ہم دنیا کے تمام ازموں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں
فیمن ازم ہو ، سوشل ازم ہو ، کیپیٹلزم ، لبرل ازم ہو ، نیشنل ازم ہو ، مارکس ازم ہو ، کیمونزم ہو ، سوشل ازم ہو یا کوئ اور ازم ہو
مسلہ ازم ہے جب انسان ان میں سے کسی کو بطور ازم یا عقیدہ بنا لے تو خرابی وہاں پیدا ہو جاتی ہے انسان کنواں کے مینڈک بن جاتا ہے اور وہ صیح غلط کی پہچان کے بجائے اپنے اپنے ازم کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے ازم کی عام تعریف تو نظریہ کی جاتی ہے مگر حقیقی معنوں میں یہ سخت گیر نظریہ ہوتا ہے اور سخت گیر نظریہ انسان کو انہتا پسندی کی طرف لے جاتا ہے
اسی لیے ہم اکثر کہتے ہیں اسلام کو بھی بطور اسلام لیں اسلام ازم نہ بنائیں
آپ آزاد ذہن ہو کر ان تمام نظریوں کو پڑھیں فیمنسٹ کا ہو ، کمیونسٹ کا ہو ، سوشل ازم ہو یا پھر لبرل ازم ہو مگر اب کو بطور ازم اپنائیں مت ورنہ آپ ایک انہتا پسند بن جائیں گے آپ جتنی کوشش کرتے رہیں دنیا کو دیکھانے کی آپ انہتا پسند نہیں ہیں یہ آپ کو بھی معلوم ہوگا آپ ہیں یہی وجہ ہیں آپ دیکھیں گے لبرل بھی غصے میں جو الفاظ استعمال کرتے ہیں یا فیمنسٹ کو دیکھ لیں یہی حال سرخوں یعنی کمیونسٹوں کا ہیں کیپیٹلزم والوں کا بھی یہی حال ہے تازہ مثالیں آپ کے سامنے نیشنل ازم والوں کی ہیں پاکستان میں تو اب بہت سے لوگ موجود ہیں
فیمنسٹ کے خلاف جو طرز گفتگو کپٹین صفدر نے اپنائی ہے وہ کسی صورت درست نہیں ہے
جب آپ فیمن ازم کے مقابلے میں مظبوط دلائل پر کھڑے ہیں تو بارازی زبان استعمال کرنے کی کیا ضرورت ہے یہی مسلہ ہمارے مذہبی طبقے کا بھی ہے وہ ایک فکری غلطی پر ایسی عورتوں کو بدکردار تصور کر لیتے ہیں آپ نے فیمنزم کی فکر کا بطور فکر مقابلہ کرنا ہے یا لوگوں کے کرادر کے سرٹیفکیٹ دینے ہیں ایسی حرکتیں کر کے آپ کے ہاتھوں میں مزید مواد دیتے ہیں مولویوں کی تو سمجھ بھی آتی ہے وہ بیچارے مدرسے سے مسجد تک محدود ہیں ان تحریکوں کی بنیاد اور محرکات سے ناواقف ہیں مگر پڑھا لکھا طبقہ بھی اگر بہتان بازی سے کام کرے گا تو آپ ان کی مدد ہی کر رہے ہیں مقابلہ نہیں کر رہے
اگر میرا جسم میری مرضی کا نعرہ واقعی خواتین کے حقوق کی بات ہے
تو بشری بی بی کیا عورت نہیں ہے عمران خان کی بہنیں عورتیں نہیں ہیں یاسمین راشد، عالیہ حمزہ عورتیں نہیں ہے ہزاروں عورتوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا وہ کیا تھی
خواتین کے حقوق کی بات کرنے والیاں یہاں عورتوں کے حقوق پر کیوں نہیں بولی
