The Daily Milap (@TheDailyMilap) header
The Daily Milap (@TheDailyMilap) profile picture

India’s Oldest & Largest Combined Circulated Urdu Daily. Bridging divides & forging unity since 1923.

New Delhi, India
Joined September 2021
Photo by The Daily Milap (@TheDailyMilap)Photo by The Daily Milap (@TheDailyMilap)Photo by The Daily Milap (@TheDailyMilap)Photo by The Daily Milap (@TheDailyMilap)Photo by The Daily Milap (@TheDailyMilap)Photo by The Daily Milap (@TheDailyMilap)Photo by The Daily Milap (@TheDailyMilap)Photo by The Daily Milap (@TheDailyMilap)Photo by The Daily Milap (@TheDailyMilap)Photo by The Daily Milap (@TheDailyMilap)
ہم اپنے قارئین اور میلاپ کی ٹیم کے ہر رکن کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہماری قوم کی خدمت میں ہماری مدد کی۔ آج، جب ہم 100 سال مکمل کرتے ہیں تو ہم اپنے بانی اصولوں کو برقرار رکھنے اور اخلاقیات اور اقدار پر قائم رہنے کا عہد کرتے ہیں۔ @MilapNN @SuriNavin @RenuSuri15 @SureshRaiDhima1 @rishi_suri @tara_milap @ramesh_milap @mohamma61141631 @ZUBI_26 @AltafHussainKh1 @JavedShah_13 @Tabassumaziz11 @MIB_India
5
11
2
46
44,765
تائیوان کے سیاست دان کو سیاسی طور پر تنہا کرنے کے لیے چین کی مبینہ دھمکی آمیز مہم، کاروباری شخصیات اور فنکاروں پر دباؤ تائی پے: چین پر تائیوان کے ایک اہم سیاست دان کو سیاسی طور پر تنہا کرنے کے لیے دھمکیوں اور معاشی دباؤ کی منظم مہم چلانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بیجنگ تائیوان کی حکمران ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور تائی پے کے میئر کے امیدوار پوما شین سے وابستہ فنکاروں، کاروباری اداروں اور پیشہ ور شخصیات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ الزام ہے کہ اس مہم کا مقصد معروف شخصیات کو شین کی حمایت سے روکنا، ان کے انتخابی روابط محدود کرنا اور ان کی سیاسی سرگرمیوں کے لیے دستیاب وسائل کو کمزور کرنا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب تائیوان کے معروف ٹیلی ویژن میزبان کیون تسائی نے عوامی سطح پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی تائیوان کی آزادی کی حمایت نہیں کی۔ کیون تسائی نے 4 اکتوبر کو پوما شین کے انتخابی مہم کے دفتر کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی تھی، جس کے بعد انہیں چینی حکام اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں انہوں نے چینی سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا، جس میں تائیوان کی آزادی کی حمایت سے لاتعلقی ظاہر کی۔ تاہم اطلاعات کے مطابق اس وضاحت کے باوجود چین میں ان کے کاروباری شراکت داروں نے ان سے فاصلے برقرار رکھے۔ کیون تسائی کے منیجر نے واضح کیا کہ ٹیلی ویژن میزبان نے انتخابی تقریب میں صرف اس لیے شرکت کی تھی تاکہ وہ مستقبل میں ممکنہ انٹرویو کے لیے پوما شین سے واقفیت حاصل کر سکیں۔ تائیوان کے قومی سلامتی سے متعلق حلقوں میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چین براہ راست سیاست دان کو نشانہ بنانے کے بجائے ان سے وابستہ افراد کے کاروباری مفادات کو دباؤ کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اس مبینہ حکمت عملی کے تحت چین کی منڈی میں کاروبار کرنے والی کمپنیوں اور معروف شخصیات کو ممکنہ معاشی نقصان کا خوف دلا کر تائیوان کے مخصوص سیاسی امیدواروں سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سے نہ صرف انتخابی امیدواروں کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے بلکہ ان کے میڈیا رابطے اور انتخابی سرگرمیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ چین پر اس سے قبل بھی تائیوان کی سیاسی سرگرمیوں میں معاشی دباؤ استعمال کرنے کے الزامات لگ چکے ہیں۔ 2021 میں چین نے تائیوان کے بڑے صنعتی گروپ فار ایسٹرن کے خلاف تحقیقات اور جرمانوں کی کارروائی کی تھی۔ اس وقت بیجنگ نے واضح کیا تھا کہ تائیوان کی آزادی کی حمایت کرنے والے افراد کو مالی مدد فراہم کرنے والی کمپنیوں اور ان سے وابستہ کاروباری اداروں کو کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پوما شین نے کیون تسائی کی وضاحت کے وقت پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق یہ بیان ممکنہ طور پر بیرونی دباؤ کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی جب شین کے سیاسی حریف اور کومنتانگ سے تعلق رکھنے والے تائی پے کے میئر چیانگ وان آن اپنے انتخابی مہم کے دفتر کا افتتاح کرنے والے تھے۔ تائیوان میں ان واقعات نے انتخابی سیاست میں بیرونی مداخلت، اظہارِ رائے کی آزادی اور کاروباری مفادات کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کے خدشات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ بیجنگ تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اس کے ساتھ اتحاد کا خواہاں ہے، جبکہ تائیوان کی حکومت اپنے جمہوری نظام اور سیاسی خودمختاری کے تحفظ پر زور دیتی ہے۔ چین کے خلاف تازہ الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے، تاہم یہ معاملہ تائیوان اور بیجنگ کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی کشیدگی میں ایک نیا تنازع بن کر سامنے آیا ہے۔ #China #Taiwan
🤖 Made with AI
1
1
67
پاکستان میں زہریلی فضائی آلودگی سے اوسط عمر تقریباً چار سال کم، معیشت کو جی ڈی پی کے 6.5 فیصد کے برابر نقصان لاہور: پاکستان میں فضائی آلودگی انسانی صحت اور ملکی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق زہریلی ہوا کے باعث پاکستانی شہریوں کی متوقع اوسط عمر میں تقریباً 3.9 سال کی کمی ہو رہی ہے، جبکہ فضائی آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور دیگر نقصانات کا معاشی بوجھ ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے 6.5 فیصد کے برابر ہے۔ فضائی آلودگی کے باعث پاکستان میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ 28 ہزار افراد قبل از وقت موت کا شکار ہوتے ہیں۔ مسلسل آلودہ ہوا میں سانس لینے سے دل، پھیپھڑوں اور سانس کی بیماریوں کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی اور پشاور میں فضائی آلودگی کی صورتحال تشویشناک ہے۔ گاڑیوں، صنعتی سرگرمیوں، اینٹوں کے بھٹوں اور غیر معیاری ایندھن کے استعمال کو آلودگی کی اہم وجوہات قرار دیا گیا ہے۔ لاہور ملک کے سب سے زیادہ متاثرہ شہروں میں شامل ہے۔ یہاں انتہائی باریک آلودہ ذرات کی سالانہ اوسط مقدار 110 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے تجاوز کر گئی ہے، جو صحت کے لیے مقرر کردہ بین الاقوامی رہنما حد سے 22 گنا زیادہ ہے۔ لاہور میں آلودگی کی موجودہ سطح پر طویل عرصے تک رہنے سے شہریوں کی متوقع عمر میں سات سال تک کمی ہو سکتی ہے۔ سردیوں کے دوران صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے، کیونکہ موسمی حالات کے باعث آلودہ ہوا زمین کے قریب پھنس جاتی ہے اور زہریلے ذرات فضا میں منتشر نہیں ہو پاتے۔ لاہور میں ٹرانسپورٹ براہ راست خارج ہونے والے باریک آلودہ ذرات میں 35 فیصد حصہ ڈالتی ہے، جبکہ صنعتی سرگرمیوں کا حصہ 28 فیصد اور اینٹوں کے بھٹوں کا حصہ 17 فیصد ہے۔ کراچی میں صنعتی سرگرمیاں فضائی آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، جہاں متعلقہ اخراج کا تقریباً 49 فیصد حصہ صنعتوں سے وابستہ ہے۔ فضائی آلودگی کے معاشی اثرات بھی سنگین ہیں۔ بیماریوں کے علاج پر بڑھتے ہوئے اخراجات، کام کرنے کی صلاحیت میں کمی اور قبل از وقت اموات ملکی معیشت پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہیں۔ کم آمدنی والے خاندان، بچے، کسان اور کھلے ماحول میں کام کرنے والے مزدور اس بحران سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے گاڑیوں کے اخراج کی نگرانی، صنعتی آلودگی میں کمی، صاف ایندھن کے فروغ اور اینٹوں کے بھٹوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان میں فضائی آلودگی اب محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ صحت عامہ، معاشی ترقی اور شہریوں کے معیارِ زندگی سے جڑا ایک بڑا قومی بحران بن چکی ہے۔ #Pakistan #Pollution
1
1
69
