Pinned Tweet
Dear @DubaiPoliceHQ @moiuae @UAE_PP @MOHRE_UAE @tdrauae
I seek guidance regarding two persons , using Dubai/UAE as a base for organised cyber harassment, intimidation and threats.
The individuals are alleged to:
• Openly express views that appear to disregard UAE local customs and social values, including repeated derogatory and demeaning remarks about women and respectable personalities.
• Issue threats to life through X/Twitter Spaces and other online platforms.
• Threaten and harass victims' family members, including women and children
• Publish private and personal information including phone numbers, addresses and live locations, without consent.
• Use false, defamatory and vulgar allegations to intimidate or blackmail victims.
• Have a history of allegedly using complaints/cases as a means of blackmail or extortion
• Incite individuals in other countries to commit violence against others, including kidnapping.
If verified, these allegations appear to raise serious concerns involving cybercrime, threats, harassment, extortion, privacy violations, blackmail and incitement to violence.
I respectfully request
@DubaiPoliceHQ @moiuae @UAE_PP @MOHRE_UAE
@tdrauae
and the relevant UAE/Dubai authorities to advise about the appropriate procedure for filing a formal complaint and securely submitting evidence.
Recordings, screenshots, communications, links and other relevant material can be provided to the appropriate authorities.
I suspect that they intend to leave the DUBAI/UAE imminently; therefore, we respectfully request that urgent measures be taken to prevent them from leaving the country.
Azmat Afroz Khan retweeted
ایسی چنگاری بھی یا رب، اپنی خاکستر میں تھی۔۔
چوہدری آف گجرات کی “کرپٹ اور کرپشن “ کے خلاف جہاد دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔ بے ساختہ علامہ اقبال کا یہ شعر لبوں پر آرہا ہے
ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
اپنے آنسو پوچھتے پوچھتے میں نے AI سے پوچھا ڈارلنگ مجھے زرا اس شعر کا پس منظر سمجھائو۔
اس کا کہنا ہے 1258 میں ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا۔لاکھوں قتل ہوئے، کتابیں دریا میں پھینک دی گئیں، ایسا لگا اسلام ختم ہو گیا لیکن 50-60 سال بعد وہی تاتاریوں کی اولاد مسلمان ہو گئی۔ برکہ خان، غازان خان جیسے منگول بادشاہوں نے اسلام قبول کر لیا اور وہی لوگ اسلام کے سب سے بڑے محافظ بن گئے۔
اقبال کہتے ہیں مسلمان مایوس نہ ہو۔ خدا چاہے تو وہ دشمن کے گھر سے بھی محافظ پیدا کر سکتا ہے۔
پنجاب کے بھی محافظ پیدا ہوگئے ہیں۔ اب کرپٹ اور کرپشن کی خیر نہیں ہے۔ ہمارے گجرات کے پیارے چوہدری اب کرپٹ اور کرپشن کے خلاف جہاد کریں گے۔ 😎
Azmat Afroz Khan retweeted
مسٹر پتلو کو عوام میں بہت پذیرائی ہے لیکن ضروری نہیں کہ موقع ملنے پر وہ حکومتی معاملات بھی چلا پائے، اسی طرح وہ لوگ جو حکومتی امور چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ضروری نہیں کہ عوام میں پذیرائی حاصل کر سکیں اور بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص دونوں کاموں کا ماہر ہو، دنیا بھر میں رائج جمہوری نظام میں یہ گیپ پایا جاتا ہے اسکا کوئی حل تلاش کرنا چاہیئے تاکہ عوام کی منشاء بھی شامل ہو اور انکی خدمت کا نظام (گورننس) بھی بہتری کی طرف مائل ہو
Azmat Afroz Khan retweeted
This is their new Grenell 😂
I saw some Faujeet and OSINT accounts celebrating Abdul El-Sayed’s victory, so a little reminder: At a Pakistani-American event in Metro Detroit, he openly called out Pakistan’s military’s role in undermining democracy and highlighted the jailing and intimidation of political figures. He also drew parallels with Egypt’s military rule. Just thought they should know!
Azmat Afroz Khan retweeted
So, wits in USA are now calling their country The United Mistakes of America.
