Pinned Tweet
Some people don't want to die alone so, they drag you into their own insecurities.
#MotivationalQuotes
Imran retweeted
این ٹی ایس کے بغیر بھرتیاں میرٹ کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہیں۔ عوامی عہدے ذاتی صوابدید نہیں، قانون کے تابع ہوتے ہیں۔ اسعد محمود کو قوم کے سامنے جواب دینا ہوگا کہ بھرتیوں میں شفافیت اور میرٹ کہاں گیا؟
Imran retweeted
سرکاری نوکریاں نوجوانوں کا حق ہیں، کسی کی کمائی کا ذریعہ نہیں! پانچ ہزار بھرتیوں اور کروڑوں روپے کی مبینہ وصولیوں کا معاملہ معمولی نہیں۔ اسد محمود سمیت متعلقہ ذمہ داروں سے جواب طلب کیا جائے اور مکمل تحقیقات کے ذریعے حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں۔
🚨🚨 جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمن کے صاحبزادے اسد محمود کے حوالے سے وزارت مواصلات میں غیر قانونی بھرتیوں کا معاملہ ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے
مصدقہ ذرائع کے مطابق 2022 سے 2023 کے دوران، جب اسد محمود وزیر مملکت برائے مواصلات کے منصب پر فائز تھا، اس دوران پانچ ہزار سے زائد افراد کو بھاری رقوم لے کر بھرتی کیا گیا۔ ان بھرتیوں کے لیے فی امیدوار 10 لاکھ سے 15 لاکھ روپے تک وصول کیے گئے
یہ معاملہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ سرکاری ملازمتیں عوامی خدمت اور میرٹ کی بنیاد پر دی جانی چاہئیں، نہ کہ مالی لین دین اور ذاتی اثر و رسوخ کے ذریعے
بھرتیوں اور مالی وصولیوں کا معاملہ پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) میں بھی زیر بحث آیا، جہاں سے بعد ازاں معاملہ قومی احتساب بیورو (NAB) کو بھیجے جانے کا ذکر سامنے آیا
اگر پانچ ہزار سے زائد بھرتیوں میں فی امیدوار 10 سے 15 لاکھ روپے وصول کیے جانے کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ ایک انتہائی سنگین معاملہ بنتا ہے۔ اس حساب سے وصولیوں کا مجموعی حجم 500 کروڑ سے 750 کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وزارت مواصلات کے 2022-23 کے تمام بھرتی ریکارڈ، اشتہارات، میرٹ لسٹوں، تقرریوں کے احکامات اور متعلقہ افسران کے کردار کی مکمل چھان بین کی جائے
متاثرہ امیدواروں اور مبینہ طور پر رقم ادا کرنے والے افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ بھرتیاں کس طریقہ کار کے تحت ہوئیں اور آیا کسی قسم کا مالی لین دین ہوا تھا
اس سلسلے میں عوام کے اہم سوالات یہ ہیں:
* وزارت مواصلات میں پانچ ہزار سے زائد بھرتیاں کس قانونی اور انتظامی طریقہ کار کے تحت کی گئیں؟
* کیا ہر امیدوار سے 10 سے 15 لاکھ روپے وصول کیے گئے؟
* اگر بھرتیاں میرٹ پر تھیں تو امیدواروں سے رقم وصول کرنے کے الزامات کیوں سامنے آئے؟
* اسد محمود کے بطور وزیر مملکت اس پورے بھرتی عمل میں کیا کردار اور ذمہ داریاں تھیں؟
* پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں معاملہ زیر بحث آنے کے بعد NAB کی جانب سے کیا کارروائی کی گئی؟
* کیا مبینہ مالی وصولیوں سے فائدہ اٹھانے والے افراد اور سہولت کاروں کا تعین کیا گیا؟
سرکاری ملازمتوں کو مالی مفادات کا ذریعہ بنانے کے الزامات انتہائی تشویشناک ہیں۔ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ ان بھرتیوں میں میرٹ کی پاسداری ہوئی یا نوجوانوں کے روزگار کو کاروبار بنا دیا گیا
ضرورت اس امر کی ہے کہ NAB، وزارت مواصلات اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اس معاملے کی موجودہ قانونی و تحقیقاتی حیثیت واضح کریں اور ذمہ داروں کا تعین قانون کے مطابق کیا جائے
Imran retweeted
بھارت سے مدد لینے کی بات نے ان کا مؤقف خود واضح کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر ان کا اصل ایجنڈا کیا ہے؟
Imran retweeted
نظریاتی اختلافات اپنی جگہ بالکل واضح ہونے چاہئیں
لیکن سیاسی ماحول میں اتنی تلخی نہیں ہونی چاہیے کہ لوگ ایک دوسرے کے سلام دعا کے بھی روادار نہ رہیں
پی ٹی آئی کے دور میں سیاسی فضا میں جو زہر گھولا گیا، اس کے اثرات آج بھی واضح ہیں
سیاسی مخالفت کو ذاتی نفرت نہیں بننا چاہیے
Imran retweeted
.غیر قانونی بھرتیوں کے الزامات اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں، مگر مولانا کو اعتراض شواہد سامنے آنے پر ہے۔ اگر اسعد محمود بے گناہ ہیں تو دستاویزات کے ساتھ اپنی صفائی پیش کریں، ریاست کو دھمکیاں دینے کے بجائے قانون کا سامنا کریں۔ جواب دہی سب کے لیے ہونی چاہیے!