پاکستان کے صوبہ سندھ میں آبی انتظام کی سنگین خامیاں بے نقاب، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں سرکاری اعداد و شمار پر سوالات اسلام آباد: پاکستان کے صوبہ سندھ میں پانی کے انتظام، آبپاشی کے نظام اور آبی وسائل کی تقسیم میں سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کی ایک تازہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فرسودہ قوانین، ناقص سرکاری اعداد و شمار اور پانی کی حقیقی دستیابی اور سرکاری تقسیم کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق نے صوبے کے آبی انتظام کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ تحقیق میں سندھ حکومت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صوبے میں زمین اور پانی کے تمام وسائل کا جامع جائزہ لے، تاکہ زرعی، شہری، صنعتی اور ماحولیاتی ضروریات کے مطابق پانی کی مؤثر تقسیم ممکن بنائی جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق سندھ کا روایتی آبپاشی نظام بنیادی طور پر نہروں پر منحصر تھا، لیکن وقت کے ساتھ شہری پانی کی فراہمی، مقامی ڈیموں، جھیلوں، آبی ذخائر اور پمپنگ نظام کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ اس کے باوجود سرکاری نگرانی اور انتظامی طریقہ کار میں ضروری تبدیلیاں نہیں کی گئیں۔ سب سے زیادہ تشویشناک انکشاف سرکاری اعداد و شمار میں سنگین تضادات کا ہے۔ صوبائی کراپ رپورٹنگ سروس کے مطابق زیرِ آبپاشی زمین کے اعداد و شمار محکمہ آبپاشی سندھ کے ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ زرعی زمین کی حدود، فصلوں کے سروے، نمونوں کے انتخاب اور اضلاع کی سطح پر معلومات جمع کرنے کے طریقہ کار پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے۔ سرکاری ریکارڈ میں بارانی علاقوں اور کنوؤں سے سیراب ہونے والی زمین کے بارے میں بھی واضح معلومات موجود نہیں، جس کے باعث پانی کی حقیقی طلب اور استعمال کا درست اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔ رپورٹ میں ایک اہم تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا کہ سندھ میں نہری پانی سے سیراب ہونے والی زمین کا رقبہ 20 لاکھ ہیکٹر سے کم ظاہر کیا جاتا ہے، جبکہ نہری پانی کی طلب کا حساب تقریباً 50 لاکھ ہیکٹر زرعی زمین کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے۔ اس فرق سے آبی وسائل کی منصوبہ بندی اور تقسیم کے موجودہ نظام کی درستگی پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق پینے کے پانی، صنعتی ضروریات اور مقامی آبی ذخائر پر نمایاں سرمایہ کاری کی گئی ہے، لیکن ان سہولتوں سے حاصل ہونے والے پانی کی مقدار اور استعمال کا مناسب ریکارڈ موجود نہیں۔ اسی طرح چھوٹے ڈیموں اور جھیلوں سے موسم سرما میں آبپاشی کی جاتی ہے، مگر اس پانی کو سرکاری تقسیم اور نگرانی کے نظام میں پوری طرح شامل نہیں کیا جاتا۔ صوبے میں نکاسی آب کا وسیع نظام بھی موجود ہے، لیکن اس کی حقیقی صلاحیت اور مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے پانی کی مقدار کے بارے میں مکمل معلومات دستیاب نہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ نامکمل یا غلط سرکاری اعداد و شمار حکومتی فیصلوں کو متاثر کر سکتے ہیں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے ترجیحات کے غلط تعین کا سبب بن سکتے ہیں۔ تحقیق میں سندھ حکومت کو سالانہ اور موسمی بنیادوں پر پانی کی دستیابی، تقسیم اور استعمال کا باقاعدہ حساب تیار کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس نظام میں بارش، زیرِ زمین پانی، نہروں، جھیلوں، ڈیموں اور دریاؤں سے حاصل ہونے والے پانی کے ساتھ زرعی، صنعتی، شہری اور ماحولیاتی ضروریات کو بھی شامل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، غیر متوقع بارشوں اور شدید مون سون کے واقعات کے باعث آبی وسائل کا درست حساب اور مؤثر نگرانی مزید ضروری ہو گئی ہے۔ تحقیق میں زرعی پیداوار کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ سندھ میں اوسط زرعی پیداوار اور بہتر انتظام والے کھیتوں کی پیداوار کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے، جس کی وجوہات جاننے کے لیے کھیتوں کی سطح پر تفصیلی تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ کے نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ سندھ میں پانی کی قلت اور تقسیم کے مسائل کے حل کے لیے صرف نئے آبی منصوبے کافی نہیں ہوں گے، بلکہ سرکاری ریکارڈ کی درستگی، جدید نگرانی، شفاف تقسیم اور انتظامی اصلاحات بھی ضروری ہیں۔ یہ انکشافات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستان کو پانی کی دستیابی، زرعی پیداوار اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مؤثر اصلاحات کے بغیر صوبے کے موجودہ آبی وسائل سے مکمل فائدہ اٹھانا مشکل رہے گا۔ #Sindh #Pakistan #WaterCrisis
1
2
90
پاکستان میں 15 لاکھ بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکار، بچوں کے تحفظ کا نظام سنگین بحران سے دوچار لاہور: پاکستان میں بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کی کمی پر شدید تشویش سامنے آئی ہے۔ واقعات کی ناکافی رپورٹنگ، سرکاری اداروں کے درمیان رابطے کا فقدان اور بچوں کے تحفظ کے کمزور انتظامات کے باعث بڑی تعداد میں متاثرہ بچوں کو انصاف نہیں مل پاتا۔ بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کو محض سائبر کرائم کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے بچوں کے بنیادی حقوق، عزت، سلامتی اور تحفظ کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ 2025 کے دوران پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ میں سامنے آنے والے ایک واقعے میں مبینہ طور پر ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کے ذریعے کم از کم 50 بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ بچوں میں چھ سال یا اس سے کم عمر کے بچے بھی شامل تھے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2021 میں پاکستان سے منسلک بچوں کے مشتبہ جنسی استحصال پر مبنی آن لائن مواد کے بارے میں 20 لاکھ سے زیادہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ تاہم یہ تعداد متاثرہ بچوں کی نہیں بلکہ مشتبہ آن لائن سرگرمیوں سے متعلق اطلاعات کی ہے۔ ستمبر 2026 میں سامنے آنے والی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 12 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 15 لاکھ بچے ایک سال کے دوران کسی نہ کسی شکل میں آن لائن جنسی استحصال یا زیادتی کا شکار ہوئے۔ یہ تعداد انٹرنیٹ استعمال کرنے والے اس عمر کے ہر 16 بچوں میں سے تقریباً ایک بچے کے برابر ہے۔ متاثرہ بچوں میں سے نصف سے زیادہ نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا، جبکہ سروے میں شامل متاثرہ بچوں میں سے کسی نے بھی پولیس، ہیلپ لائن یا سماجی کارکنوں جیسے رسمی امدادی ذرائع سے رابطہ نہیں کیا۔ سماجی بدنامی کا خوف، خاندانوں کا دباؤ، متاثرہ بچوں کو قصوروار ٹھہرانے کا رجحان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کی کمی ایسے عوامل ہیں جن کے باعث جنسی استحصال کے متعدد واقعات منظرعام پر نہیں آتے۔ بچوں کے تحفظ کے اداروں، پولیس، سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسیوں، استغاثہ اور عدالتوں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ ملزمان کے خلاف بروقت کارروائی اور متاثرہ بچوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ متاثرہ بچوں کو قانونی امداد، نفسیاتی مشاورت اور بحالی کی سہولتیں فراہم کرنا بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ صرف عوامی آگاہی کی مہمات اس بحران سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔ اس کے لیے مؤثر حفاظتی نظام، سرکاری اداروں کی جواب دہی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی ذمہ داریوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ جب تک بچوں کے تحفظ کے موجودہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد اور متاثرین کے لیے محفوظ شکایتی نظام قائم نہیں کیا جاتا، پاکستان میں آن لائن جنسی استحصال کے واقعات کی حقیقی تعداد سامنے لانا اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا ایک بڑا چیلنج رہے گا۔ #Pakistan #ChildSafety
1
1
71
