نظام صاحب نے آج بہت سے لوگوں کو میسیجز بھی کیے ہیں اور ٹیلیفون بھی کیے ہیں اور انہیں کہا گیا کہ مولانا پہ کیچڑ اچھالیں آج فرمائشی پروگرام تھا:کامران مرتضی
JUI Answers Back retweeted
اس وقت ملک میں کوئی آئین، جمہوریت نہیں ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں ہے۔ میں حکومت کو بھی دعوت دیتا ہوں، اپوزیشن کو بھی دعوت دیتا ہوں اور باہر بیٹھی ہوئی تمام سیاسی جماعتوں کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ آئیں، ایک میز پر بیٹھیں اور ایک نیا میثاقِ جمہوریت کریں۔
ازسرِنو ملک کے مستقبل کا تعین کریں کہ آئین پر عمل داری کیسے یقینی بنائی جائے؟ قانون کی بالادستی کیسے قائم ہو؟ سیاسی بالادستی کیسے ہو؟ عوام کی بالادستی کیسے یقینی بنائی جائے؟ سویلین سپرمیسی کیسے قائم ہو؟
آئیے! میں اس پارلیمنٹ کے فلور پر دعوت دیتا ہوں کہ سب مل بیٹھیں، اس میں حکومت بھی ہو، اپوزیشن بھی ہو اور تمام سیاسی جماعتیں بھی شامل ہوں۔ ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں، بہتر مستقبل کے لیے تیار ہیں، اس ملک کو آمریت سے بچانے کے لیے تیار ہیں، اس ملک کو کسی غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدام سے بچانے کے لیے تیار ہیں، اس ملک کو تشدد سے بچانے کے لیے تیار ہیں اور اس ملک کو خون خرابے سے بچانے کے لیے بھی تیار ہیں۔
آئیے! باہمی گفتگو کے لیے آمادہ ہوں اور مل بیٹھ کر ملک کے مستقبل کا فیصلہ کریں۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان
JUI Answers Back retweeted
خواجہ آضف بدتمیزی اور خواتین سے بدتمیزی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ اس سے قبل بھی گوجرہ سے ایک خاتون رکنِ اسمبلی جو وڑائچ تھیں خوجہ آصف ے کوئی معترضہ بات کہی تھی۔
غالباً وہ امجد وڑائچ کے اہلیہ تھیں۔ اس کے بعد خواجہ آصف پارلیمنٹ لاجز میں چھپتے پھرتے تھے۔ کیونکہ گوجرہ کے وڑائچ بہت طاقتور ہیں۔ ان کے بندے خواجہ اصف کہ علاج میں انہیں تلاش کرتے ہوئے جا پہنچے تھے۔
موصوف نے بندے ڈال کر صلح کی اور پھر پارلیمنٹ میں معافی مانگی اور ان کو بہن بہن کہتے رہے۔
مہناز رفیق کو پینگوین بھی انہوں نے ہی کہا تھا۔۔ شری مزاری پر بھی قابل اعتراض جملے غالباً انہوں نے ہی کِسے تھے۔
مسلم لیگ نون کی تو ویسے بھی خواتین کے حوالے سے ایک تاریخ رہی ہے محترمہ بے نظیر بھٹو کے قابل اعتراض تصاویر جہاز سےپھنکوانے سے لے کر انہیں پیلی ٹیکسی کہنے تک کے اعزازات نون لیگ کے ہی پاس ہیں۔
رانا ثنا اللہ پیپلز پارٹی کے ایم پی اے تھے۔ انہوں نے مریم نواز کے حوالے سے انتہائی معترضہ جملے کہے تھے۔ جس پر محترمہ بے نظیر بھٹو نے انہیں پارٹی سے نکال دیا تھا اور کتنی عجیب بات ہے کہ نون لیگ نے انہیں اپنے خوش آمدید کہا اور وہ نون لیگ کے ایک عرصہ سے طاقتور ترین وزیر ہیں
اور اج وہی نون لیگ پیپلز پارٹی کی اتحادی بھی ہے۔
JUI Answers Back retweeted
