Azhar Syed retweeted
جناب شہبازشریف/مریم نواز !
ایمپیک اسٹریٹیجیز کی رپورٹ کےمطابق کیڑوں کی مزاحمت اورپانی کی قلت کپاس کی پیداوار کوشدیدمتاثرکررہی۔ تحقیقی اداروں کوفوری فعال کرناہوگاکیونکہ معیشت میں کپاس کومرکزی حیثیت حاصل ہے.
AN URGENT ACTION REQUIRED ! 🙏
@CMShehbaz @MaryamNSharif
@SMAshiqHussain
Azhar Syed retweeted
آصف علی زرداری، صرف ایک سیاستدان نہیں، ایک باپ بھی تھے۔ مگر نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف نے اُن سے وہ وقت چھین لیا !! جو ایک باپ اپنی اولاد کے ساتھ ہنسی خوشی گزار سکتا تھا۔ وہ ننھے قدم، جو کبھی ان کی چھاتی پر چڑھ کر "ابو ابو" کہتے ہوئے قہقہے لگاتے، وہ کبھی ان کی بانہوں میں نہیں سمٹ سکے۔ وہ لمحے، جن میں ایک باپ بچے کو گود میں اٹھا کر دنیا جہاں کی تھکن بھول جاتا ہے، اُن کے نصیب میں نہ تھے۔
مگر اب... وقت نے ایک اور روپ دکھایا ہے۔
اب وہ نانا ہیں، اور ان کے نواسے ان کی گود میں ہیں۔ وہی گود، جو برسوں خالی رہی، اب معصوم ہنسیوں سے بھر گئی ہے۔ وہی دل، جو کسی زمانے میں تڑپتا رہا، اب ان ننے ننے ہاتھوں کی چھوٹی چھوٹی گرفت میں تسکین پاتا ہے۔ وہ اپنے نواسوں کو گود میں اٹھاتے ہیں، ان سے کھیلتے ہیں، اور ہر قہقہے میں اپنے بچوں کی کھوئی ہوئی ہنسی تلاش کرتے ہیں۔
@BakhtawarBZ @BBhuttoZardari @AseefaBZ @AAliZardari – at Punjab, Pakistan
ایک باپ کی حسرت،،،، ایک نانا کی تسکین...۔۔
وہ لمحے جو ایک باپ کو اپنے بچوں کی معصوم ہنسی، ننھے ہاتھوں کی گرفت، اور نرم گود کی حرارت دے سکتے تھے، وہ لمحے زنجیروں میں جکڑے ہوئے جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزر گئے۔ گیارہ برس—نہ صرف ایک انسان کی زندگی، بلکہ ایک باپ کے احساسات، جذبات، اور خواہشات کا قیمتی خزانہ—خاموش دیواروں کے سائے میں دفن ہو گئے۔
اصف علی زرداری، صرف ایک سیاستدان نہیں، ایک باپ بھی تھے۔ مگر نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف نے اُن سے وہ وقت چھین لیا !! جو ایک باپ اپنی اولاد کے ساتھ ہنسی خوشی گزار سکتا تھا۔ وہ ننھے قدم، جو کبھی ان کی چھاتی پر چڑھ کر "ابو ابو" کہتے ہوئے قہقہے لگاتے، وہ کبھی ان کی بانہوں میں نہیں سمٹ سکے۔ وہ لمحے، جن میں ایک باپ بچے کو گود میں اٹھا کر دنیا جہاں کی تھکن بھول جاتا ہے، اُن کے نصیب میں نہ تھے۔
مگر اب... وقت نے ایک اور روپ دکھایا ہے۔
اب وہ نانا ہیں، اور ان کے نواسے ان کی گود میں ہیں۔ وہی گود، جو برسوں خالی رہی، اب معصوم ہنسیوں سے بھر گئی ہے۔ وہی دل، جو کسی زمانے میں تڑپتا رہا، اب ان ننے ننے ہاتھوں کی چھوٹی چھوٹی گرفت میں تسکین پاتا ہے۔ وہ اپنے نواسوں کو گود میں اٹھاتے ہیں، ان سے کھیلتے ہیں، اور ہر قہقہے میں اپنے بچوں کی کھوئی ہوئی ہنسی تلاش کرتے ہیں۔
تو پھر یہ تنقید کیسی؟
یہ صرف ایک نانا نہیں، ایک باپ کی روح کی پکار ہے—ایک ایسی خوشی، جس کے اندر برسوں کی ادھوری محبت، رکی ہوئی سانسیں، اور بےبس دعائیں شامل ہیں۔ وہ اپنے نواسوں کے ساتھ وقت گزار کر، اپنے ماضی کے زخموں پر مرہم رکھ رہے ہیں۔
یہ لمحے اُن کے لیے نہیں، جو صرف دیکھتے ہیں۔ یہ لمحے اُن کے لیے ہیں، جو محسوس کر سکتے ہیں۔
