CRICKET JUNOON®️ (@Cricktjunoon) header
CRICKET JUNOON®️ (@Cricktjunoon) profile picture
South Africa
Joined August 2021
Photo by CRICKET JUNOON®️ (@Cricktjunoon)Photo by CRICKET JUNOON®️ (@Cricktjunoon)Photo by CRICKET JUNOON®️ (@Cricktjunoon)Photo by CRICKET JUNOON®️ (@Cricktjunoon)Photo by CRICKET JUNOON®️ (@Cricktjunoon)Photo by CRICKET JUNOON®️ (@Cricktjunoon)Photo by CRICKET JUNOON®️ (@Cricktjunoon)Photo by CRICKET JUNOON®️ (@Cricktjunoon)Photo by CRICKET JUNOON®️ (@Cricktjunoon)Photo by CRICKET JUNOON®️ (@Cricktjunoon)
🥹پرانی یادوں پر ہی اکتفا کریں 50Overs Trophies 🏆 #PakistanCricketTeam #PakistanCricket #CricketTwitter  @ImranKhanPTI @SarfarazA_54 #PakistanZindabad🇵🇰 #ICCCricketWorldCup #ChampionsTrophy #AskThePavilion
13
19
1
88
29,568
CRICKET JUNOON®️ retweeted
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونََ اَلّلَهُمَّ اغْفِرْلَهُمْ وَارْحَمْهُمْ وَسَكِّنْهُمْ فِالْجَنَّه- سینئیر صحافی اینکر پرسن علینہ شگری کے والد بزرگوار انتقال فرما گئے ۔ رب کریم انکی مغفرت فرمائے اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ┈┅·̣̇·̥̊·̣̥̇̊ː̗̲̀(̥̊آمين )̥̊ː̖́·̣̥̇̊·̥̊·̣̇┅┈ @alinashigri
1
59
CRICKET JUNOON®️ retweeted
:ﺣﺎﺻﻞ" ﺍﻭﺭ "ﻻﺣﺎﺻﻞ ﮐﮯ ﺩﺍﺋﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﮔﮭﻮﻡ ﺭﮨﮯ ہیں ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ "ﻧﺎﻗﺪﺭﯼ" ﺍﻭﺭ ﻻ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ"ﺣﺴﺮﺕ" ﺧﺘﻢ ہی نہیں ہوتی. یااللہ ھمیں عاجزی و انکساری والی زندگی عطاء فرما آمـــــــــــــين يا رب العالمــــــــــين #قومی_زبان
5
33
CRICKET JUNOON®️ retweeted
زندگی تب بہتر ہوتی ہے جب آپ خوش ہوتے ہیں لیکن زندگی تب بہترین ہوتی ہے جب آپ کی وجہ سے کوئی دوسرا خوش ہوتا ہے ۔ #قومی_زبان
5
1
84
CRICKET JUNOON®️ retweeted
یہ جو میری لحد پہ روتے ہیں نا ! ابھی اٹھ جاؤں تو جینے نہ دیں ۔ #قومی_زبان
5
99
CRICKET JUNOON®️ retweeted
سنا ہے موت اک پل کی مہلت نہیں دیتی اگر میں اچانک مر جاؤں تو معاف کردینا ۔ #قومی_زبان
5
30
CRICKET JUNOON®️ retweeted
نبی مہربان صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: "تم سے پہلے بہت سی قومیں تباہ ہو گئیں جہاں طاقتور کیلئے ایک اور کمزور کیلئے دوسرا قانون تھا"
نبی مہربان صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: "تم سے پہلے بہت سی قومیں تباہ ہو گئیں جہاں طاقتور کیلئے ایک اور کمزور کیلئے دوسرا قانون تھا"
1
66
CRICKET JUNOON®️ retweeted
ڈاکٹر عظمیٰ خان اور احد خان کے صاحبزادے عمران خان کے بھانجے ولی خان کی تحریر ظلم کی ساخت | نمبر 1 حربہ: رہنما کو قید کر دینا جس شخصیت کے گرد حزبِ اختلاف اکٹھی ہوتی ہو، اگر اسے ہی ہٹا دیا جائے تو تحریک کا بکھر جانا یقینی ہے۔ جنوبی کوریا، اگست 1973۔ حزبِ اختلاف کے رہنما کم ڈے-جونگ (Kim Dae-jung) کو ٹوکیو کے ایک ہوٹل سے ان کے اپنے ملک کی خفیہ ایجنسی نے اغوا کر لیا۔ انہیں باندھا گیا، آنکھوں پر پٹی باندھی گئی اور سمندر میں لے جا کر جسم کے ساتھ وزن (بھاری چیزیں) باندھ دیے گئے۔ واشنگٹن اور ٹوکیو کی مداخلت نے ان کی جان بچا لی۔ پانچ دن بعد وہ اپنے گھر پہنچے—لیکن ’نظر بندی‘ (house arrest) کی حالت میں۔ اس کے بعد 14 سال تک یہی سلسلہ مختلف صورتوں میں دہرایا جاتا رہا: – 1976: جمہوریت کے مطالبے پر مبنی ایک اعلامیے کی قیادت کرنے پر قید کر دیے گئے۔ تقریباً تین سال جیل میں گزارے، جس کے بعد نظر بند کر دیے گئے۔ – 1980: ایک نئے فوجی قبضے (مارشل لا) کے بعد دوبارہ گرفتار کر لیے گئے اور بغاوت کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی۔ – 1981–82: بین الاقوامی دباؤ کے تحت سزائے موت کو تبدیل کر دیا گیا، اور پھر انہیں جلاوطن کر کے امریکہ بھیج دیا گیا۔ – 1985: وطن واپسی پر انہیں ہوائی اڈے سے ہی گرفتار کر لیا گیا اور دوبارہ نظر بند کر دیا گیا۔ یہ حربہ کیوں کارگر ثابت ہوتا ہے—کچھ عرصے کے لیے: – الزام کو ’سیاست‘ کے بجائے ’قومی سلامتی‘ کا رنگ دیا جاتا ہے۔ – عدالت کا عمل، ظلم و ستم کو قانونی کارروائی کا روپ دے دیتا ہے۔ – جیل، نظر بندی اور جلاوطنی کا یہ چکر رہنما کو مستقل طور پر عوام کی پہنچ سے دور رکھتا ہے۔ یہ حربہ ناکام کیوں ہوا: – انسانی حقوق کی تنظیموں اور غیر ملکی حکومتوں نے اپنی مہم جاری رکھی۔ – ہر نئی گرفتاری نے انہیں ان تمام اقدار کی بڑی علامت بنا دیا جنہیں حکمران طبقہ تسلیم کرنے سے انکاری تھا۔ – 1987 میں، بڑے پیمانے پر ہونے والے عوامی احتجاج نے فوج کی حمایت یافتہ حکومت کو براہِ راست صدارتی انتخابات کرانے پر مجبور کر دیا۔ پہلے انتخابات میں انہیں شکست ہوئی کیونکہ حزبِ اختلاف کے ووٹ تقسیم ہو گئے تھے۔ انہوں نے دوبارہ انتخاب لڑا، اور پھر بار بار کوشش کی۔ دسمبر 1997 میں، وہی شخص جسے کبھی سزائے موت سنائی گئی تھی، جنوبی کوریا کا صدر منتخب ہو گیا۔ سن 2000 میں انہیں نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ جیل کسی انسان کو تو قید کر سکتی ہے، لیکن اس نے کبھی کسی ’نظریے‘ کو زیادہ دیر تک قید نہیں رکھا۔
ANATOMY OF OPPRESSION | No. 1 The tactic: imprison the leader Remove the person around whom opposition gathers, and the movement is meant to scatter. South Korea, August 1973. Opposition leader Kim Dae-jung is abducted from a Tokyo hotel by his own country's intelligence agency, bound, blindfolded and taken to sea with weights tied to his body. Intervention from Washington and Tokyo saves his life. Five days later he is home – under house arrest. What followed was 14 years of the same treatment, in rotation: – 1976: imprisoned for leading a declaration calling for democracy. Nearly three years behind bars, then house arrest – 1980: arrested again after a new military takeover, and sentenced to death for sedition – 1981–82: sentence commuted under international pressure, then pushed into exile in the US – 1985: returns home, is arrested at the airport, and placed straight back under house arrest Why it works – for a while: – The charge is framed as national security, not politics – A courtroom gives persecution the appearance of law – Rotating prison, house arrest and exile keeps the leader permanently out of reach of his people Why it failed: – Human rights groups and foreign governments never stopped campaigning – Each new arrest made him a bigger symbol of everything the regime denied – In 1987, mass protests forced the military-backed government to concede direct presidential elections He lost that first election when the opposition split its vote. He ran again, and again. In December 1997, the man once sentenced to death was elected President of South Korea. In 2000, he received the Nobel Peace Prize. A prison can hold a man. It has never held an idea for long.
1
29
CRICKET JUNOON®️ retweeted
We lost to UAE in opening clash..this guy is our prime minister 😳 عجیب تماشہ لگایا ہوا ہے #MandateThief #CrimeMinister
Congratulations to our boys on a superb four-wicket victory over India in the opening clash of the Hong Kong Sixes 2026! It was a good game of cricket I also commend Chairman PCB Mohsin Naqvi @MohsinnaqviC42 and his team for their dedicated efforts in preparing and supporting our players.
