𝓕𝓪𝓲𝔃𝓪𝓷 𝓢𝓲𝓭𝓭𝓲𝓺𝓾𝓲🇵🇰 retweeted
فطرت کاتقاضا ہے کہ فطرت کا ہو اظہار
اور
حالات کے جبر کے باوجود @AltafHussain_90 کے چاہنے والےوفاپرست اپنی فطرت کااظہار کررہے ہیں
مہاجروں سمیت مظلوم کارکنان وعوام کا عزم اور
پُرزور مطالبہ نوشتہ دیوار ہے
#LiftBanOnAltafHussain
𝓕𝓪𝓲𝔃𝓪𝓷 𝓢𝓲𝓭𝓭𝓲𝓺𝓾𝓲🇵🇰 retweeted
LiftBanOnAltafHussain
#انقلاب_الطاف_زندہ_باد
اہلیانِ کراچی کی جانب سے نیو کراچی ، بارہ دری اور نارتھ کراچی کے علاوہ کراچی کے مختلف مقامات پر
*الطاف بھائی پر سے پابندی ختم کرو*
کے بینر اور پینافلیکس آویزاں کئیے گئے
@AltafHussain_90 @OfficialMQM
👇👇👇
ہم روک رہے ہیں باطل کوئی ائے ہمارے ساتھ چلے
یہ راستہ حق کو جاتا ہے جو چاہے ہمارے ساتھ چلے
#LiftBanOnAltafHussain #انقلاب_الطاف_زندہ_باد
LiftBanOnAltafHussain
#انقلاب_الطاف_زندہ_باد
اہلیانِ کراچی کی جانب سے نیو کراچی ، بارہ دری اور نارتھ کراچی کے علاوہ کراچی کے مختلف مقامات پر
*الطاف بھائی پر سے پابندی ختم کرو*
کے بینر اور پینافلیکس آویزاں کئیے گئے
@AltafHussain_90 @OfficialMQM
👇👇👇
𝓕𝓪𝓲𝔃𝓪𝓷 𝓢𝓲𝓭𝓭𝓲𝓺𝓾𝓲🇵🇰 retweeted
LiftBanOnAltafHussain
#انقلاب_الطاف_زندہ_باد
اہلیانِ کراچی کی جانب سے نیو کراچی ، بارہ دری اور نارتھ کراچی کے علاوہ کراچی کے مختلف مقامات پر
*الطاف بھائی پر سے پابندی ختم کرو*
کے بینر اور پینافلیکس آویزاں کئیے گئے
@AltafHussain_90 @OfficialMQM
👇👇👇
𝓕𝓪𝓲𝔃𝓪𝓷 𝓢𝓲𝓭𝓭𝓲𝓺𝓾𝓲🇵🇰 retweeted
LiftBanOnAltafHussain
#انقلاب_الطاف_زندہ_باد
ایم کیوایم کے وفاپرستوں کی جانب سے کراچی کے مختلف علاقوں میں کی گئی انقلابی وال چاکنگ کا عکس
@AltafHussain_90 @OfficialMQM
👇👇👇
جئے نظریہ الطاف حسین ✌️
𝓕𝓪𝓲𝔃𝓪𝓷 𝓢𝓲𝓭𝓭𝓲𝓺𝓾𝓲🇵🇰 retweeted
**کراچی انٹر بورڈ کے متنازع نتائج طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہیں، تمام پرچوں کی اسکین کاپیاں فراہم کی جائیں، سرفراز صدیقی**
لندن ۔۔۔ 3 نومبر 2026ء
آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) کے چیئرمین سرفراز صدیقی نے کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ کے فرسٹ ایئر کے متنازع نتائج کے خلاف طلبہ کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام متاثرہ طلبہ کو ان کے چیک شدہ امتحانی پرچوں کی اسکین کاپیاں فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنے نتائج کی شفاف جانچ کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ کے مطابق احتجاج کے دوران مبینہ بروکر مافیا کی جانب سے ہاتھا پائی اور احتجاج روکنے کی کوششیں قابلِ مذمت ہیں۔ متعلقہ حکام ان الزامات کی شفاف تحقیقات کرکے طلبہ کو تحفظ فراہم کریں۔
سرفراز صدیقی نے کہا کہ چند طلبہ کے پرچے ان کیمرا چیک کروانے کی پیشکش مسئلے کا حل نہیں۔ طلبہ کا مطالبہ جائز ہے اور بورڈ انتظامیہ کو اسے فوری تسلیم کرنا چاہیے۔