🚨🚨 جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمن کے صاحبزادے اسد محمود کے حوالے سے وزارت مواصلات میں غیر قانونی بھرتیوں کا معاملہ ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے
مصدقہ ذرائع کے مطابق 2022 سے 2023 کے دوران، جب اسد محمود وزیر مملکت برائے مواصلات کے منصب پر فائز تھا، اس دوران پانچ ہزار سے زائد افراد کو بھاری رقوم لے کر بھرتی کیا گیا۔ ان بھرتیوں کے لیے فی امیدوار 10 لاکھ سے 15 لاکھ روپے تک وصول کیے گئے
یہ معاملہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ سرکاری ملازمتیں عوامی خدمت اور میرٹ کی بنیاد پر دی جانی چاہئیں، نہ کہ مالی لین دین اور ذاتی اثر و رسوخ کے ذریعے
بھرتیوں اور مالی وصولیوں کا معاملہ پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) میں بھی زیر بحث آیا، جہاں سے بعد ازاں معاملہ قومی احتساب بیورو (NAB) کو بھیجے جانے کا ذکر سامنے آیا
اگر پانچ ہزار سے زائد بھرتیوں میں فی امیدوار 10 سے 15 لاکھ روپے وصول کیے جانے کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ ایک انتہائی سنگین معاملہ بنتا ہے۔ اس حساب سے وصولیوں کا مجموعی حجم 500 کروڑ سے 750 کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وزارت مواصلات کے 2022-23 کے تمام بھرتی ریکارڈ، اشتہارات، میرٹ لسٹوں، تقرریوں کے احکامات اور متعلقہ افسران کے کردار کی مکمل چھان بین کی جائے
متاثرہ امیدواروں اور مبینہ طور پر رقم ادا کرنے والے افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ بھرتیاں کس طریقہ کار کے تحت ہوئیں اور آیا کسی قسم کا مالی لین دین ہوا تھا
اس سلسلے میں عوام کے اہم سوالات یہ ہیں:
* وزارت مواصلات میں پانچ ہزار سے زائد بھرتیاں کس قانونی اور انتظامی طریقہ کار کے تحت کی گئیں؟
* کیا ہر امیدوار سے 10 سے 15 لاکھ روپے وصول کیے گئے؟
* اگر بھرتیاں میرٹ پر تھیں تو امیدواروں سے رقم وصول کرنے کے الزامات کیوں سامنے آئے؟
* اسد محمود کے بطور وزیر مملکت اس پورے بھرتی عمل میں کیا کردار اور ذمہ داریاں تھیں؟
* پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں معاملہ زیر بحث آنے کے بعد NAB کی جانب سے کیا کارروائی کی گئی؟
* کیا مبینہ مالی وصولیوں سے فائدہ اٹھانے والے افراد اور سہولت کاروں کا تعین کیا گیا؟
سرکاری ملازمتوں کو مالی مفادات کا ذریعہ بنانے کے الزامات انتہائی تشویشناک ہیں۔ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ ان بھرتیوں میں میرٹ کی پاسداری ہوئی یا نوجوانوں کے روزگار کو کاروبار بنا دیا گیا
ضرورت اس امر کی ہے کہ NAB، وزارت مواصلات اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اس معاملے کی موجودہ قانونی و تحقیقاتی حیثیت واضح کریں اور ذمہ داروں کا تعین قانون کے مطابق کیا جائے
Imran retweeted
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ایئر ایمبولینس سروس دور دراز علاقوں کے مریضوں کے لیے زندگی کی نئی امید بن گئی۔ اب گھنٹوں کا سفر منٹوں میں طے، بروقت علاج اور قیمتی جانوں کا تحفظ ممکن ہو رہا ہے۔
شکریہ مریم نواز شریف! ❤️
Imran retweeted
.🚨 سابق وفاقی وزیر مواصلات اسعد محمود کے دورِ وزارت میں پاکستان پوسٹ آفس کی بھرتیوں کا معاملہ مزید سنگین ہو گیا!