1
1
48
CRICKET JUNOON®️ retweeted
کیسے کیسے لوگ ہیں بھائی 😳🤦🏻
1
64
CRICKET JUNOON®️ retweeted
قید و بند کی داستان — 30 اکتوبر 2026 عمران خان صاحب کی فیملی: 1. عمران خان — 1182 دن 2. بشریٰ بی بی — 651 دن 3. علیمہ خانم — 40 دن 4. نورین خانم — 39 دن 5. ڈاکٹر عظمیٰ خانم — 39 دن پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور کارکن: 6. ڈاکٹر یاسمین راشد — 1265 دن 7. عمر سرفراز چیمہ — 1269 دن 8. میاں محمود الرشید — 1265 دن 9. سینیٹر اعجاز چوہدری — 1268 دن 10. حسان نیازی — 1174 دن 11. صنم جاوید — 550 دن 12. فلک جاوید — 401 دن عالیہ حمزہ ملک بھی ایک سال سے زائد جیل میں رہیں۔ انہیں 7 اگست 2024 کو رہا کیا گیا تھا۔ یہ صرف چند نام ہیں، ورنہ ہزاروں کارکن بھی اس عرصے میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر چکے ہیں۔ کسی کا باپ، کسی کی ماں، کسی کا بھائی، کسی کی بہن اور کسی کا بیٹا اپنے خاندان سے دور ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟ کیا پاکستان میں سیاسی اختلاف کی سزا قید و بند ہی رہ گئی ہے؟ آزادی، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کسی جماعت یا فرد کی جاگیر نہیں، ہر پاکستانی کا آئینی حق ہیں۔
قید و بند کی داستان — 30 اکتوبر 2026 عمران خان صاحب کی فیملی: 1. عمران خان — 1182 دن 2. بشریٰ بی بی — 651 دن 3. علیمہ خانم — 40 دن 4. نورین خانم — 39 دن 5. ڈاکٹر عظمیٰ خانم — 39 دن پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور کارکن: 6. ڈاکٹر یاسمین راشد — 1265 دن 7. عمر سرفراز چیمہ — 1269 دن 8. میاں محمود الرشید — 1265 دن 9. سینیٹر اعجاز چوہدری — 1268 دن 10. حسان نیازی — 1174 دن 11. صنم جاوید — 550 دن 12. فلک جاوید — 401 دن عالیہ حمزہ ملک بھی ایک سال سے زائد جیل میں رہیں۔ انہیں 7 اگست 2024 کو رہا کیا گیا تھا۔ یہ صرف چند نام ہیں، ورنہ ہزاروں کارکن بھی اس عرصے میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر چکے ہیں۔ کسی کا باپ، کسی کی ماں، کسی کا بھائی، کسی کی بہن اور کسی کا بیٹا اپنے خاندان سے دور ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟ کیا پاکستان میں سیاسی اختلاف کی سزا قید و بند ہی رہ گئی ہے؟ آزادی، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کسی جماعت یا فرد کی جاگیر نہیں، ہر پاکستانی کا آئینی حق ہیں۔
1
38
وقت کے آگے کسی کی نہیں چلتی ، یہ نشہ اتار دیتا ہے وہم کا بھی اور اہم کا بھی ۔ #قومی_زبان
5
1
20
نیکیاں کرتے جاؤ دریا میں ڈالتے جاؤ۔ جب کبھی زندگی طوفان آیا تو یہی نیکیاں کشتی بن جائیں گی - #قومی_زبان
2
21
سلامتی ہو ان دوستوں پر اور ان پیاروں پر جو ہمیشہ اپنے قریب ہونے کا احساس دلاتے رہتے ہیں اور مجھے ہمیشہ اپنی دعا میں یاد رکھتے ہیں ۔ یااللہ ! انہیں بے انتہا خوشیاں اور رزق کثیر عطا فرما اور ان کی اور ان کے گھر والوں کی حفاظت فرما 🤲🏻 ┈┅·̣̇·̥̊·̣̥̇̊ː̗̲̀(̥̊آمين )̥̊ː̖́·̣̥̇̊·̥̊·̣̇┅┈ #قومی_زبان
1
2
44
آنسو کا ہر قطرہ دنیا کی ہر چیز سے مہنگا ہے لیکن کوئی اس کی قیمت کو اس وقت تک نہیں جان سکتا جب تک وہ آنسو اس کی اپنی آنکھ سے نہ نکلے ! #قومی_زبان
3
18
وہ اینٹوں کی وکٹیں ، وہ ٹوٹا سا بلا وہ گلیوں کی رونق ، وہ اپنا محلہ وہ جیبوں میں مچاتے تھے شور امیری کے دن وہ ، وہ مٹی کا گلا اے بچپن بتا تو کہاں کھو گیا ہے یا کہہ دے تو اب بڑا ہوگیا ہے #قومی_زبان
3
18