انہوں نے طلبہ، والدین اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ 5 نومبر کو کراچی پریس کلب کے باہر ہونے والے احتجاج میں بھرپور شرکت کریں اور متاثرہ طلبہ کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
**شعبۂ اطلاعات**
آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او)
LiftBanOnAltafHussain
#انقلاب_الطاف_زندہ_باد
اہلیانِ کراچی کی جانب سے نیو کراچی ، بارہ دری اور نارتھ کراچی کے علاوہ کراچی کے مختلف مقامات پر
*الطاف بھائی پر سے پابندی ختم کرو*
کے بینر اور پینافلیکس آویزاں کئیے گئے
@AltafHussain_90 @OfficialMQM
👇👇👇
𝓕𝓪𝓲𝔃𝓪𝓷 𝓢𝓲𝓭𝓭𝓲𝓺𝓾𝓲🇵🇰 retweeted
LiftBanOnAltafHussain
#انقلاب_الطاف_زندہ_باد
اہلیانِ کراچی کی جانب سے نیو کراچی ، بارہ دری اور نارتھ کراچی کے علاوہ کراچی کے مختلف مقامات پر
*الطاف بھائی پر سے پابندی ختم کرو*
کے بینر اور پینافلیکس آویزاں کئیے گئے
@AltafHussain_90 @OfficialMQM
👇👇👇
LiftBanOnAltafHussain
#انقلاب_الطاف_زندہ_باد
اہلیانِ کراچی کی جانب سے نیو کراچی ، بارہ دری اور نارتھ کراچی کے علاوہ کراچی کے مختلف مقامات پر
*الطاف بھائی پر سے پابندی ختم کرو*
کے بینر اور پینافلیکس آویزاں کئیے گئے
@AltafHussain_90 @OfficialMQM
👇👇👇
جئے نظریہ الطاف حسین
𝓕𝓪𝓲𝔃𝓪𝓷 𝓢𝓲𝓭𝓭𝓲𝓺𝓾𝓲🇵🇰 retweeted
LiftBanOnAltafHussain
#انقلاب_الطاف_زندہ_باد
اہلیانِ کراچی کی جانب سے نیو کراچی ، بارہ دری اور نارتھ کراچی کے علاوہ کراچی کے مختلف مقامات پر
*الطاف بھائی پر سے پابندی ختم کرو*
کے بینر اور پینافلیکس آویزاں کئیے گئے
@AltafHussain_90 @OfficialMQM
👇👇👇
جئے نظریہ الطاف حسین
𝓕𝓪𝓲𝔃𝓪𝓷 𝓢𝓲𝓭𝓭𝓲𝓺𝓾𝓲🇵🇰 retweeted
فوجی جرنیلوں کے احکامات کے زیراثر پارلیمنٹ کو آزاد اورخودمختار پارلیمنٹ قرارنہیں دیا جاسکتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیاسی جماعتیں اپنے ملک میں ترقیاتی کاموں اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے منشور دیتی ہیں اورانتخابات کے مواقع پر اپنے منشور کے نکات میں اضافہ بھی کرتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتوں کا منشور Country bound ہوتا ہے۔ ایسانہیں ہوتا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا منشور کسی اور ملک میں چلے اور کسی اورملک کی کسی سیاسی جماعت کا منشور پاکستان میں چلے جبکہ سچی نظریاتی تحریکوں کانظریہ کسی بھی ملک کی جغرافیائی حدود کا پابند نہیں ہوتا۔کسی ملک میں نظام کی تبدیلی کیلئے جو نظریہ دیا جاتا ہے وہ سرحدوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ سچے انقلابی نظریئے کو کسی ایک ملک کی جغرافیائی حدود میں قیدنہیں کیاجاسکتا، نظریہ ایک جغرافیے کی حدود سے نکل کر دوسرے جغرافیے اور پھر تیسرے جغرافیے میں پہنچ جاتا ہے