ان کی میڈیا میں ترجمانوں نے بشری بی بی کے خلاف جو غلیظ کمپین چلائی کیا وہ عورت نہیں تھی
آپ یہ کہہ رہی کے معمول بنا لے تو چھوڑ دیں بالکل یہ بہت اچھی تجویز ہے میں بھی اسی کے حق میں ہوں مگر بات وہی ہے کوئ چیز کرنے سے پہلے گراؤنڈ ریلٹی دیکھنی چاہیے مرد اگر چھوڑ دے تو اس معاشرے میں بچوں کا حل کیا ہوتا مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے وہ رل جاتے ہیں مرد چھوڑ کر دوسری شادی کر لے تو مرد ہی برا ہوتا اب وہ معاشرے کو یہ تھوڑی بتاتا پھرے گا کے میری بیوی مجھ سے جنسی تعلق نہیں بنانا چاہتی اس لیے چھوڑ دیا کیا آپ کی عورت اتنی خودمختار ہے کے وہ طلاق کے بعد اپنا گزر بسر کرے گی یا ماں باپ اور بھائ کے ذمے رہے گی اور گالیاں کھاتی رہے گی
دوسری بات آپ نے کہا وہاں شادی کے بغیر بچے پیدا ہوتے تھے اور مرد زمہ داری سے بھاگ جاتے تھے ایسا ہرگز نہیں ہے یہاں مسلہ یہ تھا کے بچوں کی پلاننگ نہیں تھی جنسی تعلق سے بچہ ہوگیا اب عورت کا مطالبہ ہوتا تھا وہ اسے گرائے گی اور یہ شادی شدہ جوڑوں کی بات تھی
جس وقت یہ تحریک چلی اس وقت تو مغرب میں شادی کے بغیر بچوں کی پیدائش کی شرح بمشکل دس فیصد تھی
اگلی بات آپ نے کہا بچہ پیدا عورت نہ کرنا تکلیف اس نے اٹھانی ہے بالکل ہم نے کب اس سے انکار کیا ہے مگر جس وقت عورت نکاح کا کنٹریکٹ کرتی ہے اس وقت اس کو یہ معلوم ہوتا جنسی تعلق بھی بنے گا بچے بھی ہوں گے تکلیف بھی ہوگی عورت اس وقت یہ بتا دیا کرے وہ یہ کام نہیں کرے گی مگر جب آپ کنٹریکٹ کر لیتے ہیں اس کے بعد کہنا کے میں یہ پورا نہیں کر سکتی قانونی طور پر بھی غلط ہے
آپ نے چونکہ اسلام کا حوالہ بھی دیا ہے تو اسلام نے عورت پر گھر کی زمہ داری اور بچوں کی تربیت ڈالی ہے مرد پر نان و نفقہ کی زمہ داری ڈالی ہے تو ایک مسلمان عورت اگر نکاح کر رہی تو اسے پتہ ہونا چاہیئے یہ سب چیز شادی کا حصہ ہیں
اگر شادی کے بعد جنسی تعلق بھی قائم نہیں کرنا بچے بھی پیدا نہیں کرنے تو شادی کس لیے کرنی ہے ؟
آپ کان ادھر سے پکڑیں یا ادھر سے ان تمام چیزوں سے واحد چیز جو برآمد ہوگی وہ یہی ہوگی کے خاندان باقی نہیں رہے گا
رہی بات پمز ہسپتال میں بچہ جل گیا لاش پڑی رہی تو مجھے اس کا علم نہیں تھا جب تک کسی کیس کا علم نہ ہو اس پر رائے نہ دینی چاہیے بہرحال بچہ جس کا بھی تھا اگر جان بوجھ کر ایسا کیا گیا ہے تو یہ ایک جرم ہے جرم مجرم یہ پوچھ کر جرم نہیں کرتا کے مظلوم کی غلطی کیا تھا اس نے جرم کرنا تھا کر دیا یہ ریاست کا کام ہے انصاف کرے
