Pinned Tweet
اسلامُ علیکم
صبح بخیر
نئی صبح ہے، نیا حوصلہ ہے، نئی اُمیدوں کا سفر ہے
اللّہ کرے آج کا دن آپ کے لیے کامیابی، سکون اور خوشیوں کا پیغام لے کر آئے
ہر پریشانی آسانی میں بدلے
ہر دعا قبول ہو،
اور ہر قدم کامیابی کی طرف بڑھے آمین
خوش رہیں، مسکراتے رہیں
#UAE
#صباح_الخير
MF ⁱᵏ ᵖᵒʷᵉʳ retweeted
اختیار ولی سے جب پوچھا گیا کہ پنجاب حکومت کا جہاز ویانا کیا کر رہا ہے تو اختیار ولی نے جواب دیا کہ کونسا نواز شریف کے گیراج میں کھڑا ہے
یہ عوام کا جہاز ہے ویانا گیا ہے آ جاۓ گا لیکن عمران خان نے توشہ خانہ کی گھڑی کیوں بیچی 😂
اختیار ولی PTI کا گیارہواں کھلاڑی ہے
MF ⁱᵏ ᵖᵒʷᵉʳ retweeted
پنجاب حکومت کے جہاز میں کبھی ویلنٹائنز ڈے منایا جاتا ہے اور کبھی ہنی مون
اس جہاز کو ٹک ٹاکر کا بیٹا ہنی مون منانے کے لیے ویانا لے گیا ہے یہ اس صوبے کی وزیراعلی ہے جس میں 3کروڑ بچے اسکول نہیں جاتےاور اس کا بیٹا اس غریب عوام کے پیسوں سے خریدے گئے جہاز پر عیاشیاں کر رہا ہے
قاسم سوری
MF ⁱᵏ ᵖᵒʷᵉʳ retweeted
5جوان بیٹے مر گئے گئے ،2بیٹیاں ہیں35سال اور 40سال کی انکی شادیاں بھی نہیں کر سکا
بزرگ شہری روزی روٹی کمانے نکلا تو اس کے روزگار کو ہی چھین لیا
کیا کیا ظلم کی داستان رقم نہیں کررہی سب کی ماں کیا مائیں ایسی ہوتی ہیں 😭😭
MF ⁱᵏ ᵖᵒʷᵉʳ retweeted
”اسلام آباد:وفاقی پولیس کاجعلی پولیس مقابلہ،قتل ہونےوالےنوجوان کوکئی روزگزرنےکےبعدانصاف نہ مل سکا،نہ ہی قاتلوں پرقتل کامقدمہ درج ہوا“
اب لواحقین پرراضی نامہ کےلئےپریشرڈالاجا رہاہے،لواحقین کاشدیداحتجاج۔
انصاف کامطالبہ،کیالواحقین کوانصاف مل سکےگا؟
🚨🚨🚨
MF ⁱᵏ ᵖᵒʷᵉʳ retweeted
ایک مجرم اشتہاری کامران ٹیسوری گیا ۔🚨
دوسرا مجرم سزایافتہ ان پڑھ جاہل مسلط کر دیا گیا ۔
اندروں سندھ جتنی جہالت ہے اسی حساب سے چالیس کلو کا جاہل مجرم گورنر بنا کر مسلط کر دیا گیا ۔
جس کو لکھنا تک نہیں اتا ایم اے پاس پڑھے لکھے ملازم ان پڑھ اشتہاری کے لیے نوٹ لکھ رہے ہیں ۔یہی جاہل اب یونیورسٹی کا چانسلر بن کر ڈگریاں سائن کرے گا ۔
MF ⁱᵏ ᵖᵒʷᵉʳ retweeted
سوات کی 13 سالہ ریشمہ دو سال گھر سے غائب ٫
غربت کی وجہ سے ماں کی فریاد آج تک کوئی نہیں سنتا ✅
ہمارے معاشرے میں اللّٰہ کسی کو غریب نے کریں امین
MF ⁱᵏ ᵖᵒʷᵉʳ retweeted
مریم بیٹی ہم شرمندہ ہیں
افسوس چند دن لاپتہ ہونے والی یہ 10 سالہ معصوم مریم کی لاش اس کے گھر کے پاس خالی پلاٹ سے ملی ہے۔
اس کا قصور یہ تھا کہ یہ ایک ایسے معاشرے میں پیدا ہوئی ہے جہاں پہ انسان نہیں درندے بستے ہیں
آج جب کتوں کے بھوکنے کی آواز آئی تو دیکھا کہ ایک خالی پلاٹ میں مٹی کے نیچے ایک بچی دفن ہے
جب اس کو دیکھا گیا تو افسوس وہ بچی دو دن قبل لاپتہ ہونے والی مریم تھی جسے اپنی ۔۔۔۔۔۔ پوری کرکے اس کی زندگی کا چراغ گل کردیا گیا
یہ خبر نہیں، ایک قیامت ہے جو اس کے والدین پر ٹوٹی ہے۔
سوچیں! وہ بچی جو کل تک ہنستی کھیلتی تھی
آج خاموش ہے۔ اس کی جگہ آپ کی یا میری بیٹی بھی ہو سکتی تھی یہ ہمارے معاشرے کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے۔
میری گزارش ہے آئی جی پنجاب اور ڈی پی او چنیوٹ پلیز اس واقعے کا فوری نوٹس لیں
مریم کے ساتھ ظلم کرنے والے کا کیس سی سی ڈی کو دیا جائے
آپ سب سے گزارش ہے کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ
یہ آواز گونگے اور بہرے حکام تک پہنچ سکے۔
اللّٰہ تعالیٰ مریم کو جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے اور والدین کو صبر دے۔ آمین۔
😓😓😓😓😓
#JusticeForMaryam #Bhowana #SaveOurChildren
MF ⁱᵏ ᵖᵒʷᵉʳ retweeted
وقاص نے تصدیق کے بعد پوسٹ کی ہے کہ پنجاب حکومت نے جو طیارہ پچھلے دنوں 12 ارب کا خریدا تھا وہ طیارہ اب ویانا ہنی مون کے لیے جنید اور اسکی اہیلیہ کو لے کر پہنچا ہوا ہے۔
MF ⁱᵏ ᵖᵒʷᵉʳ retweeted
صحافی وقاص نے خبر دی ہے کہ جرنل رانی نے 11 ارب کا جہاز اپنے بیروزگار بیٹے اور سرجری زادہ بہو کو ہنی مون کے لیے دیا تھا جس پر وہ آسٹریا گیا تھا۔۔
اندازہ کریں کیسے اس چور خاندان کی اگلی نسل اس ملک، عوام اور وسائل کو لوٹ رہی ہے۔ دوسری طرف پٹواری کہتے ہیں کہ یہ نجی جہاز نہیں بلکہ "کمرشل" جہاز ہے۔
جیسے سترہ سیٹوں والی حکومت ہے ویسے ہی سترہ سیٹوں والا "کمرشل" جہاز ہے
جیسے جنرل رانی "کمرشل" ہے ویسے ہی جہاز کمرشل ہے
MF ⁱᵏ ᵖᵒʷᵉʳ retweeted
یہی رقم پہلے وزیر اعظم کے پاس تو 14 سال سزا۔
اور دوبارہ یہی رقم۔پھرسے نیو وزیر اعِظم کے پاس تو شکریہ اور سزا تک نہیں۔
من مرضی کے قانون و سزا۔
MF ⁱᵏ ᵖᵒʷᵉʳ retweeted
بطور گورنر سندھ، یہ شخص سندھ کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں کا چانسلر بن گیا ہے۔ سٹوڈنٹس کو اب ڈگریاں اس کے دستِ مبارک سے ملا کریں گی۔
انا للہ و انا الیہ راجعون!
