Pinned Tweet
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
Humera retweeted
سب سے زیادہ ٹیکس
سب سے زیادہ شرح سود
سب سے زیادہ بیروزگاری
سب سے زیادہ مہنگائی
سب سے زیادہ غربت
چھوٹے چھوٹے مسائل
تعلقات میں بال، وقت ثابت کرے گا اور تاریخ کو دیکھتے ہوئے قوی امکان یے کہ مولانا عین وقت پر وہ بال خود ہی اٹھا کر نکال دیں گے مگر کرنے والوں سے گزارش ہے کہ گاؤں کی مائ فضلاں کی طرح فلاں دا فلاں دے نال چکر ٹائپ خبریں اور وڈیوز لگانا بند کریں،لوگوں کی شلواروں میں سے نکلیں۔گھن آتی ہے
بجائے اسکے کہ اپنے حسن سلوک،محبت ،
برداشت اور درگزر کی وجہ سے رشتہ قائم رہے،اسکے برعکس کسی کی اپنے اوپر financial dependence کو ایک ہتھیار اور ٹول کے طور پر استعمال کیا جائے تاکہ وہ اس مجبوری کی وجہ سے آپ کے ساتھ بندھ کے رہے
،یہ کس قسم کی سوچ ہے؟
میری بات بہت سوں کو بری لگے گی اسکے لئے پیشگی معذرت ۔۔۔( میں ہر گز خواتین کی جاب کے خلاف نہیں، پر میری رائے میرے مشاہدے پرمبنی ہے )طلاق کے مقابلے میں خلا کی شرح بہت بڑھ گئی ہے جہاں اسکی ایک وجہ اپنے حقوق سے آگاہی ہےوہیں اسکی بڑی وجہ خواتین کا جاب کرنا بھی ہے کیونکہ جب خواتین کماتی ہیں تو وہ جو گھر کا سسٹم ہے بری طرح متاثر ہوتا ہے کیونکہ پہلے خاتون مرد کی کمائی پر dependent ہوتی تھی اسلئے گھر صرف مرد کے مطابق چلتا تھا اگر کچھ اونچ نیچ ہوبھی جاتی تھی تو خواتین اسلئے برداشت کرلیتی تھیں کہ خلا یا طلاق کی صورت میں وہ کہاں جائیں گی اسلئے صبر کرلیتی تھیں لیکن جب خاتون کمانے لگتی ہے تو وہ خود کو independent سمجھتی ہے اسلئے جب بھی گھر میں اونچ نیچ ہوتی ہے تو وہ پھر ایک حد تک ہی برداشت کرتی ہے معاملہ سلجھ جائے توٹھیک بصورت دیگر وہ خلا لینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی
ریفرنڈم نتیجہ
فارم 45 ، نہیں
فارم 47 ، ہاں
اسلام آباد: (انصار عباسی)…پاکستان کے انتظامی نقشے میں تبدیلی کرکے 12 صوبے بنانے کی تجویز زیر غور ہے، جس کے تحت ممکنہ 28 ویں آئینی ترمیم سے قبل ملک گیر ریفرنڈم کرانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ تجویز طرزِ حکمرانی بہتر بنانے، انتظامی کارکردگی مضبوط کرنے اور ملک بھر میں ترقیاتی عمل کی زیادہ منصفانہ تقسیم یقینی بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔
اس تجویز سے متعلق سوچ سے آگاہ ذرائع کے مطابق ابتدائی غور و خوض میں 2027 کے پہلے نصف حصے کے دوران مجوزہ آئینی ترمیم کی جانب پیش رفت کا تصور پیش کیا گیا ہے، جبکہ اس سلسلے میں ابتدائی اقدامات پہلی سہ ماہی میں کیے جانے کا امکان ہے۔
مجوزہ انتظامی ڈھانچے کے تحت پنجاب کو چار صوبوں، خیبر پختونخوا کو تین، بلوچستان کو تین اور سندھ کو دو صوبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جس سے ملک میں صوبوں کی مجموعی تعداد 12 ہوجائے گی۔
تاہم یہ تجویز ابھی غور کے مرحلے میں ہے اور مجوزہ حدود، انتظامی ڈھانچوں یا اتنی بڑی تنظیمِ نو پر عمل درآمد کے لیے درکار آئینی طریقۂ کار کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
مجوزہ طریقہ کار کا ایک اہم پہلو آئینی ترمیم کا عمل شروع کرنے سے پہلے ملک گیر ریفرنڈم کا انعقاد ہے۔ اس کا مقصد اضافی صوبے بنانے کے وسیع تر سوال پر عوامی رائے حاصل کرنا ہے، تاکہ انتظامی تنظیمِ نو کے لیے عوامی حمایت حاصل کی جاسکے اور اس معاملے کو صرف سیاسی مذاکرات اور جماعتی مفادات تک محدود رہنے سے بچایا جاسکے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ مجوزہ اقدام کا مقصد کسی مخصوص صوبے کو نشانہ بنانا یا کسی موجودہ صوبائی اکائی کی سیاسی یا انتظامی حیثیت کمزور کرنا نہیں ہے۔ اس کے بجائے اس تجویز کی بنیادی دلیل یہ ہے کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی، انتظامی مسائل اور غیر مساوی ترقی کے تقاضے طرزِ حکمرانی کے لیے ایک نئے طریقۂ کار کے متقاضی ہیں۔