معمول بنالے تو چھوڑ دیں کسی اور سے شادی کرلیں۔ اسلام نے منع تو نہیں کیا آپکو کسی کو چھوڑنے سے؟ معمول تبھی بنےگا جب اُسکی مرضی نہیں ہوگی۔ جمیلہ بنت سلول نبی(ص) کے پاس آئیں اور کہا کہ مجھے اپنے شوہر کےکرداریااور کسی بات سے مسئلہ نہیں میں بس اْسکے ساتھ نہیں رہنا چاہتی(مجھے وہ شکل نہیں پسند) یا اس میں وہ اٹریکشن نہیں رہی تو نبی نے انکو اجازت دی کہ وہ اسکو چھوڑدیں۔اب اگر انسانی نسل بڑھانے کا سوچا جاتا تو وہ زیادہ اس بات کو سوچتے۔ لیکن انسانی نسل بڑھنے کی فکرہماری نہیں نہ خاندانی نظام(جوکہ ہمارےہاں رائج ہی غلط ہے) ہمارا مسئلہ ہے قرآن نےبھی کہیں ایموشنل اور مینٹل ہیلتھ کو نگلیکٹ نہیں کیا پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اس نعرے کو یہاں جوڑرہےہیں؟ دوسری بات کہ بچہ چونکہ عورت نے اپنے جسم سے پیداکرنا ہے تکلیف اٹھانی ہے لہذا اسکی مرضی کے بغیر پیدا کیسے ہوگا؟ باقی آپ نےجو اسقاط حمل کی بات کی وہ وہاں اسلئے تھا کہ شادیوں کےبغیر بچے پیدا کرکے جو ذمہ داری نہیں لیتے اس وجہ سے اسقاط حمل کی اجازت پر تحریک چلی۔ لیکن اسکا باقی اوپر کہی چیزوں سےکوئی تعلق نہیں۔باقی یہ کہ
پمزاسپتال کی آگ میں جل کرمرنےوالےبچوں میں سےایک کی لاش بہت دن پڑی رہی تھی پھر بس دفنا دی گئی اور وہ بچہ بہت عرصے سے نرسری میں لاوارث پڑا تھا کوئی پیدا کرکے چھوڑگیا تھا۔ میرا سوال ہے کیا اُس بچے کو پیدا ہونا چاہیے تھا؟
میرا جسم میری مرضی
فیمنسٹ کی اس تحریک کا نعرہ ہے جس کی ابتدا خاندان کے ادرے کے بعد شروع ہوتی ہے اور اس کا واحد مقصد خاندان کے ادرے کی تباہی تھا اور ہے
بعد میں اس میں بہت سی اور چیزیں بھی ایڈ ہوگی مگر ابتدا غلط تو آخر غلط شد
ہمارے معاشرے میں خواتین کے حوالے مسائل ہیں مگر معاشرے کی اپنی گراؤنڈ ریلٹی ہوتی ہے اگر مغرب میں جو اس تحریک نے خواتین کو حقوق دلوائے یہاں دلوائے گے تو اس کے بعد حالات کیا ہوں کچھ اندازہ ہے
پہلے اپنی بیٹیوں کو خود مختار بناؤ
میرا جسم میری مرضی
ایک تو وہ فیمنزم ہے مغرب والی ، خواتین اپنی نسوانی خوبصورتی کو کٹوا کر مرد بن رہی ہیں۔ زبان اور ناف میں اور پتہ نہیں کہاں کہاں سٹیل کی مرکیاں پھیر رکھی ہیں۔ ایل جی بی ٹی کیو پلس مائنس وغیرہ وغیرہ والا فیمنزم۔ موٹے سول والے کالے کالے اونچے اونچے جوتے ، سکاٹش سکرٹ ، پرپل رنگ کے بال بوائے کٹ اور جسم ٹیٹوز سے بھرا ہوا فیمنزم ۔ پھر اسکی اتنی جہتیں اور اتنی تفصیلات کہ انسان سمجھ نا پائے۔ یہ سب آپ کے معاشرے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اِس معاشرے کے لیے یہ کیسا ہے یہ آپ کا مسئلہ نہیں ہے۔