# میرا ایک خیال،جو پوسٹر بنا اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی پسند بن گیا۔ (1997,1998) #
👇
Azhar Syed retweeted
ماؤں کی فریاد سے اقوام متحدہ اور ایوانوں میں انصاف کی گونج تک
جو ڈری نہیں جو جھُکی نہیں 🫡✊
کل سے میرا دل خوشی اور سکون سے بھرا ہوا ہے، کیونکہ قدرت کا انصاف ہوتا نظر آ رہا ہے۔ وہ سفر جو ہم نے جون 2024 میں “ماؤں کی فریاد” کے نام سے بلاسفیمی وکٹمز کی فیملیز کے ساتھ شروع کیا تھا، آج ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکا ہے۔
تب ہمیں نہیں معلوم تھا کہ بند کمروں میں ہونے والے ظلم کو دنیا تک کیسے پہنچائیں؟ کیسے لوگوں کو سمجھائیں کہ جب ظلم کرنے والا خود کو دین کا ٹھیکیدار کہتا ہو اور اسی دینداری کی آڑ میں دین فروشی کا دھندہ کرتا ہو؟ کیسے بے گناہ انسانوں کی جانیں لیتا ہو، توہینِ مذہب کے قانون کو ہتھیار بنا کر معصوم غیر مسلموں کے ساتھ ساتھ کلمہ گو حافظِ قرآن نوجوانوں پر بھی ظلم ڈھاتا ہو؟ ماؤں اور بہنوں کو ڈراتا، دھمکاتا اور ہنی ٹریپنگ پر مجبور کرتا ہو؟ جو “گستاخ کی سزا، سر تن سے جدا” جیسے گھڑے ہوئے نعرے کو طاقت اور مالی فائدے کے لیے استعمال کرتا ہو؟
(یہاں ایک اہم وضاحت بھی ضروری ہے:
“گستاخ کی سزا،سر تن سے جدا” جیسا نعرہ یا روایت اسلامی تاریخ کا حصہ نہیں ہے بلکہ ایک من گھڑت، جذباتی، اور شدت پسندی پر مبنی بیانیہ کے سوائے کُچھ نہیں جیسی دین فروش استعمال کرتے آئے ہیں )
لیکن پھر، ان مظلوم ماؤں اور بہنوں نے ہمت کی—وہی مائیں جو کبھی چار دیواری سے باہر کی دنیا سے بھی واقف نہ تھیں، انہوں نے میدان میں قدم رکھا۔ وہ اپنے بیٹوں اور بھائیوں پر ہونے والے ظلم کو دنیا تک پہنچانے کے لیے ٹوئٹر اسپیسز پر آئیں، جہاں ان کے نوحے اور سسکیاں عرش تک ہلا گئیں۔
یہ بہادر، باہمت خواتین یہاں نہیں رکیں۔ انہوں نے دھمکیوں کے باوجود کیمروں کے سامنے اپنے چہرے دکھائے، آواز بلند کی، پریس کانفرنسز کیں، میڈیا پر آئیں، حق و سچ کی گواہی دی—اور آج، ان کی یہی آوازیں ایوانوں تک پہنچ چکی ہیں۔ اللہ کا انصاف منصف کی زبان سے بولا اور عدالت نے فیصلہ دیا کہ کیس کی کارروائی براہِ راست عوام کے سامنے نشر کی جائے گی۔ اب پوری دنیا دیکھے گی کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کون بول رہا تھا؟
یہ پیغام صرف انصاف کی جیت کا اعلان نہیں، بلکہ ایک سبق بھی ہے:
کبھی خود کو اکیلا یا کمزور سمجھ کر ظالم کے آگے خاموش مت رہو۔ ظلم سہنا بھی ظالم کو طاقتور بناتا ہے۔ اللہ اُن کی مدد کرتا ہے جو اپنے حق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، چاہے سامنے فرعون ہو یا یزید۔
میری طرف سے “صنفِ آہن” کو سلام، جنہیں “صنفِ نازک” کہہ کر کمزور بنانے کی کوشش کی گئی، لیکن انہوں نے ثابت کر دیا کہ اصل جیت ڈر کو ہرا کر ہوتی ہے!🫡
✍ تحریر: سونیا خان خٹک
@VictimsofB_Gang
@AdvHadiali
@AdvUsmanWaraich
@AzazSyed
@AzharSyed98
@ImaanZHazir
@theRealYLH
@JamilMaqsood1
@FarazPervaiz3
@shazibutt5
@IHumanRightsC
@nchrofficial
@UNHumanRights
ایک ضروری اطلاع!