نظریاتی تحریکوں کامقصد کسی بھی ملک میں رائج ظالمانہ نظام اور طرز حکومت کو چیلنج کرکے وہاں تبدیلی لانا ہوتا ہے اورتحریکیں ہمیشہ نظام کو تبدیل کرنے کیلئے چلائی جاتی ہیں۔ پاکستا ن میں قیام پاکستان سے لیکرآج کے دن تک فرسودہ جاگیردارانہ اورچند مخصوص خاندانوں کا موروثی نظام قائم رہا ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے زمانے سے آج تک سیاسی جماعتیں، سیاسی جماعتوں کے اتحاد اور ان کی جو مخلوط حکومتیں بنتی رہی ہیں،جو صدوراور وزرائے اعظم بنتے رہے ہیں اورجو سویلین حکومتیں قائم ہوتی رہی ہیں وہ فوجی جرنیلوں کے اثرورسوخ، ان کے دباؤاوران کی پسند ناپسند کی بنیاد پر چلتی رہی ہیں۔ایسی صورتحال میں کسی بھی انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی مقننہ (Legislative body) اگراجتماعی فیصلہ نہ کرسکے یاان کا اجتماعی فیصلہ فوجی جرنیلوں کے احکامات کے زیراثر ہو تو ہم ایسی پارلیمنٹ کو آزاد اورخودمختار پارلیمنٹ قرارنہیں دے سکتے۔
یہ صرف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں ہے، دنیا کے جن ممالک کی منتخب حکومتیں فوج کے جرنیلوں کے ماتحت ہوتی ہیں ان ممالک کی خارجہ پالیسی بھی پارلیمنٹ نہیں بلکہ فوج بناتی ہے۔ مثال کے طورپر جب اسرائیل نے فلسطین پر حملے شروع کیے اوربمباری کرکے غزہ سمیت فلسطین کے مختلف علاقوں کے انفرااسٹرکچر کو تباہ کرکے گراؤنڈ زیرولیول کردیا تو کتنے اسلامی ممالک نے ان اسرائیلی حملوں کی مذمت کی؟ اسرائیلی بمباری کوروکنے کیلئے فلسطین کے عوام کی مدد کی؟ یقینا کسی نے بھی نہیں کی۔
تازہ ترین مثال ایران پر امریکہ اوراسرائیل کے مشترکہ حملوں کی ہے جب دونوں ملکوں نے ایران پر بموں، میزائلوں اورڈرونوں سے حملہ کیاتو 50 سے زائد اسلامی ممالک میں سے کسی نے بھی امریکہ اور اسرائیل کے ان حملوں کی کھل کرمذمت نہیں کی اورایران کاکھل کر ساتھ نہیں دیا۔غورطلب بات یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟اس لئے کہ جن جن ممالک میں بادشاہت اور موروثیت کے تحت حکمرانی چلتی ہو، آمریت ہو، فوج کی برتری ہواس ملک کی خارجہ پالیسی عوام کے ووٹوں سے آنے والی حکومتیں طے نہیں کرتیں بلکہ اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ طے کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے پاکستان سمیت کوئی بھی اسلامی ملک ایسا نہیں ہے جسے آزاد اورخودمختار ملک کہاجائے۔
میں نے فکری اورنظریاتی بنیادوں پرسیاسی کارکنوں کی تربیت کاسلسلہ ابتداء میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی Gen Z اورMillennials کیلئے شروع کیاتھا، پی ٹی آئی کے رہنماؤں کیلئے نہیں کیاتھاکیونکہ عمران خان صاحب، انکی اہلیہ اور انکے وفادار رہنما وکارکنان گزشتہ تین برسوں سے جیل میں قید ہیں اوراب عمران خان کی بہنوں کو بھی جیل میں بند کردیا گیا ہے، ایک صوبہ KPK جہاں دوتہائی اکثریت سے پی ٹی آئی کی حکومت قائم تھی وہاں کے منتخب وزیراعلیٰ کو اغوا کرکے صوبے میں گورنرراج اور ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ بظاہر پیپلزپارٹی کے صدر آصف زرداری نے گورنرراج کے حکمنامے پر دستخط کیے ہیں اگر وہ پاکستان کے صدر ہوتے تو گورنرراج کے احکامات پر دستخط نہ کرتے اسی طرح میاں شہبازشریف بھی ن لیگ کے وزیراعظم ہیں جوفارم 47 کے تحت وزیراعظم بنے وہ اپنی پارٹی کے مفاد ات کیلئے ڈکٹیشن لیکر صوبہ KPK میں گورنرراج کے نفاذ کی تجویز پیش کرتے ہیں جس پر صدرزرداری دستخط کرکے عملدرآمد کرتے ہیں۔ پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ (ن) دونوں کا پاکستان سے کوئی واسطہ نہیں ہے یہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے خاندان اورپارٹی کے مفادات کو عزیز رکھتی ہیں اوران کا پاکستان اوراس کے عوام کے مفادات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
تحریک انصاف کے جتنے رہنما ہیں ان کی اکثریت کمپرومائزہے جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسٹیبلشمنٹ کی ڈکٹیشن لینے سے انکار کردیاتھا اورجب انہوں نے اپنے سربراہ عمران خان کی رہائی کیلئے لانگ مارچ کاآغاز کیاتو انہیں اغوا کرلیاگیا اور صوبے کی اسمبلی تحلیل کرکے وہاں گورنر راج اورایمرجنسی نافذکردی گئی۔
1/2
𝓕𝓪𝓲𝔃𝓪𝓷 𝓢𝓲𝓭𝓭𝓲𝓺𝓾𝓲🇵🇰 retweeted
2/2
اس گورنرراج کے خلاف PTIکےلیڈروں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہےجو میدان عمل میں آکراس غیرجمہوری عمل کے خلاف مزاحمت کی بات کرے، مزاحمت کامطلب ہتھیاراٹھانا نہیں ہوتابلکہ پرامن جمہوری احتجاج اوراحتجاجاً گرفتاریاں دینا بھی ہوتا ہے۔ جب آپ احتجاجی جلسہ،جلوس یاہڑتال کریں گے تو یہ احتجاج کے یہ سارےطریقے آئین اور قانون کے مطابق ہوں گے، پاکستان کاآئین ہرشہری کو آزادی اظہاراور جلسہ جلوس کاحق دیتا ہے۔
جب ریاست کسی بھی جماعت کے خلاف کوئی ایکشن کرتی ہے تواس پر ملک دشمنی، غداری اوردہشت گردی کےالزامات لگاتی ہے اوراحتجاجی مظاہرےکرنے والوں کےخلاف جھوٹےمقدمات کرکےانہیں پابند سلاسل کردیتی ہےاسی وجہ سے پنجاب کےعوام حکومتی مظالم کےخلاف میدان عمل میں نہیں نکلےکیونکہ گزشتہ تین برسوں سے پنجاب کےعوام کو بھی یہ تجربہ ہواہے کہ کس طرح قانون نافذ کرنے والےادارےگھروں کے دروازے توڑکر، سیڑھیاں لگاکر زبردستی گھستے ہیں، اگرمطلوبہ شخص روپوش یا جلاوطن ہو تو اس کے نہ ملنے پر ان کےوالد، بھائی،بیٹے کوگرفتارکرلیتے ہیں،اہل خانہ سے بدسلوکی کرتے ہیں حتیٰ کہ خواتین اوربچوں تک نہیں بخشا جاتا۔ دنیا کاکوئی قانون یہ اجازت نہیں دیتا کہ کسی ایک شخص کی غلطی کی سزا ا س کےگھروالوں کو دی جائے۔ اب پنجاب کےلوگوں کومعلوم ہورہاہے کہ ظلم کس کوکہتے ہیں،پہلے MQMکے کارکنوں یا بلوچوں کو جبری لاپتہ کیاجاتا تھا تو پنجاب کی جماعتوں کے رہنما کہتے تھے کہ ”کچھ تو کیاہوگاجب ہی فوج، رینجرز اورپولیس نے ایسا کیاہے“ کسی سیاسی کارکن کوماورائےعدالت قتل کردیاجاتاتھا تو کہتے تھےکہ ”کچھ توکیاہوگا ورنہ ادارے پاگل نہیں کہ اس طرح کا عمل کریں“ MQMکے کارکنوں کے گھروں پر رینجرز اورپولیس کے اہلکار اہل خانہ سے بدسلوکی کرتے، چادروچہاردیواری کاتقدس پامال