Pinned Tweet
میں بھکاری بھی نہیں
میں بلیک میلر بھی نہیں
میں کشمیری ھوں
کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ، کشمیریوں کا حق ھے
مجھے کشمیریوں کا اور آنے والی نسل کا خون بہتے دیکھ کر تکلیف ھوتی ھے
بیگم جان بھی سینئر اور نمایاں ترین تھی۔
مگر ھم بیگم جان کو ایک منافق کدو سے ملا کر مزید رسوا کیوں کریں۔
جناب حامد میر صرف جیو نیوز ہی نہیں، پاکستان کے سینئر ترین اور نمایاں صحافیوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے خلاف چلائی جانے والی بے بنیاد مہم کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر۔
میرا حامد میر صاحب سے اختلاف ہو سکتا ہے، اور بعض معاملات میں ہے بھی، لیکن ان کے قد کاٹھ اور صحافتی مقام سے مجھے کبھی اختلاف نہیں رہا۔ اسی طرح آج تک میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو کہ انہوں نے اپنے منصب یا اثر و رسوخ کو کسی ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا ہو۔
ان کی صاحبزادی نے امریکہ سے صحافت کی ڈگری حاصل کی ہے اور وہ پیشہ ورانہ مہارت کی بھی حامل ہیں۔ ان کا کام دیکھ لیجیے تو اندازہ ہو جائے گا کہ اتنی کم عمری میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کے بل پر کتنا اچھا کام کیا ہے۔
میرا اس بچی سے تعارف بنگلہ دیش میں ان کے صحافتی کام کے ذریعے ہوا۔ اس وقت مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ کس کی صاحبزادی ہیں۔ انہوں نے بھی اپنا تعارف کرواتے ہوئے اپنے والد کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ مجھے اس بات کا علم اس وقت ہوا جب وہ ڈھاکہ سے جا چکی تھیں۔ خدا سب کو ایسی بیٹیاں عطا کرے، جو اپنی شناخت اپنے کام، قابلیت اور کردار سے بنائیں۔
حیرت ان لوگوں پر ہوتی ہے جو کسی کے خلاف محاذ آرائی میں اس کے بچوں تک کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتے۔ اختلاف اور مخالفت اپنی جگہ، مگر اخلاقی حدود سے گر کر کسی کے خاندان کو نشانہ بنانا انسانیت اور شائستگی سے عاری رویہ ہے۔
اختلاف کا حق سب کو ہے، مگر کسی کی تضحیک اور اس کے اہل خانہ کو نشانہ بنانے کا حق کسی کو نہیں۔
PDM chief announces sit-in outside Supreme Court - Pakistan - Business Recorder share.google/XlV6yXWsNyK8vux…
مولانا کو اپنی زمین اور حدود کا اندازہ ھے
میں نے آج تک کسی مولوی کو ،دیگ الٹتے نہیں دیکھا۔
انہونی کو کون روک سکا ھے
مگر، ایسا ھوا نہیں
یہ سب بازو گزشتہ20سال میں آزما لئیے
مولانا اچکزئی کو کہے کہ میری سیٹ واپس کر دو😊
اور جس سیٹ سے جیت کر اسمبلی میں پہنچا ھے، اسکا پردہ ہی اٹھائے
That is progress.
Keep going.
🚨 Code Blue & Code Red Protocols in Punjab’s Public Sector Hospitals
To ensure timely emergency response and better patient safety, Code Blue and Code Red protocols are being implemented in public sector hospitals across Punjab.
🔵 Code Blue: Rapid response to cardiac or respiratory arrest and other life-threatening emergencies.
🔴 Code Red: Emergency response to fire and related safety threats, helping protect patients, healthcare staff, and hospital facilities.
Every second counts in an emergency. These protocols aim to strengthen preparedness, improve coordination, and ensure a swift response when lives are at risk.
Every life is precious. Every second matters. Every patient deserves timely and quality care.
Kyzer Galal retweeted
🚨 Code Blue & Code Red Protocols in Punjab’s Public Sector Hospitals
To ensure timely emergency response and better patient safety, Code Blue and Code Red protocols are being implemented in public sector hospitals across Punjab.
🔵 Code Blue: Rapid response to cardiac or respiratory arrest and other life-threatening emergencies.
🔴 Code Red: Emergency response to fire and related safety threats, helping protect patients, healthcare staff, and hospital facilities.
Every second counts in an emergency. These protocols aim to strengthen preparedness, improve coordination, and ensure a swift response when lives are at risk.
Every life is precious. Every second matters. Every patient deserves timely and quality care.
