں۔ اتنی بڑی پارٹی ہے اس میں اختلافات اور مسائل بھی ہو سکتے ہیں، جو اس وقت ایک مشکل اور بحران کا شکار کر دی گئی ہے۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ایک سیاسی پارٹی کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ دنیا کے عقلمند لوگ تو سیاسی پارٹیوں کو اپنے ملکوں میں مضبوط اور طاقتور کرتے ہیں،
جن کے ذریعے نظام چلائے جاتے ہیں۔ ہم تو سیاسی پارٹیوں کو توڑتے ہیں، ان پر حملے کرتے ہیں، ان کی قیادت کو جیلوں میں ڈالتے ہیں، ان کو ناکردہ گناہوں کی سزائیں دیتے ہیں۔ اور پھر اس کے بعد اچانک ان کو پاک صاف کر دیتے ہیں۔ ایئرپورٹ پر لا کر بائیو میٹرک بھی کرتے ہیں اور ان کے تمام معاملات کلیئر ہو جاتے ہیں اور سارے کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔"
وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان, قائد حزب اختلاف سینٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
صوبوں کی تقسیم کے حوالے سے ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ میرے خیال میں پارٹی کا ایک باقاعدہ نظام موجود ہے، اس کا ایک چیئرمین اور سیکرٹری جنرل موجود ہے۔ پارٹی کی ایک قیادت موجود ہے جس کے مطابق سب کو چلنا چاہیے۔ ہمیں لوگوں کے سامنے اپنے اختلافات سرِعام چوک میں نہیں لانے چاہئیں۔ سب سمجھدار ہیں، آپ کا پہلے ہی بہت نقصان ہو چکا ہے۔ پاکستان کے عوام نے آپ کو ایک مینڈیٹ دیا تھا جس کی آپ حفاظت نہیں کر سکے اور وہ آپ سے چھین لیا گیا ہے۔ یہ وقت آپس میں الجھنے کا نہیں ہے۔
بہرحال، یہ ایک قدرتی امر ہے کہ اتنی بڑی پارٹی میں اختلافات اور مسائل ہو سکتے ہیں۔ پارٹی کو ایک مشکل اور بحران کا شکار کر دیا گیا ہے، اور یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ایک سیاسی پارٹی کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جا رہا ہے۔ دنیا کے عقلمند لوگ تو اپنے ملکوں میں سیاسی پارٹیوں کو مضبوط اور طاقتور کرتے ہیں جن کے ذریعے نظام چلائے جاتے ہیں۔ لیکن ہم سیاسی پارٹیوں کو توڑتے ہیں، ان پر حملے کرتے ہیں، ان کی قیادت کو جیلوں میں ڈالتے ہیں، اور انہیں ناکردہ گناہوں کی سزائیں دیتے ہیں۔ پھر اس کے بعد اچانک انہیں پاک صاف کر دیتے ہیں، ایئرپورٹ پر لا کر بائیو میٹرک بھی کرواتے ہیں اور ان کے لیے ہر چیز کلیئر ہو جاتی ہے، جیسے سارے قتل معاف ہو گئے ہوں۔
وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان, قائد حزب اختلاف سینٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
اعلامیہ تحریک تحفظ آئین پاکستان
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان حسین احمد یوسفزئی پر مشتمل وفد نے امیر جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔
ملاقات میں مہمان وفد نے قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمٰن کی قومی اسمبلی میں تقریر کی بھرپور تائید کرتے ہوئے حکومتی وزراء کی جانب سے امیر جمعیت علمائے اسلام کی کردار کشی کی شدید مذمت کی۔ وفد نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی حملوں اور کردار کشی میں تبدیل کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے، اور سیاسی قیادت کے احترام کو ہر صورت ملحوظِ خاطر رکھا جانا چاہیے۔
ملاقات میں سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں کی ناحق قید، انہیں بنیادی حقوق سے محروم رکھنے اور اہلِ خانہ و وکلاء کو ان تک رسائی نہ دینے کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر اس طرزِ عمل کے نتیجے میں کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
وزیراعلی سہیل آفریدی ، سپیکر بابر سلیم سواتی ، صوبائی صدر جنید اکبر خان کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا گیا۔
"کوئی بھی شخص ہو، چاہے وہ میں ہوں، بیرسٹر ظفر ہوں یا کوئی اور، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کو یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ جو فیصلہ اکثریتی رائے سے طے پا جائے، عوام کے سامنے اسی کی ترجمانی کی جائے اور اپنی ذاتی رائے دینے سے گریز کیا جائے۔ موجودہ وقت میں ذاتی رائے دینے سے محض ابہام پیدا ہوتا ہے۔
