Zimal chakar retweeted
یہ ہے گوادر کا اصل چہرہ!
یہ 14 سالہ حفصہ نثار ہے جو 120 لڑکوں کو فٹبال سکھاتی ہے،کوچنگ کے ساتھ ساتھ حفصہ خود بھی ایک فٹبالر ہے،حفصہ نثار بلوچستان اور گوادر کا اصل چہرہ ہے،بی ایل اے کی بلقیس نہیں۔
گوادر کی بچیاں حفصہ کی طرح بننا چاہتی ہیں انہیں کسی بھی ریاست مخالف بیانیے میں دلچسپی نہیں ہے
Zimal chakar retweeted
پنجگور میں ترقی صرف وعدہ نہیں، عملی حقیقت بن رہی ہے!
بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) کے تحت پنجگور میں 76 ترقیاتی منصوبے مقررہ وقت سے پہلے مکمل کر لیے گئے
کہیں شمسی توانائی سے بجلی کی سہولت، کہیں صاف پانی کے لیے واٹر سپلائی اسکیمز اور RO پلانٹس، تو کہیں بنیادی مراکزِ صحت اور اسکولوں کی تعمیر و مرمت یہ اقدامات عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے اور زندگی میں آسانیاں لانے کی جانب اہم پیش رفت ہیں
کیونکہ ترقی کا اصل مقصد عمارتیں بنانا نہیں، بلکہ عوام کی زندگی بہتر بنانا ہے بلوچستان میں خدمت اور ترقی کا سفر جاری ہے!
Zimal chakar retweeted
بشیر زیب بلوچ نے ہتھیار کیوں اٹھائے؟
بشیر زیب نے 2014 میں اپنی تحریر میں اعتراف کیا کہ وہ ڈاکٹر اللہ نذر اور ان کے نظریے سے متاثر ہوئے تھے اور مسلح جدوجہد کرنا چاہتے تھے۔ اسی تحریر کے مطابق انہوں نے پہلے اللہ نذر کی تنظیم بی ایل ایف میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی، لیکن خاطر خواہ جواب نہ ملنے پر بی ایل اے کا انتخاب کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلح راستے کا انتخاب ان کے سیاسی و نظریاتی رجحان سے منسلک تھا۔
ان کیساتھ بھی کوئی محرومی کوئی ریاستی جبر نہیں ہوا تھا ۔ بلکہ شدت پسند نظریات نے ان کی زہن سازی کی ۔ بشیر زیب طلبہ سیاست سے وابستہ رہے اور بی ایس او آزاد کے چیئرمین بھی رہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بشیر زیب دور طالعلمی سے ہی مسلح تنظیموں کیساتھ رابطے میں تھے ۔
بشیر زیب نے 2014 میں شائع ہونے والی اپنی تحریر آزادی کی شاہراہ پر مختصر سفر: کچھ تضاد میرے سامنے میں اس کا اعتراف بھی کیا ہے ۔ ان کے نظریات بھی شدت پسند قوم پرستی پر مشتمل ہیں اور یہ لفظ پنجابی سے شدید نفرت کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بی ایل اے شناختی کارڈ پر پنجاب کا پتا دیکھ کر ہر ایک شخص کو قتل کردیتی ہے چاہے وہ بلوچ ہی کیوں نہ ہو ۔
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے ہتھیار کیوں اٹھائے؟
اللہ نذر دو طالبعلمی سے ہی شدت پسند قوم پرست نظریات رکھتے تھے اور پنجابیوں سے شدید نفرت کرتے تھے ۔ ان کے خیال میں بلوچستان کی پسماندگی کی وجہ سے پنجابی تھے ۔ وہ اپنے انٹریو میں اعتراف کرچکے ہیں کہ وہ شروع سے اسی مشن پر تھے اور کسی ایک واقعے کی وجہ سے انہوں نے پہاڑوں کا رخ نہیں کیا ۔
