Pinned Tweet
حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے
تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارا ہے
وہ کیا وصال کا لمحہ تھا جس کے نشے میں
تمام عمر کی فرقت ہمیں گوارا ہے
#مس_کی_پسند
امجد اسلام امجد
عمر رسیدہ مس retweeted
Replying to @Miss3zero1
مجھ سے میرے بھانجے نے پوچھا میں گڈلکنگ ہوں
میں نے کہاں ہاں ہو
اس نے کہا مجھے کیسے معلوم ہو کہ آپ میری خالہ ہیں تو دل رکھنے کے لئے ایسا بول رہیں
میں نے کہا نہیبں ہوتے تو میں ابھی اخلاق کئ اہمیت پر لیکچر دینا شروع ہو گئی ہوتی 🤣
وہ اتنا ہنسا
عمر رسیدہ مس retweeted
ہمارے خاندان میں جب کسی کے بارے میں یہ کہا جائے ”ویسے نجمہ عادت دی اچھی آ“ تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ نجمہ خوش شکل نہیں ہیں۔
کھُسرے کے گھر بچہ ہوا چُم چُم مار دتا والی بات آج کل کراچی میں سندھی مسلم والی فوڈ سٹریٹ پر لاگو ہو رہی چھوٹی سی جگہ ہے عوام ایسے پاگل ہو رہی جیسے خدا جانے کیا ہوگیا ہو
عمر رسیدہ مس retweeted
اِس سے پہلے کسی امکان کے مینارے پر
ہم ملے ہوں گے کسی دوسرے سیارے پر
احمد جہاں گیر
میں نے کہا تھا نا
xitter.gq/Miss3zero1/status/2117…
ارے واہ ، دیکھو تو سہی! ہماری محترمہ چیف منسٹر صاحبہ ایک غریب گھر میں بیٹھ کر بھنڈی کھا رہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی بادشاہ جنگل میں جا کر شیر سے دوستی کرنے کا دعویٰ کر رہا ہو، مگر شیر کے پنجے کاٹنے سے پہلے ہی شیر کو پالتو بنا لیا ہو۔
ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ساڑھے پانچ کروڑ سترہ لاکھ لوگ اتنے غریب ہیں کہ ان کی ماہانہ آمدنی صرف پچیس ہزار روپے ہے —- یعنی اتنی کہ ایک اچھی سی بھنڈی کی پلیٹ بھی شاید مہینے کے آخر تک نہ چلے۔ اور بارہ کروڑ لوگ پینتیس ہزار روپے مہینہ کماتے ہیں، جو آج کل کے دور میں شاید دو تین بار اچھا کھانا کھانے کے بعد ختم ہو جائے۔ ان بارہ کروڑ میں سے کسی ایک کے گھر جا کر روٹی توڑنا اور پھر کیمرے کے سامنے کہنا “ارے کیا مزے کی دال ہے!” بالکل ایسا ہے جیسے کوئی امیر آدمی سڑک پر بیٹھے بھکاری کو ایک روپیہ دے کر اس کی تصویر کھینچ لے، اور پھر گھر جا کر اعلان کرے کہ “میں نے آج غریبوں کے دکھ درد بانٹے!”۔
وہ روٹی توڑ رہی ہیں ایسے جیسے کبھی نہیں توڑی ہو، اور بھنڈی اٹھا رہی ہیں ایسے جیسے یہ کوئی نیا ایجاد شدہ پھل ہو جو ابھی کل ہی آسمان سے گرا ہو۔ ساتھ والے بزرگ صاحب اتنا مسکرا رہے ہیں کہ لگتا ہے ان کے دانتوں نے بھی فیصلہ کر لیا ہے کہ آج سیاست کی خدمت کرنی ہے۔ بچے باہر کھڑے ہیں، ان کی آنکھوں میں وہی پرانی بات لکھی ہے جو ہم سب جانتے ہیں—“کیا یہ لوگ واقعی ہمارے جیسا کھانا کھاتے ہیں، یا پھر گھر جا کر اپنے شیف کو بلائیں گے کہ بھنڈی کا ذائقہ بھولنے کے لیے کچھ اور تیار کرے؟”
سیاست دانوں کا یہ طریقہ کار بالکل ویسا ہی ہے جیسے کوئی امیر آدمی سڑک پر بیٹھے بھکاری کو ایک روپیہ دے کر اس کی تصویر کھینچ لے، اور پھر گھر جا کر کہے “میں نے آج غریبوں کے دکھ درد بانٹے!”۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں روپیہ کی جگہ بھنڈی ہے، اور تصویر کی جگہ پوری ویڈیو ہے۔ اور وہ بھکاری؟ وہ تو ان بارہ کروڑ میں سے ایک ہے جن کی پوری مہینے کی کمائی اتنی ہے کہ شاید اس ویڈیو میں دکھائی گئی پلیٹوں کا خرچہ بھی پورا نہ کر سکے۔
اگر کل کو یہی لوگ سڑک پر روٹی مانگتے پھریں تو شاید کوئی اور سیاست دان آئے گا، ان کے ساتھ بیٹھے گا، اور کہے گا—“ارے کیا مزے کی روٹی ہے! میں نے تو ایسی کبھی نہیں کھائی!”۔ اور ہم سب پھر سے وہی پرانی کہانی سنتے رہیں گے، جب تک کہ بھنڈی ختم نہ ہو جائے، کیمرے بند نہ ہو جائیں، اور وہ پچیس ہزار والے پانچ کروڑ سترہ لاکھ لوگ اپنے حصے کی روٹی کے انتظار میں کھڑے رہیں۔
ایک بات یاد رکھو—سیاست دان جب تمہارے گھر آ کر تمہارا کھانا کھاتا ہے تو وہ تمہارا دوست نہیں بن رہا ہوتا۔ وہ صرف یہ چیک کر رہا ہوتا ہے کہ تمہاری پلیٹ میں ابھی کتنا باقی ہے!!!!
