ᑕOᗰᖇᗩᗪE (@KMA1976) header
ᑕOᗰᖇᗩᗪE (@KMA1976) profile picture

𝕄𝕪 ℙ𝕠𝕝𝕚𝕥𝕚𝕔𝕒𝕝 𝕀𝕕𝕖𝕠𝕝𝕠𝕘𝕪 𝕚𝕤 ℝ𝔼𝔸𝕃𝕀𝕊𝕄 𝔸ℕ𝔻 ℙℝ𝔸ℂ𝕋𝕀ℂ𝔸𝕃𝕀𝕊𝕄

South Asia
Joined October 2015
Photo by ᑕOᗰᖇᗩᗪE (@KMA1976)Photo by ᑕOᗰᖇᗩᗪE (@KMA1976)Photo by ᑕOᗰᖇᗩᗪE (@KMA1976)Photo by ᑕOᗰᖇᗩᗪE (@KMA1976)Photo by ᑕOᗰᖇᗩᗪE (@KMA1976)Photo by ᑕOᗰᖇᗩᗪE (@KMA1976)Photo by ᑕOᗰᖇᗩᗪE (@KMA1976)Photo by ᑕOᗰᖇᗩᗪE (@KMA1976)Photo by ᑕOᗰᖇᗩᗪE (@KMA1976)Photo by ᑕOᗰᖇᗩᗪE (@KMA1976)
اے وفاپرستو غم نہ کرو یہ وقت بھی پھر سے آئے گا تاریکی پھر چھٹ جائے گی پھر سے وہ سویرا آئے گا انشاللہ بہت جلد۔۔۔۔۔۔۔۔ @AltafHussain_90 @AwazEHaq90 @OfficialMQM #LiftBanOnAltafHussain
9
23
197
ᑕOᗰᖇᗩᗪE retweeted
موجودہ سنگین حالات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے نام اہم پیغام
32
144
7
260
11,554
#LiftBanOnAltafHussain #انقلاب_الطاف_زندہ_باد اہلیانِ کراچی کی جانب سے نیو کراچی ، بارہ دری اور نارتھ کراچی کے علاوہ کراچی کے مختلف مقامات پر *الطاف بھائی پر سے پابندی ختم کرو* کے بینر اور پینافلیکس آویزاں کئیے گئے @AltafHussain_90 @OfficialMQM 👇👇👇
14
25
219
#LiftBanOnAltafHussain #انقلاب_الطاف_زندہ_باد اہلیانِ کراچی کی جانب سے *مکا چوک عزیزآباد* پر *الطاف بھائی پر سے پابندی ختم کرو* کا پینافلیکس آویزاں جئیے الطاف @AltafHussain_90 @OfficialMQM 👇👇👇
8
1
19
211
ᑕOᗰᖇᗩᗪE retweeted
کراچی میں فرسٹ ایئر کے متنازع نتائج کے خلاف طلبہ و طالبات کا انٹرمیڈیٹ بورڈ آفس کے باہر مظاہرہ ،نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار، امتحانی پرچوں کی اسکین کاپیاں فراہم کرنےکامطالبہ۔ احتجاج کے دوران انٹر بورڈ میں سرگرم بروکر مافیا کے عناصر کی طلبہ کے ساتھ ہاتھا پائی کی اور احتجاج روکنے کی کوشش۔ ہرسال کراچی کے انٹر کے طلبہ طالبات کو باقاعدہ منصوبے کے تحت نتائج میں تبدیلی کرکے انہیں تعلیمی میدان میں پیچھے رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ کراچی انٹر بورڈ کے طلبہ امتحانی نتائج میں کی جانے والی اس دھاندلی کے خلاف کل بروز جمعرات 5 نومبر کو پریس کلب پر مظاہرے کریں گے، تمام شہریوں اور سول سوسائٹی کو ان کا ساتھ دینا چاہئے، قائد تحریک الطاف حسین کی ایم کیو ایم ان طلبہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور ان کے مطالبات کی حمایت کرتی ہے
6
94
2
119
2,193
ᑕOᗰᖇᗩᗪE retweeted
2/3 اورسیاسی جماعتوں میں ان کارکنوں کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ پاکستان میں کوئی واحد بادشاہ نہیں ہے بلکہ ایک حکمراں اشرافیہ کا طبقہ ہے جس نے بادشاہت کی شکل اس طرح اختیار کررکھی ہے کہ اسی طبقے کے لوگ اقتدارمیں آتے ہیں اوراسی طبقے کے لوگ اپوزیشن میں آتے ہیں۔ اس کامطلب یہ ہے کہ پاکستان میں ایک خاندان نے بادشاہت کی شکل اختیارکرلی ہے اوروہ اپنے علاوہ کسی اور کو حکومت میں آتا نہیں دیکھ سکتااسی لئے میں آنے والے اس طبقے کو اقتدار مافیا کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے، ایم کیوایم کی طرح جو بھی اس اقتدار مافیا کے خلاف آواز بلند کرتاہے اسے غدار، دہشت گرداور ملک دشمن قراردیدیا جاتاہے،اس پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگاکر ٹیلی ویژن، اخبارات، جرائد ورسائل میں اس کی خوب تشہیر کی جاتی ہے، تواترکے ساتھ اس کی شکل انتہائی بھیانک اندازمیں اس طرح پیش کی جاتی ہے کہ اقتدار عام آدمی اس منفی پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کیونکہ اسے معلوم ہی نہیں ہوگا کہ ایم کیوایم کو اگر دہشت گرد، ملک دشمن اور غدار قراردیاجارہا ہے تو کیوں قرار دیا جارہا ہے۔ ایم کیوایم اقتدار مافیا کے منفی پروپیگنڈوں پر اپنا مؤقف پیش کرنے کی کوشش کرے تو اس کی آواز کوٹیلی ویژن میں نشر نہیں کیاجاتا، اخبارات میں مناسب جگہ نہیں دی جاتی بلکہ اس کے خلاف ٹیلی ویژن پر سیاسی تجزیوں اور اخبارات میں کالم لکھے جاتے ہیں اور اس رولنگ ایلیٹ کو سہارا دینےوالی چھتری کا نام اسٹیبلشمنٹ ہے۔ جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں پر مشتمل اقتدار مافیا کو فوج، آئی ایس آئی کی مکمل آشیرباد حاصل ہوتی ہے، اس اقتدارمافیا کے لوگوں پر لاکھ نیب اورایف آئی اے مقدمات بنائے، عدالتیں انہیں تاحیات نااہل قرار دے دیں لیکن چند ہی دنوں میں عدالت عظمیٰ سے نااہل قراردیئے گئے لوگوں کو سرخ قالین بچھا کر بیرون ملک سے بلایا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ ہے اور اس کرپٹ سیاسی کلچر کو پہلے الطاف حسین نے توڑا اور پھر بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اس نظام کو للکارا۔ عمران خان صاحب نے جب رولنگ ایلیٹ اور اس کی بیساکھیاں بننے اور حفاظت کرنے والی چھتری کو نشانہ بنایا تو عمران خان بھی ملک دشمن، دہشت گرد اوراسرائیلی ایجنٹ قرار دیا گیا۔الطاف حسین نے اقتدار مافیا اور ان کے کرپٹ سیاسی نظام کے بارے میں عوام کوحقائق بتانے کی کوشش کی تو میری باتیں صوبہ پنجاب، سرحد، بلوچستان، کشمیر اور گلگت  بلتستان تک نہیں پہنچیں لیکن جب فوج نے عمران خان کو غیرآئینی طریقے سے عدالت کے کمرے سے گریبان پکڑ کر گرفتارکیا تو عمران خان صاحب نے پاکستان کے عوام تک وہ حقائق پہنچا دیئے جو الطاف حسین نہیں پہنچا سکاتھا۔  آج عمران خان، ان کی اہلیہ اور ان کے وفادار ساتھی تین سال سے جیلوں میں قید ہیں، عمران خان کی بہنوں کو بھی جیل میں قید کردیا گیا ہے۔ آخرعمران خان کا کیاقصور ہے؟ جو قوتیں جاگیرداروں، وڈیروں اورسرمایہ داروں کو اقتدار میں لاتی اورانہیں تحفظ فراہم کرتی ہیں عمران خان صاحب نے بھی انہی قوتوں کو چیلنج کیاتھا اور یہی ان کا گناہ بن گیا ہے۔   عمران خان جب اقتدارمیں آئے اور ان کا فوج کے جرنیلوں کے ساتھ صبح شام ملنا جلنا ہوا توانہیں معلوم ہواکہ فوجی جرنیل توامریکہ کے مفادات کو اہمیت دیتے ہیں۔عمران خان نے اقوام متحدہ میں اسلامو فوبیا کے خلاف اورفلسطین کے حق میں بات کی اورجب عمران خان سے ایک امریکی ٹی وی کے انٹرویو میں یہ سوال کیا گیاکہ کیاوہ امریکہ کوڈرون حملوں کے لئے پاکستان میں ایئربیس بنانے کی اجازت دیں گے، توانہوں نے اس کے جواب میں Absolutely not کہہ کرصاف انکارکردیا۔ اس پر امریکہ نے عمران خان کواقتدار سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔اس کے لئے امریکہ سے سائفر آگیااور فوج کوکہہ دیاگیا کہ عمران خان کواقتدارسے ہٹاؤ۔ عمران خان نے عوامی جلسہ میں وہ سائفردکھایا۔ سائفر آنے کے بعد عمران کی حکومت کو گرانے کی سازشیں شروع کردی گئیں۔ تحریک عدم اعتمادلائی گئی لیکن اس سے قبل ہی عمران خان نے وزارت عظمیٰ کے منصب سے استعفیٰ دیدیا تاکہ دوبارہ الیکشن ہوسکیں۔حکومت ختم ہونے کے بعد عمران خان کے خلاف درجنوں مقدمات بنائے گئے، ان پرقاتلانہ حملہ کیا گیا، پھر8مئی 2023ء کوعمران خان کو ایک مقدمہ میں پیشی کے موقع پر عدالت کے کمرے سےدروازے شیشےتوڑ کر گرفتار کرلیاگیااورگریبان سے پکڑکرگھسیٹتے ہوئے لے گئے۔اس پر 9مئی کو PTI نے احتجاج کیا توسرکاری ایجنسیوں نے سادہ لباس میں اپنے لوگ شامل کرکےاس احتجاج کو پرتشدد بنادیا۔لاہور میں کورکمانڈر ہاؤس کوآگ لگائی گئی، فوج کے ہیڈ کوارٹرز پر حملے کئےگئے، فوج کے شہیدوں کے مسجموں کو گرایاگیا۔ اوردیگرجلاؤ گھیراؤ کے مختلف واقعات ہوئے۔ عمران خان 9مئی کوفوج کی قید میں تھے لیکن 9مئی کے واقعات کامقدمہ بھی عمران خان کے خلاف قائم کردیاگیااسلئے کہ عمران خان نے سسٹم کوچیلنج کیاتھا۔
3
80
101
651
ᑕOᗰᖇᗩᗪE retweeted
2/2 اس گورنرراج کے خلاف PTIکےلیڈروں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہےجو میدان عمل میں آکراس غیرجمہوری عمل کے خلاف مزاحمت کی بات کرے، مزاحمت کامطلب ہتھیاراٹھانا نہیں ہوتابلکہ پرامن جمہوری احتجاج اوراحتجاجاً گرفتاریاں دینا بھی ہوتا ہے۔ جب آپ احتجاجی جلسہ،جلوس یاہڑتال کریں گے تو یہ احتجاج کے یہ سارےطریقے آئین اور قانون کے مطابق ہوں گے، پاکستان کاآئین ہرشہری کو آزادی اظہاراور جلسہ جلوس کاحق دیتا ہے۔  جب ریاست کسی بھی جماعت کے خلاف کوئی ایکشن کرتی ہے تواس پر ملک دشمنی، غداری اوردہشت گردی کےالزامات لگاتی ہے اوراحتجاجی مظاہرےکرنے والوں کےخلاف جھوٹےمقدمات کرکےانہیں پابند سلاسل کردیتی ہےاسی وجہ سے پنجاب کےعوام حکومتی مظالم کےخلاف میدان عمل میں نہیں نکلےکیونکہ گزشتہ تین برسوں سے پنجاب کےعوام کو بھی یہ تجربہ ہواہے کہ کس طرح قانون نافذ کرنے والےادارےگھروں کے دروازے توڑکر، سیڑھیاں لگاکر زبردستی گھستے ہیں، اگرمطلوبہ شخص روپوش یا جلاوطن ہو تو اس کے نہ ملنے پر ان کےوالد، بھائی،بیٹے کوگرفتارکرلیتے ہیں،اہل خانہ سے بدسلوکی کرتے ہیں حتیٰ کہ خواتین اوربچوں تک نہیں بخشا جاتا۔ دنیا کاکوئی قانون یہ اجازت نہیں دیتا کہ کسی ایک شخص کی غلطی کی سزا ا س کےگھروالوں کو دی جائے۔ اب پنجاب کےلوگوں کومعلوم ہورہاہے کہ ظلم کس کوکہتے ہیں،پہلے MQMکے کارکنوں یا بلوچوں کو جبری لاپتہ کیاجاتا تھا تو پنجاب کی جماعتوں کے رہنما کہتے تھے کہ ”کچھ تو کیاہوگاجب ہی فوج، رینجرز اورپولیس نے ایسا کیاہے“ کسی سیاسی کارکن کوماورائےعدالت قتل کردیاجاتاتھا تو کہتے تھےکہ ”کچھ توکیاہوگا ورنہ ادارے پاگل نہیں کہ اس طرح کا عمل کریں“ MQMکے کارکنوں کے گھروں پر رینجرز اورپولیس کے اہلکار اہل خانہ سے بدسلوکی کرتے، چادروچہاردیواری کاتقدس پامال کرتے تو کہتے تھےکہ ان گھروں میں دہشت گردچھپے ہوں گے جبھی رینجرز اورپولیس نے چھاپے مارے ہیں۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے اپنی جان بچانے یا گرفتاری سے بچنے کیلئےامریکہ، کینیڈا، برطانیہ، یورپی ممالک یا مڈل ایسٹ جلاوطن ہوئےاورانہوں نے بیرون ملک حکومتی مظالم کے خلاف مظاہرے کیے توان کی تصویریں کھینچ کر، نادرا کے ذریعے پاکستان میں ان کے گھروں کےپتے نکال کران کے گھروں پر چھاپے مارےگئےاوراہل خانہ کوہراساں کیاگیا کہ تمہارے والد، بھائی یا بیٹے پی ٹی آئی کےمظاہرے میں شریک ہوتے ہیں ،PTIکے لیڈروں کی اکثریت کمپرومائز ہوگئی، باقی جیلوں میں اسیر ہیں تو اب عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی کے گمنام کارکنوں، Gen Z اورMillennials کو ہی آوازاٹھانی پڑے گی۔  PTIکے گمنام کارکنوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ تحریکوں میں کیاکیامشکلات پیش آتی ہیں، کن کن خطرناک مراحل  سے گزرناپڑتا ہے، اورآگ وخون کے دریاعبورکرنے پڑتے ہیں اسی لئے انہیں ہوشمندی اوردانشمندی سے غورکرنا چاہیے کہ جبرکے اس ماحول میں مزاحمت کس طرح جاری رکھی جاسکتی ہے، کس طرح جلسے جلوس اوراحتجاجی مظاہرے کیے جاسکتے ہیں اس کے کئی طریقے موجود ہیں۔جولوگ یہ سمجھتے ہیں کہ احتجاجی تحریک چلائیں گے تو ان پر مقدمات بن جائیں گے اورانہیں جیلوں میں قید کردیا جائے گا تو پھر وہ عمران خان صاحب کواللہ تعالیٰ کے حوالے کردیں اوراپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کر عمران خان کی رہائی کیلئے دعائیں کرتے رہیں جیسا کہ ان کی کمپرومائزقیادت انہیں درس دیتی رہی ہے کہ عمران خان کی رہائی کیلئے اپنے اپنے گھروں پراذانیں دیں اور دعائیں کریں۔   نظریاتی کارکنان کو غورکرنا چاہیے کہ بغیرجدوجہد اورقربانیوں کے کوئی بھی تحریک کامیاب نہیں ہوتی ہے، جب انسان نے پیروں پر کھڑے ہوکر چلنا شروع کیاتو اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا،پھرانسان نے آگ، اوزار اور برتن کس طرح بنائے ہوں گے جبکہ اس زمانے میں کوئی چیزدستیاب نہیں تھی۔آج ہرچیزدستیاب ہے،ملک بھرمیں پی ٹی آئی کے کارکنان بہت بڑی تعداد میں ہیں اگروہ ہرعلاقے میں مزاحتمی تحریک کاآغاز کریں اورثابت قدمی سے یہ جدوجہد ایک ماہ تک جاری رکھیں توبڑی سے بڑی طاقت بھی ہتھیارڈال دے گی۔ تحریکوں میں غداری کاعمل ہوتارہا ہے، تاریخ میں میرجعفراورمیرصادق کے نام غداری کی علامت بن چکے ہیں، غداری کاعمل کوئی نئی بات نہیں ہوتی،انسانی تاریخ میں ہرتحریک میں شامل لوگوں نے غداری کی، حتیٰ کہ حضوراکرم ؐ کی جدوجہد میں شامل لوگوں نے بھی غداری کاعمل کیا اور منافقین کے سردار عبداللہ بن ابئی نے مسجد ضرار بنالی تھی جسے ڈھانے کا حکم دیاگیا۔ انقلابی تحریکوں میں چھاپے گرفتاری، اسیری، روپوشی، جلاوطنی، جبروتشدد اورجان ومال کی قربانیاں کاسامنا کرنا پڑتا لہٰذا نظریاتی تحریکوں کے کارکنان کو اپنے دل سے خوف اورڈر کو نکالنا ہوگا اورانقلابی تحریکوں کی تاریخ کامطالعہ کرکے اپنی جدوجہد کو جاری رکھنا چاہیے۔ الطاف حسین  ٹک ٹاک پر 493ویں فکری نشست سے خطاب یکم نومبر2026ء
2
93
2
135
980
ᑕOᗰᖇᗩᗪE retweeted