CRICKET JUNOON®️ retweeted
تنظیم ساز دھمال چوہدری کے جھوٹ بے نقاب
نورین نیازی کی ہسپتال منتقلی: خاندان پر کیا گزری؟نائب وزیرِ داخلہ طلال چوہدری کی غلط بیانیاں۔ نورین نیازی کی جیل سے ہسپتال منتقلی، دو راتوں کا قیام اور آج جیل واپسی بارے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اس دوران اُس کی بیٹیوں پر کیا گزری؟ چونکہ مملکت اذیت پسندوں (SADISTS) کے قبضے میں، بزرگ خواتین بچوں کی تکالیف میں بھی آسودگی ملنی ہے۔ جھوٹوں کا انبار لگا دیا گیا چنانچہ وضاحت ضروری ہے۔ اپ ڈیٹڈ سافٹ ویئر کے ساتھ طلال چوہدری کا دعویٰ کہ نورین نیازی کے اہلِ خانہ کو فوراً اطلاع دی گئی اور ہسپتال بلوا لیا، سفید جھوٹ ہے۔بیٹا جیل میں اور جیل سے باہر دو بیٹیوں کو میڈیا سے معلوم ہوا۔ میری بیٹیاں والدہ کو ملنے اورڈاکٹروں سے رابطے کی ناکام کوشش کرتی رہیں کہ والدہ کی حالتِ زار معلوم ہو سکے۔ 28 اکتوبر شام چھ سات بجے ہسپتال منتقلی کی خبر کی تصدیق ہوئی تو دونوں بیٹیاں فورا" ہسپتال پہنچ گئیں، آج 30 اکتوبر شام چھ بجے دو دنوں سے ہسپتال کی راہداریوں میں بھٹکتی رہیں۔ درجنوں دفعہ دونوں بہنوں کی پولیس نےسرزنش کی کہ ہسپتال کی حدود سے باہر نکل جائیں۔ بیٹیوں کی ایک ہی درخواست تھی کہ انہیں والدہ کو دیکھنے دیا جائے یا علاج کرنے والے ڈاکٹر سے بات کروا دی جائے مگر ان کی آہ و بکا بےکار رہی۔ صد افسوس! طلال چوہدری درجنوں ٹھوکریں کھانے اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہونے کے بعد جب سے نیا پیشہ اختیار کیا ہے، وہاں جھوٹ اختیاری نہیں بلکہ لازمی مضمون ہے۔ طلال کی تصحیح کے لیے کہ فیملی جو اس وقت فقط دو بیٹیوں پر مشتمل ہے، نورین نیازی کی ہسپتال آمد اور علاج بارے لاعلم رکھا گیا۔ دونوں بہنیں ساری رات اندھیرے میں تیر چلاتی رہیں کہ کوئی ڈاکٹر ملے اور ماں کی صحت بارے کچھ معلوم کر سکیں۔ چونکہ خاصا میڈیا اکٹھا تھا، زبردستی نکالنے کی جرأت نہ تھی۔ 24 گھنٹوں کے بعد اگلے دن 29 کی شام کو جب بیٹیوں نے مجبور کیا تو میں نے ایک بھلے مانس اللہ کے بندے کی منت سماجت کی تو اس کی مہربانی بڑی بیٹی کی ملاقات کی صورت پیدا ہوئی۔ آدھی رات سے کچھ پہلے بڑی بیٹی کو ماں تک رسائی ملی، وہاں ماں کی ڈھلکی صحت دیکھ کر بڑی بیٹی ابھی تک صدمے میں ہے۔ والدہ کی خواہش کہ چھوٹی بیٹی کو بھی ملوا دیا جائے جو چند گزوں کے فاصلے پر موجود تھی اور ماں کو ملنے کے لیے تڑپ رہی تھی۔ جب بڑی بہن ماں کے پاس تھی تو چھوٹی بیٹی بار بار مجھے فون کرکے بلک رہی تھی کہ ’’ابا مجھے بھی اماں سے ملوا دیں‘‘، مگر بے بسی تھی۔ اگلے دن کوشش کی کہ دوسری بیٹی، یا دونوں بیٹیاں، والدہ سے مل لیں، مگر اجازت نہ ملی۔ جب نورین نیازی کو ہسپتال سے جیل منتقل کیا جا رہا تھا توچھوٹی بیٹی نے ماں کو دور سے دیکھا تو اس کی حالت صدمے سے غیر ہو گئی، دونوں بیٹیوں پر دو دن جو بیتی ہے اور جس صدمہ میں ہیں ،جزوی حال درج کر دیاہے۔ طلال چوہدری فرما رہے ہیں کہ خاندان کو فوراً بلا لیا گیا تھا سراسر جھوٹ ہے۔ سوچتا ہوں ماضی میں طلال چوہدری کی جودرگت بنی اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہوا، میرے پر بیتی ہوتی تو میں بھی آٹو پائلٹ پر بلال چوہدری کی طرح جھوٹ پرچار کرتا ، فرماں بردار ہوتا۔ بڑی بیٹی کی اس ایک ملاقات کے لیے مجھے کتنی منت سماجت کرنا پڑی، میں جانتا ہوں۔ طلال چوہدری! براہ مہربانی اسے حکومتی کارکردگی نہ بتائیں۔ ظلم خدا کا، MPOکے تحت نظربند خاتون کو مکمل صحت یاب ہونے سے پہلے ہی آناً فاناً دوبارہ جیل جمع کروا دینا،سفاکیت اور اذیت پسندی کی بدترین مثال ہے۔ نورین ایک گھریلو اور introvert خاتون ہیں، جنہوں نے ہمیشہ نجی زندگی گزاری ہے۔ ساڑھے تین سال سے اپنے اکلوتے بھائی اوراپنے اکلوتے بیٹے کی دس سالہ غیر قانونی قید نے اس پر قیامت ڈھا رکھی ہے ،جذبات نے مغلوب کر رکھا ہے۔ ازراہِ تفنن اور ازراہِ تعفن ’’حکومتی مؤقف کہ ایم پی او کے تحت اس لیے حراست میں لیا گیا کہ وہ ۲۷ ستمبر کو اسلام آباد آنے والے جلوس کی قیادت کر سکتی تھیں‘‘۔ بفرضِ محال یہ مؤقف مان لیا جائے تو 27 ستمبر گزرنے کے بعد اور جبکہ گورنر راج نافذ، خواتین کو جیل میں نظربند رکھنا بے شرمی، بے حیائی کے علاوہ کچھ نہیں؟ خواتین کو آخر کب تک، کس بنیاد پر قید رکھا جائے گا؟ نورین کابیٹا حسّان نیازی اسی جیل میں قید ، والدہ کو ہسپتال لے جاتے وقت اسے چند منٹ کے لیے ملوا دینے میں کیا حرج تھا؟ میری آسودگی؛ انہی حرکتوں سے 25 کروڑ عوام کے دلوں میں حکمرانوں خلاف نفرت، غصہ اور دوری مزید بڑھنی ہے۔ طلال صاحب! بیمار خاتون کی تکلیف اور اسکےساتھ پیش آنے والے سلوک پر غلط بیانی نہ کیجیے۔ مجھ پر لازم ہو گیا کہ اصل واقعات سامنے لاؤں تاکہ اذیت پسند حکمرانوں کی سفاکیت عیاں ہو۔ وقت ایک سا نہیں رہتا، ماضی کے کئی ظالم حکمران قبروں میں یا زندہ ہیں مگر اقتدار سے باہر عبرت کا نشان، ان کے انجام دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے، کاش آج کے حکمران سبق سیکھتے۔
2
1
85
تنظیم ساز دھمال چوہدری کے جھوٹ بے نقاب
نورین نیازی کی ہسپتال منتقلی: خاندان پر کیا گزری؟نائب وزیرِ داخلہ طلال چوہدری کی غلط بیانیاں۔ نورین نیازی کی جیل سے ہسپتال منتقلی، دو راتوں کا قیام اور آج جیل واپسی بارے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اس دوران اُس کی بیٹیوں پر کیا گزری؟ چونکہ مملکت اذیت پسندوں (SADISTS) کے قبضے میں، بزرگ خواتین بچوں کی تکالیف میں بھی آسودگی ملنی ہے۔ جھوٹوں کا انبار لگا دیا گیا چنانچہ وضاحت ضروری ہے۔ اپ ڈیٹڈ سافٹ ویئر کے ساتھ طلال چوہدری کا دعویٰ کہ نورین نیازی کے اہلِ خانہ کو فوراً اطلاع دی گئی اور ہسپتال بلوا لیا، سفید جھوٹ ہے۔بیٹا جیل میں اور جیل سے باہر دو بیٹیوں کو میڈیا سے معلوم ہوا۔ میری بیٹیاں والدہ کو ملنے اورڈاکٹروں سے رابطے کی ناکام کوشش کرتی رہیں کہ والدہ کی حالتِ زار معلوم ہو سکے۔ 28 اکتوبر شام چھ سات بجے ہسپتال منتقلی کی خبر کی تصدیق ہوئی تو دونوں بیٹیاں فورا" ہسپتال پہنچ گئیں، آج 30 اکتوبر شام چھ بجے دو دنوں سے ہسپتال کی راہداریوں میں بھٹکتی رہیں۔ درجنوں دفعہ دونوں بہنوں کی پولیس نےسرزنش کی کہ ہسپتال کی حدود سے باہر نکل جائیں۔ بیٹیوں کی ایک ہی درخواست تھی کہ انہیں والدہ کو دیکھنے دیا جائے یا علاج کرنے والے ڈاکٹر سے بات کروا دی جائے مگر ان کی آہ و بکا بےکار رہی۔ صد افسوس! طلال چوہدری درجنوں ٹھوکریں کھانے اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہونے کے بعد جب سے نیا پیشہ اختیار کیا ہے، وہاں جھوٹ اختیاری نہیں بلکہ لازمی مضمون ہے۔ طلال کی تصحیح کے لیے کہ فیملی جو اس وقت فقط دو بیٹیوں پر مشتمل ہے، نورین نیازی کی ہسپتال آمد اور علاج بارے لاعلم رکھا گیا۔ دونوں بہنیں ساری رات اندھیرے میں تیر چلاتی رہیں کہ کوئی ڈاکٹر ملے اور ماں کی صحت بارے کچھ معلوم کر سکیں۔ چونکہ خاصا میڈیا اکٹھا تھا، زبردستی نکالنے کی جرأت نہ تھی۔ 