2014 کے ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے طب کا پیشہ چھوڑ کر ہتھیار کیوں اٹھائے، تو انہوں نے غربت، بلوچ شناخت، اپنے بزرگوں سے سنے ہوئے ماضی کے واقعات اور ریاستی جبر کے اپنے خودساختہ تصور کو بنیادی وجوہات قرار دیا۔ لیکن حیران کن طور پر اسی اللہ نذر کی تنظیم بی ایل ایف بلوچستان میں صرف ترقیاتی منصوبوں کو ہی نشانہ بنارہی ہے ۔ کئی ترقیاتی منصوبے اس تنظیم کی وجہ سے آج بھی التواء کا شکار ہیں ۔
ان کے ہتھیار اٹھانے سے بلوچ مزید پسماندگی کا شکار ہوئے ۔ جو کسر سرداروں نوابوں سے رہ جاتی ہے ۔ وہ اللہ نذر کی تنظیم پوری کردیتی ہے ۔ ہر منصوبے میں سے 70 فیصد سردار اور نواب کھاجاتے ہیں۔ اور اگر کوئی منصوبہ شروع ہوجائے تو یہ تنظیم اس پر حملے شروع کردیتی ہے ۔
اللہ نذر جب طالبعلم تھے اس وقت سے نوجوانوں کو ہتھیار اٹھا کر پاکستان کے خلاف لڑائی کی ترغیب دیا کرتے تھے ۔ ان کی سرگرمیاں مشکوک تھیں ۔ ان کے انڈیا اور ایران میں روابط بھی سامنے آئے ۔
پھر مارچ 2005 میں انہیں کراچی سے گرفتار کیا گیا۔
لیکن 139 نمبر کی عدلیہ نے ان کو ضمانت پر رہا کردیا ۔ ضمانت ملنے کے بعد وہ گھر نہیں گئے بلکہ پہاڑوں پر چلے گئے ۔ کیونکہ گرفتاری سے قبل ہی وہ مسلح تنظیم بی ایل ایف کا حصہ بن چکے تھے ۔ ایسے جج صاحبان سے بھی متعلق قانون بننا چاہیے جو ایسے لوگوں کو ضمانت پر رہا کردیتے ہیں جو بعد میں سینکڑوں معصوموں کی جانیں لے لیتے ہیں ۔
Zimal chakar retweeted
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے ہتھیار کیوں اٹھائے؟
اللہ نذر دو طالبعلمی سے ہی شدت پسند قوم پرست نظریات رکھتے تھے اور پنجابیوں سے شدید نفرت کرتے تھے ۔ ان کے خیال میں بلوچستان کی پسماندگی کی وجہ سے پنجابی تھے ۔ وہ اپنے انٹریو میں اعتراف کرچکے ہیں کہ وہ شروع سے اسی مشن پر تھے اور کسی ایک واقعے کی وجہ سے انہوں نے پہاڑوں کا رخ نہیں کیا ۔
2014 کے ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے طب کا پیشہ چھوڑ کر ہتھیار کیوں اٹھائے، تو انہوں نے غربت، بلوچ شناخت، اپنے بزرگوں سے سنے ہوئے ماضی کے واقعات اور ریاستی جبر کے اپنے خودساختہ تصور کو بنیادی وجوہات قرار دیا۔ لیکن حیران کن طور پر اسی اللہ نذر کی تنظیم بی ایل ایف بلوچستان میں صرف ترقیاتی منصوبوں کو ہی نشانہ بنارہی ہے ۔ کئی ترقیاتی منصوبے اس تنظیم کی وجہ سے آج بھی التواء کا شکار ہیں ۔
ان کے ہتھیار اٹھانے سے بلوچ مزید پسماندگی کا شکار ہوئے ۔ جو کسر سرداروں نوابوں سے رہ جاتی ہے ۔ وہ اللہ نذر کی تنظیم پوری کردیتی ہے ۔ ہر منصوبے میں سے 70 فیصد سردار اور نواب کھاجاتے ہیں۔ اور اگر کوئی منصوبہ شروع ہوجائے تو یہ تنظیم اس پر حملے شروع کردیتی ہے ۔