کچھ دن قبل، سرخیل جمہوریت اچکزئی صاحب
کھجور کے درخت پر چڑھ گئے تھے
اور وزیراعظم سے بات چیت کرنے سے انکاری۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام کی اکثریت چ ھوتی ھے
مگر اچکزئی صاب کا تخمینہ کچھ زیادہ ھے اس بابت۔
"ہم الزام نہیں لگا رہے، لیکن جب آپ سے بات کی جاتی ہے تو آپ گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ وہاں سے حنیف بھائی غصہ کرنے لگتے ہیں، آخر یہ کیا ہو رہا ہے؟
اب بھی وقت ہے۔ پیپلز پارٹی بھی سن رہی ہے اور آپ بھی سن رہے ہیں، اب بھی وقت ہے کہ اس پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنائیں۔
آپ کو کیا سپورٹ چاہیے؟
ووٹ؟
ہمارے تمام ووٹ آپ کے لیے ہیں۔
ہم سب آپ کو ووٹ دیں گے۔
مولانا فضل الرحمان آپ کو ووٹ دیں گے،
تحریک انصاف آپ کو ووٹ دے گی،
ہمارے تمام ساتھی آپ کو ووٹ دیں گے۔
آئیں،
1-اس پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنائیں۔
چیکوسلواکیہ کی طرح بیٹھ کر اس کا حساب کریں۔"
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
لوکآں دے بچے مروآنآ آسان اے
یا آپنی پنشن بچانا۔۔۔۔۔
Aslamalaikam, friends and Others.
I had taken leave from fb , X and WhatsApp gps for the month of October. Had no intentions to return earlier , but few misleading posts were circulating about stoppage of my pension and other privileges, that need to be clarified. My pension was never stopped . Most of my privileges were restored a long time back .
My efforts to remove misunderstandings between a political party and establishment will continue for the sake of creating a congenial political environment in the Country. Without this rapprochement and reconciliation, we may not be able to move forward.
International and regional environments are offering a great opportunity for possibly an upward leap. Thanks to our successful military diplomacy .
But in my assessment this great moment can only be clenched if we create internal harmony . And that requires political justice, peace , system reset and economic recovery. Good relations with neighbouring countries will also help
Only a properly elected legitimate government (that reflects aspirations of the people) and establishment combined may bring about far reaching and meaningful changes in the Political and Governance System, that no doubt has collapsed.
Any other modality of bringing about profound changes in the Governance Structure will either fail or will be annulled by future Parliament and Judiciary, whenever they establish their feet on ground.
SO WHY NOT GO FOR A PERMANENT BUT LEGITIMATE SOLUTION ? And every one knows what does that entail :
Political Reconciliation
Fair and Free Elections
Maybe a Hybrid System but led by Legitimate Political Set up. Whole of the Nation Approach.
Can we overcome our rigidity and bitterness for the sake of hapless poverty stricken masses , and make this Country great , that it richly deserves ??
I am asking all the entities involved 🌹Stronger your base, more responsibility you must shoulder for making peace.
Regards
Naeem Lodhi
29 Oct 2027
مولانا کیس اور کی دیگ پر دعا نہیں پڑھتا۔
کل کی ہوائی فائرنگ بھی، توجہ دلائو نوٹس تھا۔
خواجہ آصف کو خواہ مخواہ جگت بازی میں لے آئے
آج پھر خواجہ کی پسندیدہ پچ پر، اپنی اور اجداد کی مٹی برابر کروا دی۔
اپنے حصے کا جھگڑا ھے
Replying to @drque71
کیا پتا مولانا کو ہلا شیری زرداری اور شریفوں سے ہی ملی ہو
دونوں بڑی جماعتیں خاکیوں سے تنگ ہیں بالخصوص صوبوں والے معاملے پہ
People dont realise the subtleties and fissures.
The J&K team these days hardly has 3-4 Kashmiri players in the playing 11. But in the current match, they have played just two players from Kashmir. Both these players scored hundreds and contributed 222 runs out of the 288 JK batters scored. The nine from jammu scored 66.
Are Kashmiri players getting deliberately sidelined? We have even seen them having to play for other teams, which are btw much stronger than JK and yet they get picked there, but not in the mediocre JK xi.
What’s really going on?
Extremely painful to watch.
People dont realise that once established status-quo is disturbed, outcome is beyond anybodies control and imagination.
له «افغانستان زنده باد» څخه تر «له افغانستانه ژوندی فرار» پورې؛ د یوه ملت د ماتېدونکو هیلو دردناک مستند داستان!
الله دې پر دغو ټولو ځوانانو رحم وکړي. دا هم د کومې مور زامن دي، د کوم پلار د زړه ټوټې، د کومې خور یوازیني ورونه، د کومې ځوانې مېرمنې خاوند او د کومو کوچنیو ماشومانو پلرونه دي.
له خپل وطنه د مرګ او ژوند په خطرناکو لارو تېرېدل او په پردیو هېوادونو کې د پناه په لټه کې کېدل، یوازې د کډوالۍ کیسه نه ده؛ دا د یوه ملت د اوږدې بېوسۍ، ناامنۍ او ناهیلۍ دردناک انځور دی. دا غم څو لسیزې دوام لري، خو په وروستیو کلونو کې یې درد او اندازه بیحده زیاته شوې .