2023 کے نوٹیفکیشن اور این ٹی ایس کے بغیر مبینہ تقرریوں پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ آخر میرٹ کی دھجیاں کس نے اڑائیں؟ منظور شدہ طریقۂ کار کیوں نظرانداز ہوا؟
Imran retweeted
سابق وفاقی وزیر مواصلات اسعد محمود کے دور میں این ٹی ایس امتحان کے بغیر مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کا معاملہ سامنے آ گیا! 2023 کا نوٹیفکیشن کئی سوالات کھڑے کر رہا ہے، آخر میرٹ کہاں گیا؟جواب دہی کون کرے گا؟
Imran retweeted
منصور علی خان نے پہلے ایثار رانا کو اس کی پہلی ٹرمپ کے آنے پر اس کے بیان کی ویڈیو دکھا کر پوچھل پہ پیر رکھا کہیں بھاگ نہ جاۓ پھر وہ لتر مارے اس کی چیاؤں چیاؤں دیکھنے والی ہے۔
Imran retweeted
سردار امان کے ملا ہیبت اللہ سے مبینہ رابطوں کا انکشاف! اب ان رابطوں کی نوعیت، مقصد اور پس منظر پر بھی شفاف وضاحت سامنے آنی چاہیے۔
Imran retweeted
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر ڈیرہ غازی خان میں واٹر بوٹلنگ پلانٹس کا قیام، دور دراز دیہی علاقوں کے عوام کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے
Imran retweeted
نئے صوبوں کا قیام نہ صرف انتظامی بہتری کا تقاضا ہے بلکہ لسانی نفرت پھیلانے والوں کی سیاست کا بھی خاتمہ ہے۔
عوام کی جانب سے نئے صوبوں کے حق میں مسلسل آوازیں اٹھ رہی ہیں کیونکہ موجودہ بڑے صوبے عوام کو فوری ریلیف دینے میں ناکام رہے ہیں۔ نئے صوبے بہتر انتظامی ڈھانچے کی ضمانت دیں گے، جس سے وسائل کی تقسیم منصفانہ ہوگی، ترقی کے منصوبے تیزی سے مکمل ہوں گے اور لوگوں کو بنیادی سہولیات جلد میسر آئیں گی۔ جب صوبے لسانی بنیاد کے بجائے انتظامی اور جغرافیائی ضروریات کے مطابق بنائے جائیں گے تو نفرت پر مبنی سیاست کا بازار سرد پڑ جائے گا اور قومی یکجہتی مضبوط ہوگی۔ اس لیے نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
Imran retweeted
جس طرح مریم نوازشریف کے اٹک اور حسن ابدال کے دوروں سے بھولڑو کے آگ لگی ہے میری پنجاب کی وزیراعلی سے التماس ہے کہ وہ ایک دورہ رحیم یار خان، سکھر اور نواب شاہ کی بھی فرما دیں۔ بغضیوں کو ہلکی آنچ پر نہیں بلکہ ایک دم ساڑ کے سوا کرنا ہے۔
😍😍
Imran retweeted
🛑 خیبرپختونخوا : شلوزان سیکٹر میں طالبان کی ناپاک حرکت ناکام!🇵🇰
افغان طالبان کی پاکستانی سیکیورٹی پوسٹوں پر بلااشتعال فائرنگ کا پاک فوج نے بھاری ہتھیاروں سے منہ توڑ جواب دیا، دشمن کی متعدد پوسٹیں تباہ و برباد! سرحدوں کی طرف میلی آنکھ اٹھانے والوں کو ایسا ہی جواب ملے گا۔ 💪🇵🇰
Imran retweeted
ایکشن کمیٹی نے تشدد کا راستہ اپنا کر اپنے لیے مذاکرات کے سارے دروازے بند کر لیے ہیں
سینیئر ایڈوکیٹ سندس ملک کشمیری
ایکشن کمیٹی نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی ہے۔
تشدد کا راستہ اپنا کر انہوں نے مذاکرات کے سارے دروازے خود بند کر دیے ہیں۔
تشدد کا کوئی جواز نہیں، اور جو تشدد چنتے ہیں، ان سے بات نہیں ہوتی۔
Appointments made during Asad Mahmood’s tenure require thorough and impartial scrutiny. The recruitment process, eligibility standards, and selection criteria must be made public so that all concerns can be addressed through facts and transparency.