اس تجویز کے پس منظر میں موجود سوچ کے مطابق بنیادی مقصد حکومت کو عام شہریوں کے زیادہ قریب لانا، عوامی خدمات تک رسائی بہتر بنانا، انتظامیہ کو زیادہ جواب دہ اور عوامی ضروریات کے مطابق بنانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں اور وسائل سے ملک کے مختلف علاقوں کے لوگوں کو فائدہ پہنچے۔
اس تجویز کے حامیوں کا خیال ہے کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں حکومتوں کے لیے مقامی ترجیحات کی نشاندہی، سرکاری شعبے کی کارکردگی کی نگرانی، عوامی خدمات کی فراہمی میں موجود خامیوں کو دور کرنے اور شہریوں کے روزمرہ مسائل کا زیادہ مؤثر انداز میں جواب دینے کو آسان بنا سکتی ہیں۔
ریفرنڈم کو اس بحث کو سیاسی محاذ آرائی سے آگے لے جانے کا ایک ممکنہ ذریعہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔ نئے صوبوں کا قیام تاریخی طور پر شدید سیاسی ردعمل کا باعث بنتا رہا ہے، کیونکہ سیاسی جماعتیں اور علاقائی فریق اکثر اس معاملے کو انتخابی مفادات، صوبائی شناخت اور سیاسی طاقت کی تقسیم کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
اس مجوزہ طریقۂ کار کی حمایت کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ سیاسی مصلحتوں کے بجائے عوامی رائے کو ترجیح دی جانی چاہیے اور اس معاملے کا بنیادی طور پر انتظامی کارکردگی اور عوامی فلاح کے نقطۂ نظر سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ملک گیر مشاورت سے تنظیمِ نو کے اصول پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کا موقع بھی مل سکتا ہے، تاہم جغرافیائی حدود کے تعین، وسائل کی تقسیم، آئینی تحفظات اور انتظامی ذمہ داریوں کی منتقلی کے انتظامات کے لیے وسیع سیاسی اور پارلیمانی غور و خوض بدستور ضروری ہوگا۔
اس نوعیت کی کسی بھی تنظیمِ نو میں اہم آئینی سوالات شامل ہوں گے، جن میں موجودہ صوبائی ڈھانچے میں تبدیلیاں اور اس سے متعلق نمائندگی، مالی اور انتظامی انتظامات بھی شامل ہیں۔لہٰذا اس مجوزہ اقدام کو حقیقت کا روپ دینے سے پہلے وسیع تر سیاسی شمولیت اور آئینی اتفاقِ رائے درکار ہوگا۔
اس تجویز کے پس منظر میں بنیادی مؤقف یہ ہے کہ اضافی صوبوں کا قیام مختلف علاقوں کے درمیان سیاسی مقابلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ اسے ایسی انتظامی اصلاحات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جن کا مقصد شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا، پسماندہ علاقوں تک ترقی کے مواقع پہنچانا اور ریاست کو عوام کے لیے زیادہ قابلِ رسائی اور جواب دہ بنانا ہے۔
واہ، کیا دن تھے وہ۔ جب ایک راہ چلتا رینڈم بندہ جس کی کوئی پہچان ہی نہ کرائی جائے مستند ثبوت ہوا کرتا تھا، جب ایک ادنیٰ پٹواری صحافی انٹیلیجنس اداروں کے مبینہ ملازم کا دن دہاڑے تعاقب کر سکتا تھا کیمرے سمیت۔ اب نہ کیمرے ہیں، نہ پٹواری صحافی، نہ انٹلیجنس ملازمین۔ افسوس۔
کیونکہ سندھ پولیس پی پی کا وفادار ہےجبکہ KP پولیس آزاد تھی اور IGKP اسٹبلشمنٹ کا ٹاؤٹ ہے
جب اسٹبلشمنٹ نے IGسندھ سے کپٹین صفدر پر چھاپے کا کہا اس نے انکار کردیا پھر IGکی تزلیل کی گئی تو پی پی کے وفادار پولیس افسران نے ہڑتال کردی
دوسری طرف عمران خان کی اس عمل میں صفر سپورٹ تھی
🚨🚨
پی ٹی آئی کی قیادت کچھ دلیری پیپلز پارٹی سے ہی سیکھ لے!!!