اب ایک ہے آپ کا معاشرہ ، جہاں پیدائش سے پہلے ہی تعصب شروع ہوجاتا ہے۔ الٹرا ساونڈ رپورٹ ہی چہرے چڑھا یا لٹکا دیتی ہے۔ ( آپ کے بابا نے کیا کیا یہ معاشرے کی عکاسی نہیں )۔ پھر پیدائش پر بیٹی کے لیےتسلیاں اور بیٹے کے لیے اور۔ پھر بیٹی کے لیے صرف تعلیم بیٹے کے لیے بہترین تعلیم۔ بیٹی کے لیے درس نظامی بیٹے کے لیے یونیورسٹی ۔ بیٹا چھبیس ستائیس کا بھی والدین پر بوجھ اور بیٹی پیدا ہوتے ہیں پرایا دھن اٹھارہ کی ہوتے ہی کسی کے کھاتے فٹ۔ اور درمیان میں پوری کوشش کرنی ہے کہ وراثت میں بھی حصہ نہ ملے۔
یہ معاشرے کی منفی تصویر ہے؟ ارے میاں یہ تو کچھ بھی نہیں۔ پانچ چھ سال کی بچی کو خطرہ ہے۔ دس گیارہ سال کی ہر لڑکی کو نامناسب دست درازیوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چودہ پندرہ کی اپنے جسم میں پیوست نگاہوں کا بوجھ اٹھاتی ہے۔ اسے ایک ایک آنکھ کی میل دکھائی دیتی ہے بس بولتی نہیں۔ اسکے رکشے کے ڈرائیور سے لیکر دفتر کے چپڑاسی تک ، اپنے کولیگ اور باس سے لیکر اپنے رشتہ داروں تک اس ایک ایک نظر دکھائی دیتی ہے۔ ارے میاں ابھی بھی بہت کم بتایا ہے۔ ماموں نے زیادتی کردی ، چچا نے زیادتی کردی ، تھانے شکایت کرنے گئی تھانیدار نے زیادتی کردی۔ پاس سے گزر گئی تو کہا میری دوست ہے۔ مسکرا کر گزر گئی تو کہا دیتی ہے۔ انگور کٹھے ہوئے تو کہا گشتی ہے۔ گستاخی معاف ، اس میں کہیں کچھ غلط ہو تو ٹوک دیجیے۔
ڈومیسٹک وائلنس الگ ، میریٹل ریپ الگ ، جی ہاں نکاح کے باوجود زبردستی جنسی تعلق زیادتی ہی کہلائے گا۔ پہلے تعلیم نہیں دی ، پھر جائیدار نہیں دی ، پھر اعتماد نہیں دیا ، جب ہر طرف سے دبا دی تو پھر کہا تم مجھے چھوڑو گی تو کس کے ٹکڑوں پر پلو گی یعنی مجبورکرکے باندھ لی۔ چخ چخ پخ پخ الگ اور دھمکیاں الگ ۔
زیادہ ہوگیا ؟ ہاں ، ہماری بیٹیاں برابر بھی ہیں ، پر اعتماد بھی ہیں ، بہت بڑی تعداد کی زندگیاں متوازن ہیں۔ وہ خوش ہیں۔ لیکن یہاں نشاندہی مسائل کی ہے۔ یہ مسائل ہیں اور انکی شرح خطرناک ہے۔ یہاں میرا جسم میری مرضی یہاں فیمنزم کا مطلب اعضاء کٹوا کر چمڑہ لٹکوا لینا نہیں ہے۔ یہاں فیمنزم کا مطلب برابری اور حقوق ہیں۔ یہاں میرا جسم میری مرضی کا مطلب میرے جسم کی بھوکے درندوں سے حفاظت ہے ، لالچ اور بہتان سے حفاظت ہے۔ ہاں کچھ ایسی طبقات فیمنزم کا چہرہ ضرور بن گئے جن کے یہ مسائل نہیں ہیں۔ لیکن آپ ان کی آڑ میں لاکھوں کروڑوں دیگر لوگوں کو اگنور مت کیجیے۔
میری بیٹی کی سوچ میری بیٹی کی مرضی۔ میری بیٹی کی وراثت میری بیٹی کی مرضی۔ میری بیٹی کی تعلیم میری بیٹی کی مرضی۔ میری بیٹی کی شادی میری بیٹی کی مرضی۔ میری بیٹی کا جسم میری بیٹی کی مرضی۔ اعلان ختم۔