میں پی ٹی آئی کا حصہ نہیں بلکہ ایم ڈبلیو ایم (MWM) سے تعلق رکھتا ہوں، لیکن اس کے باوجود میں اس بات کا مکمل خیال رکھتا ہوں کہ میری کسی بات سے ان کا کوئی اندرونی اختلاف سامنے نہ آئے۔ سیاسی جماعتوں میں اختلافِ رائے ہونا ایک فطری امر ہے، لیکن جب اکثریتی رائے سے کوئی فیصلہ ہو جائے تو وہ سب کا مشترکہ فیصلہ متصور ہوتا ہے اور اس پر کسی کو ویٹو کا حق حاصل نہیں ہوتا۔"
وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان, قائد حزب اختلاف سینٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
صوبوں میں پی ٹی آئی کی تقسیم کا فیصلہ صرف عمران خان کر سکتے ہیں۔
یہ مسئلہ صوبوں کے اندر ہے۔ اس لیے پیپلز پارٹی کو اس معاملے میں بالکل بھی بات نہیں کرنی چاہیے۔ جہاں تک صوبوں کی تقسیم کا تعلق ہے، اس کا فیصلہ صرف عمران خان کریں گے۔ ان کے علاوہ کوئی اور یہ فیصلہ نہیں کر سکتا۔ یہ ملاقات عمران خان سے ہونی چاہیے، ان سے بات ہونی چاہیے۔
اگر اسٹیبلشمنٹ تقسیم کرنا چاہتی ہے، یا جو بھی وہ کرنا چاہتی ہے، اگر وہ چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی کوئی کردار ادا کرے، تو وہ عمران خان سے ملاقات کیے اور ان سے بات کیے بغیر کچھ نہیں کر سکتی۔ کوئی بھی، چاہے میں ہوں، بیرسٹر ظفر ہوں، یا کوئی بھی ہو۔
وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان، قائد حزب اختلاف سینٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
اب بھی مذاکرات اسی پر ہونے چاہئیں، جو کچھ ایران میں ہو رہا ہے، اس پر ہمیں اعتماد میں لیں۔ ہم آپ کی حمایت کریں گے۔ خدانخواستہ اگر ایران پر اسرائیل اور امریکہ حملہ کرتے ہیں، تو ہماری پوزیشن کیا ہوگی؟
ہم کس کا دفاع کریں گے اور ہم کہاں جائیں گے؟ بسم اللہ کریں، نہ آپ اتنے اچھے ہیں اور نہ ہم اتنے برے ہیں، یہی پاکستان ہے۔ ان کو اعتماد میں لیں۔ نئے لوگ نہیں آئیں گے، پرانوں کو بھول جائیں۔
یہ پاکستان ہے اور یہ اس کے عوام ہیں، انہیں ساتھ بٹھائیں اور آئیں اس ملک کو اس بحران سے نکالیں۔ ہم آپ کو غیر مشروط حمایت دیں گے۔
مولانا، پی ٹی آئی اور ہماری بھی غیر مشروط حمایت ہوگی۔ آئیں تمام سیاسی لوگ مل کر بیٹھیں، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگی۔ ہمارا آئین بالادست ہوگا اور تمام پالیسیاں یہیں بنیں گی۔
قوموں کو ان کے اختیارات ملیں گے اور ان کی زبانوں کا احترام کیا جائے گا۔ جناب، اب بھی یہ ایک بہترین ملک بن سکتا ہے۔ آپ فرعون سے زیادہ طاقتور نہیں ہیں۔ تاریخ پڑھ لیں، انہوں نے بچوں کو ذبح کیا تھا۔ آخر فرعون اور اس کے تماشے کہاں گئے؟
حضرت موسیٰ علیہ السلام جیت گئے اور وہ ہار گئے۔ آئیں بسم اللہ کریں، نہ آپ ہمیں برا کہیں اور نہ ہم آپ کو، یہ ہمارا مشترکہ ملک ہے۔ اسے بچانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ یہاں آئین اور انصاف کی حکمرانی ہو۔ ہم تمام ہمسایوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات رکھیں گے۔ جو ہماری خودمختاری کا احترام نہیں کرے گا، ہم بھی اس کا احترام نہیں کریں گے، اور جو کرے گا، ہم بھی کریں گے۔ کوئی متفقہ لائحہ عمل مرتب کریں،
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
"اگر آپ افغانستان سے راستہ بنانا چاہتے ہیں، تو آپ کو اپنی ڈکشنری سے یہ بات نکالنی ہوگی کہ کابل یا افغانستان ہمارا پانچواں صوبہ ہوگا۔ 'اسٹریٹجک ڈیپتھ' کی سوچ کو بھی نکالنا ہوگا۔ بسم اللہ کریں، جب آپ چاہیں؛ اگر مولانا صاحب نے کہا ہے کہ وہ جانے کے لیے تیار ہیں، تو ان کے بھی وہاں رشتے ہیں اور آپ کے بھی۔ آئیں، بسم اللہ کریں۔ ملکوں پر برے اوقات آتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی اور جاپان برباد ہوئے، لیکن 50 سالوں میں وہ دنیا کے بہترین ممالک بن گئے۔ آئیں، بیٹھیں، ہمیں اعتماد میں لیں اور ہمیں سمجھائیں۔ چیخ و پکار اور گالیاں دینے سے کیا ہوگا؟ آپ مجھے گالیاں دیں، میں آپ کو گالیاں دوں، اس کا کیا فائدہ؟ اب بھی ان معاملات پر مذاکرات ہونے چاہئیں، سب کو بٹھائیں۔ جو کچھ ایران میں ہو رہا ہے، اس پر ہمیں اعتماد میں لیں۔ ہم آپ کی حمایت کریں گے۔ امریکہ کبھی دھمکیاں دیتا ہے..."