اللہ نذر جب طالبعلم تھے اس وقت سے نوجوانوں کو ہتھیار اٹھا کر پاکستان کے خلاف لڑائی کی ترغیب دیا کرتے تھے ۔ ان کی سرگرمیاں مشکوک تھیں ۔ ان کے انڈیا اور ایران میں روابط بھی سامنے آئے ۔
پھر مارچ 2005 میں انہیں کراچی سے گرفتار کیا گیا۔
لیکن 139 نمبر کی عدلیہ نے ان کو ضمانت پر رہا کردیا ۔ ضمانت ملنے کے بعد وہ گھر نہیں گئے بلکہ پہاڑوں پر چلے گئے ۔ کیونکہ گرفتاری سے قبل ہی وہ مسلح تنظیم بی ایل ایف کا حصہ بن چکے تھے ۔ ایسے جج صاحبان سے بھی متعلق قانون بننا چاہیے جو ایسے لوگوں کو ضمانت پر رہا کردیتے ہیں جو بعد میں سینکڑوں معصوموں کی جانیں لے لیتے ہیں ۔
نواب خیر بخش مری نے کبھی پاکستان کے آئین کو تسلیم نہیں کیا ۔ وہ پاکستان کو بطور ریاست ماننے سے ہی انکاری تھے ۔ سن 2000 ہزار میں جب ان کو قتل کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تو ان کے بیٹے بالاچ مری نے مسلح گروہ تشکیل دیا ۔ جس نے تخریبی کاروائیاں شروع کردی ۔
بعدازاں بالاچ مری 2002 کے عام انتخابات میں کوہلو سے بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، لیکن انہوں نے اسمبلی کی کارروائی میں عملی طور پر حصہ نہیں لیا اور مسلح جدوجہد کی طرف گئے۔ اگر وہ چاہتے تو اپنے علاقے کوہلو کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے تھے ۔
لیکن بالاچ مری اپنے والد کے قوم پرست نظریات پر عمل پیرا رہے ۔ ان کا مسئلہ بھی محرومی یا وسائل کا نہ ہونا نہیں تھا ۔ وہ بھی پاکستان کو ریاست تسلیم کرنے سے انکاری تھی ۔ بالاچ مری نے ہی موجودہ بی ایل اے کی بنیاد رکھی ۔
ایک اہم تنازعہ یہ بھی رہا کہ حکومت نے کوہلو میں تھانے بنانے کی کوشش کی ۔ جس کو سرداروں نے اپنی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف سمجھا کیوں کہ ان علاقوں میں سردار ہی بادشاہ جج اور حکمران تھے ۔ ان کی نجی جیلیں بھی تھیں ۔ بلوچستان کا مسئلہ حقوق یا پسماندگی کا کبھی نہیں رہا البتہ ان سرداروں نے اس کو بطور ٹول ضرور استعمال کیا ہے لیکن اصل مسئلہ ہمیشہ سے یہ سردار اور ان کا نظام رہا ہے ۔ جب بھی ریاست نے سرداری نظام کو چیلنج کیا ۔ مسلح تحریکیں شروع ہوتی آئی ہیں ۔
Zimal chakar retweeted
نواب خیر بخش مری نے کبھی پاکستان کے آئین کو تسلیم نہیں کیا ۔ وہ پاکستان کو بطور ریاست ماننے سے ہی انکاری تھے ۔ سن 2000 ہزار میں جب ان کو قتل کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تو ان کے بیٹے بالاچ مری نے مسلح گروہ تشکیل دیا ۔ جس نے تخریبی کاروائیاں شروع کردی ۔
بعدازاں بالاچ مری 2002 کے عام انتخابات میں کوہلو سے بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، لیکن انہوں نے اسمبلی کی کارروائی میں عملی طور پر حصہ نہیں لیا اور مسلح جدوجہد کی طرف گئے۔ اگر وہ چاہتے تو اپنے علاقے کوہلو کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے تھے ۔