24 گھنٹوں کے بعد اگلے دن 29 کی شام کو جب بیٹیوں نے مجبور کیا تو میں نے ایک بھلے مانس اللہ کے بندے کی منت سماجت کی تو اس کی مہربانی بڑی بیٹی کی ملاقات کی صورت پیدا ہوئی۔ آدھی رات سے کچھ پہلے بڑی بیٹی کو ماں تک رسائی ملی، وہاں ماں کی ڈھلکی صحت دیکھ کر بڑی بیٹی ابھی تک صدمے میں ہے۔ والدہ کی خواہش کہ چھوٹی بیٹی کو بھی ملوا دیا جائے جو چند گزوں کے فاصلے پر موجود تھی اور ماں کو ملنے کے لیے تڑپ رہی تھی۔ جب بڑی بہن ماں کے پاس تھی تو چھوٹی بیٹی بار بار مجھے فون کرکے بلک رہی تھی کہ ’’ابا مجھے بھی اماں سے ملوا دیں‘‘، مگر بے بسی تھی۔ اگلے دن کوشش کی کہ دوسری بیٹی، یا دونوں بیٹیاں، والدہ سے مل لیں، مگر اجازت نہ ملی۔ جب نورین نیازی کو ہسپتال سے جیل منتقل کیا جا رہا تھا توچھوٹی بیٹی نے ماں کو دور سے دیکھا تو اس کی حالت صدمے سے غیر ہو گئی، دونوں بیٹیوں پر دو دن جو بیتی ہے اور جس صدمہ میں ہیں ،جزوی حال درج کر دیاہے۔ طلال چوہدری فرما رہے ہیں کہ خاندان کو فوراً بلا لیا گیا تھا سراسر جھوٹ ہے۔ سوچتا ہوں ماضی میں طلال چوہدری کی جودرگت بنی اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہوا، میرے پر بیتی ہوتی تو میں بھی آٹو پائلٹ پر بلال چوہدری کی طرح جھوٹ پرچار کرتا ، فرماں بردار ہوتا۔ بڑی بیٹی کی اس ایک ملاقات کے لیے مجھے کتنی منت سماجت کرنا پڑی، میں جانتا ہوں۔ طلال چوہدری! براہ مہربانی اسے حکومتی کارکردگی نہ بتائیں۔ ظلم خدا کا، MPOکے تحت نظربند خاتون کو مکمل صحت یاب ہونے سے پہلے ہی آناً فاناً دوبارہ جیل جمع کروا دینا،سفاکیت اور اذیت پسندی کی بدترین مثال ہے۔ نورین ایک گھریلو اور introvert خاتون ہیں، جنہوں نے ہمیشہ نجی زندگی گزاری ہے۔ ساڑھے تین سال سے اپنے اکلوتے بھائی اوراپنے اکلوتے بیٹے کی دس سالہ غیر قانونی قید نے اس پر قیامت ڈھا رکھی ہے ،جذبات نے مغلوب کر رکھا ہے۔ ازراہِ تفنن اور ازراہِ تعفن ’’حکومتی مؤقف کہ ایم پی او کے تحت اس لیے حراست میں لیا گیا کہ وہ ۲۷ ستمبر کو اسلام آباد آنے والے جلوس کی قیادت کر سکتی تھیں‘‘۔ بفرضِ محال یہ مؤقف مان لیا جائے تو 27 ستمبر گزرنے کے بعد اور جبکہ گورنر راج نافذ، خواتین کو جیل میں نظربند رکھنا بے شرمی، بے حیائی کے علاوہ کچھ نہیں؟ خواتین کو آخر کب تک، کس بنیاد پر قید رکھا جائے گا؟ نورین کابیٹا حسّان نیازی اسی جیل میں قید ، والدہ کو ہسپتال لے جاتے وقت اسے چند منٹ کے لیے ملوا دینے میں کیا حرج تھا؟ میری آسودگی؛ انہی حرکتوں سے 25 کروڑ عوام کے دلوں میں حکمرانوں خلاف نفرت، غصہ اور دوری مزید بڑھنی ہے۔ طلال صاحب! بیمار خاتون کی تکلیف اور اسکےساتھ پیش آنے والے سلوک پر غلط بیانی نہ کیجیے۔ مجھ پر لازم ہو گیا کہ اصل واقعات سامنے لاؤں تاکہ اذیت پسند حکمرانوں کی سفاکیت عیاں ہو۔ وقت ایک سا نہیں رہتا، ماضی کے کئی ظالم حکمران قبروں میں یا زندہ ہیں مگر اقتدار سے باہر عبرت کا نشان، ان کے انجام دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے، کاش آج کے حکمران سبق سیکھتے۔
2
1
85
CRICKET JUNOON®️ retweeted