دوسری بات اگر آپ کی یہ بات تسلیم کر لی بھی جائے کے my body my property مردوں نے لگایا تھا جس کے بعد عورتوں نے my body my choice کا نعرہ لگایا تب بھی ہم یہ بات نہیں کر رہے ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں مسلہ نعرہ نہیں اس کے پیچھے ایجنڈا ہے پاکستان میں میرا جسم میری مرضی کے نعرے کے پیچھے مزدورں کے حقوق نہیں فیمنسٹ کی تحریک ہے تو جس تحریک کا نام ہے اس تحریک کا ایجنڈا بھی تو وہی ہوگا جہاں سے شروع ہوئ تو یہ نیچے حوالہ موجود ہے اس تحریک کا ایجنڈا، جنسی تعلق میں خود مختاری، بچے پیدا کرنے کا فیصلہ اور اسقاط حمل کا فیصلہ اس کی بنیاد ہیں اور ہم اس کو خاندان کے ادرے کی تباہی سمجھتے ہیں اس لیے ہمارا اس نعرے سے اختلاف ہے
خواتین کو ابھی اور بہت سے حقوق نہیں ملے اس ملک میں وراثت کا حق ، تعیلم کا حق ، نوکری کا حق ، پسند کی شادی کا حق وغیرہ وہ دلوا دیں شادی کے بعد کے مسائل کا مقدمہ بعد میں لڑ لینا
آؤ بحث کریں😁
لیکن شروعات ہوگی آپکا جسم میری مرضی سے اوکے؟
نوٹ: اس میں پھر آپکے جسم کو نوچا جائے کاٹا جائے چھانٹا جائے یا دبوچا جائے آپ نے چپ رہنا ہے اوکے؟
دوسرا نوٹ: میرا جسم میری مرضی کا معرہ پہلی بار مردوں کیلئے استعمال ہواتھا نہ کہ عورتوں کیلئے وہ بھی اُسوقت جب مزارعوں کے حقوق کیلئے صنعتکاروں نے کھیل کھیلنا شروع کیاتھا۔ آپ اچھی طرح اسکو سرچ کرلیں اُسکے بعد اگلی بات کرتے ہیں۔ یہ نعرہ ہی مردوں سے شروع ہوا تھا۔سترہویں اٹھارویں صدی کی بات تھی یہ جبکہ جو حوالہ آپ مغرف کا دے رہے ہیں وہ تو ابھی 1969کی بات ہے۔
ہم نے کبھی یہ نہیں کہا میرا جسم اور کسی اور کی مرضی مسلہ نعرہ نہیں ہے ہر نعرہ اپنے پیچھے ایک ایجنڈا رکھتا ہے
آپ نے جو حوالہ دیا وہ نعرہ ہے
My body my property
مگر یہاں بات جس نعرے کی ہو رہی ہے وہ نعرہ ہے
My body my choice
اس نعرے کی ابتدا 1969 میں امریکہ سے ہوئ میسا چوسٹس میں ایک احتجاجی مظاہرہ تھا استقاط حمل کے حق کے لیے خواتین کا مطالبہ تھا انہیں حمل گرانے کا قانونی حق دیا جائے اس وقت پہلی دفعہ جو نعرہ لگا وہ It’s my body it should be my decision تھا اسی دہائ میں امریکہ میں استقاط حمل کی تحریک زور پکڑ رہی تھی 1978 میں وسکونسن میں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران یہ نعرہ بدل کر my body my choice ہوگیا اور اس کے بعد آج تک یہی ہے اس نعرے کے پیچھے بنیادی ایجنڈے تھے
1- اسقاط حمل کا حق