لیکن بالاچ مری اپنے والد کے قوم پرست نظریات پر عمل پیرا رہے ۔ ان کا مسئلہ بھی محرومی یا وسائل کا نہ ہونا نہیں تھا ۔ وہ بھی پاکستان کو ریاست تسلیم کرنے سے انکاری تھی ۔ بالاچ مری نے ہی موجودہ بی ایل اے کی بنیاد رکھی ۔
ایک اہم تنازعہ یہ بھی رہا کہ حکومت نے کوہلو میں تھانے بنانے کی کوشش کی ۔ جس کو سرداروں نے اپنی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف سمجھا کیوں کہ ان علاقوں میں سردار ہی بادشاہ جج اور حکمران تھے ۔ ان کی نجی جیلیں بھی تھیں ۔ بلوچستان کا مسئلہ حقوق یا پسماندگی کا کبھی نہیں رہا البتہ ان سرداروں نے اس کو بطور ٹول ضرور استعمال کیا ہے لیکن اصل مسئلہ ہمیشہ سے یہ سردار اور ان کا نظام رہا ہے ۔ جب بھی ریاست نے سرداری نظام کو چیلنج کیا ۔ مسلح تحریکیں شروع ہوتی آئی ہیں ۔
بلوچستان میں موجودہ مسلح شورش نواب اکبر بگٹی کے اگست 2006 میں مارے جانے سے پہلے شروع ہو چکی تھی۔ ان کے مرنے کے بعد اس میں مزید شدت آئی ۔ تاہم برامداغ بگٹی کا نام 2005 -6 کے دوران ہی متعدد مسلح تخریبی کاروائیوں میں سامنے آچکا تھا ۔وہ اپنے دادا کی موت سے قبل ہی پاکستان کے خلاف تخریبی کاروائیاں شروع کرچکے تھے ۔
اکبر بگٹی کی موت کے بعد وہ افغانستان چلے گئے ۔ ستمبر 2016 کے ایک انٹرویو میں انہوں نے تسلیم کیا کہ بلوچستان میں قیام کے دوران انہوں نے ہتھیار اٹھائے تھے ۔
براہمداغ بگٹی، نواب اکبر خان بگٹی کے پوتے ہیں۔ ان کے مسلح مزاحمت سے تعلق کا پس منظر ڈیرہ بگٹی میں قبائلی تنازعات، گیس کے وسائل پر اختیار، وفاقی حکومت کے ساتھ کشیدگی اور پرویز مشرف کے دور میں ہونے والی فوجی کارروائیوں سے جڑا ہے۔ ان کی لڑائی بلوچ قوم یا بلوچستان کیلئے نہیں ہے بلکہ صرف ڈیرہ بگٹی کے مقامی مسائل اور وسائل کیلئے ہے ۔
Zimal chakar retweeted
بلوچستان میں موجودہ مسلح شورش نواب اکبر بگٹی کے اگست 2006 میں مارے جانے سے پہلے شروع ہو چکی تھی۔ ان کے مرنے کے بعد اس میں مزید شدت آئی ۔ تاہم برامداغ بگٹی کا نام 2005 -6 کے دوران ہی متعدد مسلح تخریبی کاروائیوں میں سامنے آچکا تھا ۔وہ اپنے دادا کی موت سے قبل ہی پاکستان کے خلاف تخریبی کاروائیاں شروع کرچکے تھے ۔
اکبر بگٹی کی موت کے بعد وہ افغانستان چلے گئے ۔ ستمبر 2016 کے ایک انٹرویو میں انہوں نے تسلیم کیا کہ بلوچستان میں قیام کے دوران انہوں نے ہتھیار اٹھائے تھے ۔
براہمداغ بگٹی، نواب اکبر خان بگٹی کے پوتے ہیں۔ ان کے مسلح مزاحمت سے تعلق کا پس منظر ڈیرہ بگٹی میں قبائلی تنازعات، گیس کے وسائل پر اختیار، وفاقی حکومت کے ساتھ کشیدگی اور پرویز مشرف کے دور میں ہونے والی فوجی کارروائیوں سے جڑا ہے۔ ان کی لڑائی بلوچ قوم یا بلوچستان کیلئے نہیں ہے بلکہ صرف ڈیرہ بگٹی کے مقامی مسائل اور وسائل کیلئے ہے ۔
Zimal chakar retweeted
بلوچستان کے بچوں کے ہاتھوں میں ہتھیار نہیں، کتابیں اور خواب ہونے چاہئیں!