۔۔۔
جو بھی دل رکھنے والے خواتین و حضرات ہیں اس انفورمیشن کو غور سے پڑھیے اور آگے بھی شئر کریں ۔ اس میں آپ جان سکیں گے کہ کس طرح بلاسفی لاءکو اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا۔
راؤ عبدل الرحیم نامی شخص جو چئر پرسن ہے بلاسفی کمیشن پاکستان کا جس کو طاہر اشرفی چئیرمین آف پاکستان عُلمہ کونسل کی سرپستی حاصل ہے ۔ عبدل الرحیم اپنے دفتر کو ٹارچر سیل کی طرح استعمال کرتا ہے اور مختلف نوجوان لڑکے کڑکیوں کو سوشل میڈیا سے ٹریپ کر کے بُلایا جاتا ہے ۳۰ ٹیم ممبرز کا استعمال کر کے۔ اور نہیں سو کالڈ بلاسفی میں پھنسا کر تشدت کا نشانہ بنایا جاتا ہے لوگوں میں دہشت پھیلانے اور معاشرے میں اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے۔
۵۰۰ بچے جن کی عمر ۱۶ سال سے ۳۰ سال کے بیچ ہے اُن کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ ۲۰۱۶ میں گرفتار کر کے ان پر
۱۶-PICA/ ہیٹ سپیچ
۲۹۵ -اے /توہینِ مذہب
۲۹۵-بی / عمر قید
۲۹۵-سی /سزائے موت
۱۱-PICA /ہیٹ سپیچ۷ سال قید
لگا دی گئی ایک سٹینڈر ایف آئی آر کاٹ کر۔ اور ان تمام کیسیز کے گواہ گھوم ہھر کر راؤ کی ٹیم کے بندے ہیں ۔اس راؤ کا تعلق وہاڑی سے ہے اور یہ اسلام آبادجی - ۸ اپنا گھناؤنا دھندہ چلاتا ہے ۔
کُچھ دن پہلے جیل میں ایک بچے کی تشدد کے نےیجے میں موت واقع ہو گئی ہے کُچھ بچے قومہ میں ہیں اوراکثریت بچوں کی ٹروما اور پینک اٹیکس کی وجہ سے دماغی توازن کھو رہے ہیں ۔ ایک سیل میں دس دس بچے ڈال گئے ہیں اور ان سب کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ۔
آپ سے گُذارش ہے شئر کردہ پوسٹ میں تفصیلی معلومات موجود ہیں جس میں ان ٹی ایل پی دہشت گرد گروپ کے معاون گروہ کی ساری داستان رقم ہے۔اس کے لیے ہمیں ہر پلیٹ فارم پر آواز بُلند کرنی ہو گی ۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون کو سلمان تاثیر نے کالا کہا تھا جس کی گواہی میں وقت ایک کالی سیاہ تاریخ لکھ رہا ہے ۔🙏
Azhar Syed retweeted
اسلام آباد کے شہری محتاط رہیں بیورلے سنٹر کے قریب PSO کاZOOM پٹرول پمپ شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے آج دن کو دو بجے میں نے پٹرول کی ٹینکی فل کروائی تو انہوں نے 51 لٹر کی رسید تھما دی 45 لٹر کی ٹینکی میں دس لٹر سے زیادہ پٹرول پہلے سے موجود تھا جس پر منیجر سے شکائیت کی گئی اس نے شکائیت رد کرکے کہاکہ پٹرول گاڑی سے نکلواکر چیک کرتے ہیں انہوں نے گاڑی سے پٹرول نکال کر بتایا کہ 55 لٹر پٹرول نکلا ہے میں نے کہا کہ پانچ لٹر ڈالیں جو کہ 5 کے بجائے 3 لٹر نکلا اس کے بعد میں اس کے قریباٹک کے پمپ گیا جہاں 42 لٹر پٹرول ٹینکی بھرا گیا PSO Zoom پمپ کے منیجر نے اپنی چوری کا اعتراف کرتے ہوئے بقایا پیسے ادا کرنے کی پیش کش کی میں نے کہا کہ میں OGRA اور DCآفس سے رابطہ کرنگا 35 لٹر کی جگہ 51 لٹر ڈالنے والے پمپ کو کھلے عام چوری پر ادارے کیوں خاموش ہیں ابھی چوری شدہ رقم اس کے پاس ہیں