حضرت شیخ دنیا سے چلے گئے ہیں اور امن کی تلاش میں بدامنی کا شکار ہو گئے ,انہوں نے پوری زندگی قوم ،ملک اور امت کو امن دینے کے لیے جدوجہد میں گزاری لیکن آج وہ خود سفاکیت اور بربریت کا شکار ہو گئے ۔
انہوں نے شہادت کا اعلیٰ مقامِ پا لیا ۔
مجھے اللہ پر اعتماد ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مجرموں ، سفاکوں اور قاتلوں کو ضرور کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔
ہم حکمرانوں اور ذمہ دار اداروں سے پُرزور انداز میں یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مفت کی تنخواہیں نہ لیں۔ ان کا فرضِ منصبی ہے کہ وہ ہمارے شہید کے قاتلوں اور مجرموں کو تلاش کریں، انہیں منظرِ عام پر لا کر کیفرِ کردار تک پہنچائیں۔
آج پورے ملک میں ہماری صوبائی جماعتوں نے اپنے اپنے صوبوں میں مظاہرے کیے ہیں، لیکن میں بحیثیتِ امیر اعلان کرتا ہوں کہ آنے والے جمعہ المبارک کو، ان شاء اللہ، نمازِ جمعہ کے بعد پورے ملک میں تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز اور صوبائی ہیڈکوارٹرز پر زبردست مظاہرے کیے جائیں گے۔
میں ان شاء اللہ 14 مئی کو کراچی میں ایک بڑے جلسۂ عام میں شرکت کروں گا، اور ہم آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان اس جلسے میں کریں گے۔
ہم نے اس ملک کو بچایا، پاکستان آج اگر قائم ہے تو علماء ،جمعیت علماء کے موقف ،وفاق المدارس العربیہ اور ہمارے دینی مدارس کی وجہ سے قائم ہے، تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام کی وجہ سے قائم ہے۔
ہم پاکستان کے آئین، پاکستان کے قانون اور پاکستان کے پرامن نظام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کوئی بھی اسلحے کی سیاست نہیں کر رہا ،کوئی بھی بغاوت نہیں کر رہا۔ ہم قربانیاں دے رہے ہیں، ہماری لاشیں اٹھ رہی ہیں اسی پاداش میں۔
میں نے باجوڑ میں ایک ہی جلسے کے اندر اسی 80 جنازے اٹھائے ہیں۔ ہم نے وزیرستان کےجید علماء کرام ذمہ دار علماء کرام کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ ہم نے قبائلی علاقوں میں اور ملک کے اندر یہ قربانیاں دی ہیں۔
ہم نے مولانا حسن جان جیسے ایک انتہائی شریف النفس اور امن کے طلبگار استاد کی قربانی دی ہے۔ ہم نے اپنے پارلیمنٹیرین مولانا معراج الدین کی وربانیہ دی ہے۔ ہم نے مولانا نور محمد، جو ہمارے پارلیمنٹ کے اندر تھے، ان کی قربانی دی ہے۔
کتنے علماء کرام ہیں، کراچی سے لے کر باجوڑ تک، جو اس ملک کے لیے شہید ہوئے ہیں، اللہ کے دین کا نام لیتے ہوئے، جو پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ کیا گناہ ہے ان لوگوں کا، سوائے اس کے کہ وہ اللہ کے دین کی سربلندی چاہتے تھے اور پرامن جدوجہد کر رہے تھے۔
یہ لوگ ہمیں مشتعل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ جو جید علماء کرام کی شہادتیں ہیں، یہ ہمارے پُرامن راستے کو خون آلود راستے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے ہاتھ کسی مسلمان کے خون سے رنگنا نہیں چاہتے۔ ہم امن کے داعی ہیں، امن کا پرچم بلند رکھتے ہیں۔
وَكُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ
جب بھی ان بدامنی پھیلانے والوں نے جنگ کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی، اللہ نے اسے بجھا دیا۔
یہ لوگ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کا طرزِ عمل اسرائیل اور صہیونیوں جیسا ہے۔ اگر مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے، افغانستان میں، پاکستان میں، تو یہ امتِ مسلمہ کا طریقہ نہیں ہے۔
ہمیں استقامت کے ساتھ اپنے اکابر کے راستے پر چلنا ہے۔ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مفتی محمود کو مرتد کہتے ہہیں ؟ اکابر علماء کو مرتد کہتے ہیں؟ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مولانا عبدالحق کو مرتد کہتے ہیں؟ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ حضرت درخواستی کو مرتد کہتے ہیں؟ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مولانا احمد علی لاہوری کو مرتد کہتے ہیں؟ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ کو مرتد کہتے ہیں؟ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کو مرتد کہتے ہیں؟
ان کو مرتد کہنا اپنے آپ کو مرتد کہنا اور مرتد قرار دینا ہے ۔
جمعیت علماء اسلام کو مرتد کہنا علماء کرام کو مرتد کہنا دلیل ہے کہ تم قاتل اور مرتد ہو۔تمہارا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں
ہم تمہارا راستہ نہیں اپنائیں گے۔ جو تمہارے راستے پر جائے گا وہ اسلام کا مجرم ہوگا، وہ رسول اللہ ﷺ کا مجرم ہوگا، وہ اللہ کا مجرم ہوگا۔ تم ان باتوں سے ہمیں گمراہ نہیں کرسکتے ۔
ہم اس وطن سے محبت کرتے ہیں، ہم اس وطن سے دلی لگاؤ رکھتے ہیں، اور ہم اپنے وطن کو اسلام ،امن کا گہوارہ اور دینِ اسلام کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔
اختلافِ رائے ہوتو مکالمہ ہوتا ہے۔ اختلافِ رائے کریں لیکن یہ کون سا دین ہے کہ اختلافِ رائے پر کسی کو قتل کر دیا جائے؟
اگر کسی عمل سے پاکستان کا امیج بہتر ہوتا ہے تو ہماری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے ،ہم اس کی تعریف کریں گے، لیکن یہ جہالت ہے، اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کی شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی تعزیتی اجتماع سے خطاب
JUI Answers Back retweeted
تاریخ کو بڑی شائستگی سے بھی دیکھا جاے توجنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء میں جب مولانا فضل الرحمان صاحب آئین کی بحالی کی جد وجہد میں جیل کاٹ رھے تھے تو خواجہ آصف کے والد صاحب جنرل ضیاء کی نامزد مجلس شوریٰ کے نامزد چئیر مین تھے,
منقول
دلیل اور جگت بازی میں فرق کریں
ایک سستے تھیٹر جگت باز نے نے ان خواتین پر جو پارلمنٹ کے رکن ہیں ،پردہ دار ہیں
انکے پوری سیاسی کیریئر میں انہون نے کبھی غیر پارلیمانی زبان استعمال نہیں کی ۔۔
جگت باز ان کو مخاطب کرتے ہیں
35 سکینڈ گفتگو پر آپ آدھے گھنٹے تقریر کرتے ہیں
لیکن سوال کا جواب نہیں دے پاتے