نورین نیازی کی ہسپتال منتقلی: خاندان پر کیا گزری؟نائب وزیرِ داخلہ طلال چوہدری کی غلط بیانیاں۔ نورین نیازی کی جیل سے ہسپتال منتقلی، دو راتوں کا قیام اور آج جیل واپسی بارے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اس دوران اُس کی بیٹیوں پر کیا گزری؟ چونکہ مملکت اذیت پسندوں (SADISTS) کے قبضے میں، بزرگ خواتین بچوں کی تکالیف میں بھی آسودگی ملنی ہے۔ جھوٹوں کا انبار لگا دیا گیا چنانچہ وضاحت ضروری ہے۔ اپ ڈیٹڈ سافٹ ویئر کے ساتھ طلال چوہدری کا دعویٰ کہ نورین نیازی کے اہلِ خانہ کو فوراً اطلاع دی گئی اور ہسپتال بلوا لیا، سفید جھوٹ ہے۔بیٹا جیل میں اور جیل سے باہر دو بیٹیوں کو میڈیا سے معلوم ہوا۔ میری بیٹیاں والدہ کو ملنے اورڈاکٹروں سے رابطے کی ناکام کوشش کرتی رہیں کہ والدہ کی حالتِ زار معلوم ہو سکے۔ 28 اکتوبر شام چھ سات بجے ہسپتال منتقلی کی خبر کی تصدیق ہوئی تو دونوں بیٹیاں فورا" ہسپتال پہنچ گئیں، آج 30 اکتوبر شام چھ بجے دو دنوں سے ہسپتال کی راہداریوں میں بھٹکتی رہیں۔ درجنوں دفعہ دونوں بہنوں کی پولیس نےسرزنش کی کہ ہسپتال کی حدود سے باہر نکل جائیں۔ بیٹیوں کی ایک ہی درخواست تھی کہ انہیں والدہ کو دیکھنے دیا جائے یا علاج کرنے والے ڈاکٹر سے بات کروا دی جائے مگر ان کی آہ و بکا بےکار رہی۔ صد افسوس! طلال چوہدری درجنوں ٹھوکریں کھانے اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہونے کے بعد جب سے نیا پیشہ اختیار کیا ہے، وہاں جھوٹ اختیاری نہیں بلکہ لازمی مضمون ہے۔ طلال کی تصحیح کے لیے کہ فیملی جو اس وقت فقط دو بیٹیوں پر مشتمل ہے، نورین نیازی کی ہسپتال آمد اور علاج بارے لاعلم رکھا گیا۔ دونوں بہنیں ساری رات اندھیرے میں تیر چلاتی رہیں کہ کوئی ڈاکٹر ملے اور ماں کی صحت بارے کچھ معلوم کر سکیں۔ چونکہ خاصا میڈیا اکٹھا تھا، زبردستی نکالنے کی جرأت نہ تھی۔ 24 گھنٹوں کے بعد اگلے دن 29 کی شام کو جب بیٹیوں نے مجبور کیا تو میں نے ایک بھلے مانس اللہ کے بندے کی منت سماجت کی تو اس کی مہربانی بڑی بیٹی کی ملاقات کی صورت پیدا ہوئی۔ آدھی رات سے کچھ پہلے بڑی بیٹی کو ماں تک رسائی ملی، وہاں ماں کی ڈھلکی صحت دیکھ کر بڑی بیٹی ابھی تک صدمے میں ہے۔ والدہ کی خواہش کہ چھوٹی بیٹی کو بھی ملوا دیا جائے جو چند گزوں کے فاصلے پر موجود تھی اور ماں کو ملنے کے لیے تڑپ رہی تھی۔ جب بڑی بہن ماں کے پاس تھی تو چھوٹی بیٹی بار بار مجھے فون کرکے بلک رہی تھی کہ ’’ابا مجھے بھی اماں سے ملوا دیں‘‘، مگر بے بسی تھی۔ اگلے دن کوشش کی کہ دوسری بیٹی، یا دونوں بیٹیاں، والدہ سے مل لیں، مگر اجازت نہ ملی۔ جب نورین نیازی کو ہسپتال سے جیل منتقل کیا جا رہا تھا توچھوٹی بیٹی نے ماں کو دور سے دیکھا تو اس کی حالت صدمے سے غیر ہو گئی، دونوں بیٹیوں پر دو دن جو بیتی ہے اور جس صدمہ میں ہیں ،جزوی حال درج کر دیاہے۔ طلال چوہدری فرما رہے ہیں کہ خاندان کو فوراً بلا لیا گیا تھا سراسر جھوٹ ہے۔ سوچتا ہوں ماضی میں طلال چوہدری کی جودرگت بنی اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہوا، میرے پر بیتی ہوتی تو میں بھی آٹو پائلٹ پر بلال چوہدری کی طرح جھوٹ پرچار کرتا ، فرماں بردار ہوتا۔ بڑی بیٹی کی اس ایک ملاقات کے لیے مجھے کتنی منت سماجت کرنا پڑی، میں جانتا ہوں۔ طلال چوہدری! براہ مہربانی اسے حکومتی کارکردگی نہ بتائیں۔ ظلم خدا کا، MPOکے تحت نظربند خاتون کو مکمل صحت یاب ہونے سے پہلے ہی آناً فاناً دوبارہ جیل جمع کروا دینا،سفاکیت اور اذیت پسندی کی بدترین مثال ہے۔ نورین ایک گھریلو اور introvert خاتون ہیں، جنہوں نے ہمیشہ نجی زندگی گزاری ہے۔ ساڑھے تین سال سے اپنے اکلوتے بھائی اوراپنے اکلوتے بیٹے کی دس سالہ غیر قانونی قید نے اس پر قیامت ڈھا رکھی ہے ،جذبات نے مغلوب کر رکھا ہے۔ ازراہِ تفنن اور ازراہِ تعفن ’’حکومتی مؤقف کہ ایم پی او کے تحت اس لیے حراست میں لیا گیا کہ وہ ۲۷ ستمبر کو اسلام آباد آنے والے جلوس کی قیادت کر سکتی تھیں‘‘۔ بفرضِ محال یہ مؤقف مان لیا جائے تو 27 ستمبر گزرنے کے بعد اور جبکہ گورنر راج نافذ، خواتین کو جیل میں نظربند رکھنا بے شرمی، بے حیائی کے علاوہ کچھ نہیں؟ خواتین کو آخر کب تک، کس بنیاد پر قید رکھا جائے گا؟ نورین کابیٹا حسّان نیازی اسی جیل میں قید ، والدہ کو ہسپتال لے جاتے وقت اسے چند منٹ کے لیے ملوا دینے میں کیا حرج تھا؟ میری آسودگی؛ انہی حرکتوں سے 25 کروڑ عوام کے دلوں میں حکمرانوں خلاف نفرت، غصہ اور دوری مزید بڑھنی ہے۔ طلال صاحب! بیمار خاتون کی تکلیف اور اسکےساتھ پیش آنے والے سلوک پر غلط بیانی نہ کیجیے۔ مجھ پر لازم ہو گیا کہ اصل واقعات سامنے لاؤں تاکہ اذیت پسند حکمرانوں کی سفاکیت عیاں ہو۔ وقت ایک سا نہیں رہتا، ماضی کے کئی ظالم حکمران قبروں میں یا زندہ ہیں مگر اقتدار سے باہر عبرت کا نشان، ان کے انجام دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے، کاش آج کے حکمران سبق سیکھتے۔
2
828
67
1,974
96,028
قید و بند کی داستان — 30 اکتوبر 2026 عمران خان صاحب کی فیملی: 1. عمران خان — 1182 دن 2. بشریٰ بی بی — 651 دن 3. علیمہ خانم — 40 دن 4. نورین خانم — 39 دن 5. ڈاکٹر عظمیٰ خانم — 39 دن پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور کارکن: 6. ڈاکٹر یاسمین راشد — 1265 دن 7. عمر سرفراز چیمہ — 1269 دن 8. میاں محمود الرشید — 1265 دن 9. سینیٹر اعجاز چوہدری — 1268 دن 10. حسان نیازی — 1174 دن 11. صنم جاوید — 550 دن 12. فلک جاوید — 401 دن عالیہ حمزہ ملک بھی ایک سال سے زائد جیل میں رہیں۔ انہیں 7 اگست 2024 کو رہا کیا گیا تھا۔ یہ صرف چند نام ہیں، ورنہ ہزاروں کارکن بھی اس عرصے میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر چکے ہیں۔ کسی کا باپ، کسی کی ماں، کسی کا بھائی، کسی کی بہن اور کسی کا بیٹا اپنے خاندان سے دور ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟ کیا پاکستان میں سیاسی اختلاف کی سزا قید و بند ہی رہ گئی ہے؟ آزادی، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کسی جماعت یا فرد کی جاگیر نہیں، ہر پاکستانی کا آئینی حق ہیں۔
قید و بند کی داستان — 30 اکتوبر 2026 عمران خان صاحب کی فیملی: 1. عمران خان — 1182 دن 2. بشریٰ بی بی — 651 دن 3. علیمہ خانم — 40 دن 4. نورین خانم — 39 دن 5. ڈاکٹر عظمیٰ خانم — 39 دن پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور کارکن: 6. ڈاکٹر یاسمین راشد — 1265 دن 7. عمر سرفراز چیمہ — 1269 دن 8. میاں محمود الرشید — 1265 دن 9. سینیٹر اعجاز چوہدری — 1268 دن 10. حسان نیازی — 1174 دن 11. صنم جاوید — 550 دن 12. فلک جاوید — 401 دن عالیہ حمزہ ملک بھی ایک سال سے زائد جیل میں رہیں۔ انہیں 7 اگست 2024 کو رہا کیا گیا تھا۔ یہ صرف چند نام ہیں، ورنہ ہزاروں کارکن بھی اس عرصے میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر چکے ہیں۔ کسی کا باپ، کسی کی ماں، کسی کا بھائی، کسی کی بہن اور کسی کا بیٹا اپنے خاندان سے دور ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟ کیا پاکستان میں سیاسی اختلاف کی سزا قید و بند ہی رہ گئی ہے؟ آزادی، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کسی جماعت یا فرد کی جاگیر نہیں، ہر پاکستانی کا آئینی حق ہیں۔
1
38