میر سر فراز بگٹی کا عزم
کوئٹہ کے ایک ڈھابے پر محنت کرنے والے یتیم بچے منیر احمد کی کہانی نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو متوجہ کیا جنہوں نے منیر احمد کے چار بہن بھائیوں اور ان کی والدہ کی کفالت کی ذمہ داری اٹھانے کا اعلان کیا بچوں کی تعلیم، رہائش اور موسمِ سرما کے کپڑوں کا انتظام بھی کیا گیا
ایک طرف بلوچستان کے بچے غربت اور محرومیوں سے نکل کر تعلیم کے ذریعے اپنا مستقبل سنوارنے کے منتظر ہیں، تو دوسری طرف تشدد نوجوانوں کے خواب چھین رہا ہے۔
بلوچستان کا مستقبل تشدد کی نذر کرنے میں نہیں، منیر احمد جیسے بچوں کو تعلیم، تحفظ اور آگے بڑھنے کے مواقع دینے میں ہے کیونکہ ہر بچے کو ایک بہتر زندگی کا حق حاصل ہے
Zimal chakar retweeted
مینگل قبیلے نے ہتھیار اٹھا لیے: اختر مینگل فرار ہو کر سندھ منتقل، مینگل قبیلے کا مسلح تنظیم اور سہولت کاروں کے خلاف باقاعدہ مزاحمت کا اعلان!
بلوچستان کے علاقے وڈھ سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور سب سے بڑی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے، جس نے صوبے کی سیاست اور سیکیورٹی کے پورے منظر نامے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ باوثوق ذرائع سے ملنے والی اندرونی کہانی کے مطابق، شدید ترین عوامی غم و غصے کے بعد اب مینگل قبیلے نے باقاعدہ طور پر ہتھیار اٹھا لیے ہیں، جبکہ بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل وڈھ سے فرار ہو کر پڑوسی صوبے سندھ میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
قبیلے کے معتبرین اور عسکری ونگ نے ایک ہنگامی جرگے میں مسلح تنظیم اور اس کے تمام مقامی و بیرونی سہولت کاروں کے خلاف کھلی اور مسلح مزاحمت کا اعلان کر دیا ہے۔
قبیلے کی جانب سے جاری کردہ اس سخت ترین فیصلے کے پیچھے جو اصل وجوہات سامنے آئی ہیں وہ ناقابلِ برادشت حد تک سنگین ہیں۔ جرگے کے مطابق:
تنظیم کی جانب سے علاقے میں مسلسل اور بے لگام بھتہ خوری عروج پر پہنچ چکی تھی۔
کاروباری افراد اور عام شہریوں سے سرِعام ڈکیتیوں نے جینا محال کر دیا تھا۔
سب سے بڑھ کر، چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کرنا اب قبیلے کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں رہا۔
اس معاملے کا حیران کن پہلو سردار اختر مینگل کا اچانک اپنے گڑھ وڈھ کو چھوڑنا ہے۔
اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ قبیلے کے اندر پیدا ہونے والے شدید دباؤ، مسلح تصادم کے بڑھتے ہوئے خطرات اور تنظیم کے ساتھ مبینہ ڈیل یا کمزوری کے الزامات کے بعد اختر مینگل رات کی تاریکی میں وڈھ سے نکلنے میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے سندھ کے محفوظ علاقے (ٹھٹہ) میں جا کر پناہ لے لی ہے۔
مینگل قبیلے کی جانب سے ہتھیار اٹھانے اور مزاحمت کے اس بڑے اعلان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی ہائی الرٹ پر برقرار رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ قبیلے کے مسلح دستوں نے وڈھ اور گردونواح کے پہاڑی راستوں پر پوزیشنز سنبھال لی ہیں اور تنظیم کے مقامی سہولت کاروں کو حتمی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال بلوچستان کی روایتی سیاست میں ایک بہت بڑا ٹرننگ پوائنٹ ہے، جہاں اب عام قبائلی عوام نادیدہ تنظیموں کے ظلم کے خلاف خود میدان میں آ گئے ہیں۔ وڈھ سے شروع ہونے والی یہ چنگاری اب کیا رخ اختیار کرتی ہے، اور سندھ میں بیٹھے اختر مینگل کا اس پر کیا ردعمل آتا ہے؟ اس نے پورے ملک میں تجسس کی فضا قائم کر دی ہے۔
Zimal chakar retweeted
From a home kitchen to a growing food business, two sisters from Quetta, Balochistan, are turning their passion for cooking into an inspiring entrepreneurial journey.