کرتے تو کہتے تھےکہ ان گھروں میں دہشت گردچھپے ہوں گے جبھی رینجرز اورپولیس نے چھاپے مارے ہیں۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے اپنی جان بچانے یا گرفتاری سے بچنے کیلئےامریکہ، کینیڈا، برطانیہ، یورپی ممالک یا مڈل ایسٹ جلاوطن ہوئےاورانہوں نے بیرون ملک حکومتی مظالم کے خلاف مظاہرے کیے توان کی تصویریں کھینچ کر، نادرا کے ذریعے پاکستان میں ان کے گھروں کےپتے نکال کران کے گھروں پر چھاپے مارےگئےاوراہل خانہ کوہراساں کیاگیا کہ تمہارے والد، بھائی یا بیٹے پی ٹی آئی کےمظاہرے میں شریک ہوتے ہیں ،PTIکے لیڈروں کی اکثریت کمپرومائز ہوگئی، باقی جیلوں میں اسیر ہیں تو اب عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی کے گمنام کارکنوں، Gen Z اورMillennials کو ہی آوازاٹھانی پڑے گی۔
PTIکے گمنام کارکنوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ تحریکوں میں کیاکیامشکلات پیش آتی ہیں، کن کن خطرناک مراحل سے گزرناپڑتا ہے، اورآگ وخون کے دریاعبورکرنے پڑتے ہیں اسی لئے انہیں ہوشمندی اوردانشمندی سے غورکرنا چاہیے کہ جبرکے اس ماحول میں مزاحمت کس طرح جاری رکھی جاسکتی ہے، کس طرح جلسے جلوس اوراحتجاجی مظاہرے کیے جاسکتے ہیں اس کے کئی طریقے موجود ہیں۔جولوگ یہ سمجھتے ہیں کہ احتجاجی تحریک چلائیں گے تو ان پر مقدمات بن جائیں گے اورانہیں جیلوں میں قید کردیا جائے گا تو پھر وہ عمران خان صاحب کواللہ تعالیٰ کے حوالے کردیں اوراپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کر عمران خان کی رہائی کیلئے دعائیں کرتے رہیں جیسا کہ ان کی کمپرومائزقیادت انہیں درس دیتی رہی ہے کہ عمران خان کی رہائی کیلئے اپنے اپنے گھروں پراذانیں دیں اور دعائیں کریں۔
نظریاتی کارکنان کو غورکرنا چاہیے کہ بغیرجدوجہد اورقربانیوں کے کوئی بھی تحریک کامیاب نہیں ہوتی ہے، جب انسان نے پیروں پر کھڑے ہوکر چلنا شروع کیاتو اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا،پھرانسان نے آگ، اوزار اور برتن کس طرح بنائے ہوں گے جبکہ اس زمانے میں کوئی چیزدستیاب نہیں تھی۔آج ہرچیزدستیاب ہے،ملک بھرمیں پی ٹی آئی کے کارکنان بہت بڑی تعداد میں ہیں اگروہ ہرعلاقے میں مزاحتمی تحریک کاآغاز کریں اورثابت قدمی سے یہ جدوجہد ایک ماہ تک جاری رکھیں توبڑی سے بڑی طاقت بھی ہتھیارڈال دے گی۔
تحریکوں میں غداری کاعمل ہوتارہا ہے، تاریخ میں میرجعفراورمیرصادق کے نام غداری کی علامت بن چکے ہیں، غداری کاعمل کوئی نئی بات نہیں ہوتی،انسانی تاریخ میں ہرتحریک میں شامل لوگوں نے غداری کی، حتیٰ کہ حضوراکرم ؐ کی جدوجہد میں شامل لوگوں نے بھی غداری کاعمل کیا اور منافقین کے سردار عبداللہ بن ابئی نے مسجد ضرار بنالی تھی جسے ڈھانے کا حکم دیاگیا۔ انقلابی تحریکوں میں چھاپے گرفتاری، اسیری، روپوشی، جلاوطنی، جبروتشدد اورجان ومال کی قربانیاں کاسامنا کرنا پڑتا لہٰذا نظریاتی تحریکوں کے کارکنان کو اپنے دل سے خوف اورڈر کو نکالنا ہوگا اورانقلابی تحریکوں کی تاریخ کامطالعہ کرکے اپنی جدوجہد کو جاری رکھنا چاہیے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 493ویں فکری نشست سے خطاب