2- اسقاط حمل کے ذرائع تک رسائ
3- میاں بیوی کے درمیان جنسی تعلقات بیوی کی مرضی سے
4- بچے پیدا کرنے کا حق عورت کو ہو
ہمیں اس بیناد سے اعتراض ہے ہم کسی اور کے جسم پر اپنی مرضی تسلیم نہیں کروانا چاہتے ہیں
مسلہ یہ ہے اگر یہ ساری چیزیں مان لی جائیں تو گراؤنڈ ریلٹی یہی ہے خاندان کا ادرہ قائم نہیں رہ سکتا خاندان کا ادرہ ہمارے مذہب میں غیر معمولی حیثیت رکھتا ہے اور نسل انسانی کی بقا کا ضامن ہے اگر اس کو ختم کر دیا جائے تو نسل انسانی ختم ہو جائے گی آپ ان تمام بتاؤ کہ تصدیق کہیں سے بھی کر سکتی ہے
نوٹ : ان پوائنٹس میں سے میں بذات خود سمجھتا ہوں 3 نمبر کسی حد تک درست ہے مگر یہ ایک میاں اور بیوی کا ذاتی مسلہ ہے اگر بیوی کی کسی دن رضا مندی نہیں ہے تو زبردستی کرنا بالکل درست عمل نہیں ہے مگر اگر بیوی یہ معمول بنا لے تو شادی کیسے چلے
جنسی خواہش انسان کی فطرت میں رکھی گی ہے اگر بیوی معمول بنا لے گی تو مرد باہر منہ مارے گا یا دوسری شادی کرے گا پھر ہمارے لبرل دوست کہیں گے یہ عورت پر جبر ہے
باقی آپ بے فکر رہیں ہم کسی اور کے جسم پر کسی کی زبردستی چلنے کے حق میں نہیں ہیں
آؤ بحث کریں😁
لیکن شروعات ہوگی آپکا جسم میری مرضی سے اوکے؟
نوٹ: اس میں پھر آپکے جسم کو نوچا جائے کاٹا جائے چھانٹا جائے یا دبوچا جائے آپ نے چپ رہنا ہے اوکے؟
دوسرا نوٹ: میرا جسم میری مرضی کا معرہ پہلی بار مردوں کیلئے استعمال ہواتھا نہ کہ عورتوں کیلئے وہ بھی اُسوقت جب مزارعوں کے حقوق کیلئے صنعتکاروں نے کھیل کھیلنا شروع کیاتھا۔ آپ اچھی طرح اسکو سرچ کرلیں اُسکے بعد اگلی بات کرتے ہیں۔ یہ نعرہ ہی مردوں سے شروع ہوا تھا۔سترہویں اٹھارویں صدی کی بات تھی یہ جبکہ جو حوالہ آپ مغرف کا دے رہے ہیں وہ تو ابھی 1969کی بات ہے۔
اسٹبلشمنٹ خوش تھی کے پی ٹی آئی میں لڑائ شروع ہے ورکر ڈی ٹریک ہیں
28 ویں آئینی ترمیم کے حق میں پی ٹی آئی کے اندر ایک بڑا گروپ حمایت کر رہا ہے
عمران خان جیل میں ہیں بہینں قید ہے سب اچھا چل رہا
ایک سادہ سے مولوی احد خان نے ساری خوشی پر پانی پھیر دیا
پی ٹی آئی کے عسکری گروپ کی خواہشات پر بھی پانی پھیر دیا
کپٹن صفدر نے غلط بات کی ہے کینسر اللہ کی طرف بیماری ہے کسی کو بھی لگ سکتی ہے
مگر میرا جسم میری مرضی کی جو وضاحت آپ کر رہی وہ درست نہیں
My body my right کی مغرب میں تحریک کس بیناد پر چلی تھی کونسے حقوق تھے وہ اس سادہ ترجمے میں چھپ نہیں سکتے
حیدر آباد میں روڈ کی تعمیر کے بعد روڈ پر لگے کمبھوں کی وضاحت کے لیے وزیر اعلی مراد علی شاہ کا عجیب و غریب بیان