سچ تو یہ ہے کہ age doesn't matter یا ایج از جسٹ آ نمبر والی بات اسی وقت کی جاتی ہے جب ایج واقعی میٹر کرتی لگتی اسی طرح جب کوئی کہے شکل صورت کچھ نہیں ہوتی اخلاق اچھے ہونے چائیے مطلب وہ آپ کو بدصورت مان رہے ہیں
اچھا مجھے سمجھ نہیں آتی مردوں کو خواتین کی باتوں ان کے مسائل سے اتنی دلچسبی کیوں ہیں یا اگر کوئی خاتون بچے نہیں پیدا کرنا چاہتی تو یہ اتنا بڑا مسئلہ کیوں ہیں
پتا لگے کل کوئی صحافی کہے مریم نے غریب خاندان کا کھانا کھا لیا کرپشن کا کیس نہ بن جائے آپ پر @MaryamNSharif
رضوی برادران کو بہت گھمنڈ تھا ۔آج کوئی نام لینے والا نہیں
پھر ریڈ لائن خان ۔ہاتھ تو لگاؤ۔ آج تین سال ہوگئے ہیں جیل میں سڑ رہا
پھر کہا گیا کہ خیبر پختون خواہ میں گورنر راج لگاؤ تو سہی ۔ آج دو ہفتے ہوگئے ہیں۔شانتی ہے
اب یہی بخار مولانا فضل الرحمان کے دماغ کو چڑھا ہوا کہ میں سب چیزوں سے بالا تر ہوں
لگتا اب اس کا وقت بھی آگیا ہے
میں ہمیشہ کہتی ہوں پیٹ بھر اچھا صاف ستھرا کھانا اور ایک ڈیڑھ مگ چائے زندگی کے سارے نہ سہی بہت سے دکھوں کا مداوا ہیں اور اگر مداوا نہ بھی ہو تو اسے جھیلنے کے لیے ہمت تو آجاتی اس لیے دکھ جتنا مرضی بڑا ہو پیٹ بھر کھانا کھائیں چائے پئیں اور صبر کریں
عمر رسیدہ مس retweeted
BREAKING: Saudi Arabia's military says it intercepted a drone in the Mecca region
دنیا کے ہر مسئلے میں پہنچا ہوتا اور اپنے مسئلے حل نہیں ہوئے
سابق سینیٹر مشتاق احمد کی اہلیہ حمیرا طیبہ نے خلع لے لی ..
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ (فیملی کورٹ) نے جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد کی اہلیہ حمیرا طیبہ کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کر دی ہے۔
فیملی کورٹ کی جج عنبرین اقبال نے کیس کی سماعت کے بعد دونوں کے درمیان نکاح خلع کی بنیاد پر ختم کرنے کا باضابطہ حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
wenews.pk/news/527296/
مطلب کسی معاملے پر میاں بیوی کے دناغ نہ ملیں تو طلاق لے لیں تا کہ آپ کی آتما کو شانتی ملے؟
حد ہوگئی ویسے
ایک صوبے کی چیف منسٹر اور یہ حال ہے کہ اپنے خاوند کی جہالت کے باوجود اسے چھوڑ نہیں سکتی کیونکہ ہمارے ہاں مرد کی سب خامیوں کے باوجود طلاق کا دھبہ عورت کے ماتھے پر ہی کلنک بنتا ہے۔ ایک طاقتور خاتون کا یہ حال ہے تو سوچیے عام خواتین کے کیا حالات ہیں۔
@MaryamNSharif
عمر رسیدہ مس retweeted
Replying to @Miss3zero1
سو فیصد درست۔میں یہاں قریباً سب پاکستانی ریسٹورنٹ کے ٹرائی کر چکی ہوں کہیں بھی پسند نہیں آیا