JUI Answers Back retweeted
مولانا عطا الرحمان
ریاست کا باپ نہیں ہوتا لیکن چند جرنیلوں نے خود کو باپ سمجھ لیا ہے
ان جرنیلوں کی وجہ سے لوگ ماں پر انگلی اٹھا رہے
ایسے جرنیل باپ بنے ہوئے ہیں انکی توہین کرنا چاہتے ہیں
انھوں نے جو کرنا ہے کریں
اپ گرفتار کر سکتے ہیں تو مولانا کو گرفتار کر لیں
JUI Answers Back retweeted
ہم آپ کے ہاتھوں مرنے کے لیے تیار ہیں۔
لیکن تاریخ کے ہاتھوں مرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
مولانا فضل الرحمن
میں موقف پر قائم ہوں اور ان شاء اللہ اس موقف کو عوام کے سامنے بھی لے کر جاؤں گا۔ جب میری جماعت کے جلسے کا وقت آئے گا اور ہمیں روکا جائے گا، تو پھر اُس وقت دیکھا جائے گا کہ دما دم مست قلندر کیا ہوتا ہے اور کیا نہیں ہوتا۔ اگر حکومت ہمارے ساتھ ٹکر لینے کے لیے تیار ہے تو ہم بھی اُس کے ساتھ ٹکر لینے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔
اس بات کو بھی مدنظر رکھیں۔ میں آپ کی وساطت سے حکومت کے بینچوں پر بیٹھے ہوئے ارکان سے کہنا چاہتا ہوں، ادب کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ دن یاد رکھیں جب آپ پر سخت وقت تھا اور فرنٹ لائن پر فضل الرحمٰن لڑ رہا تھا۔ نواز شریف کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے، مریم نواز کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے اور شہباز شریف کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے۔ میں اپنے تمام دوستوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس حد تک نہ جائیں کہ کل دوست آپ کے ساتھ بیٹھنے کے قابل بھی نہ رہیں۔
اگر آپ ہر قیمت پر حالات خراب کرنا چاہتے ہیں، ہر قیمت پر ہمیں ذلیل کرنا چاہتے ہیں اور ہر قیمت پر ہمیں رسوا کرنا چاہتے ہیں، تو ہم مرنے کے لیے تیار ہیں، ہم آپ کے ہاتھوں مرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن تاریخ کے ہاتھوں مرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ہم لڑیں گے۔ عزت بھی عزت ہوتی ہے، غیرت بھی غیرت ہوتی ہے اور حمیت بھی حمیت ہوتی ہے۔
یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں ہے۔ یہ ملک نہ کسی فوجی کی جاگیر ہے اور نہ کسی جرنیل کی جاگیر ہے۔ یہ ملک ہم سب کا ہے، قوم کا ہے، عوام کا ہے۔ اس ملک کے لیے ہم نے جنگ لڑی ہے۔ یہ جنگ میں نے آپ کے شانہ بشانہ بھی لڑی تھی اور آج بھی لڑ رہا ہوں۔ اگرچہ آپ وہاں چلے گئے، پی ڈی ایم کا سر اِدھر ہے اور دھڑ اُدھر ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کا قومی اسمبلی میں خطاب
JUI Answers Back retweeted
ریاست "ماں" بن کر اپنے ہی شہریوں کی گردنیں اتار لیں.. وہ سب جائز ہے کیا؟؟؟
اگر ریاست ماں ہے تو، بچے تو پھر ماؤں کو ناراضگی میں "بہت" کچھ کہہ دیتے ہیں. ماں اس پر گردنیں نہیں اتارتی. صبر کرتی ہے. پچکارتی ہے. رونے کی وجہ پوچھتی ہے. بچے کو گلے لگا کر کہتی ہے میرے بچے کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا ؟؟؟