#PetrolTheftinCapital @dcislamabad @DrMusadikMalik @CMShehbaz @ShahidMaitla @Tariq_aziz99 @RandhawaAli @ICT_Police
Azhar Syed retweeted
اج یہ کوڈ میں نے ملایا تو پتا لگا میرے اٹھ پیکج لگے ہوئے تھے جو میں نے کبھی لگائے ہی نہیں تھے۔
جاز والوں نے صحیح لٹ مچا رکھی ہے۔
جاز صارفین اپنے نمبر سے #6611 *
ملا کر غیر ضروری پیکیجز ختم کرلیں جن کا ہمیں علم بھی نہیں اور بیلنس کا ضیاع ہے#6611*
ملا کر ایک منتخب کریں اور پیکج لسٹ چیک کریں۔
پھر دوبارہ تین ملا کر ان غیر ضروری پیکیجز کو ختم کریں۔
@jazzpk
Azhar Syed retweeted
انار کے چھلکوں کے حیران کن فوائد
تمام دوستوں کو سلام
انار کے بہت زیادہ فوائد ہیں، لیکن دکھ بھی ہوتا ھے، جب لوگ انار کھا کر اسکے چھلکے ضائع کرکے کچرے میں پھینک دیتے ہیں
کچھ پھل سبزیا ں ایسی ہیں جو اپنے گو دے کیساتھ چھلکو ں میں بھی فو ائد کا ذخیر ہ رکھتی ہیں اوران چھلکوں کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ شفا ایک ایسی غرض ہے جو گودے سے ہو یا چھلکو ں سے ہمیں صحت مندی سے تعلق ہوتا ہے۔ بہت سارے پھلوں کے چھلکوں کی طرح انار کے چھلکے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
ماہرین غذائیات کا کہنا ہے کہ انار کے چھلکے میں متعدد اقسام کے غذائی اجزاء وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، جن کے حصول کا بہترین طریقہ انار کی چائے ہے۔ یہ چائے انار کے سوکھے چھلکے کے سفوف سے بنتی ہے۔
یہ سفوف بنانے کے لئے آپ انار کے چھلکے صاف پانی سے اچھی طرح دھونے کے بعد دھوپ میں رکھ کر خشک کر لیں۔ خشک ہونے کے بعد ان چھلکوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑ لیں۔ آپ انہیں پیس سکتے ہیں، یا بلینڈر یا کافی گرائینڈر میں ڈال کر بھی ان کا سفوف بنا سکتے ہیں۔
اس سفوف کو آپ عام کافی پاؤڈر کی طرح بوتل میں ڈال کر فریج میں محفوظ کر سکتے ہیں ۔
چائے بنانے کے لئے ایک کپ پانی میں ایک چمچ انار کے چھلکے کا پاؤڈر ڈالیں۔ اسے چند منٹ تک ابالیں اور پھر چھان لیں۔ آپ اس چائے میں لیموں کا رس اور شہد بھی شامل کر سکتے ہیں۔
اس قدرتی چائے کا ذائقہ بہت ہی لاجواب ہوتاہے اور صحت کے فوائد الگ ہیں۔ یہ چائے آپ کے نظام انہضام کو درست کر دیتی ہے لہٰذا قبض اور بدہضمی سے پریشان لوگوں کو اس کا استعمال ضرور کرنا چاہئیے۔
یہ دل کی بیماری کے خدشے کو کم کرتی ہے، جلد کو ترو تازہ کرتی ہے، دوران خون کو بہتر کرتی ہے ، اور حتیٰ کہ کینسر جیسی موذی بیماری سے تحفظ میں بھی مدد گار ثابت ہوتی ہے۔
انار کے چھلکوں کے دیگر فوائد:
*کثر ت پیشا ب کے لیے*
کثرت پیشاب کے لیے ایک انار کا چھلکا دھوپ میں رکھ کر سکھا لیں۔ اب اس کو باریک پیس لیں اور چھ ماشہ پانی کے ساتھ روزانہ استعمال کریں۔ مثانے کی گرمی اور پیشاب کا بار بار آنے کا شافی علاج ہے۔