Watch their inspiring story of passion, perseverance, and women’s entrepreneurship with Voice of Balochistan.
Zimal chakar retweeted
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ڈھابے پر کام کرنے والے یتیم بچے منیر احمد سمیت پانچ بہن بھائیوں اور ان کی والدہ کی کفالت کی ذمہ داری اٹھا لی۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وزیراعلیٰ نے منیر احمد سے ملاقات کی اور پانچوں بہن بھائیوں کے تعلیمی اداروں میں داخلے اور رہائش کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے ذاتی خرچ پر بچوں کے لیے موسم سرما کے کپڑوں کی خریداری بھی کروائی اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
#balochistan
Zimal chakar retweeted
وڈھ اور کچھی میں مقامی افراد کی جانب سے شکایات موصول ہورہی تھیں کہ بی ایل اے کی کارندے عوامی املاک کو نقصان پہنچارہے ہیں
گزشتہ دنوں ایک عوامی سہولت کے لئے تعمیر کیے گئے پُل کو بھی تباہ کیا تھا
سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیا،جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بی ایل اے کے کارندوں کے خفیہ ٹھکانوں کا پتہ لگایا اور کارروائی کرکے مجموعی طور پر 9 کارندوں کو ہلاک کردیا،خفیہ ٹھکانے تباہ کردیے۔
Zimal chakar retweeted
گوادر کا ویمن بازار بااختیار بلوچ بیٹیاں
اللہ نظر، بشیر زیب اور رحمان گل بلوچ نوجوانوں کو دہشتگرد بنا رہے
گوادر کا ویمن بازار بلوچ بیٹیوں کو کاروبار، روزگار اور معاشی خودمختاری کے مواقع فراہم کر رہا ہے، تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں اور اپنے خاندانوں کا سہارا بنیں دوسری طرف سوال یہ ہے کہ بشیر زیب، اللہ نظر اور رحمان گل جیسے ناموں سے وابستہ مسلح سیاست بلوچ نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور ترقی کے بجائے تشدد کی راہ پر کیوں لے جا رہی ہے؟
بلوچ نوجوانوں کا اصل مستقبل کاروبار، تعلیم اور باعزت روزگار میں ہے، نہ کہ بندوق اور تشدد میں جب بلوچ بیٹیاں محنت سے اپنی پہچان بنا سکتی ہیں تو بلوچ نوجوانوں کے لیے ترقی، کامیابی اور خوشحالی کا راستہ کیوں نہیں؟
Zimal chakar retweeted
بلوچستان میں صحت کے شعبے میں بڑی پیش رفت! 251 منصوبے مکمل، 1.803 ارب روپے کی سرمایہ کاری!