یکم نومبر2026ء
𝓕𝓪𝓲𝔃𝓪𝓷 𝓢𝓲𝓭𝓭𝓲𝓺𝓾𝓲🇵🇰 retweeted
LiftBanOnAltafHussain
#انقلاب_الطاف_زندہ_باد
اہلیانِ کراچی کی جانب سے نیو کراچی ، بارہ دری اور نارتھ کراچی کے علاوہ کراچی کے مختلف مقامات پر
*الطاف بھائی پر سے پابندی ختم کرو*
کے بینر اور پینافلیکس آویزاں کئیے گئے
@AltafHussain_90 @OfficialMQM
👇👇👇
𝓕𝓪𝓲𝔃𝓪𝓷 𝓢𝓲𝓭𝓭𝓲𝓺𝓾𝓲🇵🇰 retweeted
تیرے @sharjeelinam لئے حسیب بھائی کا لکھا اتنا ہی کافی ہے اب اگر منہ کی بواسیر نکالو تو سوچ سمجھ کر نکالنا ہمیں جواب دینا بہت ہی اچھے سے آتا ہے
𝓕𝓪𝓲𝔃𝓪𝓷 𝓢𝓲𝓭𝓭𝓲𝓺𝓾𝓲🇵🇰 retweeted
**2016 میں قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی کی تقریر، تصویر اور تحریر پر پابندی عائد کرکے کراچی کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی، سرفراز صدیقی**
اے پی ایم ایس او کے چیئرمین سرفراز صدیقی نے کہا کہ 2016 میں قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی کی تقریر، تصویر اور تحریر پر پابندی عائد کرکے گویا کراچی کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔ مقصد صرف ایک آواز کو دبانا نہیں تھا بلکہ کراچی اور اس کے عوام کو بے یار و مددگار چھوڑنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آج اسی محرومی کی ایک دردناک تصویر ہمارے سامنے ہے۔ اپنے تعلیمی مستقبل، اپنی محنت اور اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے معصوم طلبہ کو ایک بروکر مافیا سرِعام تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔
سرفراز صدیقی نے کہا کہ سوچیے! جن ہاتھوں میں قلم اور کتابیں ہونی چاہئیں، وہ اپنے ہی مستقبل کے تحفظ کے لیے ظلم کے سامنے کھڑے ہونے پر مجبور ہیں۔ جن آنکھوں میں خواب ہونے چاہئیں، ان میں آج خوف اور بے بسی دکھائی دے رہی ہے۔
انہوں نے بروکر مافیا کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کسی کی جاگیر نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے مستقبل کی قیمت لگائی جا سکتی ہے۔ دھونس، دھمکیوں اور تشدد کے ذریعے طلبہ کی آواز دبانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ اس مافیا کے کرداروں کے ساتھ ساتھ ان کے سرپرستوں کو بھی بے نقاب کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج سوال صرف ایک طالب علم پر ہونے والے تشدد کا نہیں بلکہ کراچی کے ہر اس طالب علم کے مستقبل کا ہے جو اپنے حق اور انصاف کے لیے آواز بلند کر رہا ہے۔
**قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی نے جس نوجوان نسل کے روشن مستقبل کا خواب دیکھا، آج اسی نسل کو اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔**
سرفراز صدیقی نے مطالبہ کیا کہ طلبہ کو فوری انصاف فراہم کیا جائے، تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور بروکر مافیا کا احتساب کیا جائے۔