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
بچوں کی بھوک کی وجہ سے، اس دن آپ کو خدا یاد آئے گا کہ پاکستان کہاں جا رہا ہے۔ آئیں بسم اللہ کریں، کیا چاہیے آپ کو؟ میں آپ کو ان کنڈیشنل سپورٹ دیتا ہوں۔ آئیں پاکستان کو بنائیں۔ سندھی کو یہ اختیار دیں کہ بابا آپ جانیں، آپ کے وسائل جانیں۔ بلوچ آپ جانیں، آپ کے وسائل جانیں۔ پنجابی غریب پہ بھروسہ کریں۔ افغانستان کے ساتھ اپنے راستے بند کر دیں۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
آئیں اس پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنائیں۔
چیکوسلواکیہ کی طرح بیٹھ کر حساب کریں۔
سندھی اپنا پٹواری بلا لے گا کہ یہ سندھ ہے،
بلوچ اپنے بلا لے گا کہ یہ بلوچ ہے،
پنجاب اپنے بلا لے گا کہ یہ پنجاب ہے،
اور سب خدا حافظ کر کے سلام کر دیں گے۔
کیوں توڑنا چاہتے ہو اس ملک کو؟
اسے بنائیں۔ آپ 70، 75 سال میں دیکھ لیں،
اس میں ہمارا کوئی رول نہیں تھا۔ نہ سندھی کا رول تھا، نہ بلوچ کا رول تھا، نہ سرائیکی کا رول تھا، اور نہ پشتون کا رول تھا۔ آپ نے پاکستانی قوم کو نہیں بنایا۔
ہاں، اگر بنانا چاہتے ہیں تو اس کا نسخہ یہ ہے۔ سندھی سے کہیں، پنجابی سے کہیں۔
۔۔ کیا زندگی ہے
15 ہزار روپے، 16 ہزار روپے، 20 ہزار روپے دیہاڑی دار مزدور نہیں کما رہا۔ کس طرح زندگی ہوگی؟
6 کروڑ بچے آپ کے اسکول سے باہر ہیں۔
پاکستان کو اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے، لیکن کہاں کا قلعہ؟ کیا اس طرح کا اسلام ہوتا ہے؟
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
"ہم الزام نہیں لگا رہے، لیکن جب آپ سے بات کی جاتی ہے تو آپ گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ وہاں سے حنیف بھائی غصہ کرنے لگتے ہیں، آخر یہ کیا ہو رہا ہے؟
اب بھی وقت ہے۔ پیپلز پارٹی بھی سن رہی ہے اور آپ بھی سن رہے ہیں، اب بھی وقت ہے کہ اس پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنائیں۔
آپ کو کیا سپورٹ چاہیے؟
ووٹ؟
ہمارے تمام ووٹ آپ کے لیے ہیں۔
ہم سب آپ کو ووٹ دیں گے۔
مولانا فضل الرحمان آپ کو ووٹ دیں گے،
تحریک انصاف آپ کو ووٹ دے گی،
ہمارے تمام ساتھی آپ کو ووٹ دیں گے۔
آئیں،
1-اس پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنائیں۔
چیکوسلواکیہ کی طرح بیٹھ کر اس کا حساب کریں۔"
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
یہ پارلیمنٹ اگر پاکستان کی نمائندہ پارلیمنٹ ہے، تو اس کا حق بنتا ہے کہ آپ اس کو اعتماد میں لیں کہ ہمارے خطے میں کیا ہو رہا ہے۔ ان حالات میں آصف بھائی ہم آپ کے ساتھ ہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں، بسم اللہ کریں، آئیں۔ پھر کل یہ نہیں چلے گا۔ ایسا موقع آئے گا کہ آپ کہیں انکار نہیں کر سکیں گے۔ یہ پارلیمنٹ آپ کا سہارا بنے گی کہ جی ہم یہ بات پارلیمنٹ کے پاس لے گئے، پارلیمنٹ نہیں مان رہی، لہٰذا ہم نہیں آ رہے۔ جب آپ سے بات کرتے ہیں، آپ گالیاں دینی شروع کر دیتے ہیں، وہاں سے میرا بھائی حنیف بھائی غصہ کرتا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے؟"
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
"اس ملک کو ریاست بنائیں، اسے ماں کا درجہ دیں۔ عوام کی خدمت کریں اور انہیں عزت دیں۔ آپ سب کو مبارک ہو، اور ان تمام لوگوں کو بھی مبارک ہو جنہوں نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ ایک معزز جج نے استعفیٰ دے دیا ہے اور انہوں نے واضح طور پر یہ اعلان کیا ہے کہ 'میں محسن کیانی اس لیے استعفیٰ دے رہا ہوں کیونکہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عدالتوں کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی'۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