کیا بلوچستان میں صحت کی سہولیات بہتر بنانے کی سمت ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے؟ بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) کے تحت مالی سال 2025-26 میں 251 صحت کے منصوبے 100 فیصد مکمل کر لیے گئے جن پر مجموعی طور پر 1.803 ارب روپے لاگت آئی۔ یہ پیش رفت اس سوچ کی عکاس ہے کہ ترقی صرف اعلانات سے نہیں بلکہ ایسے عملی اقدامات سے ممکن ہوتی ہے جن کے ثمرات عام شہری تک پہنچیں۔ اب اصل امتحان ان منصوبوں کو فعال رکھنے اور عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کا ہے۔
Zimal chakar retweeted
نوشکی میں بی ایل اے کی جانب سے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج پر حملہ کیا گیا ہے،طالبات کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی گئی،طالبات کی مزاحمت پر بی ایل اے کے بزدل کارندے 3 طالبات کو زخمی کرکے فرار ہوگئے۔
عینی شاہدین کے مطابق بی ایل اے کے کارندے طالبات کو تعلیم سے دوری اختیار کرنے اور پہاڑوں پر جانے کے لئے دباؤ ڈالتے رہے۔
Zimal chakar retweeted
''اعلانیہ اور غیر اعلانیہ اثاثوں کی مالیت 31 ارب سے زائد بنتی ہے اور یہ ایک سردار کے اثاثے ہیں۔باقیوں کے اثاثے جمع کیے جائیں تو بلوچستان کا اگلے 20 سال کا بجٹ نکل ائے''
جب دنیا بدل گئی ہے تب بلوچستان اسمبلی میں سرداری نظام کے خلاف قرار داد کی شدید مخالفت کیوں ہورہی ہے؟
سرداری نظام کے خلاف ایک قرار داد پر اختر مینگل جیسے سرداروں نے مولانا ہدایت الرحمان پر اسمبلی میں ہلہ بول دیا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ موصوف اخترمینگل جیسے سرداروں نے اپنے تسلط سے اربوں بنائے ہیں
اعلانیہ اور غیر اعلانیہ اثاثوں کی مالیت 31 ارب سے زائد بنتی ہے اور یہ ایک سردار کے اثاثے ہیں۔باقیوں کے اثاثے جمع کیے جائیں تو بلوچستان کا اگلے 20 سال کا بجٹ نکل ائے۔
Zimal chakar retweeted
مولانا ہدایت الرحمٰن کے بیان کے مطابق، سرداری نظام کے خلاف قرارداد کی مخالفت پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، اے این پی یا بی این پی مینگل نے نہیں، بلکہ جمعیت علمائے اسلام نے کی۔
سوال یہ ہے کہ بلوچ معاشرے میں سرداری نظام کے خاتمے، عام بلوچ کی خودمختاری اور برابری کی بات ہو تو مخالفت کیوں سامنے آتی ہے؟ کیا بلوچ عوام کو قبائلی اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر اپنے حقوق، فیصلوں اور مستقبل کا اختیار نہیں ملنا چاہیے؟
Zimal chakar retweeted
بلوچستان کے ضلع نوشکی سے ایک ایسی لرزہ خیز خبر سامنے آئی ہے جس نے پورے صوبے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور سیکیورٹی اداروں کے بھی کان کھڑے کر دیے ہیں۔ بلوچستان میں کالعدم تنظیم بی ایل اے نے اب تمام حدیں پار کرتے ہوئے علم کے فروغ اور معصوم بچیوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
نوشکی میں بی ایل اے کے مسلح دہشت گردوں نے ایک گرلز کالج پر اندھا دھند فائرنگ کر کے تین معصوم طالبات کو شدید زخمی کر دیا
ذرائع کے مطابق، نوشکی کا یہ گرلز کالج روزمرہ کی طرح طالبات کلاسز لے رہی تھیں کہ اچانک بی ایل اے کے مسلح افراد نے کالج کو گھیرے میں لے لیا اور عمارت پر اندھا دھند گولیاں برسانا شروع کر دیں۔ گولیوں کی اس تھراہٹ نے معصوم بچیوں کے قہقہوں کو چیخوں میں بدل دیا۔
اس وحشیانہ حملے کے نتیجے میں تین طالبات گولیوں کا نشانہ بن کر خون میں نہا گئیں، جنہیں فوری طور پر انتہائی تشویشناک حالت میں ٹیچنگ اسپتال نوشکی منتقل کیا گیا ہے جہاں ڈاکٹرز ان کی جانیں بچانے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین اور باخبر صحافتی ذرائع نے اس حملے کے پیچھے چھپے اس خوفناک ایجنڈے کا پردہ چاک کر دیا ہے جس نے ہر آنکھ کو اشکبار اور ہر ضمیر کو جنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ حملہ صرف تین بچیوں کو زخمی کرنے کا سادگی پسند واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے ایک گہری اور بھیانک اسٹریٹجی کام کر رہی ہے۔