جب ایک بار آئی جی سندھ مشتاق مہر کے ساتھ مبینہ غیرمناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا تو پوری سندھ پولیس چھٹی پر چلی گئی اور @BBhuttoZardari صاحب نے ایسا زبردست احتجاج کیا کہ اَس وقت کی اعلی ترین سیاسی و غیرسیاسی قیادت نے بلاول صاحب سے فوراٌ رابطہ کرکے صورتحال کو کنٹرول کیا اور پیپلز پارٹی کا احتجاج فیصلہ کَن ثابت ہوا۔
لیکن پی ٹی آئی کی اس نامعقول قیادت کی بزدلی کا عالم دیکھیئے کہ یہ آج تک اپنے منتخب وزیراعلی کو برآمد یا بازیاب نہ کرواسکے نہ آواز اٹھا سکے۔
عمران خان آپ کی تنظیم سازی پر میں حیران ہوں۔ اگر اس ٹیم کو لیکر آپ ۹۲ کا ورلڈ کپ کھیلتے تو پہلے میچ میں آپ کی ٹیم گھر چلی جاتی.
Humera retweeted
US Senator-elect @AbdulElSayed on sending US funds to international law violators such as Israel, Egypt and Pakistan, to @ABC
“how do we make sure that we're holding ourselves accountable to international law? And it's not just about Israel. I take the same approach to Egypt where my family immigrated from. I take the same approach to Pakistan”, El-Sayed says, adding, “ think we need to be the first among equals to make sure that we are enforcing international law. And when we are are giving money to a country that is using our money to violate international law”.
There is no power on earth that can undo Pakistan." Quaid-e-Azam
Challenge accepted!
PML-N, PPP & Co
#kashmir
#balochistan
#KPK
ساری دنیا پاکستان کی دشمن ہے یہودی،صیہونی طاقتیں ہمارے خلاف ہیں
اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارا ایک بھی طرز عمل ایسا نہیں ہے کہ جسکو دیکھ کر ہم کہہ سکیں کہ ہم اس ملک کی بقا اور ترقی چاہتے ہیں
الیکشن چوری،مسلسل پولیٹیکل انجنئیرنگ،ہر ادارے میں مداخلت،عدالتوں پر قبضہ، جوابدہی کا ڈر نہیں
اس لئے پی ٹی آئی والا محاذ ہی کھولے رکھا جائے اور انہیں کو کرش کیا جائے
بےفکر رہیں،سب کو معلوم ہے کہ یہ نوراکشتی ہی ہے، پیٹ پھاڑنے والی،سڑکوں پر گھسیٹنے والی،پی ٹی آئی کی گورنمنٹ ختم کرتے ہی مولانا کے اندر کا انقلابی جاگ اٹھا ہے 🙂
Humera retweeted
یہ گزشتہ روز دھرنے پر کریک ڈاؤن کے دوران مارے جانے والے تین کشمیری نوجوانوں کی لاشیں ہیں۔کبھی یہ جوان بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں مارے جانے کے بعد پاکستانی پرچم میں لپٹنا پسند کرتے تھے اور آج یہ لاشے کشمیری پرچم میں لپٹے ہیں۔ جب آپ کے غصے اور انا میں کمی آ جائے تو سوچیے گا کہ آپ کشمیر میں کیا کچھ کھو چکے ہیں۔
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
Humera retweeted
مخصوص نشستوں والے کیس میں PTI جسٹس امین الدین صاحب کی عدالت کو مسلسل کہتی رہی کہ فلاں فلاں ہمارا MNA ہے مگر وہ نہیں مانے۔
اب JUI نے اسی امین الدین کی عدالت سے کہا کہ صدف احسان ان کی سینیٹر نہیں ہے مگر امین الدین صاحب نے فیصلہ دیا کہ نہیں وہ تمہاری سینیٹر ہے۔
سب کہو سبحان اللہ
والدین کی بجائے اداروں کو کیوں نا کہا جائے کہ آپ کو دیکھ کر لوگوں کو تحفظ کو احساس ہونا چاہئے ناکہ کسی سرپھرے غنڈے موالی کا، کہ جسکو دیکھتے ہی لوگ اور بچے اپنے آپ غیر محفوظ سمجھیں
انہوں نے صاف لکھا ہے کہ گرفتار ہونے والے نے کوئ مزاحمت نہیں کی مگر اسکے باوجود پولیس نے مارا


