MF ⁱᵏ ᵖᵒʷᵉʳ retweeted
وزیر اعظم پاکستان، وزیر داخلہ و ڈی جی ایف آئی اے نوٹس لیں
ضلع راجن پور کی تحصیل جام پور سے تعلق رکھنے والا ایک شخص، کریم نواز، دبئی میں ڈیلیوری کا کام کرتا تھا۔
وہاں اس کی ملاقات ایک غریب بنگلہ دیشی لڑکی سے ہوئی جو کنسٹرکشن میں محنت مزدوری کر کے حلال رزق کماتی تھی۔ سادہ دل اور بھروسہ کرنے والی اس لڑکی کی ماہانہ آمدن پاکستانی حساب سے تقریباً پندرہ لاکھ روپے بنتی تھی، جو وہ اعتماد میں آ کر کریم نواز کے اکاؤنٹ میں بھیجتی رہی۔
کریم نواز نے اسے شادی کے وعدے دیے اور انہی وعدوں پر یقین کرتے ہوئے اس لڑکی نے نہ صرف اپنی ساری کمائی اس کے حوالے کی بلکہ اپنے پیسوں سے اس کے بھائی کو بھی دبئی بلوا دیا۔
مگر بدقسمتی سے کریم نواز سب کچھ سمیٹ کر پاکستان واپس آ گیا اور اس لڑکی کو تنہا، بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔
آج وہ مجبور لڑکی سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستانی حکومت اور انصاف پسند لوگوں سے مدد کی اپیل کر رہی ہے۔
جام پور کے معزز رہائشیوں سے گزارش ہے کہ اگر کوئی اس شخص کو جانتا ہو تو سچ سامنے لانے اور اس مظلوم کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
یہ معاملہ صرف ایک لڑکی کا نہیں بلکہ انسانیت کا ہے۔
MF ⁱᵏ ᵖᵒʷᵉʳ retweeted
طلعت حسین کے بیٹے کو ناکام کرنے کے لئے مکتی باہنی کی ایک اور سازش
بنگالیوں نے بتائے بغیر فیلڈر کھڑا کرکے کیچ پکڑ کر مغربی پاکستان کے مایاناز صحافی کے بیٹے کو آؤٹ کردیا تاکہ وہ ٹنڈولکر کا ریکارڈ نہ توڑ سکے
MF ⁱᵏ ᵖᵒʷᵉʳ retweeted
فوج کی سنت پر عمل کرتے ہوۓ اقتدار ختم ہونے کے بعد ایک دن اس ملک میں گزارنا پسند نا کیا اور اپنے اصل ملک روانہ جہاں چوری کا پیسہ بھیجتا رہا۔
MF ⁱᵏ ᵖᵒʷᵉʳ retweeted
🚨🚨جس طریقے سے ایم کیو ایم کے گورنر کو باہر پھینکا ہے اس طرح سب کی باری آئے گی ، ڈاکٹر بابر اعوان
یہ واقعہ صرف ایک شخص کی تذلیل نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا منظر ہے۔ جب معصوم بیٹیاں اپنے باپ کے لیے رو رہی ہوں، چیخ رہی ہوں اور رحم کی اپیل کر رہی ہوں مگر اختیار رکھنے والوں کے دل نہ پگھلیں تو یہ صرف قانون کی سختی نہیں بلکہ انسانیت کی موت کی علامت بن جاتا ہے۔
ریاستی وردی کا مقصد عوام کی حفاظت اور خدمت ہوتا ہے، نہ کہ ان کی عزت نفس کو مجروح کرنا۔ قانون کا اطلاق ضرور ہونا چاہیے، مگر قانون کے ساتھ اخلاق، برداشت اور انسانیت بھی ہونی چاہیے۔ اگر ایک مجبور باپ کو اس کی بیٹیوں کے سامنے گھنٹوں ذلیل کیا جائے تو یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ پورے نظام پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ اکثر طاقت کا استعمال کمزور لوگوں پر ہی آزمایا جاتا ہے۔ جو امیر اور بااثر ہوں، ان کے سامنے یہی لوگ نرم لہجہ اختیار کر لیتے ہیں، مگر ایک غریب مزدور یا دیہاتی کو دیکھ کر قانون کی ساری سختیاں یاد آ جاتی ہیں۔ یہی رویہ عوام کے دلوں میں نفرت اور بے اعتمادی کو جنم دیتا ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ اختیار اور طاقت ہمیشہ قائم نہیں رہتے۔ آج جو طاقتور ہے کل وہ بھی ایک عام انسان کی طرح حالات کے رحم و کرم پر ہو سکتا ہے۔ مظلوم کی آہ اور بددعا کبھی ضائع نہیں جاتی۔ جب ایک مجبور انسان دل سے فریاد کرتا ہے تو اس کی آواز زمین سے آسمان تک پہنچتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اہلکاروں کو صرف قانون نافذ کرنے کی تربیت نہ دی جائے بلکہ انہیں انسانیت، اخلاق اور عوام کے ساتھ احترام سے پیش آنے کا درس بھی دیا جائے۔ اگر عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد قائم کرنا ہے تو سب سے پہلے انسان کو انسان سمجھنا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں انصاف، رحم اور انسانیت کا راستہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔






