بلوچستان میں جہاں پہلے ہی بچیوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا کسی جہاد سے کم نہیں، وہاں اس حملے کا اصل مقصد ہر اس لڑکی اور اس کے والدین کے دل میں موت کا خوف بٹھانا ہے جو صبح اٹھ کر کتاب اٹھاتی ہے۔ جب علم کے یہ گہوارے ہی محفوظ نہیں رہیں گے، تو کوئی باپ اپنی بیٹی کو کالج کیسے بھیجے گا؟
تحقیقاتی اداروں اور ماہرین نے جو سب سے بڑا اور سنسنی خیز انکشاف کیا ہے وہ یہ ہے کہ بی ایل اے اب بلوچ خواتین کی تعلیم کو مکمل طور پر تباہ کرنا چاہتی ہے۔ اس وحشیانہ اقدام کا اصل اور گھناؤنا مقصد یہ ہے کہ بلوچ خواتین کو پڑھ لکھ کر ڈاکٹر، انجینئر یا استاد بننے سے روکا جائے، ان کے لیے ترقی کے تمام پرامن راستے بند کر دیے جائیں، اور انہیں اس حد تک مجبور اور مایوس کر دیا جائے کہ وہ قلم چھوڑ کر بندوق اٹھا لیں اور دہشت گردوں کے ساتھ پہاڑوں کا رخ کریں۔ یہ تنظیم اب بلوچ ماؤں اور بیٹیوں کو بارود کا ایندھن بنانا چاہتی ہے۔
اس دل دہلا دینے والے واقعے نے نوشکی سمیت پورے بلوچستان کے والدین کو شدید ذہنی کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آخر کب تک علم کی پیاسی ان معصوم بچیوں کا خون اس دھرتی پر بہایا جاتا رہے گا؟ کیا بلوچستان کا مستقبل علم اور تحقیق کے میدان میں آگے بڑھنا ہے یا پھر بندوق تھام کر پہاڑوں کی غاروں میں چھپ جانا؟ نوشکی کا گرلز کالج آج خاموش ہے، لیکن اس کی دیواریں معاشرے کے ضمیر سے سوال کر رہی ہیں کہ ان معصوموں کا قصور کیا تھا؟
Zimal chakar retweeted
سردار اختر مینگل کے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ اثاثوں کی مجموعی مالیت 31 ارب روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ یہ چونکا دینے والے اعداد و شمار صرف ایک سردار کے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بلوچستان کے تمام سرداروں کے پوشیدہ اثاثے جمع کر لیے جائیں، تو پسماندہ بلوچستان کا اگلے 20 سال کا بجٹ باآسانی نکل سکتا ہے۔
زرائع کے مطابق اختر مینگل جیسے سرداروں نے سرداری نظام کے نام پر قائم اپنے ناجائز تسلط اور خوف کی فضا کو استعمال کرتے ہوئے اربوں روپے کی سلطنت کھڑی کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق سردار اختر مینگل کے معلوم اور خفیہ اثاثوں کی مالیت 31 ارب روپے سے زائد ہے۔
زرائع کا دعویٰ ہے کہ اگر صوبے کے تمام نوابوں اور سرداروں کے اثاثوں کا احتساب کیا جائے تو بلوچستان کو دو دہائیوں تک کسی بیرونی امداد یا وفاقی بجٹ کی ضرورت نہیں رہے گی۔
ایک طرف سرداروں کے محلات اور اربوں کے بینک اکاؤنٹس ہیں، تو دوسری طرف بلوچستان کے معصوم بچے پینے کے صاف پانی اور تعلیم کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں۔
Zimal chakar retweeted
بلوچستان اسمبلی میں سرداری نظام کے خاتمے کی قرار داد پیش کی تو پیپلزپارٹی،مسلم لیگ ن سمیت کسی جماعت کو تکلیف نہیں ہوئی لیکن جمیعت علمائےاسلام کے ارکان کو بڑی تکلیف ہوئی،مجھے ان کی حالت پر بہت رحم آیا،مولانا ہدایت الرحمان
Zimal chakar retweeted
27 اکتوبر | یومِ سیاہ کشمیر
کشمیری عوام کی تاریخ کا سیاہ دن ہے، جب 1947 میں بھارتی افواج سری نگر میں داخل ہوئیں۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت سے محروم رکھے جانے پر عالمی برادری کو مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے
پاکستان اور بلوچستان کے عوام اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
