یہ اس ملک پر کیسے ظالم جابر فاسق لوگ قابض ہو گئے ہیں ۔ جو ماں کے نام کے اوپر اسی کے بچوں کی گردنیں اتارتے ہیں۔ ان پر ظلم اور جبر کرتے ہیں پھر بولنے بھی نہیں دیتے
چوہدری اعتزاز احسن نے یہ شہرہِ آفاق نظم لکھی تھی اب اس کو ری رائٹ کرنے کی ضرورت ہے۔
اب اعتزاز احسن کو پچھلے پانچ سال کے منظر کشی کرنی چاہیے۔
"میری ماں تیرے "بیٹوں" نے کیا کر دیا"
جو صرف خود کو بیٹے کہتے ہیں۔ اب "طرزِ مخاطب" وہ ہونے چاہییں۔
ما سوائے 10 لاکھ کے تو وہ کسی اور کو اس ریاست کا بچے ہی نہیں سمجھتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری ماں تیرے بیٹوں نے کیا کر دیا
دھرتی ماں
بیٹا: میری ماں تیرے بیٹوں نے کیا کر دیا
درسگاہیں تیری قتل گاہیں بنیں
خوں کی ہولی ترے در پہ کھیلی گئی
تیرے گھر قاتلوں کی پناہیں بنیں
میری ماں تیری چادر کے ٹکڑے ہوئے
تجھ کو زخمی کیا تیری اولاد نے
تیرے بچوں نے تجھ پہ تشدد کیا
بم دھماکے کیے ذہنِ برباد نے
میری ماں تیرے ماتھے پہ گھاؤ لگے
تیرے پاؤں پہ گرنیڈ پھینکے گئے
تیرے سینے پہ بارود باندھا گیا
تیرے بال اور بازو بھی کھینچے گئے
میری ماں تیری دھرتی کو کیا ہو گیا
اس کی گلیوں میں بارود پھٹنے لگا
تیرے بیٹوں نے چادر تِری پھاڑ دی
سلسلہ تیرے سانسوں کا رکنے لگا
میری ماں! مسجدوں میں دھماکے ہوئے
بارگاہوں میں بارود بویا گیا
تیری آنکھیں سلاخوں سے چھلنی ہوئیں
تیرے چہرے کو پھر خوں سے دھویا گیا
میری ماں! درس تیرا محبت کا تھا
لیکن اب نفرتوں ہی کا پیغام ہے
انتہا ہو گئی سوچِ بیمار کی
نہ یہ تہذیب ہے، نہ یہ اسلام ہے
میری ماں! آج پھر انتہا ہو گئی
جسم چھلنی ہوئے علم غارت ہوا
ایک تعلیم و تفریح کا دشمن گروہ
پھر سے موت اور خون کی بشارت ہوا
میری ماں میں نے سوچا مجھے اس سے کیا
میری دہلیز پر آگ پہنچی نہیں
میں تو محفوظ ہوں، آگ سے دور ہوں
میرے گھر تک سیاہ رات پہنچی نہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ماں: میرے بیٹے! جو مجھ پر تشدد ہوا
اس میں حصہ تمہارا بھی ہے سوچ لو
تم جو خاموش رہتے ہو اس جبر پر
اس پہ ذمہ تمہارا بھی ہے سوچ لو
میرے بیٹے! تمہیں سوچنا چاہیے
دستِ قاتل تو تفریق کرتا نہیں
خون سندھی، بلوچی یا پنڈی کا ہو
خنجرِ قتل تصدیق کرتا نہیں
خوں پٹھانوں کا ہو یا ہو کشمیر کا
خون یک رنگ ہے میرے ہر لال کا
میرا ہر اک پیارا ہے جانِ جگر
خون محسن کا ہو یا موہن لال کا
اس سے پہلے کہ آنگن تمہارا جلے
اپنی دہلیز پر خوں کے چھینٹے گریں
اس سے پہلے کہ روتی ہوئی بیٹیاں
شہر والوں کو معمول لگنے لگیں
توڑ دو دشمنوں کا غرور و ستم
بھول جاؤ کہ تم میں کوئی فرق ہے
وہ درندہ ذہن ہے، تم انسان ہو
پس کوئی فرق ہے تو یہی فرق ہے
اعتزاز احسن
JUI Answers Back retweeted
حضور اگر منصوبہ تاخیر کا شکار نہیں ہوگا تو زیادہ پیسے کیسے بنیں گے۔ ایسکلیشن کاسٹ ایسے ہی تو بڑھتی ہے نا۔۔۔ ٹھیکے دار سیاست دان اور بابو مل کے ہی ایسے طے شدہ ٹارگٹ حاصل کرتے ہیں
سیالکوٹ–کھاریاں موٹروے:
2 سال کا منصوبہ، اب 2028 تک انتظار!