اخے کھمبوں کو ہٹائے بغیر روڈ تعمیر کرنا ہمارا ماسٹر پلان تھا ہم نے کنٹونمنٹ بورڈ سے لینڈ کے لیے رابط کیا پھر ہسکو کو کہا کھمبے ہٹائے جائیں مگر وفاقی ادرے ہماری سن ہی نہیں رہے تھے تو ہم نے فیصلہ کیا کھمبوں کو ہٹائے بغیر روڈ بنایا جائے تاکہ پریشر آئے اور یہ ہٹائیں ہم نے روڈ بنا دیا میڈیا اور سوشل میڈیا کا شکریہ جنہوں نے اس پر آواز اٹھائی اور آج بیس کھمبے ہسکو نے ہٹا دیے
اندازہ کریں اس شخص کو پڑھا لکھا وزیر اعلی کہا جاتا ہے اگر اس دوران کسی گاڑی کا کھمبے سے حادثہ ہو جاتا اور کوئ مر جاتا تو آپ کا ماسٹر پلان اس کی زندگی واپس لا سکتا تھا یہ مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا
اس سے اچھی وضاحت یہ ہو سکتی تھی ہم نے subways surfers گیم حقیقی زندگی میں کھیلنے کے لیے یہ روڈ بنایا ہے
ظالم درندے اس ملک پر قابض ہیں
نورین نیازی کے دل کا مسلہ بنا اور دو دن ہسپتال رکھنے کے بعد اب انہیں دوبارہ جیل منتقل کر دیا ہے
یہ کیسی ریاست ہے جو بزرگ بیمار عورتوں پر بھی رحم نہیں کرتی
ایسی ریاست کے بارے میں مولانا ٹھیک کہتا ہے میں ایسی ریاست پر تھوکتا ہوں
لگتا ہے امریکہ کی ثالثوں سے بس ہوگی ہے
خبر یہ ہے کے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذکرات بحالی کے لیے ڈائریکٹ ایران کی سپریم کونسل کے سیکرٹری جنرل محسن رضائی کو خط لکھا ہے
آگے سے ایران نے وہ خط آبنائے ہرمز میں پھینک دینا ہے اور کہنا ہے مذکرات تو اب تب ہوں گے جب اسلام آباد معاہدے پر عمل درآمد ہوگا
محسن رضائی تو ویسے ہی بڑا تتا بندہ ہے عراقچی یا مسعود پزشکیاں کو خط لکھتا تو اور بات تھی
مودی کا بھارت ترقی کر رہا ہے
بھارت میں انہتائی غربت کی شرح 2011 میں 27 فیصد پر تھی آج 2.6 فیصد پر آگی
عاصم منیر کا پاکستان
2021 میں انہتائی غربت کی شرح 21 فیصد تھی جو اب 7 فیصد اضافے کے ساتھ چار سالوں میں 29 پر پہنچ گی ہے
بھارت ترقی کے راستے پر گامزن ہے مودی جیسا بھی ہے وہ اپنے لوگوں کو اور ملک کو ترقی کی طرف لے کر جا رہا ہے
بھارت کا صرف ایک مسلہ ہے مذہبی انہتا پسندی جس دن بھارت سے یہ ختم ہوگی بھارت مزید ترقی کرے گا
بیرسٹر گوہر کے کام چیک کریں
مولانا فضل کو مشورے دے رہا کے وہ فوج کے خلاف کچھ الفاظ نہ کہتے تو بہتر تھا
مطلب یہ اتنے بے شرم ہیں اسٹبلشمنٹ ان کے لیڈر پر ظلم کر رہی بہنوں کو جیل میں ڈال رکھا
نورین نیازی ہسپتال میں پڑی ہے
وزیر اعلیٰ، صوبائی صدر ، اسپیکر غائب ہے
گورنر راج لگا کر ان کی حکومت ختم کی گی ہے