کله چې پر یوه ملت د ډلهییزې ناهیلۍ سیوری خپور شي، خلک یوازې له وطنه نه وځي؛ له خپلو هیلو، خوبونو او راتلونکي سره هم مخه ښه کوي.
وطن هغه وخت خپل اولادونه له لاسه ورکوي چې هغوی پکې د ژوند، عزت او راتلونکي هیله له لاسه ورکړي.
xitter.gq/waisbarakzai/status/21…
مولانا کو شاید ماحول کا اندازہ نہیں
اندازہ ھے تو شاید، مہم جوئی یا زبان درازی کا شوق سوجھا۔
اب زبانی میچ شروع ھو گیا ھے
اور بڑے لڑکے میدان میں آ گئے ھیں
تو بات مولانا کی زبان سے آگئے کی ھے۔
ملک ریاض نے بھی دسترخوان اور مسجدیں بنوائی۔
ھمارا مسئلہ حامد میر کی صحافیانہ منافقت اور جھوٹ اور ابن الوقتی کا پرچار ھے۔
اپنی ذاتی زندگی میں وہ قرآن پاک اپنے کپڑوں پر لکھوا کر پہن لے۔
ھمارا اس سے کیا لینا۔
منافق ھے حامد میر
جھوٹا ھے
اور منافقین کا سردار ھے
حامد میر صاحب @HamidMirPAK نے ایک شہید صحافی کے بچوں کی تعلیم کا مکمل خرچ برداشت کیا بلکہ ان بچوں کے باپ کی طرح ان پرورش کی ۔ دو ماہ پہلے اس شہید کے ایک بچے نے برطانیہ کی یونیورسٹی سے اپنی ڈگری لی اور میر صاحب خود اس کی تقریب میں گئے۔ سکول ٹائم میں اس بچے کا گارڈین میں تھا کیونکہ اس کا داخلہ میر صاحب کے کہنے پر میں نے کروایا تھا ، اس کی فیس باقاعدگی کے ساتھ میر صاحب دیتے رہے ۔ میں بھی کبھی یہ بات نہ کہتا کیونکہ انہوں نے مجھے بھی سختی سے روکا ہوا تھا۔ ممکن ہے کہ مجھے یہ ٹویٹ ڈلیٹ کرنی پڑے تاہم یہ لکھنا بھی ضروری تھا۔ اور بھی کئی واقعات ہیں ۔ اختلاف کرنا آپ کا حق ہے لیکن بد تمیزی اور پست گفتگو کا حق کسی کو حاصل نہیں ۔
50 روپے اس ٹوئیٹ کے کاٹے جائیں
جناب حامد میر صرف جیو نیوز ہی نہیں، پاکستان کے سینئر ترین اور نمایاں صحافیوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے خلاف چلائی جانے والی بے بنیاد مہم کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر۔
میرا حامد میر صاحب سے اختلاف ہو سکتا ہے، اور بعض معاملات میں ہے بھی، لیکن ان کے قد کاٹھ اور صحافتی مقام سے مجھے کبھی اختلاف نہیں رہا۔ اسی طرح آج تک میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو کہ انہوں نے اپنے منصب یا اثر و رسوخ کو کسی ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا ہو۔
ان کی صاحبزادی نے امریکہ سے صحافت کی ڈگری حاصل کی ہے اور وہ پیشہ ورانہ مہارت کی بھی حامل ہیں۔ ان کا کام دیکھ لیجیے تو اندازہ ہو جائے گا کہ اتنی کم عمری میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کے بل پر کتنا اچھا کام کیا ہے۔
میرا اس بچی سے تعارف بنگلہ دیش میں ان کے صحافتی کام کے ذریعے ہوا۔ اس وقت مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ کس کی صاحبزادی ہیں۔ انہوں نے بھی اپنا تعارف کرواتے ہوئے اپنے والد کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ مجھے اس بات کا علم اس وقت ہوا جب وہ ڈھاکہ سے جا چکی تھیں۔ خدا سب کو ایسی بیٹیاں عطا کرے، جو اپنی شناخت اپنے کام، قابلیت اور کردار سے بنائیں۔
حیرت ان لوگوں پر ہوتی ہے جو کسی کے خلاف محاذ آرائی میں اس کے بچوں تک کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتے۔ اختلاف اور مخالفت اپنی جگہ، مگر اخلاقی حدود سے گر کر کسی کے خاندان کو نشانہ بنانا انسانیت اور شائستگی سے عاری رویہ ہے۔
اختلاف کا حق سب کو ہے، مگر کسی کی تضحیک اور اس کے اہل خانہ کو نشانہ بنانے کا حق کسی کو نہیں۔