**سرفراز صدیقی**
چیئرمین
آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (APMSO)
𝓕𝓪𝓲𝔃𝓪𝓷 𝓢𝓲𝓭𝓭𝓲𝓺𝓾𝓲🇵🇰 retweeted
Replying to @NoumanRizvi76
گذشتہ دن سیالکوٹ کے علاقہ ڈسکہ میں پتلو ٹک ٹاکر کی مہندی کی تقریب کسی نے دیکھی ھے ؟ اور اسمیں موٹر سائیکل ملنے کےلالچ میں کتنے ھزار لوگ شریک تھے؟
فرق ہہ ھے کہ وہاں موٹرسائیکل بک رھی تھی یہاں صوبے کا منجن بک رھا تھا۔اگر 5/6 ھزار لوگ آبھی گئے توکیا اس سے 3 کروڑکاشہرفتح کر لیاگیا؟
𝓕𝓪𝓲𝔃𝓪𝓷 𝓢𝓲𝓭𝓭𝓲𝓺𝓾𝓲🇵🇰 retweeted
سیاسی جماعتیں اور تحریکیں:
سیاسی جماعتوں کا مقصد اقتدار کا حصول ہوتا ہے جبکہ تحریکیں ایک نظریئے کے تحت وجود میں آتی ہیں، ایک مقصد اورکاز کے لئے کام کرتی ہیں اورعوام کے اجتماعی مفادات کیلئے جدوجہد کرتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے ملک کی ترقی، تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، خارجہ پالیسی اور عوام کا معیارزندگی بہتر بنانے ایک منشور عوام کے سامنے پیش کرتی ہیں جبکہ تحریک کےلئےکسی کاز یا مقصد کا ہونا لازمی ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو چلانے اور تحریک کو چلانے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
کسی بھی ملک میں جہاں ظلم وجبر کا نظام ہو، ناانصافیوں کا عمل ہو، نسلی ولسانی تعصب کی بنیادوں پر عوام میں تفریق کی جاتی ہو اور یہ تفریق پیدا کرنے والا حکومتی گروہ شکلیں بدل بدل کر اقتدار میں آتا رہتا ہےمگر نہ ظلم وجبر کا نظام ختم ہوتا ہے، نہ ناانصافیوں کاعمل ختم ہوتا ہے اورنہ ہی نسلی امتیاز ختم ہوتا ہے۔
تحریک کیلئے مقصد کی اہمیت:
تحریک کیلئے مقصد اورکاز کاہونا ضروری ہوتا ہے اوراس مقصد کے حصول کیلئے جو نظریہ پیش کیاجاتا ہےاس کے تحت جدوجہد کرنا بچوں کا کھیل نہیں ہوتا۔ کسی بھی تحریک سے وابستہ لوگ اگریہ سوچتے ہیں کہ وہ آج جدوجہد کررہے ہیں تو ایک ہفتے بعد انہیں اپنی جدوجہد کا پھل مل جائے گا تو ایسا نہیں ہوتا۔ ایسی سوچ کا جنم لینا فطری ہے کیونکہ انسان چاہتا ہے کہ اس کے نظریئے کو جلد سے جلد کامیابی مل جائے اور وہ اپنامقصد حاصل کرلے۔
پاکستان کا سیاسی کلچراورعوام:
پاکستان کے قیام کو 79 سال گزرچکے ہیں، 1947ء سے آج کے دن تک ہم یہ دیکھتے چلے آرہے ہیں کہ صرف ایک طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ یا جماعتیں شکلیں بدل بدل کر حکمرانی کرتے چلے آرہے ہیں، اگر ہم ان کی جماعتوں کا تنظیمی ڈھانچہ دیکھیں تو ان جماعتوں کی صفوں میں صرف ایلیٹ کلاس یعنی مراعات یافتہ طبقے کے لوگ ہی نظرآئیں گے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی موجودگی میں مسلم لیگ کا تنظیمی ڈھانچہ بھی نوابین اور دولت مند افراد پر مشتمل تھا۔