*پیٹ کے درد کے لیے*
انار کا چھلکا پیٹ کے درد اور پیٹ کے امراض کے لیے بہترین ہے۔اس کے چھلکوں، پتوں اور چھال کو پیٹ کی متعدد بیماریوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
*آئرن فولاد کی کمی*
انار کے دانوں میں آئرن کی بھرپور مقدار موجود ہے لیکن اس کے چھلکے بھی کسی سے کم نہیں۔ اس کے چھلکو ں کا استعمال آئر ن کی کمی کو پورا کرتا ہے۔
خشک انار کے چھلکوں کا سفوف بنا کر دن میں ایک بار تازہ پانی سے استعمال کرنے سے آئرن کی کمی دور ہوتی ہے۔
*سانس کی بدبو کے لیے*
سانس کی بدبو کے لیے انار کے چھلکوں کو پانی میں ابال کر اس پانی سے کلی کرنے سے سانس کی بدبو دور ہوتی ہے۔
*بواسیر کے لیے*
بواسیر میں انار کے چھلکو ں کا پاؤڈر بے حد اکسیر ہے۔ بادی اور خونی دونوں قسم کی بواسیر کے لیے اس کے چھلکوں کا سفوف صبح شام پانی کے ساتھ ایک چمچ کھانے سے بواسیر میں افاقہ ہوتا ہے۔
*کھانسی کے لیے*
کھانسی کے لیے انار کے چھلکوں کو منہ میں رکھ کر چوسنے سے کھانسی رک جاتی ہے۔
*چہرے کے داغ دھبو ں کے لیے*
دو چمچ انار کے چھلکو ں کا پاؤڈر لے کر اس میں ایک چمچ لیموں کا رس اور شہد ملا کر پیسٹ بنا لیں۔ اس کو چہر ے پر پندرہ منٹ تک لگا رہنے دیں۔ اس کے بعد نیم گر م پانی سے دھو لیں۔ اس سے چہرے اور گردن کے داغ دھبے ختم ہونے کے ساتھ رنگت کے نکھار میں بھی اضا فہ ہوتا ہے۔
*گرتے بالوں کے لیے*
کسی بھی تیل میں انار کے چھلکوں کا پاؤڈر ملا لیں۔ اب اس تیل کو بالوں اور جڑوں پر لگا کر اچھی طرح مساج کریں۔ صبح اٹھ کر بالوں کو شیمپو کر لیں۔ اس سے نہ صرف بال گرنا بند ہو جائیں گے بلکہ بالوں کی خشکی بھی ختم ہو جائے گی۔
*ٹانسلز اور گلے کی خراش*
تین چائے کے چمچ انار کا چھلکا پانی میں ابال لیں۔ اب اس کو چھان کر نیم گر م ہو نے پر غرارے کریں۔ اس سے گلے کی خراش اور ٹانسلز میں افاقہ ہو گا۔
*دانتو ں اور مسوڑھو ں کے لیے*
انار کے چھلکے کے پاؤڈر میں ایک چٹکی پسی ہوئی کالی مرچ ملا کر دانتوں پر منجن کرنے سے دانت سفید ہو جاتے ہیں۔
اس کا منجن مسوڑھو ں کو مضبوط کرتا ہے اور خون آنے سے روکتا ہے۔
وزن کم کر نے کے لیے
ایک انار کے چھلکے کا پاؤڈر لے کر اس میں ایک چمچ پسی ہو ئی ادرک کا ملا کر ایک کپ پانی میں ابالیں۔ اس ڈرنک کو نہارمنہ پینے سے وزن میں کمی ہوگی اور کولیسٹرول بھی کم ہو گا۔
*انار کے چھلکوں کی چائے*
انار کے چھلکوں کی چائے بے حد فوائد رکھتی ہے۔ انار کے چھلکوں میں متعدد غذائی اجزاء وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ انار کے چھلکوں کو سکھا کر بھی ان سے فائدہ لیا جا سکتا ہے اور ان کی چائے بنا کر بھی فائدے حاصل کیے جاتے ہیں۔ – at Sindh, Pakistan
Azhar Syed retweeted
#پبلک_آگاہی_میسیج
دہلی کا یہ ڈاکٹر دکھا رہاھے کہ کس طرح اس نےگھٹنوں
کےجوڑوں کےدرد میں مبتلا ہزاروں مریضوں کو ٹھیک کیا