تائیوان کے 73 فیصد سے زائد عوام چینی کمیونسٹ پارٹی کے مخالف، چین پر عدم اعتماد برقرار تائی پے: تائیوان میں ہونے والے ایک تازہ عوامی سروے کے مطابق تقریباً تین چوتھائی شہری چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ کے خلاف عدم اعتماد صرف حکمران جماعت کے حامیوں تک محدود نہیں بلکہ چین کے ساتھ بہتر تعلقات کی حامی اپوزیشن جماعتوں کے ووٹروں میں بھی پایا جاتا ہے۔ سروے کے مطابق 73.5 فیصد افراد نے چینی کمیونسٹ پارٹی کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی، جبکہ صرف 8.9 فیصد نے مثبت رائے دی۔ گزشتہ ماہ کے مقابلے میں منفی رائے رکھنے والوں کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، تاہم مثبت رائے رکھنے والوں کی تعداد میں 1.4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ عوامی رائے کے ماہر تائی لی آن کے مطابق 2015 سے مسلسل کیے جانے والے ماہانہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ تائیوان میں چینی کمیونسٹ پارٹی کے بارے میں منفی خیالات رکھنے والوں کی شرح عموماً 60 سے 70 فیصد کے درمیان رہی ہے۔ تازہ نتائج بھی اسی دیرینہ رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ سروے میں خواتین، وسطی تائیوان کے باشندوں، 20 سے 49 سال کی عمر کے افراد، یونیورسٹی گریجویٹس اور حکمران ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی کے حامی سیاسی حلقوں میں چین کی کمیونسٹ قیادت کے خلاف منفی رائے 75 فیصد سے تجاوز کر گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چین کے ساتھ نسبتاً قریبی تعلقات کی حامی اپوزیشن جماعت کومنتانگ (KMT) کے ووٹروں میں بھی بیجنگ کے بارے میں تحفظات نمایاں ہیں۔ سروے کے مطابق کومنتانگ کے 50.3 فیصد حامیوں نے چینی کمیونسٹ پارٹی کے بارے میں منفی رائے دی، جبکہ 34 فیصد نے مثبت مؤقف اختیار کیا۔ اسی طرح پین بلیو سیاسی اتحاد کے 53.7 فیصد حامیوں نے چینی کمیونسٹ پارٹی کی مخالفت کی، جبکہ 30.2 فیصد نے اس کے بارے میں مثبت رائے ظاہر کی۔ کومنتانگ کے انتہائی وفادار ووٹروں میں بھی 46.8 فیصد نے منفی اور 40.9 فیصد نے مثبت رائے دی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کے ساتھ بہتر تعلقات کی حمایت لازماً چینی کمیونسٹ پارٹی کی حمایت نہیں سمجھی جا سکتی۔ سیاسی طور پر غیر وابستہ شہریوں میں بیجنگ کے بارے میں عدم اعتماد مزید نمایاں رہا۔ اس طبقے کے 62.5 فیصد افراد نے چینی کمیونسٹ پارٹی کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی، جبکہ صرف 3.1 فیصد نے مثبت رائے دی۔ سروے میں تائیوان کے صدر ولیم لائی کی کارکردگی اور ملکی اقتصادی صورتحال کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے۔ صدر لائی کی قیادت سے غیر مطمئن افراد میں بھی 60.4 فیصد نے چینی کمیونسٹ پارٹی کے بارے میں منفی رائے دی، جبکہ 19.4 فیصد نے مثبت مؤقف اختیار کیا۔ صدر ولیم لائی کی عوامی مقبولیت کی شرح بڑھ کر 52.2 فیصد جبکہ ان پر اعتماد کی شرح 53 فیصد تک پہنچ گئی، جو اپریل 2025 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ یہ قومی سروے 20 سال یا اس سے زائد عمر کے 1,075 افراد کے جوابات پر مبنی تھا۔ اس میں اعتماد کی شماریاتی سطح 95 فیصد اور غلطی کا ممکنہ تناسب تقریباً تین فیصد پوائنٹس بتایا گیا ہے۔ تائیوان اور چین کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدگی کا شکار ہیں۔ بیجنگ تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اسے چین کے ساتھ متحد کرنے کا خواہاں ہے، جبکہ تائیوان کی حکومت اپنی جمہوری خودمختاری اور موجودہ سیاسی نظام کے تحفظ پر زور دیتی ہے۔ تائیوان کی مین لینڈ افیئرز کونسل کے ایک علیحدہ سروے میں بھی 81.2 فیصد افراد نے چین کے مجوزہ ’’ایک ملک، دو نظام‘‘ کے فارمولے کی مخالفت کی تھی، جبکہ بڑی اکثریت نے تائیوان کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کے ہاتھ میں ہونے کی حمایت کی۔ تازہ سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ تائیوان میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باوجود چینی کمیونسٹ پارٹی کے بارے میں عدم اعتماد وسیع پیمانے پر موجود ہے۔ اس صورتحال میں بیجنگ کے لیے تائیوان کے عوام کا اعتماد حاصل کرنا ایک اہم سیاسی اور سفارتی چیلنج بنا ہوا ہے۔ #Taiwan #China
1
1
112
تبت میں چین کی مذہبی پابندیوں میں شدت، بدھ راہبوں کے 200 سے زائد مکانات مسمار کرنے کی کارروائی دھرم شالہ: چین کی جانب سے تبت میں مذہبی آزادی اور تبتی ثقافتی شناخت کے خلاف کارروائیوں کے نئے الزامات سامنے آئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق چینی حکام نے مشرقی تبت کی تاریخی دزا سیرشول خانقاہ میں بدھ راہبوں کی رہائش کے لیے استعمال ہونے والے 200 سے زائد مکانات کو مسمار کرنے کی مہم شروع کی ہے۔ جلاوطن تبتی انتظامیہ کے مطابق یہ کارروائی مشرقی تبت کے کارزے علاقے کی سیرشول کاؤنٹی میں واقع تاریخی بدھ خانقاہ میں 25 یا 26 اکتوبر کو شروع ہوئی۔ تاہم کارروائی کی درست تاریخ اور مسماری کی مکمل تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق چینی حکام نے علاقے میں عوامی اجتماعات منعقد کرنے کے ساتھ انٹرنیٹ اور مواصلاتی رابطوں پر بھی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس کے باعث مقامی حالات اور مسماری کی کارروائیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ دزا سیرشول خانقاہ تبتی بدھ مت کی ایک اہم مذہبی اور ثقافتی درسگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں بدھ راہب مذہبی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ خانقاہ سے وابستہ رہائشی عمارتوں کی ممکنہ تباہی نے تبتی ثقافتی ورثے اور مذہبی آزادی کے مستقبل کے بارے میں خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب چین پر تبتی بدھ خانقاہوں کے خلاف ایسی کارروائیوں کا الزام عائد ہوا ہو۔ اس سے قبل لارونگ گار میں جولائی 2016 اور یاچن گار میں اگست 2017 اور جولائی 2019 کے دوران بڑے پیمانے پر رہائشی عمارتوں کو مسمار کرنے کی کارروائیاں سامنے آئی تھیں۔ تبتی تنظیموں کے مطابق چینی حکومت نے گزشتہ چند برسوں کے دوران تبتی زبان اور ثقافت کی تعلیم فراہم کرنے والے متعدد ادارے بھی بند کیے ہیں۔ جولائی 2024 میں راگیا گانگجونگ شیریگ نوربو لوبلنگ اسکول، اگست 2026 میں راگیا جگمے گیالتسن گراس لینڈ گرلز اسکول اور ستمبر 2026 میں گولوگ تادراک یتیم اسکول کی بندش کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ تعلیمی ادارے خصوصاً خانہ بدوش تبتی خاندانوں کے بچوں کو مادری زبان، روایتی ثقافت اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرتے تھے۔ اس سے قبل 2018 میں چینی حکام نے مبینہ طور پر دزا سیرشول خانقاہ سے 200 سے زائد کم عمر بدھ راہبوں کو نکال کر سرکاری اسکولوں میں داخل ہونے کی ہدایت دی تھی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق تبتی خانقاہوں پر حکومتی احکامات کی پابندی کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے، جبکہ احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں مذہبی رہنماؤں کی گرفتاری اور خانقاہوں کی بندش جیسے اقدامات کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ جلاوطن تبتی انتظامیہ نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ چینی حکام مقامی آبادی کو دلائی لامہ کی تصاویر ہٹانے اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ وفاداری ظاہر کرنے پر مجبور کرتے رہے ہیں۔ نومبر 2019 میں دزا وونپو گاندن شیدوپ خانقاہ کے چار راہبوں کو مبینہ طور پر کمیونسٹ پارٹی کے سیاسی پروپیگنڈے کے خلاف پمفلٹ تقسیم کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔ تبت میں مذہبی آزادی کے حوالے سے جاری تنازع ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔ تبتی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ مذہبی اداروں کی مسماری، مقامی زبان میں تعلیم پر پابندیاں اور بدھ راہبوں کے خلاف کارروائیاں تبتی عوام کی مذہبی و ثقافتی شناخت کے تحفظ کے لیے سنگین چیلنج ہیں۔ چینی حکام کی جانب سے اس تازہ مسماری کی کارروائی کے بارے میں کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ علاقے میں اطلاعات کی ترسیل پر پابندیوں کے باعث کارروائی کے حقیقی حجم کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ #China #Tibet
1
1
126
