Daagh retweeted
خُدا کو خط لِکھو ، اُس کے خلیفہ سے ایک کام ہے
اُسے کہو کہ اپنی سائنس کے کرشمے سے مُسلمان پر دہشت گردی اور یہودی پر سازش کا الزام تھوڑی دیر کے لیئے ہٹا کر ، دور کہیں بہت دور ، انسانوں کی روٹی کے لیئے پھیلی جھولیوں کی قطاروں اور یہاں سے بامُراد لَوٹنے والوں کی ہنسی کو
۱/۲
Daagh retweeted
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دنیا میں جو چیز جتنی زیادہ حقیقت سے قریب ہوتی ہے، اتنی ہی زیادہ سہل اور دل نشین بھی ہوتی ہے۔ خود فطرت کا یہ حال ہے کہ کسی گوشے میں بھی الجھی ہوئی نہیں ہے۔ - الجھاؤ جس قدر بھی پیدا ہوتا ہے بناوٹ اور تکلف سے پیدا ہوتا ہے۔ +
Daagh retweeted
زندگی نام کا سراب دُور سے حسیں دِکھائی دیتا ہے مگر جُونہی آپ اسے قُربت کی نگاہ سے دیکھیں گے تو یہ بہت بھیانک نظر آئے گی۔ اس کو اتنا بسر کیا گیا ہے کہ اب اِس کے وحشت زدہ خدوخال دراڑوں سے اٹے پڑے ہیں۔یہ منظر دیکھنے کے بعد اپنا سب چُولہا چوکا اِس زندگی سے الگ کرنے کو جی چاہتا ہے
😢
Daagh retweeted
شاعری نہ ہوتی تو انسان جذباتی طور پر گونگا رہ جاتا ۔
#21march
Daagh retweeted
انسان کو جس ایجاد پر فخر ہونا چاہیے وہ کتاب ہے۔ ایک ساکت جلد اور اس میں جڑے صفحات لیکن جیسے ہی وہ کھلتی ہے ایک جامد شے زندہ ہو جاتی ہے۔ سینکڑوں ہزاروں سال پہلے کا انجان انسان آپ سے براہ راست مخاطب ہو جاتا ہے۔ ذہنی طور پر اس شے کا مشاہدہ کرتے ہیں جو شاید صفحہ ہستی سے ہی مٹ چکی ہو۔
Daagh retweeted
اب بُوئے گُل نہ بادِ صبا مانگتے ہیں لوگ
وہ حبس ہے کہ لُو کی دعا مانگتے ہیں لوگ
✍️جوشؔ ملیح آبادی
Daagh retweeted
نیتاؤ ! صاحبو ! اب بھی سمے ہے ، مذہب کے نام پر لگائی گئی یہ آگ بُجھ سکتی ہے۔ اب بھی کئی جُنید حفیظ رہا ہو سکتے ہیں ، اب بھی کئی مشال خان اور کئی پرانتھیا کُمارا بچائے جا سکتے ہیں۔ صرف اپنے شِکموں کی آگ (جو پچھلی سات دِہائیوں سے نہیں بُجھ رہی) ، بُجھا دو۔ بُجھا دو اور بچا لو۔
😢
Daagh retweeted
خوش وہ ہے جس کے واسطے دُنیا سراب ہے
اُس کی خوشی بھی کیا جو مُیسر سے خوش ہُوا ؟
جمال احسانیؔ
Daagh retweeted
تِرے خیال کے پہلُو سے اُٹھ کے جب دیکھا
مَہک رہا تھا زمانے میں چار سُو تِرا غم
مجید امجدؔ
Daagh retweeted
نظم : رواں تبصرہ
(میدانِ خیال سے براہِ راست)
جب خسروؔ کے دروازے پر دستک دی
تو پتہ چلا
کہ جب سے نجام الدینؔ گئے ہیں
خسروؔ اپنے گھر میں نہیں رہتے ہیں
سکتے میں رھتے ھیں
ان کو آنکھ لگانا تو کیا
آنکھ جھپکنا بھول گیا ھے
”سکھی پیا سے دور رہے تو کیسے اندھیری رتیاں کاٹے“
۱/۲۰
Daagh retweeted
یہ صدی احمقوں کی پذیرائی کی صدی ہے، اس دور میں اہلِ علم و فہم کا مقدر صرف اور صرف تنہائی ہے۔
Milan Kundera
Daagh retweeted
ہو تِری خیر خارِ راہِ حبیب
اے مرے صبر تیری عمر دراز
#سیماب_ظفر
Daagh retweeted
تم کیا شررِ عشق لیئے پھرتے ہو صاحب
اِس سے تو زیادہ پرِ پروانہ اُٹھا لے
آسان ہو جینے سے اگر جی کا اُٹھانا
ہر شخص تِرا عِشوۂ تُرکانہ اُٹھا لے
عرفان صدیقیؔ
Daagh retweeted
میں اِس شعر کی کیفیت سے نکلنے کی کوشش میں جُتا ہُوا ہوں مگر تاحال ناکام ہوں:
وہ جو کہیں رَہٹ پہ تھی جی کی مُہیب سائیں سائیں
اے دل اُسی فضا میں رو ، اے دِل اُسی ہوا میں رہ
اختر عُثمانؔ
Daagh retweeted
ایسا لگتا ہے کہ یہ عالمِ ہُو بولتا ہے
یہ میرا وہمِ سماعت ہے کہ تُو بولتا ہے
ضبط کی آخری منزل ہے خُدا خیر کرے
لب پہ وہ مُہر لگی ہے کہ لہوُ بولتا ہے
رحمان حفیظؔ