🚨🚨 جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمن کے صاحبزادے اسد محمود کے حوالے سے وزارت مواصلات میں غیر قانونی بھرتیوں کا معاملہ ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے
مصدقہ ذرائع کے مطابق 2022 سے 2023 کے دوران، جب اسد محمود وزیر مملکت برائے مواصلات کے منصب پر فائز تھا، اس دوران پانچ ہزار سے زائد افراد کو بھاری رقوم لے کر بھرتی کیا گیا۔ ان بھرتیوں کے لیے فی امیدوار 10 لاکھ سے 15 لاکھ روپے تک وصول کیے گئے
یہ معاملہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ سرکاری ملازمتیں عوامی خدمت اور میرٹ کی بنیاد پر دی جانی چاہئیں، نہ کہ مالی لین دین اور ذاتی اثر و رسوخ کے ذریعے
بھرتیوں اور مالی وصولیوں کا معاملہ پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) میں بھی زیر بحث آیا، جہاں سے بعد ازاں معاملہ قومی احتساب بیورو (NAB) کو بھیجے جانے کا ذکر سامنے آیا
اگر پانچ ہزار سے زائد بھرتیوں میں فی امیدوار 10 سے 15 لاکھ روپے وصول کیے جانے کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ ایک انتہائی سنگین معاملہ بنتا ہے۔ اس حساب سے وصولیوں کا مجموعی حجم 500 کروڑ سے 750 کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وزارت مواصلات کے 2022-23 کے تمام بھرتی ریکارڈ، اشتہارات، میرٹ لسٹوں، تقرریوں کے احکامات اور متعلقہ افسران کے کردار کی مکمل چھان بین کی جائے
متاثرہ امیدواروں اور مبینہ طور پر رقم ادا کرنے والے افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ بھرتیاں کس طریقہ کار کے تحت ہوئیں اور آیا کسی قسم کا مالی لین دین ہوا تھا
اس سلسلے میں عوام کے اہم سوالات یہ ہیں:
* وزارت مواصلات میں پانچ ہزار سے زائد بھرتیاں کس قانونی اور انتظامی طریقہ کار کے تحت کی گئیں؟
* کیا ہر امیدوار سے 10 سے 15 لاکھ روپے وصول کیے گئے؟
* اگر بھرتیاں میرٹ پر تھیں تو امیدواروں سے رقم وصول کرنے کے الزامات کیوں سامنے آئے؟
* اسد محمود کے بطور وزیر مملکت اس پورے بھرتی عمل میں کیا کردار اور ذمہ داریاں تھیں؟
* پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں معاملہ زیر بحث آنے کے بعد NAB کی جانب سے کیا کارروائی کی گئی؟
* کیا مبینہ مالی وصولیوں سے فائدہ اٹھانے والے افراد اور سہولت کاروں کا تعین کیا گیا؟
سرکاری ملازمتوں کو مالی مفادات کا ذریعہ بنانے کے الزامات انتہائی تشویشناک ہیں۔ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ ان بھرتیوں میں میرٹ کی پاسداری ہوئی یا نوجوانوں کے روزگار کو کاروبار بنا دیا گیا
ضرورت اس امر کی ہے کہ NAB، وزارت مواصلات اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اس معاملے کی موجودہ قانونی و تحقیقاتی حیثیت واضح کریں اور ذمہ داروں کا تعین قانون کے مطابق کیا جائے

