بھارت اور میکسیکو کے درمیان تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق نئی دہلی: بھارت اور میکسیکو نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کی سمت اہم پیش رفت کرتے ہوئے ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) کے لیے باضابطہ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ دونوں ممالک نے مذاکرات کے دائرہ کار، طریقہ کار اور آئندہ لائحہ عمل کا تعین کرنے والی شرائط و ضوابط کی دستاویز پر دستخط کیے ہیں۔ اس پیش رفت کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو وسعت دینا، سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا اور عالمی سپلائی چین کو زیادہ مضبوط اور متنوع بنانا ہے۔ یہ اقدام جون 2025 میں کینیڈا میں منعقدہ جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی اور میکسیکو کی صدر ڈاکٹر کلاڈیا شین بام کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس ملاقات میں اقتصادی اور تجارتی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ بھارت کے کامرس سکریٹری راجیش اگروال کے دورۂ میکسیکو کے دوران دونوں ممالک کے وفود نے تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات پر تفصیلی بات چیت کی۔ میکسیکو کی جانب سے نائب وزیر برائے خارجہ تجارت لوئس روزینڈو گوتیریز رومانو نے مذاکرات میں شرکت کی، جو وزیر اقتصادیات مارسیلو ایبرارڈ کی نمائندگی کر رہے تھے۔ مجوزہ تجارتی معاہدے میں اشیا کی منڈیوں تک رسائی، مصنوعات کے اصل ملک سے متعلق ضوابط، کسٹم طریقہ کار، تجارتی سہولت کاری، تنازعات کے حل، صحت اور زرعی تحفظ کے معیارات، تکنیکی تجارتی رکاوٹوں اور تجارتی تحفظ کے اقدامات جیسے اہم موضوعات شامل ہوں گے۔ دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ مجوزہ معاہدہ متوازن اور باہمی مفادات پر مبنی ہونا چاہیے، تاکہ بھارتی اور میکسیکن کمپنیوں کو ایک دوسرے کی منڈیوں میں کاروبار کے بہتر مواقع حاصل ہو سکیں۔ میکسیکو عالمی صنعتی سپلائی چین کا ایک اہم مرکز ہے اور بھارتی برآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں کے لیے نمایاں امکانات رکھتا ہے۔ خاص طور پر آٹوموبائل، کیمیکل، الیکٹرانکس، ادویات سازی، زرعی و غذائی مصنوعات، توانائی، اہم معدنیات، طبی آلات اور جدید مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔ مذاکرات کے دوران دونوں ممالک نے صنعتی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط بڑھانے، نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے اور تجارتی مواقع کی نشاندہی کے لیے مشترکہ کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس سلسلے میں 2027 کی پہلی سہ ماہی کے دوران میکسیکو کے ایک تجارتی وفد کے دورۂ بھارت کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی۔ مجوزہ دورے کے دوران دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان براہ راست کاروباری ملاقاتیں منعقد کرنے اور نئے تجارتی منصوبوں کی نشاندہی کرنے کی توقع ہے۔ بھارت اور میکسیکو کے درمیان مجوزہ معاہدہ دونوں معیشتوں کی صنعتی اور تجارتی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی ایک کوشش ہے۔ اس سے بھارتی کمپنیوں کو لاطینی امریکی منڈیوں تک رسائی بڑھانے جبکہ میکسیکو کی کمپنیوں کو بھارت کی وسیع صارف منڈی میں کاروبار پھیلانے کے نئے مواقع مل سکتے ہیں۔ دونوں ممالک نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ایک ایسا تجارتی فریم ورک تیار کیا جا سکے گا جو سرمایہ کاری، صنعتی تعاون اور طویل مدتی اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنائے گا۔ #India #Mexico @EmbaMexInd
1
1
114
پنجاب میں مذہبی ہم آہنگی کی نئی مثال، سکھ اور ہندو مل کر مساجد کی تعمیر و بحالی میں مصروف چنڈی گڑھ: بھارتی ریاست پنجاب میں مذہبی رواداری اور بھائی چارے کی ایک غیرمعمولی مثال سامنے آئی ہے، جہاں سکھ اور ہندو برادریوں کے لوگ 1947 کی تقسیم کے دوران ویران یا تباہ ہونے والی مساجد کی تعمیر نو اور بحالی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ گزشتہ نو برسوں کے دوران غیر مسلم دیہاتیوں کے تعاون سے 165 سے زیادہ مساجد تعمیر یا بحال کی جا چکی ہیں۔ فتح گڑھ صاحب ضلع کے گاؤں جکھیوال میں 87 سالہ گجو خان اس امید کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ پھر اپنے گاؤں میں اذان کی آواز سن سکیں گے۔ گاؤں میں موجود 18 مسلمان خاندانوں کے لیے نئی مسجد کی تعمیر تقریباً مکمل ہونے والی ہے، جس کے لیے زیادہ تر مالی تعاون مقامی سکھ اور ہندو باشندوں نے فراہم کیا ہے۔ گجو خان تقسیم ہند کے دوران ہونے والے فسادات کی تلخ یادیں آج بھی اپنے دل میں رکھتے ہیں۔ ان کے والدین فسادات میں مارے گئے تھے، لیکن سکھ پڑوسیوں نے انہیں اور ان کے دو بھائیوں کو پناہ دے کر ان کی جانیں بچائی تھیں۔ گاؤں کی 77 سالہ سکھ خاتون بی بی راجندر کور نے اپنے پوتے کو خاندانی زرعی زمین کا ایک حصہ مسجد کی تعمیر کے لیے عطیہ کرنے پر آمادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب دیگر مذاہب کے لوگوں کے پاس عبادت گاہیں موجود ہیں تو مسلمانوں کو بھی اپنے مذہبی فرائض ادا کرنے کے لیے مناسب جگہ ملنی چاہیے۔ اس سے پہلے گاؤں کے مسلمان نماز ادا کرنے کے لیے تقریباً چار کلومیٹر دور دوسرے گاؤں جاتے تھے۔ اسی طرح ضلع سنگرور کے گاؤں پوناوال میں ہندو پنڈت خاندان سے تعلق رکھنے والے 48 سالہ جسپال شرما نے مسجد کی تعمیر کے لیے اپنی زمین عطیہ کی۔ فروری میں مسجد کے افتتاح کے موقع پر انہوں نے پورے گاؤں کے لیے اجتماعی ضیافت کا بھی اہتمام کیا۔ جسپال شرما کے مطابق مسجد کی تعمیر صرف ایک خاندان کی کوشش نہیں تھی بلکہ ہندوؤں اور سکھوں نے مشترکہ طور پر مالی تعاون کیا۔ بعض لوگوں نے رقم فراہم کی تو دوسروں نے اینٹیں اور سیمنٹ عطیہ کیا۔ پنجاب کے مالیرکوٹلہ علاقے کے عمرپورہ گاؤں میں سکھ بھائیوں سکھجندر سنگھ پندھیر اور ان کے بھائی نے بھی ایک قدیم مذہبی مقام کی بحالی میں کردار ادا کیا۔ ان کے خاندان نے تقسیم کے دوران مغربی پنجاب سے ہجرت کرکے بھارت میں سکونت اختیار کی تھی۔ پندھیر کے مطابق ان کے گاؤں میں مذہبی شناخت کی بنیاد پر کسی سے امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا۔ مسلمان اور سکھ ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں اور عید اور گرپورب جیسے تہوار مشترکہ طور پر منائے جاتے ہیں۔ تقسیم ہند کے دوران مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کی بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں سینکڑوں مساجد ویران ہو گئیں۔ بعض مساجد کو مویشی رکھنے یا سامان ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جانے لگا تھا۔ تاہم گزشتہ ایک دہائی کے دوران پنجاب کے مختلف دیہات میں مقامی سکھ اور ہندو برادریوں نے ان تاریخی عبادت گاہوں کی بحالی کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ بعض ایسے دیہات میں بھی مساجد دوبارہ آباد کی گئی ہیں جہاں مسلمان آبادی موجود نہیں، اور قریبی علاقوں کے مسلمان مزدوروں اور مذہبی رہنماؤں کو نماز کی دعوت دی جاتی ہے۔ اس تحریک کو پنجاب کے سابق شاہی امام مولانا حبیب الرحمٰن ثانی لدھیانوی کی حوصلہ افزائی سے بھی تقویت ملی۔ موجودہ شاہی امام مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی کے مطابق تقسیم ہند نے پنجاب کے سماجی اور مذہبی رشتوں کو شدید نقصان پہنچایا تھا، لیکن آج عام شہری ان زخموں کو بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر مذہبی تقسیم اور نفرت انگیز بیانیے کے باوجود پنجاب کے دیہات میں مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے تحفظ اور احترام کو ترجیح دے رہے ہیں۔ پنجاب میں مساجد کی تعمیر نو اور بحالی کی یہ کوششیں بھارت کی مشترکہ تہذیبی روایات اور مذہبی ہم آہنگی کی ایک اہم مثال بن کر سامنے آئی ہیں، جہاں مختلف برادریاں ماضی کی تلخیوں کو پیچھے چھوڑ کر باہمی احترام اور بھائی چارے کے رشتوں کو مضبوط بنا رہی ہیں۔ #Punjab #India #inclusivity #secularism
🤖 Made with AI
1
3
111