اور بچایا
اسکی ویڈیو وائرل ہوگئی ہے
گھٹنوں کےہزاروں مریض اس کلپ کو تلاش کررھےہیں
یہ کلپ دیکھیں اور تیاری دیکھیں، پھر آزمائیں یا ان لوگوں کو تجویز کریں
👇1/2
Azhar Syed retweeted
’جب شور مچا کہ سیلاب آ گیا تو میری بیوی نے ہمارا آٹھ ماہ کا بچہ اٹھایا اور باہر بھاگی۔ میری چار سال کی بیٹی نے اس کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا لیکن وہ زیادہ دور نہیں گئے تھے اور پانی سامنے سے آیا اور ان کو بہا لے گیا۔‘
bbc.in/3kXlbWU
Azhar Syed retweeted
اگر تم نے میری گاڑی نہیں جانے دی تو میں تم پر توہینِ رسالت کا الزام لگادوں گا، ابھی مولویوں کو لاتا ہوں، خود ہی تم کو کاٹ کر پھینک دیں گے۔ کراچی ایئرپورٹ آئی سی جی ویئرہاؤس پر ایک شخص کی کرسچین خاتون سیکورٹی انچارج کو دھمکی
Azhar Syed retweeted
ماشاءاللہ
پشتون بھائیوں نے نمازیں بھی پانچ پڑھی ہونگی ❤️
#Islamabad: Car snatching last week from G-13/2 and kidnapped the Car owner also. Beat him and dropped him at #SrinagarHighway, same day they called back and demanded 25 lac, then gave them the car back after taking 20 lac in Mardan Kpk.
Azhar Syed retweeted
Great opportunity for the freshly passed F.Sc Pred Med Students.
#MicrobiologyAndMolecularGenetics
#UniversityofOkara
Admissions BS, M.Phil and PhD
Department of Microbiology and Molecular Genetics,
🔬🦠🧬
University of Okara, Last date to apply 5th November 2022.
For details
facebook.com/MMG.UO.Official
#MicrobiologyAndMolecularGenetics
#UniversityofOkara
Azhar Syed retweeted
Replying to @punnu__khan
This wonderful post made me share this Madam Nazar's finest performance with unmatched poetry of Munir sb and one of finest melodies of Rasheed Atray.
Azhar Syed retweeted
جب سارا خیبرپختونخواہ سیلاب سے ڈوب رھا تھا،عوام ڈوب کر مررھی تھی,جب لوگوں کے گھر تباہ ھورھے تھے،جب سیلاب ان کے کاروبار دریا برد کررھے تھے تب ایک ھوس اقتدار کا مارا ھری پور میں جلسہ کررھا تھا۔
@BIT0420
Azhar Syed retweeted
اے لوگوں اللہ سے معافی مانگو کہ
یا اللہ اب بس کردے بخش دے مولا، اپنے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے ہم سب کی خطائیں معاف کردے، رحم میرے مالک رحم کردے۔
Azhar Syed retweeted
عمران خان: مار مار کر پوچھا گیا جنرل فیض مجھ سے ملنے کتنی بار آیا۔ فریحہ ادریس نے پوچھاایک بار کیمرے کے سامنے بتا ۂی دیں کہ فیض کتنی بار ملنے آئے۔ لیکن عمران نے سوال نظر انداز کرتے ہوئے کہا: اصل بات یہ ہے کہ مارنے کی ضرورت نہیں، ویسے ہی پوچھ لیں۔ فریحۂ نے نۂیں مارا تو نۂیں بتایا
Azhar Syed retweeted
What on earth is going on in KP?



