Azmat Afroz Khan retweeted
“اپنے مخالف سے ہمدردی تو کی جاسکتی ہے لیکن اسے پائوں پر کھڑا کر کے تگڑا نہیں کیا جاتا”
فیصل چوہدری صاحب @faisal_fareed کا یہ جملہ سونے میں تولنے کے لائق ہے۔
ویڈیو/دانیال ہاشمی @Daniyal_hashmii
گاؤں کے چوہدری کے کتے سے مراثیوں کا کتا جیت گیا۔
مراثی صبح شام چوہدری کے گھر کے سامنے بھنگڑے ڈالتے۔ چوہدری بہت پریشان تھا کہ کہیں سے کوئی تگڑا کتا ملے اور ان کے منہ بند کیۓ جائیں۔
آخر کار چوہدری کو کتا ملا اور بہت مہنگا ملا۔
چوہدری نے سوچا چلو عزت تو واپس ملے گی۔
میدان سجا ہر عام و خاص کو مدعو کیا گیا اور چوہدری کا کتا جیت گیا۔
چوہدری خوشی خوشی گھر جا رہا تھا کہ سامنے وہی مراثی بھنگڑے ڈالتے ہوۓ آ رہے تھے ۔
چوہدری کو تجسس ہوا کہ میں نے اپنی جمع پونجی ان کو ہرانے میں لگا دی اور یہ بھنگڑے ڈال رہے ہیں
اور جب چوہدری نے ان سے پوچھا کہ میں تو اس لیۓ خوش ہوں کہ بچی کھچی عزت واپس مل گی۔ لیکن تم تو ہار گۓ تم کیوں بھنگڑے ڈال رہے ہو؟
مراثی کہنے لگے
چوہدری صاحب، اسی مراثی آں۔ نچنا ساڈا کم اے، سانو جت ہار نال کی مطلب----ہیں۔۔؟
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پچیس کروڑ عوام جناب ڈونلڈ ٹرمپ کو حالیہ انتخابات میں بہترین کارکردگی پر مبارکباد پیش کرتا ہے ، اُمید ہے کہ دونوں ملکوں کے “مصالحی” تعلقات ایسے ہی قائم دائم دہیں گے۔❤️🙏🏻
Azmat Afroz Khan retweeted
پی ٹی ائی رہنما عاطف خان کی بھانجی کی شادی پر سابق ارمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی شرکت
خود غرض لوگ ہر رشتے کو فائدے اور نقصان میں تولتے ہیں اسی لئے اُن کے خون کے رشتے بھی پائیدار نہیں رہتے ۔۔۔ اور وہ رشتے جو اُنہیں خود بنانے ، تلاشنے اور تراشنے ہوتے ہیں ، وہ تو بلکل ہی نہیں بنا پاتے۔۔مثلاً دوستی ۔۔۔ دوستی کے لئے بنیادی جزو قربانی ہے پھر بقائے باہمی(coexistence) پھر رازداری ،عزت نفس ،مستقل مزاجی۔۔۔اور کچھ کچھ مردم شناسی ۔۔۔ خیر مردم شناسی ایک حس/instinct ہے جو وقت اور پریکٹس کے ساتھ ساتھ بتدریج بہتر ہوتی چلی جاتی ہے۔۔۔
تو ان خصوصیات/traits سے عاری لوگ اچھے “ٹائم پاس” تو ہو سکتے ہیں دوست نہیں ۔۔۔
اور جو لوگ تیس چالیس سال کی عمر تک پہنچ کر اچھے دوست نہ بناسکے یا کوئ اُنہیں نہ بنا سکا ، تو کمی اُنہیں خود میں تلاش کرنی چاہیے نہ کہ زمانے میں ۔۔۔
مطلب کیا ہی لوگ ہوں گے جو کئی سو لوگوں میں سے دو چار ایسے لوگ نہ نکال سکے جن پہ بھروسہ کیا جا سکے یا اُنہیں کوئ بھروسے کے لائق سمجھے۔۔۔۔
اپنے بچوں میں چھوٹی عمر ہی سے دوستی کی اہمیت کو اُجاگر کریں ، اُنہیں دوستوں سے ملنے کی آزادی دیں کچھ checks n balances کے ساتھ۔۔۔ یاد رکھیں بہت سے ایسے مقامات جو آپ کے خونی رشتے پار نہ کروا سکیں ، دوست پار کروا دیتے ہیں ۔۔۔
مثلاً محبوب کے آنگن کی دیوار ۔۔۔😎❤️
تحریک انصاف والے جسے شعور کہتے ہیں ، اصل میں “3D glasses or stereoscopic glasses” ہیں جو 3D فلم دیکھنے کے لئے استعمال ہوتی ہیں ۔۔۔
اسی لئے عام یعنی نارمل یعنی جسمانی و دماغی طور پر صحت مند شخص کو خان کے دور کی خوشحالی، کامیاب خارجہ پالیسی بالٹی بردار بہادری ، بزداری دانش ، ملک ریاض/گوگی/بشری “معاشی ترقی اور وہ گیم نظر نہیں آتی جو خان جیل میں ڈالے بیٹھا ہے ۔۔۔😎
یہ گلاسز پی ٹی آئ “شوشل میڈیا” پر مفت دستیاب ہیں۔۔۔
شکریہ
Azmat Afroz Khan retweeted
وہ کون سی کرپشن ہے جو قومی خزانے کو دیمک کی طرح چٹ کر رہا ہے؟
اس کرپشن میں کون سے طاقتور لوگ ملوث ہیں؟