ایف اے ٹی ایف اجلاس میں پاکستان کے خلاف بھارت کا مؤقف سخت، مسعود اظہر اور جیش محمد کے ڈیجیٹل فنڈنگ نیٹ ورک کا معاملہ اٹھانے کی تیاری نئی دہلی: بھارت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس میں پاکستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیم جیش محمد اور اس کے سربراہ مسعود اظہر کے مبینہ ڈیجیٹل فنڈنگ نیٹ ورک کا معاملہ اٹھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں روایتی ذرائع کے ساتھ ساتھ جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بھی مالی وسائل جمع کرنے اور اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ نئی دہلی اس سلسلے میں پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے اقدامات پر سوالات اٹھانا چاہتا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق جیش محمد سے منسلک مبینہ آن لائن فنڈنگ سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دہشت گرد تنظیمیں مالی نگرانی سے بچنے کے لیے نئے طریقے اختیار کر رہی ہیں۔ بھارت ایف اے ٹی ایف کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتا ہے کہ دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے صرف روایتی بینکاری نظام کی نگرانی کافی نہیں بلکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور آن لائن چندہ جمع کرنے کے ذرائع کی بھی مؤثر جانچ ضروری ہے۔ مسعود اظہر اور جیش محمد طویل عرصے سے بھارت کی انسداد دہشت گردی پالیسی میں اہم موضوع رہے ہیں۔ مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 2019 میں عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔ بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی سرزمین پر سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے مالیاتی ڈھانچے، ان کے سہولت کاروں اور فنڈنگ کے ذرائع کے خلاف مؤثر کارروائی کرنی چاہیے۔ پاکستان ماضی میں دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق الزامات کی تردید کرتا رہا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ اس نے ایف اے ٹی ایف کے تقاضوں پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان کو اکتوبر 2022 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکال دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں بھارت کی کوشش دہشت گردی کی مالی معاونت کے نئے ڈیجیٹل طریقوں پر بین الاقوامی نگرانی سخت کرانے اور پاکستان سے جواب دہی کا مطالبہ کرنے پر مرکوز ہے۔ #India #Pakistan #Terrorism #FATF @FATFNews
1
1
93
جیو پلیٹ فارمز نے عالمی تاریخ رقم کر دی، 100 ارب ڈالر کی مالیت والی کمپنیوں کے خصوصی کلب میں شامل ممبئی: مکیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹریز کی ذیلی کمپنی جیو پلیٹ فارمز نے بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی آغاز کرتے ہوئے 100 ارب ڈالر سے زائد کی مالیت حاصل کرنے والی دنیا کی منتخب کمپنیوں میں جگہ بنا لی ہے۔ کمپنی میٹا، علی بابا اور اسپیس ایکس کے بعد اس سنگ میل تک پہنچنے والی چوتھی بانی کی قیادت میں قائم کمپنی بن گئی ہے۔ 28 اکتوبر کو جیو پلیٹ فارمز کے حصص 1,358 روپے کی قیمت پر اسٹاک ایکسچینج میں درج ہوئے، جو 1,119 روپے کی ابتدائی پیشکش کی قیمت سے تقریباً 21.4 فیصد زیادہ تھی۔ اس شاندار آغاز کے ساتھ کمپنی کی مارکیٹ مالیت تقریباً 12.6 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ ابتدائی حصص کی پیشکش کے وقت جیو کی مالیت تقریباً 10.3 لاکھ کروڑ روپے، یعنی 108 ارب ڈالر سے زیادہ تھی۔ اس کامیابی نے اسے عالمی سطح پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی صف میں شامل کر دیا۔ جیو پلیٹ فارمز نے مارکیٹ مالیت کے لحاظ سے بھارتی ایئرٹیل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے بھارت کی سب سے قیمتی ٹیلی کام کمپنی کا اعزاز بھی حاصل کر لیا۔ کمپنی ریلائنس انڈسٹریز کے بعد ملک کی دوسری سب سے قیمتی درج شدہ کمپنی بن گئی۔ جیو کا تقریباً 30,213 کروڑ روپے کا آئی پی او بھارتی تاریخ کی سب سے بڑی ابتدائی عوامی پیشکش ثابت ہوا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے غیرمعمولی دلچسپی دیکھنے میں آئی اور پیشکش کو 22 گنا سے زیادہ سبسکرائب کیا گیا۔ عوامی پیشکش اور بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی مجموعی طلب 7.4 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی، جبکہ 1.3 کروڑ سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں۔ آئی پی او کھلنے کے صرف 95 منٹ کے اندر مکمل طور پر سبسکرائب ہو گیا۔ Moneycontrol +1 جیو کی یہ کامیابی 2020 میں عالمی سرمایہ کاروں سے تقریباً 20 ارب ڈالر جمع کرنے کے بعد ایک اور اہم سنگ میل ہے۔ اس وقت میٹا، گوگل کی بنیادی کمپنی الفابیٹ اور دیگر بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے جیو پلیٹ فارمز میں سرمایہ کاری کی تھی۔ گزشتہ ایک دہائی میں جیو نے بھارت کے ٹیلی کام شعبے میں بڑی تبدیلی پیدا کی ہے۔ سستی موبائل ڈیٹا خدمات اور وسیع نیٹ ورک کے ذریعے کمپنی نے کروڑوں بھارتی شہریوں کو ڈیجیٹل معیشت سے منسلک کیا۔ کمپنی کے صارفین کی تعداد اب 54 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ جیو پلیٹ فارمز کے منیجنگ ڈائریکٹر آکاش امبانی نے اسٹاک مارکیٹ میں کمپنی کے آغاز کے موقع پر کہا کہ جیو کا اگلا ہدف مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، منسلک ڈیجیٹل آلات اور خلائی ٹیکنالوجی پر مبنی مواصلاتی خدمات کو عام شہریوں تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں جیو نے موبائل ڈیٹا کو عام لوگوں کی پہنچ میں لانے میں اہم کردار ادا کیا اور آئندہ دہائی میں کمپنی نئی ٹیکنالوجی کو بھی اسی انداز میں قابل رسائی بنانا چاہتی ہے۔ ماہرین کے مطابق جیو کی اسٹاک مارکیٹ میں کامیاب شروعات بھارت کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت، مقامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی صلاحیت اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم مستقبل میں کمپنی کی کارکردگی کا انحصار نئی ٹیکنالوجی، مسابقت اور کاروباری توسیع پر ہوگا۔ جیو پلیٹ فارمز کی اس تاریخی پیش رفت نے عالمی سرمایہ منڈی میں بھارتی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی موجودگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ #India #Jio #RelianceIndustries @reliancejio
🤖 Made with AI
1
1
83
بھارتی زراعت میں ایک دہائی کے دوران بڑی تبدیلی، زرعی ترقی کی شرح 4.5 فیصد تک پہنچ گئی نئی دہلی: بھارت کے زرعی شعبے میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، بہتر آبپاشی، زرعی تحقیق، حکومتی اصلاحات اور کسانوں کی معاونت کے نتیجے میں زرعی ترقی کی اوسط سالانہ شرح 4.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ملک اب غذائی خودکفالت سے آگے بڑھ کر عالمی زرعی منڈیوں میں اپنی موجودگی مضبوط بنانے کی سمت پیش قدمی کر رہا ہے۔ مرکزی وزیر زراعت و کسان بہبود شیوراج سنگھ چوہان کے مطابق 1967 سے 1995 کے دوران زرعی ترقی کی اوسط شرح 2.7 فیصد اور 1996 سے 2014 کے درمیان تقریباً 3 فیصد رہی، جبکہ 2015 سے 2025 کے دوران یہ بڑھ کر 4.5 فیصد ہو گئی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں میں غذائی اجناس کی پیداوار میں سالانہ تقریباً 2 کروڑ 21 لاکھ ٹن کا غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس ترقی میں اناج کے ساتھ باغبانی، دودھ، ماہی پروری، پولٹری اور دیگر زیادہ آمدنی دینے والی زرعی سرگرمیوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ زرعی تحقیق میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ 2003 سے 2014 کے دوران فصلوں کی 1,540 نئی اقسام تیار کی گئی تھیں، جبکہ 2014 سے 2025 کے درمیان یہ تعداد بڑھ کر 3,236 تک پہنچ گئی۔ ان میں موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والی اور زیادہ غذائیت فراہم کرنے والی اقسام بھی شامل ہیں۔ حکومت کی پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا، سوائل ہیلتھ کارڈ، پی ایم کسان توانائی اسکیم، ای-نام اور زرعی انفراسٹرکچر فنڈ جیسی اسکیموں نے آبپاشی، مٹی کی صحت، قابل تجدید توانائی، زرعی منڈیوں اور فصلوں کی پروسیسنگ کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ چوہان کے مطابق بھارت کی زرعی پالیسی اب محض زیادہ پیداوار حاصل کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ کم پانی، کم توانائی اور محدود وسائل استعمال کرکے بہتر معیار کی غذائی مصنوعات تیار کرنے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ ملک میں خوراک کے استعمال کے رجحانات بھی تبدیل ہوئے ہیں۔ دیہی علاقوں میں 1972-73 کے دوران خوراک پر ہونے والے اخراجات میں اناج کا حصہ تقریباً 57 فیصد تھا، جو 2022-23 میں کم ہو کر 11 فیصد رہ گیا۔ دوسری جانب دودھ، پھل، سبزیوں، انڈوں، گوشت اور مچھلی پر اخراجات کا حصہ تقریباً 20 فیصد سے بڑھ کر 48 فیصد ہو گیا۔ حکومت مصنوعی ذہانت، ڈرون، ریموٹ سینسنگ، بائیوٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل زرعی پلیٹ فارمز کے ذریعے کسانوں کو موسم، آبپاشی، کھاد، بیماریوں اور منڈیوں کے بارے میں بہتر معلومات فراہم کرنے پر بھی کام کر رہی ہے۔ تاہم زیر زمین پانی کی کمی، مٹی کی زرخیزی میں گراوٹ اور موسمیاتی تبدیلیوں کو زرعی شعبے کے لیے بڑے چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے پائیدار زراعت، جدید تحقیق اور وسائل کے مؤثر استعمال کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ بھارت کا اگلا ہدف زرعی مصنوعات کے معیار، فوڈ پروسیسنگ، پیکیجنگ، برانڈنگ اور برآمدات کو عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے تاکہ بھارتی کسان بین الاقوامی منڈیوں سے براہ راست فائدہ اٹھا سکیں۔ حکومت کے مطابق وکست بھارت 2047 کے وژن میں کسانوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔ مستقبل کی زرعی کامیابی کا پیمانہ صرف پیداوار میں اضافہ نہیں بلکہ کسانوں کی آمدنی، دیہی خوشحالی، غذائی تحفظ اور عالمی مسابقت میں بھارت کی مضبوط پوزیشن بھی ہوگی۔ #India #agriculture #AgriTech #SustainableFarming