69کلومیٹر طویل M-12 موٹروے پر اب تک صرف 20 سے 25 فیصد کام مکمل ہوا ہے، جبکہ منصوبہ ستمبر 2024 میں مکمل ہونا تھا۔ اب نئی ڈیڈ لائن فروری 2028 مقرر کر دی گئی ہے!
منصوبے کی لاگت: 89.739 ارب روپے دریائے چناب پر 1,043 میٹر طویل پل
تاخیر کی وجوہات: فنڈز کی کمی اور زمین کے حصول میں رکاوٹیں
یہ موٹروے سیالکوٹ اور کھاریاں کے درمیان سفر اور رابطوں کو بہتر بنا سکتی ہے،
#SialkotKharianMotorway #M12 #Pakistan 🇵🇰
JUI Answers Back retweeted
میں موقف پر قائم ہوں اور ان شاء اللہ اس موقف کو عوام کے سامنے بھی لے کر جاؤں گا۔ جب میری جماعت کے جلسے کا وقت آئے گا اور ہمیں روکا جائے گا، تو پھر اُس وقت دیکھا جائے گا کہ دما دم مست قلندر کیا ہوتا ہے اور کیا نہیں ہوتا۔ اگر حکومت ہمارے ساتھ ٹکر لینے کے لیے تیار ہے تو ہم بھی اُس کے ساتھ ٹکر لینے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔
اس بات کو بھی مدنظر رکھیں۔ میں آپ کی وساطت سے حکومت کے بینچوں پر بیٹھے ہوئے ارکان سے کہنا چاہتا ہوں، ادب کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ دن یاد رکھیں جب آپ پر سخت وقت تھا اور فرنٹ لائن پر فضل الرحمٰن لڑ رہا تھا۔ نواز شریف کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے، مریم نواز کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے اور شہباز شریف کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے۔ میں اپنے تمام دوستوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس حد تک نہ جائیں کہ کل دوست آپ کے ساتھ بیٹھنے کے قابل بھی نہ رہیں۔
اگر آپ ہر قیمت پر حالات خراب کرنا چاہتے ہیں، ہر قیمت پر ہمیں ذلیل کرنا چاہتے ہیں اور ہر قیمت پر ہمیں رسوا کرنا چاہتے ہیں، تو ہم مرنے کے لیے تیار ہیں، ہم آپ کے ہاتھوں مرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن تاریخ کے ہاتھوں مرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ہم لڑیں گے۔ عزت بھی عزت ہوتی ہے، غیرت بھی غیرت ہوتی ہے اور حمیت بھی حمیت ہوتی ہے۔
یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں ہے۔ یہ ملک نہ کسی فوجی کی جاگیر ہے اور نہ کسی جرنیل کی جاگیر ہے۔ یہ ملک ہم سب کا ہے، قوم کا ہے، عوام کا ہے۔ اس ملک کے لیے ہم نے جنگ لڑی ہے۔ یہ جنگ میں نے آپ کے شانہ بشانہ بھی لڑی تھی اور آج بھی لڑ رہا ہوں۔ اگرچہ آپ وہاں چلے گئے، پی ڈی ایم کا سر اِدھر ہے اور دھڑ اُدھر ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا قومی اسمبلی میں خطاب
JUI Answers Back retweeted
مُحسن نقوی جیسا بندہ ن لیگ کی حکومت میں مولانا کو کہہ رہا ہے کہ "اب آپکو ریاست میں نوکری نہیں ملنی"
خود جس کی اوقات نہیں کہ یہ کونسلر کا الیکشن بھی لڑ لے.
جب ن لیگ کے کلا ٹھکنا ہے نقوی نے وڈے گھر چلے جانا اور لون لیگ والوں نے واپس مولانا کے قصیدے پڑھنے پھر.