اور ان کے اپنے منہ سے چوں نہیں ہوتی اصل مجرموں کے خلاف کوئ اور بولے تو اسے کہہ رہے بول کر غلط کیا ہے
جب ہم کہتے ہیں تحریک انصاف کی موجودہ قیادت اسٹبلشمنٹ سے ملی ہوئی ہے مولانا نہیں تو ہمارے دوست ناراض ہوتے ہیں
خیر جو مولانا کو مشورے دے رہے کے ایسے بیان نہ دیں وہ عمران خان کے ٹویٹ کو کیسے ری ٹویٹ کر سکتے تھے اور یہ خوش ہیں کے عمران خان کی ملاقاتیں بند ہیں ورنہ اس کے ٹویٹ اور بیان پر ہم کیسے چلتے
گل نصیب خان کے گروپ کے بندے سے میری بات ہوئ ہے وہ کہہ رہے ہیں یہ اے ای ویڈیوز ہیں ویسے دیکھ کر تو پہلے ہی پتہ چل رہا تھا اے ای ہے
مولانا گل نصیب خان کے بڑے انکشاف...!
مولانا فضل الرحمٰن کا مکو ٹھپ دیا...! فرمایا کہ مولانا فضل الرحمن کے مدارس میں وہ وہ کام ہوتا ہے کہ آپ کے ہوش اڑ جائیں گے، مولانا کے مدارس میں ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کو پناہ دی جاتی ہے.
#دین_فروش_سیاستدان
#تمہاری_سیاست_پر_تھو
آپ جیسے ٹاؤٹ صحافیوں نے اسٹبلشمنٹ کے کہنے پر ان تمام شخصیات سے رابطے کیے ہیں
فرحان ورک نے پرانے بیانات اور اے آئ ویڈیوز بھی بنائ ہیں
مگر شیرانی گروپ کی طرف وضاحت آئ ہے وہ اسی لڑائ میں کسی کے ساتھ نہیں ہے ان کے نام سے جو ویڈیوز چلائ جا رہی ہیں وہ اے ای ہیں
مطلب ایلون مسک نے ایکس کو پورن ہب بنا دیا
اچھے اچھے لکھنے والوں کی ریچ ہزار دو ہزار اور پورن ہب چلانے والوں کے ویوز ملین میں کمال کرتے ہو پانڈے جی
Sex is a sin and masterbation is sin what should we do @grok when we feel horny
ایک ایسا ٹورنامنٹ جس کو کرکٹ کہنا بھی کرکٹ کی توہین ہے
اس میں ایک جیت پر محسن نقوی کے ٹٹے اٹھائے جا رہے
جیسے فائنل جیت لیا ہو مطلب کچھ بھی یہ پاکستان کا وزیراعظم ہے
Congratulations to our boys on a superb four-wicket victory over India in the opening clash of the Hong Kong Sixes 2026! It was a good game of cricket
I also commend Chairman PCB Mohsin Naqvi @MohsinnaqviC42 and his team for their dedicated efforts in preparing and supporting our players.
بکواس بند کرو عمران خان کو رہا کرو
Pakistan Army Spox. Lt Gen Ahmed Sharif Chaudhry:
We need to understand that there are powerful spoilers and detractors who somehow think that conflict, mayhem and violence serve them.
They somehow think that a global recession, economic pressure and hardship serve them.
It doesn't serve us. It doesn't serve the world at large. It doesn't even serve American citizens.