🤖 Made with AI
1
1
69
بھارت میں عرب لیگ کے سفارت کاروں کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام، 29 سفارت کاروں کی شرکت نئی دہلی: بھارت نے عرب ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے عرب لیگ کے سفارت کاروں کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ نئی دہلی کے سشما سوراج انسٹی ٹیوٹ آف فارن سروس میں منعقد ہونے والے اس پروگرام میں 29 عرب سفارت کار حصہ لے رہے ہیں۔ یہ پروگرام 21 اکتوبر سے شروع ہوا اور 30 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ اس میں سعودی عرب، کویت، مصر، الجزائر، فلسطین، شام، عراق، لیبیا اور کوموروس سمیت مختلف عرب ممالک کے سفارت کار شریک ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے پیر کے روز تربیت حاصل کرنے والے عرب سفارت کاروں سے ملاقات کی اور بھارت اور عرب دنیا کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ یہ تربیتی پروگرام عرب بھارت تعاون فورم کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد عرب لیگ کے 22 رکن ممالک اور بھارت کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سفارتی روابط کو فروغ دینا ہے۔ اس فورم کی بنیاد دسمبر 2008 میں رکھی گئی تھی۔ اس کا پہلا وزارتی اجلاس جنوری 2016 میں بحرین کے دارالحکومت منامہ میں جبکہ دوسرا اجلاس جنوری 2026 میں نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ دوسرے اجلاس میں عرب ممالک کے سفارت کاروں کے لیے بھارت میں سالانہ تربیتی پروگرام شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ سشما سوراج انسٹی ٹیوٹ کے ڈین سفیر راج کمار سریواستو نے بتایا کہ اس پروگرام کا مقصد عرب سفارت کاروں کو بھارت کی تاریخ، ثقافت، خارجہ پالیسی اور ترقیاتی تجربات سے براہ راست واقف کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت صرف روایتی سفارت کاری تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ تجارت، ٹیکنالوجی، سیاحت، ہنرمند افرادی قوت اور ثقافتی روایات کے ذریعے ترقیاتی سفارت کاری کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ تربیتی پروگرام میں بین الاقوامی مذاکرات، سلامتی، توانائی، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور ثقافتی سفارت کاری جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔ عرب سفارت کاروں کو بھارت کے تاریخی اور ثقافتی مقامات کا دورہ بھی کرایا جا رہا ہے۔ شرکا نے آگرہ میں تاج محل اور نئی دہلی میں گاندھی اسمرتی کا دورہ کیا، جہاں انہیں بھارتی تہذیب اور تاریخ کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کرایا گیا۔ سریواستو کے مطابق ایسے دورے سفارت کاروں کو بھارت کی قدیم تہذیبی روایات اور عرب دنیا کے ساتھ اس کے تاریخی تعلقات سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تربیت مکمل کرنے والے سفارت کار انسٹی ٹیوٹ کے سابق طلبہ کے بین الاقوامی نیٹ ورک کا حصہ بن جائیں گے، جس سے مستقبل میں سفارتی رابطوں اور باہمی تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔ یہ پروگرام بھارت کی عرب ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی شراکت داری کا ایک اور مظہر ہے، جس کے ذریعے نئی دہلی توانائی، تجارت، ٹیکنالوجی اور سفارتی تعاون کے ساتھ عوامی اور ثقافتی روابط کو بھی مستحکم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ #India #ArabLeague @arableague_gs @MEAIndia
1
2
152
بھارت اور آذربائیجان کے تعلقات میں بہتری کی نئی کوشش، توانائی، سرمایہ کاری اور تجارتی روابط بڑھانے پر اتفاق نئی دہلی: بھارت اور آذربائیجان نے سیاسی اختلافات کو پیچھے چھوڑ کر دوطرفہ تعلقات کو نئی سمت دینے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ دونوں ممالک نے توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی ٹرانسپورٹ رابطوں کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کے حالیہ دورۂ باکو کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دورے کے دوران انہوں نے آذربائیجان کے صدر الہام علییف اور وزیر خارجہ جیہون بیراموف سے ملاقاتیں کیں، جن میں اقتصادی تعاون اور علاقائی رابطوں کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ بھارت اور آذربائیجان کے تعلقات میں گزشتہ سال آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی حمایت پر کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ پاکستان، ترکی اور آذربائیجان کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی و دفاعی تعاون پر بھی نئی دہلی کو تحفظات رہے ہیں۔ تاہم دونوں ممالک اب اقتصادی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے تعلقات میں بہتری کے خواہاں ہیں۔ اس سفارتی پیش رفت کی بنیاد وزیراعظم نریندر مودی اور صدر الہام علییف کی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات میں رکھی گئی تھی۔ توقع ہے کہ آذربائیجان کے وزیر خارجہ بھی جلد بھارت کا دورہ کریں گے۔ مذاکرات میں بین الاقوامی شمال جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور (INSTC) کو خصوصی اہمیت دی گئی، جس کے ذریعے ممبئی کو آذربائیجان کے راستے روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ سے جوڑنے کا منصوبہ ہے۔ اس راہداری سے بھارت کی وسطی ایشیا، روس اور یورپی منڈیوں تک رسائی بہتر ہونے کی توقع ہے۔ توانائی کے شعبے میں بھارتی سرمایہ کاری پہلے ہی نمایاں سطح پر پہنچ چکی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق آذربائیجان میں بھارت کی مجموعی براہ راست سرمایہ کاری 2016 میں 48 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 2025 کی پہلی ششماہی تک تقریباً 1.26 ارب ڈالر ہو گئی۔ بھارتی سرکاری کمپنی او این جی سی ودیش آذربائیجان کے اہم آذری-چراغ-گونشلی تیل و گیس منصوبے اور باکو-تبلیسی-جیہان تیل پائپ لائن میں حصص رکھتی ہے۔ دونوں ممالک نے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری مزید بڑھانے اور دیگر اقتصادی شعبوں میں بھی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں معیشتوں میں ایک دوسرے کی ضروریات پوری کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے اور تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع امکانات ہیں۔ دونوں ممالک نے بین الاقوامی جرائم کے خلاف سکیورٹی تعاون جاری رکھنے، فضائی رابطے بہتر بنانے اور سیاحت کو فروغ دینے پر بھی توجہ دی ہے۔ آذربائیجان بھارتی سیاحوں کے لیے ایک اہم سیاحتی مقام بن چکا ہے جبکہ باکو میں تقریباً 500 بھارتی طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ سفارتی مبصرین کے مطابق بھارت اور آذربائیجان کے درمیان تعلقات کی بحالی جنوبی قفقاز اور یوریشیا میں بدلتے ہوئے علاقائی حالات کی عکاسی کرتی ہے۔ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان امن معاہدے اور آرمینیا کے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد علاقائی توازن میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ نئی دہلی کی کوشش ہے کہ آذربائیجان کے ساتھ سیاسی اختلافات کو اقتصادی تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیا جائے اور توانائی، تجارت اور رابطوں کے ذریعے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئی بنیاد فراہم کی جائے۔ #India #Azerbaijan @AzEmbassyIndia
1
1
100
بھارتی پائلٹ کیپٹن سمیت مچھڑ کو متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا دبئی: بھارتی پائلٹ کیپٹن سمیت مچھڑ کو ان کی غیر معمولی بہادری، جرات اور مثالی شجاعت کے اعتراف میں متحدہ عرب امارات کے باوقار اعزاز فرسٹ کلاس آرڈر آف زاید دوم سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز دبئی کے ولی عہد عزت مآب شیخ حمدان بن محمد آل مکتوم نے پیش کیا۔ کیپٹن سمیت مچھڑ کی بہادری اور ثابت قدمی کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ یہ اعزاز نہ صرف ان کی غیر معمولی جرات کا اعتراف ہے بلکہ بھارت کے لیے بھی فخر اور اعزاز کا لمحہ ہے۔ #India #UAE @UAEembassyIndia Video: @wamnews
5
6
1,038
پاکستان: ناکام ریاست کا نیا ثبوت — ۱۸ ہزار ایرانی کنٹینرز بندرگاہوں میں پھنسے 