بدقسمتی سے پاکستان میں ایم کیوایم کے علاوہ ایک بھی ایسی سیاسی جماعت نہیں ہے جو جلسے جلوس کے علاوہ اپنے کارکنان کی فکری بنیادوں پر تربیت کیلئے رات رات بھر فکری نشستوں کاانعقاد کرتی ہو اور اپنے کارکنان کو ملک اور بین الاقوامی حالات سے آگاہ کرتی ہو، پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں Electables پر مشتمل ہوتی ہیں، جو الیکشن لڑنے کے قابل ہوتے ہیں انہی کو تنظیمی ڈھانچے میں شامل کیاجاتا ہے اور یہی لوگ الیکشن میں پارٹی ٹکٹ حاصل کرکے سینیٹ، قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلی کے رکن بنتے ہیں۔ پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت میں غریب، لوئر مڈل کلاس کے کارکنان جوکہ جانثار ہوتے ہیں، لاٹھیاں ڈنڈے کھاتے ہیں،جلسوں میں کرسیاں اور دریاں بچھاتے ہیں، وال چاکنگ کرتے ہیں اورپوسٹرز لگاتے ہیں، انہیں کبھی الیکشن میں حصہ لینے کا موقع نہیں دیا جاتا۔
ایم کیوایم کے علاوہ پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے جس نے غریب، لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنےوالے ایسے کارکنان کو سینیٹ، قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلی کا رکن بنایاہو جن کے پاس انتخابات لڑنے کیلئے مالی استطاعت صفر ہو۔ ایم کیوایم ملک کی واحد جماعت ہے جس نےاپنی تحریک کے ڈاکٹروں، انجینئروں، وکلاء، اساتذہ اور زندگی کے دیگر شعبوں میں مہارت رکھنے والے پڑھےلکھے غریب کارکنوں کو منتخب ایوانوں میں بھیجا۔ 1947ء سے ایم کیوایم کے قیام تک پاکستان میں جو نظام چلتا چلا آرہا ہے اس میں صرف Electables ہی منتخب ہوتے چلے آرہے ہیں۔ الطاف حسین نے پاکستان میں جاری رولنگ ایلیٹ اور Electables کی سیاست کو صرف چیلنج ہی نہیں کیا بلکہ غریب طبقہ سے تعلق رکھنے والےنوجوانوان کو منتخب کرکے سینیٹ ، قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی میں بھیجا، انہیں میئرز،ڈپٹی میئرز اور کونسلرز بنایا۔ پاکستان میں رولنگ ایلیٹ کلاس، جاگیردار، وڈیرے، سرمایہ دار اور دولتمندخواہ وہ جائز طریقے سے دولتمند بنے ہوں یا ناجائز طریقے سے، دونوں صورتوں میں تمام سیاسی جماعتیں مراعات یافتہ طبقےکے افراد کو ہی اپنی جماعتوں میں شامل کرتی ہیں اور الیکشن میں انہی کو انتخابی ٹکٹ دیتی ہیں۔
ایم کیوایم نےپاکستان کے فرسودہ نظام میں پہلی مرتبہ غریب ومتوسط طبقےکی حکمرانی کی جدوجہد کی تو ایم کیوایم پردہشت گردی، ملک دشمنی، بھتہ خوری اوربوری بند لاشوں کے جھوٹے الزامات لگائے گئے۔آج بھی ہر قسم کی برائی ایم کیوایم میں ہی نکالی جاتی ہے۔
پاکستان کا طبقاتی نظام:
پاکستان کاسیاسی نظام دوطبقات پر مشتمل ہوتا ہے، ایک طبقہ دوفیصد حکمراں اشرافیہ کا ہے جو اقتدار میں آنے والے لوگوں پرمشتمل ہوتا ہےجبکہ دوسرا 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کےلوگوں پر مشتمل ہوتاہےجو صرف تالیاں بجانے، نعرے لگانے، پوسٹرز لگانے، دریاں اور کرسیاں بچھانے والے ہوتے ہیں ۔
1/3


