کرپشن کسی سیاسی جماعت یا قومی ادارے سے زیادہ گندے کردار کی شخصیات پر مشتمل اس نیٹ ورک کا کام ہے جس کی جڑیں ہر ادارے اور ہر جماعت میں گہری اتری ہوئی ہیں۔یہی نیٹ ورک ہی وہ حقیقی ڈیپ اسٹیٹ ہے جو حکومتیں بنانیں اور گرانے اور پالیسی سازی کا کام کرتا ہے
Azmat Afroz Khan retweeted
جناب اوریا مقبول جان صاحب، @OryaMaqboolJan
آپ ہمیشہ بغضِ ملالہ میں خیانت اور تعصب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آپ ملالہ اور ہمارے متعلق کسی بھی پروپیگنڈے کو تحقیق اور سچائی کی کسوٹی پر پرکھے بغیر بڑے شوق اور محنت سے آگے بڑھاتے ہیں۔ آپ کے اس طرزِ عمل سے ہم سے زیادہ آپ کو نقصان پہنچتا ہے، کیونکہ یہ رویہ آپ کے ایمان اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔
سورۃ الحجرات کی یہ آیتِ مبارکہ آپ نے اپنے مقتدیوں اور معتقدین کو ضرور سمجھائی ہوگی:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ
ترجمہ: “اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق (بدکردار شخص) تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔”
آپ نے اپنے اس ٹویٹ میں بغیر کسی تحقیق کے نینسی سیڈلی کو ملالہ فنڈ کی انچارج کے طور پر متعارف کرایا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ موصوفہ کا ملالہ فنڈ سے دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ وہ محض ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر ہیں۔ اگر آپ ذرا سی محنت کرکے ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاتے تو آپ کو آسانی سے اندازہ ہو جاتا کہ ان کی ٹویٹس میں میگن مرکل اور پرنس ہیری کے خلاف نفرت انگیزی اور ٹرولنگ کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ ملالہ اور ملالہ فنڈ کے خلاف یہ پروپیگنڈا بھی اسی نفرت کا شاخسانہ ہے کہ ملالہ میگن مرکل سے کیوں ملی؟
آپ نے ہم پر بے ایمانی اور وطن کی عزت و ناموس کا سودا کرنے کا الزام لگایا ہے۔ آپ بغیر کسی ثبوت کے اتنے سخت اور بھاری الزامات کیسے لگا سکتے ہیں؟ ایک ادیب ہوتے ہوئے بھی آپ لفظوں کے معانی اور ان کی حرمت کو کیسے نظرانداز کر سکتے ہیں؟ کیا کسی کے خلاف ذاتی تعصب آپ کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ آپ اس کی عزت اور کردار پر بغیر ثبوت کے حملہ کریں؟
اور آخر میں، آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ نوبل انعام کے منتظمین اپنی تاریخ میں جن نوبل انعام یافتگان پر فخر کرتے ہیں، ملالہ ان عظیم شخصیات کی فہرست میں شامل ہے۔ ملالہ یوسفزئی کی لڑکیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد کی کہانی دنیا بھر کے سکولوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ ایک ہم وطن کی حیثیت سے یہ آپ کے لیے بھی باعثِ فخر ہونا چاہیے۔
ہم نے ۲۰۰۷ سے ۲۰۱۲ تک طالبان کی دہشت گردی اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے خلاف آواز اٹھائی۔ گزشتہ ۱۳ سالوں سے ہم پوری شفافیت، دیانت داری اور خلوصِ نیت کے ساتھ دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہمیں نہ اپنے کردار اور جدوجہد پر کوئی ندامت ہے اور نہ ہی کسی رسوائی کا ڈر۔
فارسی کا ایک خوبصورت مقولہ ہے:
زرِ پاک را از آتش چہ باک؟
یعنی خالص سونے کو آگ سے کیا ڈر؟
ہاں، اتنا ضرور ہے کہ:
چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوکِ دشنام
چھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرزِ ملامت
اس عشق، نہ اس عشق پہ نادم ہے مگر دل
ہر داغ ہے اس دل میں بجز داغِ ندامت
خیر اندیش،
ضیاءالدین یوسفزئی
نوٹ: دوستوں سے گزارش ہے کہ کمنٹس میں ادب اور احترام کو ملحوظِ خاطر رکھیں


