اٹھارہ ہزار ایرانی کنٹینرز پاکستانی بندرگاہوں میں مہینوں سے پھنسے پڑے ہیں۔ ترخیص کی لاگت پچیس ہزار ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے — اکثر مال کی قیمت سے بھی زیادہ۔ صرف ایک ہزار کنٹینرز کی کلیئرنس شروع ہو سکی ہے، باقی سب وہاں سڑ رہے ہیں۔ بھاری فیس، کرپشن، ناکارہ نظام اور وعدے جو کبھی پورے نہیں ہوتے۔ یہ صرف کنٹینرز نہیں، یہ ناکام ریاست پاکستان کی مکمل تصویر ہے۔ #Pakistan #Iran
1
56
81
467
اجمیر شریف میں صوفی قوالی کی روح پرور محفل، 55 رکنی بین الاقوامی وفد کی شرکت، محبت اور عالمی امن کا پیغام اجمیر شریف، 28 اکتوبر: راجستھان میں واقع حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتیؒ، غریب نواز کی تاریخی درگاہ میں عالمی شہرت یافتہ صوفی قوالی گروپ ’’فنا فی اللہ‘‘ نے ہزاروں عقیدت مندوں کی موجودگی میں روح پرور قوالی پیش کی۔ اس موقع پر امریکہ، یورپ، آسٹریلیا، جنوب مشرقی ایشیا اور دنیا کے دیگر حصوں سے آئے 55 رکنی بین الاقوامی وفد نے بھی شرکت کی۔ وفد کا استقبال درگاہ اجمیر شریف کے گدی نشین اور چشتی فاؤنڈیشن کے چیئرمین حاجی سید سلمان چشتی نے کیا۔ انہوں نے مہمانوں کے لیے خصوصی دعائیں کیں، روایتی دستار بندی کی اور درگاہ کی جانب سے تبرکات پیش کیے۔ معروف قوال طاہر حسین فریدی کی قیادت میں ’’فنا فی اللہ‘‘ گروپ نے بارگاہِ غریب نواز میں حمد، نعت اور سلسلہ چشتیہ کے صوفی بزرگوں کی شان میں روایتی کلام پیش کیے۔ گروپ میں کاش قلندر، لالی قلندر، سلیم چشتی، علی شان، ابرار حسین، چیتن راملو اور عزیز اباٹیلو شامل تھے۔ یہ گروپ گزشتہ دو دہائیوں سے جنوبی ایشیا کے ممتاز قوالی اساتذہ کی تربیت میں صوفی موسیقی کی روایت کو آگے بڑھا رہا ہے۔ اب تک شمالی امریکہ، یورپ، ایشیا اور افریقہ میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکا ہے اور اس کے دس البمز بھی جاری ہو چکے ہیں۔ محفل میں مختلف مذاہب اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے عقیدت مند شریک ہوئے۔ کئی غیر ملکی مہمان روحانی کیفیت سے متاثر ہو کر آبدیدہ ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہاں سیاح اور زائرین کی حیثیت سے آئے تھے لیکن محبت اور روحانیت کا ایک نیا احساس لے کر واپس جا رہے ہیں۔ اس موقع پر وفد کے رکن آندرے اور ان کی ہونے والی شریکِ حیات نے بھی خصوصی طور پر درگاہ میں حاضری دی۔ دونوں کی شادی اسی ہفتے ہندوستان میں ہونے والی ہے۔ حاجی سید سلمان چشتی نے ان کی خوشگوار ازدواجی زندگی اور دائمی رفاقت کے لیے خصوصی دعا کی۔ حاجی سید سلمان چشتی نے اپنے پیغام میں کہا کہ گزشتہ 800 برسوں سے خواجہ غریب نوازؒ کی درگاہ کے دروازے مذہب، قومیت اور زبان کی تفریق کے بغیر پوری انسانیت کے لیے کھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درگاہ میں قوالی محض موسیقی کی پیشکش نہیں بلکہ عبادت اور محبت کا ایسا روحانی اظہار ہے جو انسان کو نفرت اور اختلافات سے بلند کرتا ہے۔ سلمان چشتی نے مزید کہا کہ دنیا بھر سے آنے والے یہ مہمان اجمیر شریف میں روحانی سکون کی تلاش میں پہنچے تھے اور اب اپنے اپنے ممالک میں امن و محبت کے سفیر بن کر واپس جائیں گے۔ انہوں نے خواجہ غریب نوازؒ کے آفاقی پیغام کو دہراتے ہوئے کہا کہ ’’سب سے محبت، کسی سے نفرت نہیں‘‘ ہی وہ اصول ہے جو دنیا کو امن، بھائی چارے اور انسانیت کے رشتے میں متحد کر سکتا ہے۔ #AjmerSharif #Ajmer #Rajasthan #India @sufimusafir @ChishtyOffice
6
6
250
عالمی ڈیزل بحران میں بھارت دنیا کے لیے امید کی کرن، 2027 میں برآمدات میں بڑے اضافے کی تیاری نئی دہلی: عالمی سطح پر ڈیزل کی شدید قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان بھارت ایک اہم توانائی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔ بھارتی تیل کمپنیوں کی ریفائننگ صلاحیت میں بڑے پیمانے پر اضافے کے نتیجے میں 2027 سے ڈیزل کی برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس سے امریکہ اور یورپ سمیت عالمی منڈیوں میں ایندھن کی قلت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ بھارت کے وزیر پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری نے گوا میں ایک صنعتی کانفرنس کے دوران بتایا کہ سرکاری تیل کمپنیاں نئی ریفائنریوں اور موجودہ پلانٹس کی توسیع کے ذریعے سالانہ کم از کم ڈیڑھ کروڑ ٹن اضافی ڈیزل پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اب نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرنے بلکہ پوری دنیا کے لیے تیل صاف کرنے کی پوزیشن میں پہنچ رہا ہے۔ بھارت رواں سال روس کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ڈیزل برآمد کنندہ بن چکا ہے۔ عالمی سمندری تجارت کے اعدادوشمار کے مطابق اس شعبے میں اب صرف امریکہ بھارت سے آگے ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ اور روس یوکرین تنازعے نے عالمی تیل کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے۔ روس کی جانب سے جولائی میں ڈیزل کی برآمدات روکنے اور مختلف علاقوں میں ریفائنریوں کو پہنچنے والے نقصانات کے باعث عالمی منڈی میں قلت بڑھ گئی، جس سے امریکہ میں ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں۔ اس صورتحال نے بھارت کے لیے عالمی توانائی منڈی میں اپنی موجودگی بڑھانے کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ انڈین آئل کارپوریشن اپنی تین ریفائنریوں کی توسیع کے ذریعے سالانہ تقریباً 90 لاکھ ٹن اضافی ڈیزل پیدا کرنے کی توقع رکھتی ہے۔ کمپنی خام تیل صاف کرنے کی مجموعی صلاحیت میں بھی ایک کروڑ 70 لاکھ ٹن سے زیادہ اضافہ کر رہی ہے۔ ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن راجستھان میں اپنی نئی ریفائنری کے ذریعے تقریباً 40 لاکھ ٹن اضافی ڈیزل پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس ریفائنری کی مجموعی سالانہ صلاحیت 90 لاکھ ٹن ہوگی۔ اسی طرح آئل انڈیا کی ذیلی کمپنی نومالی گڑھ ریفائنری اپنی ڈیزل پیداوار تقریباً 30 لاکھ ٹن تک بڑھائے گی، جبکہ بھارت پیٹرولیم کارپوریشن 2028 سے مزید 15 لاکھ ٹن سالانہ ڈیزل پیدا کرنے کی توقع رکھتی ہے۔ بھارت کی مجموعی تیل صاف کرنے کی صلاحیت موجودہ تقریباً 26 کروڑ 70 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 30 کروڑ ٹن سالانہ ہونے کی توقع ہے، جبکہ آنے والے برسوں میں اسے 40 کروڑ ٹن تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اپریل سے ستمبر 2026 کے دوران بھارتی ریفائنریوں نے تقریباً پانچ کروڑ 90 لاکھ ٹن ڈیزل پیدا کیا، جبکہ ملک میں اس کی کھپت تقریباً چار کروڑ 60 لاکھ ٹن رہی۔ پیداوار اور گھریلو کھپت کے درمیان یہ فرق بھارت کی برآمدی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ عالمی توانائی ماہرین کے مطابق 2027 کے دوران بھی ڈیزل کی سپلائی محدود رہنے کا امکان ہے۔ ایسے میں بھارتی ریفائنریوں کی توسیع عالمی منڈی میں اضافی ایندھن فراہم کرنے اور قیمتوں پر دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ بھارت کی جدید ریفائنریاں مختلف اقسام کے خام تیل کو صاف کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس سے اسے بین الاقوامی منڈیوں میں بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق پیداوار اور برآمدات میں لچک حاصل ہوتی ہے۔ توانائی کے شعبے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی صلاحیت صرف اقتصادی ترقی تک محدود نہیں بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی سلامتی کے حوالے سے بھی اس کی تزویراتی اہمیت میں اضافہ کر رہی ہے۔ عالمی توانائی بحران کے دوران بھارت کا ایک بڑے ڈیزل برآمد کنندہ کے طور پر ابھرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی دہلی اب صرف توانائی استعمال کرنے والی بڑی معیشت نہیں بلکہ عالمی ایندھن کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ #India #Diesel #Fuel #EnergySecurity
🤖 Made with AI
3
3
129
پاکستان میں معاشی استحکام کے دعوے بے اثر، 7 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے، مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی اسلام آباد: پاکستان میں معاشی استحکام کے حکومتی دعوؤں کے باوجود عام شہریوں کی زندگی میں بہتری کے آثار نمایاں نہیں ہو رہے۔ عالمی بینک کے تازہ تخمینوں کے مطابق ملک میں غربت کی شرح دوبارہ بڑھ کر تقریباً 29 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس کے نتیجے میں لگ بھگ سات کروڑ افراد قومی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 2001-02 میں 64.3 فیصد تھی، جو 2018-19 میں کم ہو کر 21.9 فیصد رہ گئی تھی۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران معاشی مشکلات، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور حقیقی آمدنی میں کمی نے غربت میں کمی کے سابقہ رجحان کو الٹ دیا ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ 2018-19 سے 2024-25 کے دوران پاکستانی کارکنوں کی حقیقی اجرت میں اوسطاً سالانہ 3.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ تنخواہوں میں بظاہر اضافے کے باوجود شہریوں کی قوتِ خرید مسلسل کم ہوتی رہی۔ ستمبر 2026 میں پاکستان میں مہنگائی کی سالانہ شرح 10.26 فیصد رہی، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے مالی سال 2026-27 کے لیے اوسط مہنگائی 9.9 فیصد رہنے کا تخمینہ پیش کیا ہے۔ اشیائے خورونوش، بجلی، گیس، پٹرول، ٹرانسپورٹ اور رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ بہت سے گھرانے گوشت، سبزیوں اور دیگر ضروری غذائی اشیا کی خریداری محدود کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ بچوں کی تعلیم اور علاج معالجے کے اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق مہنگائی کی شرح میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ اشیا کی قیمتیں پہلے والی سطح پر واپس آ گئی ہیں۔ گزشتہ برسوں میں ہونے والے مسلسل اضافوں نے گھریلو بجٹ پر جو بوجھ ڈالا ہے، وہ اب بھی برقرار ہے۔ پاکستانی روپے کی طویل مدتی قدر میں کمی نے بھی معاشی مشکلات بڑھائی ہیں۔ درآمدی ایندھن، مشینری اور صنعتی خام مال مہنگا ہونے سے پیداواری اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوتا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ زرعی پیداوار، سامان کی نقل و حمل اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں پر بھی پڑتے ہیں۔ پاکستان میں رہائش کے اخراجات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ستمبر 2026 میں رہائش، پانی، بجلی، گیس اور دیگر ایندھن پر مشتمل مجموعی زمرے کی قیمتوں میں سالانہ 12.39 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی اقتصادی ترقی 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اقتصادی ترقی کے اعدادوشمار اس وقت تک عام شہریوں کے لیے معنی نہیں رکھتے جب تک روزگار کے مواقع، حقیقی اجرتوں اور قوتِ خرید میں بہتری نہ آئے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود غذائی اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے دوچار ہے۔ کسانوں کو کھاد، ایندھن اور نقل و حمل کے زیادہ اخراجات کا سامنا ہے، جبکہ صارفین کو بازاروں میں مہنگی خوراک خریدنا پڑ رہی ہے۔ ذخیرہ اندوزی، ناقص ترسیلی نظام اور زرعی منڈیوں کی کمزوریاں بھی اس مسئلے کو پیچیدہ بناتی ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کو صرف مالی خسارہ کم کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھنے اور قرضوں کی ادائیگی پر توجہ دینے کے بجائے پیداواری سرمایہ کاری، روزگار، تعلیم، صحت اور غربت میں کمی کو بھی معاشی پالیسی کا مرکزی حصہ بنانا ہوگا۔ پاکستان کی معیشت کا بنیادی مسئلہ اب یہ ہے کہ سرکاری اعدادوشمار میں استحکام کے باوجود کروڑوں شہریوں کو روزمرہ زندگی میں کوئی حقیقی معاشی ریلیف محسوس نہیں ہو رہا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاشی استحکام کے فوائد عام خاندانوں تک منتقل نہ ہوئے تو غربت، غذائی عدم تحفظ اور آمدنی میں عدم مساوات مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ #Pakistan #PakistanEconomicCrisis
🤖 Made with AI
2
2
180
پاکستان میں 15 لاکھ بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکار، باپ کی جانب سے اپنے بچوں کی ویڈیوز فروخت کرنے کا انکشاف اسلام آباد: پاکستان میں بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ملک کے سماجی اور قانونی نظام میں سنگین خامیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ ایک تازہ تحقیق کے مطابق تقریباً 15 لاکھ پاکستانی بچے ایک سال کے دوران انٹرنیٹ کے ذریعے جنسی استحصال یا ہراسانی کا شکار ہوئے، جبکہ نصف سے زیادہ متاثرین نے خوف اور سماجی دباؤ کے باعث کسی کو اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کے بارے میں نہیں بتایا۔ ستمبر میں جاری ہونے والی یونیسف کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 12 سے 17 سال کی عمر کے ہر 16 بچوں میں سے تقریباً ایک کو آن لائن جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ حیران کن طور پر 85 فیصد واقعات میں مبینہ مجرم متاثرہ بچے کا پہلے سے جاننے والا شخص تھا۔ پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے حالیہ دنوں میں متعدد کارروائیوں کے دوران بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ہونے کے شبہے میں کئی افراد کو گرفتار کیا ہے۔ سب سے تشویشناک واقعہ گلگت بلتستان کے علاقے اسکردو سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی گرفتاری ہے، جس پر اپنے ہی کم عمر بچوں کی جنسی استحصال پر مبنی ویڈیوز بنا کر بین الاقوامی نیٹ ورکس کو فروخت کرنے کا الزام ہے۔ حکام کے مطابق ملزم مبینہ طور پر ٹیلی گرام کے خفیہ گروپس کے ذریعے ویڈیوز فروخت کرتا تھا اور اس کے بدلے کرپٹو کرنسی میں ادائیگیاں وصول کرتا تھا۔ بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں کے تعاون سے اسے گرفتار کیا گیا، جبکہ دیگر ممکنہ سہولت کاروں کی تلاش جاری ہے۔ ایک دوسری کارروائی میں چار مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، جن پر الزام ہے کہ وہ انسٹاگرام کے ذریعے چھ سے 14 سال کی عمر کے بچوں سے رابطہ کرتے، انہیں رقم کا لالچ دیتے اور ان سے نامناسب مواد حاصل کرکے واٹس ایپ گروپس میں فروخت کرتے تھے۔ کراچی میں بھی سائبر کرائم حکام نے تین ڈیجیٹل ڈیزائن کمپنیوں پر چھاپے مار کر ابتدائی طور پر 42 افراد کو حراست میں لیا۔ تحقیقات کے بعد 13 افراد کو مزید تفتیش کے لیے ریمانڈ پر بھیجا گیا۔ ان کمپنیوں پر بچوں سے مشابہت رکھنے والے کرداروں کی جنسی نوعیت کی اینیمیٹڈ تصاویر اور ویڈیوز تیار کرنے کا شبہ ہے۔ تاہم تفتیش کاروں کے مطابق یہ مواد حقیقی بچوں کی ریکارڈنگ کے بجائے ڈیجیٹل طور پر تیار کیا گیا تھا۔ بعض ملازمین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں اپنے کام کی اصل نوعیت کا علم نہیں تھا۔ ان افراد کے خلاف الزامات ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ ایک اور واقعے میں کراچی کی 14 سالہ لڑکی کو ایک بین الاقوامی آن لائن نیٹ ورک کی مبینہ بلیک میلنگ سے بچایا گیا۔ حکام کے مطابق لڑکی کو آن لائن گیمنگ اور سوشل میڈیا کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس نیٹ ورک سے متعلق تحقیقات میں امریکہ، آسٹریلیا اور برطانیہ میں ممکنہ متاثرین کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ یونیسف کی تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ آن لائن جنسی استحصال کا سامنا کرنے والے نصف سے زیادہ بچوں نے کسی کو واقعے کی اطلاع نہیں دی، جبکہ سروے میں شامل متاثرین میں سے کسی نے بھی پولیس، سماجی کارکنوں یا ہیلپ لائنز کے ذریعے باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی۔ ماہرین کے مطابق غربت، سماجی بدنامی کا خوف، والدین کی جانب سے نگرانی کی کمی اور ڈیجیٹل آگاہی کا فقدان بچوں کو آن لائن استحصال کے لیے مزید غیر محفوظ بنا رہے ہیں۔ پاکستان میں سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے قوانین موجود ہیں، لیکن تربیت یافتہ تفتیش کاروں کی کمی، ڈیجیٹل شواہد جمع کرنے میں مشکلات، عدالتی کارروائیوں میں تاخیر اور مختلف اداروں کے درمیان کمزور رابطہ کاری مؤثر کارروائی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ بچوں کے حقوق کے ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی سطح پر خصوصی سائبر کرائم یونٹس قائم کیے جائیں، تعلیمی اداروں میں آن لائن تحفظ سے متعلق آگاہی بڑھائی جائے اور متاثرہ بچوں کے لیے محفوظ شکایتی نظام اور نفسیاتی بحالی کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ حالیہ گرفتاریوں کے باوجود پاکستان میں بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کا مسئلہ ایک سنگین قومی چیلنج بنا ہوا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ محض گرفتاریاں کافی نہیں ہوں گی، بلکہ بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون نافذ کرنے، بین الاقوامی تعاون اور سماجی رویوں میں تبدیلی کی بھی ضرورت ہے۔ #Pakistan #ChildAbuse
1
1
261