فوجی جرنیلوں کے احکامات کے زیراثر پارلیمنٹ کو آزاد اورخودمختار پارلیمنٹ قرارنہیں دیا جاسکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیاسی جماعتیں اپنے ملک میں ترقیاتی کاموں اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے منشور دیتی ہیں اورانتخابات کے مواقع پر اپنے منشور کے نکات میں اضافہ بھی کرتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتوں کا منشور Country bound ہوتا ہے۔ ایسانہیں ہوتا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا منشور کسی اور ملک میں چلے اور کسی اورملک کی کسی سیاسی جماعت کا منشور پاکستان میں چلے جبکہ سچی نظریاتی تحریکوں کانظریہ کسی بھی ملک کی جغرافیائی حدود کا پابند نہیں ہوتا۔کسی ملک میں نظام کی تبدیلی کیلئے جو نظریہ دیا جاتا ہے وہ سرحدوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ سچے انقلابی نظریئے کو کسی ایک ملک کی جغرافیائی حدود میں قیدنہیں کیاجاسکتا، نظریہ ایک جغرافیے کی حدود سے نکل کر دوسرے جغرافیے اور پھر تیسرے جغرافیے میں پہنچ جاتا ہے  نظریاتی تحریکوں کامقصد کسی بھی ملک میں رائج ظالمانہ نظام اور طرز حکومت کو چیلنج کرکے وہاں تبدیلی لانا ہوتا ہے اورتحریکیں ہمیشہ نظام کو تبدیل کرنے کیلئے چلائی جاتی ہیں۔ پاکستا ن میں قیام پاکستان سے لیکرآج کے دن تک فرسودہ جاگیردارانہ اورچند مخصوص خاندانوں کا موروثی نظام قائم رہا ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے زمانے سے آج تک سیاسی جماعتیں، سیاسی جماعتوں کے اتحاد اور ان کی جو مخلوط حکومتیں بنتی رہی ہیں،جو صدوراور وزرائے اعظم بنتے رہے ہیں اورجو سویلین حکومتیں قائم ہوتی رہی ہیں وہ فوجی جرنیلوں کے اثرورسوخ، ان کے دباؤاوران کی پسند ناپسند کی بنیاد پر چلتی رہی ہیں۔ایسی صورتحال میں کسی بھی انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی مقننہ (Legislative body) اگراجتماعی فیصلہ نہ کرسکے یاان کا اجتماعی فیصلہ فوجی جرنیلوں کے احکامات کے زیراثر ہو تو ہم ایسی پارلیمنٹ کو آزاد اورخودمختار پارلیمنٹ قرارنہیں دے سکتے۔  یہ صرف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں ہے، دنیا کے جن ممالک کی منتخب حکومتیں فوج کے جرنیلوں کے ماتحت ہوتی ہیں ان ممالک کی خارجہ پالیسی بھی پارلیمنٹ نہیں بلکہ فوج بناتی ہے۔ مثال کے طورپر جب اسرائیل نے فلسطین پر حملے شروع کیے اوربمباری کرکے غزہ سمیت فلسطین کے مختلف علاقوں کے انفرااسٹرکچر کو تباہ کرکے گراؤنڈ زیرولیول کردیا تو کتنے اسلامی ممالک نے ان اسرائیلی حملوں کی مذمت کی؟ اسرائیلی بمباری کوروکنے کیلئے فلسطین کے عوام کی مدد کی؟ یقینا کسی نے بھی نہیں کی۔  تازہ ترین مثال ایران پر امریکہ اوراسرائیل کے مشترکہ حملوں کی ہے جب دونوں ملکوں نے ایران پر بموں، میزائلوں اورڈرونوں سے حملہ کیاتو 50 سے زائد اسلامی ممالک میں سے کسی نے بھی امریکہ اور اسرائیل کے ان حملوں کی کھل کرمذمت نہیں کی اورایران کاکھل کر ساتھ نہیں دیا۔غورطلب بات یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟اس لئے کہ جن جن ممالک میں بادشاہت اور موروثیت کے تحت حکمرانی چلتی ہو، آمریت ہو، فوج کی برتری ہواس ملک کی خارجہ پالیسی عوام کے ووٹوں سے آنے والی حکومتیں طے نہیں کرتیں بلکہ اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ طے کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے پاکستان سمیت کوئی بھی اسلامی ملک ایسا نہیں ہے جسے آزاد اورخودمختار ملک کہاجائے۔  میں نے فکری اورنظریاتی بنیادوں پرسیاسی کارکنوں کی تربیت کاسلسلہ ابتداء میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی Gen Z اورMillennials کیلئے شروع کیاتھا، پی ٹی آئی کے رہنماؤں کیلئے نہیں کیاتھاکیونکہ عمران خان صاحب، انکی اہلیہ اور انکے وفادار رہنما وکارکنان گزشتہ تین برسوں سے جیل میں قید ہیں اوراب عمران خان کی بہنوں کو بھی جیل میں بند کردیا گیا ہے، ایک صوبہ KPK جہاں دوتہائی اکثریت سے پی ٹی آئی کی حکومت قائم تھی وہاں کے منتخب وزیراعلیٰ کو اغوا کرکے صوبے میں گورنرراج اور ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ بظاہر پیپلزپارٹی کے صدر آصف زرداری نے گورنرراج کے حکمنامے پر دستخط کیے ہیں اگر وہ پاکستان کے صدر ہوتے تو گورنرراج کے احکامات پر دستخط نہ کرتے اسی طرح میاں شہبازشریف بھی ن لیگ کے وزیراعظم ہیں جوفارم 47 کے تحت وزیراعظم بنے وہ اپنی پارٹی کے مفاد ات کیلئے ڈکٹیشن لیکر صوبہ KPK میں گورنرراج کے نفاذ کی تجویز پیش کرتے ہیں جس پر صدرزرداری دستخط کرکے عملدرآمد کرتے ہیں۔ پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ (ن) دونوں کا پاکستان سے کوئی واسطہ نہیں ہے یہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے خاندان اورپارٹی کے مفادات کو عزیز رکھتی ہیں اوران کا پاکستان اوراس کے عوام کے مفادات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔  تحریک انصاف کے جتنے رہنما ہیں ان کی اکثریت کمپرومائزہے جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسٹیبلشمنٹ کی ڈکٹیشن لینے سے انکار کردیاتھا اورجب انہوں نے اپنے سربراہ عمران خان کی رہائی کیلئے لانگ مارچ کاآغاز کیاتو انہیں اغوا کرلیاگیا اور صوبے کی اسمبلی تحلیل کرکے وہاں گورنر راج اورایمرجنسی نافذکردی گئی۔ 1/2
12
119
1
178
4,059
ᑕOᗰᖇᗩᗪE retweeted
سیاسی جماعتیں اور تحریکیں: سیاسی جماعتوں کا مقصد اقتدار کا حصول ہوتا ہے جبکہ تحریکیں ایک نظریئے کے تحت وجود میں آتی ہیں، ایک مقصد اورکاز کے لئے کام کرتی ہیں اورعوام کے اجتماعی مفادات کیلئے جدوجہد کرتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے ملک کی ترقی، تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، خارجہ پالیسی اور عوام کا معیارزندگی بہتر بنانے ایک منشور عوام کے سامنے پیش کرتی ہیں جبکہ تحریک کےلئےکسی کاز یا مقصد کا ہونا لازمی ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو چلانے اور تحریک کو چلانے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ کسی بھی ملک میں جہاں ظلم وجبر کا نظام ہو، ناانصافیوں کا عمل ہو، نسلی ولسانی تعصب کی بنیادوں پر عوام میں تفریق کی جاتی ہو اور یہ تفریق پیدا کرنے والا حکومتی گروہ شکلیں بدل بدل کر اقتدار میں آتا رہتا ہےمگر نہ ظلم وجبر کا نظام ختم ہوتا ہے، نہ ناانصافیوں کاعمل ختم ہوتا ہے اورنہ ہی نسلی امتیاز ختم ہوتا ہے۔  تحریک کیلئے مقصد کی اہمیت: تحریک کیلئے مقصد اورکاز کاہونا ضروری ہوتا ہے اوراس مقصد کے حصول کیلئے جو نظریہ پیش کیاجاتا ہےاس کے تحت جدوجہد کرنا بچوں کا کھیل نہیں ہوتا۔ کسی بھی تحریک سے وابستہ لوگ اگریہ سوچتے ہیں کہ وہ آج جدوجہد کررہے ہیں تو ایک ہفتے بعد انہیں اپنی جدوجہد کا پھل مل جائے گا تو ایسا نہیں ہوتا۔ ایسی سوچ کا جنم لینا فطری ہے کیونکہ انسان چاہتا ہے کہ اس کے نظریئے کو جلد سے جلد کامیابی مل جائے اور وہ اپنامقصد حاصل کرلے۔ پاکستان کا سیاسی کلچراورعوام: پاکستان کے قیام کو 79 سال گزرچکے ہیں، 1947ء سے آج کے دن تک ہم یہ دیکھتے چلے آرہے ہیں کہ صرف ایک طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ یا جماعتیں شکلیں بدل بدل کر حکمرانی کرتے چلے آرہے ہیں، اگر ہم ان کی جماعتوں کا تنظیمی ڈھانچہ دیکھیں تو ان جماعتوں کی صفوں میں صرف ایلیٹ کلاس یعنی مراعات یافتہ طبقے کے لوگ ہی نظرآئیں گے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی موجودگی میں مسلم لیگ کا تنظیمی ڈھانچہ بھی نوابین اور دولت مند افراد پر مشتمل تھا۔  بدقسمتی سے پاکستان میں ایم کیوایم کے علاوہ ایک بھی ایسی سیاسی جماعت نہیں ہے جو جلسے جلوس کے علاوہ اپنے کارکنان کی فکری بنیادوں پر تربیت کیلئے رات رات بھر فکری نشستوں کاانعقاد کرتی ہو اور اپنے کارکنان کو ملک اور بین الاقوامی حالات سے آگاہ کرتی ہو، پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں Electables پر مشتمل ہوتی ہیں، جو الیکشن لڑنے کے قابل ہوتے ہیں انہی کو تنظیمی ڈھانچے میں شامل کیاجاتا ہے اور یہی لوگ الیکشن میں پارٹی ٹکٹ حاصل کرکے سینیٹ، قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلی کے رکن بنتے ہیں۔ پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت میں غریب، لوئر مڈل کلاس کے کارکنان جوکہ جانثار ہوتے ہیں، لاٹھیاں ڈنڈے کھاتے ہیں،جلسوں میں کرسیاں اور دریاں بچھاتے ہیں، وال چاکنگ کرتے ہیں اورپوسٹرز لگاتے ہیں، انہیں کبھی الیکشن میں حصہ لینے کا موقع نہیں دیا جاتا۔  ایم کیوایم کے علاوہ پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے جس نے غریب، لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنےوالے ایسے کارکنان کو سینیٹ، قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلی کا رکن بنایاہو جن کے پاس انتخابات لڑنے کیلئے مالی استطاعت صفر ہو۔ ایم کیوایم ملک کی واحد جماعت ہے جس نےاپنی تحریک کے ڈاکٹروں، انجینئروں، وکلاء، اساتذہ اور زندگی کے دیگر شعبوں میں مہارت رکھنے والے پڑھےلکھے غریب کارکنوں کو منتخب ایوانوں میں بھیجا۔ 1947ء سے ایم کیوایم کے قیام تک پاکستان میں جو نظام چلتا چلا آرہا ہے اس میں صرف Electables ہی منتخب ہوتے چلے آرہے ہیں۔ الطاف حسین نے پاکستان میں جاری رولنگ ایلیٹ اور Electables کی سیاست کو صرف چیلنج ہی نہیں کیا بلکہ غریب طبقہ سے تعلق رکھنے والےنوجوانوان کو منتخب کرکے سینیٹ ، قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی میں بھیجا، انہیں میئرز،ڈپٹی میئرز اور کونسلرز بنایا۔ پاکستان میں رولنگ ایلیٹ کلاس، جاگیردار، وڈیرے، سرمایہ دار اور دولتمندخواہ وہ جائز طریقے سے دولتمند بنے ہوں یا ناجائز طریقے سے، دونوں صورتوں میں تمام سیاسی جماعتیں مراعات یافتہ طبقےکے افراد کو ہی اپنی جماعتوں میں شامل کرتی ہیں اور الیکشن میں انہی کو انتخابی ٹکٹ دیتی ہیں۔  ایم کیوایم نےپاکستان کے فرسودہ نظام میں پہلی مرتبہ غریب ومتوسط طبقےکی حکمرانی کی جدوجہد کی تو ایم کیوایم پردہشت گردی، ملک دشمنی، بھتہ خوری اوربوری بند لاشوں کے جھوٹے الزامات لگائے گئے۔آج بھی ہر قسم کی برائی ایم کیوایم میں ہی نکالی جاتی ہے۔ پاکستان کا طبقاتی نظام: پاکستان کاسیاسی نظام دوطبقات پر مشتمل ہوتا ہے، ایک طبقہ دوفیصد حکمراں اشرافیہ کا ہے جو اقتدار میں آنے والے لوگوں پرمشتمل ہوتا ہےجبکہ دوسرا 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کےلوگوں پر مشتمل ہوتاہےجو صرف تالیاں بجانے، نعرے لگانے، پوسٹرز لگانے، دریاں اور کرسیاں بچھانے والے ہوتے ہیں ۔ 1/3
8
112
1
171
4,066
ᑕOᗰᖇᗩᗪE retweeted
3/3 ویتنام میں ہوچی مِن (Ho Chi Minh) کی تحریک: ویتنام کئی دہائیوں تک جاپان، فرانس کی کالونی بنارہا۔ غیرملکی قوتوں کے اس قبضے کے خلاف وہاں انقلابی لیڈر ہوچی مِن (Ho Chi Minh) کی قیادت میں کئی سال تک تحریک چلی، اس تحریک میں شامل لوگ آزادی کا نعرہ لگاتے تھے، ظلم وجبرکے نظام خلاف اوراپنے حقوق کی جدوجہد کرتے رہے۔ ویتنام میں پہلے جاپان اورپھر فرانس نے قبضہ کیا تھا اور بعد میں امریکہ نے قبضہ کرلیا تھا، اس قبضے کے خلاف کئی سال تک جدوجہد کی جاتی رہی، اس تحریک کوکچلنے کیلئے امریکہ نے پوری طاقت استعمال کی، اس دوران انقلابیوں نے جانی ومالی قربانیاں دیں، اسیری کی زندگی گزاری،تحریک کے سربراہ ہوچی مِن کوکئی برسوں تک جلاوطن رہنا پڑا، تحریک کےرہنماجلاوطن تھے لیکن کارکنان نےجدوجہد جاری رکھی، برسوں تک جاری جنگ کے دوران امریکی بمباری میں ویتنام کے11 لاکھ انقلابی اور 9 لاکھ شہری شہید ہوئے، لاکھوں کارکنان کو خوفناک جیلوں میں قید رکھاگیا جہاں ان پر انسانیت سوز تشدد کیاجاتا۔اس دوران تحریک میں غداری کا عمل بھی ہوتا رہا لیکن ہوچی مِن کی قیادت میں آزادی کی تحریک چلتی رہی۔ویت نامی انقلابیوں نے لاکھوں جانوں کی قربانیوں اورطرح طرح کی ازیتوں کے بعد 1975ء میں امریکیوں کوبھی ویتنام سے بھگا دیا اور ویتنام آزاد ہوگیا۔  روس میں کمیونسٹ انقلاب کی تحریک: روس میں تسلسل کے ساتھ نسل درنسل زار روس کی بادشاہت کا سلسلہ تھا، اس بادشاہت کے خاتمے اورغلامی سے آزادی کیلئے کمیونسٹ انقلابیوں نے بالشویک پارٹی بنائی اورایک ایک علاقے میں ظلم اورغیرانسانی سلوک کانشانہ بننے والے غریب مزدورں اورکسانوں میں انقلاب کا پیغام پھیلاتے رہے،اس جدوجہد کی پاداش میں بادشاہت کے مظالم سے بچنے کیلئے انقلابی کارکنان اردگرد کے علاقوں میں روپوشی اورجلاوطنی کی زندگی گزارتے رہے اورجانی ومالی قربانیاں دیتے رہے، اس انقلابی تحریک کے دوران ہزاروں لوگ شہید ہوئے تب جاکر1917ء میں بالشویک انقلاب آیا۔ تمام تحریکوں میں قدرمشترک بات یہ ہے کہ ان کے رہنماؤں نے اپنےمقصد اور عوام کے اجتماعی مفاد کیلئے اپنی ذاتی زندگی، شخصی، مالی مفادات کوقربان کردیا، جوانی سے بڑھاپے تک اپنی انقلابی جدوجہد جاری رکھی جس طرح پاکستان میں الطاف حسین نے پاکستان کے مظلوم عوام کےحقوق اورفرسودہ نظام کے خاتمے کیلئے اپنی ذاتی خواہشات،امنگوں، جوانی اور خاندان کی قربانی دی، اس جدوجہد کے دوران تحریک کے بہت سے رہنماؤں نے اپنے ظرف وضمیرکا سودا کرلیا، بہت سے لوگ ظالموں کے آگے جھک گئے لیکن تحریکی جدوجہد کے دوران گمنام کارکنان نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں، دربدر ہوئے، روپوش ہوئے، جلاوطن ہوئے، ہرکڑے اورمشکل وقت میں تحریکی جدوجہد میں ساتھ دیتے رہے حتیٰ کہ کارکناں نے اپنی جانوں کی قربانیاں بھی دیں۔ اس جدوجہد کے دوران بالشویک پارٹی کے ہزاروں کارکنان، محنت کش قید خانوں میں قید کردیئے گئے اورایک ہزار سے زائد کارکنان کو گولیوں کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا تھا لیکن جلاوطن رہنماء اور کارکنان نے اپنے اپنے ذرائع سے تحریک کو زندہ رکھا اور 1917ء میں انہوں نے ظالم حکمرانوں کے خلاف کامیابی حاصل ہوئی۔  قربانی کے بغیرکامیابی نہیں ملتی: اپنے مقصد کے حصول کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ تحریک کے گمنام کارکنان کسی بھی تحریک کی ریڑھ کی ہڈی اور اصل طاقت ہوتے ہیں، کسی بھی تحریک کا ہراول دستہ اس کے لیڈران نہیں بلکہ گراس روٹ سطح کے کارکنان ہی ہوا کرتے ہیں، لیڈران تو حالات کے جبر کے آگے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں، ظالم قوتوں سے سمجھوتہ کرلیتے ہیں لیکن تحریک کے کارکنان ڈٹے رہتے ہیں۔ اگرکسی بھی تحریک کے کارکنان مصلحت پسند لیڈروں کی طرف دیکھیں گے تو وہ تحریک کا ہراول دستہ نہیں بن سکیں گے۔کارکنوں کو یہ بات بھی ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ تحریک میں صرف نظریہ دینے والا ہی وہ فرد ہوتا ہے جو کبھی نہیں بدلتا، کبھی ظالم قوتوں سے اپنے نظریہ پر سودا نہیں کرتا، نظریہ دینے والا اور اس کے سچے فالوورز طاقتور ظالم قوتوں کے آلہ کار نہیں بنتے اور حالات کے جبرکاثابت قدمی سے سامنا کرتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہیں۔ کسی بھی تحریک میں شامل Gen Z کو یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کی کوئی بھی تحریک قربانی کے بغیرکامیاب نہیں ہوتی۔ تحریک کی اصل طاقت گمنام کارکنان ہوتے ہیں، وہی تحریک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتےہیں جونہ صرف مصائب و مشکلات  کا سامنا کرتے ہیں، تحریکی جدوجہد میں اپنا پسینہ ہی نہیں بہاتے بلکہ بلکہ تحریک کے مقصد کیلئے اپنا خون تک بہاتے ہیں، اپنی خواہشات کی قربانی دیتے ہیں، انہی لازوال قربانیوں کی بدولت ان کی جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے اور وہ اپنے منزل حاصل کرلیتے ہیں۔یعنی قربانی اور کامیابی لازم وملزوم ہے۔ الطاف حسین ٹک ٹک پر 491 ویں فکری نشست سے خطاب 30، اکتوبر2026ء
4
76
2
109
699
ᑕOᗰᖇᗩᗪE retweeted
2/3 اسی طرح ریاست کے حکمرانوں کا بھی فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے مفادات کے بجائے اپنے ملک کے عوام کے مفاد کوترجیح دیں، ان کی بھلائی کے لئے کام کریں۔  دنیامیں چلنے والی انقلابی تحریکیں: دنیا جب سے وجود میں آئی ہے تب سے ظالم ومظلوم، حاکم ومحکوم اور آقا اور غلام کی تفریق رہی ہے۔ ظلم کی چکی میں پسے ہوئے مظلوم عوام نے جب جب ظلم کرنے والوں کے خلاف آوازاٹھائی، انہیں ان کی جدوجہد کی پاداش میں مزید مظالم کا نشانہ بنایاجاتا رہا ہے، اس دوران جدوجہد کرنے والے بعض لوگ مصلحت پسندی کا شکار ہوتے رہے اورڈیل کرکے ظالموں کے ساتھ مل گئے لیکن حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کی اکثریت تمام تر مظالم کے باوجود جانی ومالی قربانیاں دیتی رہی اورحالات کے جبر سے مایوس ہوئے بغیر جدوجہد کرتی رہی اور بالآخر کامیابی حاصل کرتی رہی۔ دنیا بھر میں چلائی جانے والی انقلابی تحریکوں کی یہ داستانیں غلامی، آمرانہ نظام اورظلم سے نجات اور حقوق کے حصول کی جدوجہد کرنے والے تمام لوگوں کیلئے مشعل راہ ہیں، انہیں انقلابی تحریکوں کی تاریخ سے سبق حاصل کرنا ہوگا اور تحریک کو سمجھنے کیلئے قوت برداشت پیدا کرنی ہوگی اوریہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا کی کوئی بھی تحریک ایسی نہیں ہے کہ جو آج شروع کی جائے اور وہ ایک دوسال میں کامیابی حاصل کرلے، غلامی سے آزادی، آمرانہ نظام سے نجات اورحقوق کے حصول کیلئے طویل جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔  نسلی امتیاز کے خلاف نیلسن مینڈیلا کی تحریک: ایک زمانے میں ساؤتھ افریقہ پرقابض سفید فام اقلیت نے یا گورے حکمرانوں نے سیاہ فام اکثریت کے حقوق سلب کررکھے تھے، نسلی امتیازکا ظالمانہ نظام رائج تھا۔ جسے Apartheid کہا جاتا تھا۔ جس کے تحت سیاہ فام باشندوں کو ان کی رنگت کی بنیاد پر تمام بنیادی حقوق سے محروم کردیا گیا تھا، انہیں گوروں کے ساتھ اسکولوں میں داخلے، بسوں یا ٹرینوں میں سفرکرنے حتیٰ کہ ووٹ تک دینے کا حق نہیں تھا جبکہ سفید فام یا گوروں کو ہر طرح کے حقوق حاصل تھے۔اس نسلی امتیاز کے خلاف ساؤتھ افریقہ کے سیاہ فام لوگوں نے غلامی سے نجات اوراپنے بنیادی حقوق کیلئے تحریک کاآغاز کیا جس کاایک ہی مقصد تھا کہ اس نسلی امتیاز کا خاتمہ کیا جائے سیاہ فام لوگوں کو بھی مساوی حقوق دیئے جائیں۔  افریقن نیشنل کانگریس (ANC) کی یہ تحریک نیلسن مینڈیلا کی سربراہی میں چلائی گئی، تحریک کے دوران جلسے جلوس اوراحتجاجی مظاہرے بھی ہوتے رہے، ان مظاہروں پرسفید فام نسل پرست حکومت کی انگریز پولیس کی فائرنگ سے 10 ہزار کارکنان بشمول اسکول کے بچے شہید کردیئے گئے جبکہ 20 ہزارسے زائد کارکنان کو گرفتارکرکے جیلوں میں قید کردیا گیا اوراسیری کےدوران گرفتارشدگان کو انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ انقلابیوں کے لیڈر نیلسن مینڈیلا کو گرفتارکرکے روبن آئی لینڈ میں قیدخانہ بنا کرقید کردیا گیا جہاں وہ 27 سال قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرتےرہے،اس دوران تحریک کے دیگر رہنما بھی جانی ومالی قربانیاں دیتے رہے، برسوں تک جلاوطن بھی ہوئے اور پچاس سالہ جدوجہد اور بیش بہاجانی قربانیوں کے بعد 1994ء میں انہیں نسل پرستانہ نظام سے آزادی ملی، نیلسن مینڈیلا رہا ہوئے اور وہ ساؤتھ افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر بنے۔  کیوبا میں کمیونسٹ انقلاب اور فیڈل کاسترو کی تحریک:  خلیج میکسیکواورکیربین گلف کے سنگم پر واقع ملک کیوبا امریکیوں کے ایجنٹ بادشاہ Batista کی آمریت قائم تھی اور لوگوں کوانکے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا، ایسے میں عظیم کمیونسٹ رہنما فیڈل کاسترواورچے گویرا نے ملک سے اس ظالمانہ بادشاہت کے آمرانہ نظام اورآمریت کے خلاف تحریک چلائی، ان لوگوں کی قربانیوں کی بھی طویل داستان ہے، فیڈل کاسترو نے جدوجہد شروع کی تو ان کااوران کے ساتھیوں کے لئے اپنے علاقے میں رہنا مشکل ہوگیا۔ انہوں نے ایک کشتی خریدی جس کا نام Granma تھا اس کشتی میں فیڈل کاسترو اور چے گویرا سمیت 82 افراد سوار ہوگئے تاکہ جنگلوں میں روپوش ہوسکیں اوراپنی تحریک جاری رکھ سکیں۔ بادشاہ  Batista کی حکومت کے پاس وسائل تھے، حکومت کی فوجیں انقلابیوں کا پیچھا کرتی رہی اور بالآخر ظالم فوج نے ان 82 افراد کو گھیر کر 12 افراد کے سوا سب کو قتل کرڈالا لیکن بچ جانے والے انقلابیوں نے سالہاسال پہاڑوں میں رہتے ہوئے گوریلا جنگ جاری رکھی، اس جدوجہد میں آہستہ آہستہ دیگر لوگ بھی ان کےساتھ شامل ہونے لگے، وہ بھوک پیاس اورموسم کی شدت کی پرواہ کیے بغیر اپنی جدوجہد کرتے رہے، اس جدوجہد کے دوران 30 ہزار کارکنان کو یا تو قتل کردیا گیا یا انہیں گرفتارکرکے لاپتہ کردیا گیا، بالآخر 1959ء میں ان کی کئی سالہ جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوئی، آمریت کے خلاف انقلاب آیا اور پھر کیوبا میں عوامی حکومت قائم ہوئی۔
4
90
1
126
957
ᑕOᗰᖇᗩᗪE retweeted
تحریک کیاہوتی ہے…تحریک کیوں اور کیسے جنم لیتی ہے  دنیا بھر کی انقلابی تحریکیں اوران کاسبق نظریاتی کارکنوں کے لئے خصوصی فکری نشست…(1)  ————————- تحریک کیاہوتی ہے:  ”تحریک“  کالفظ ”حرکت“ سےنکلا ہے، جسےانگریزی میں Movement کہتے ہیں۔ انسان کاسانس لینا،اس کے پھیپھڑوں کا حرکت کرنا،انسان کاایک جگہ سے دوسری جگہ قدم بڑھانا، کسی چیزکو چھونے، پکڑنے یااٹھانے کےلئے ہاتھ کوحرکت دینا، جسم کی حرکت ہے۔ حرکت زندگی کی علامت ہوتی ہے، جوزندہ چیزہوتی ہیں وہ حرکت کرتی ہیں، وہ متحرک ہوتی ہیں، جبکہ مردہ جسم خواہ وہ انسان ہو یا جانور، وہ حرکت نہیں کرسکتا۔ گویاجہاں زندگی ہوگی وہیں حرکت ہوگی، جہاں زندگی نہیں ہوگی بلکہ مردگی ہوگی وہاں حرکت نہیں ہوگی۔  اللہ تعالیٰ نےانسان کوپیدا کیا، اسے جسم میں ہاتھ، پیر، ناک، کان، آنکھ، دماغ دیا، کس لئے؟ انسان کو ہاتھ دیے ہیں کہ وہ اچھے کاموں کےلئے استعمال کرے، ایک اچھےمقصد کےلئے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کےلئے پیروں کا استعمال کرے، کسی تحریک میں شامل کوئی فرد اگر عملی کام نہیں کرسکتا، توتحریک کو متحرک رکھنے کے لئے ہاتھوں سے قلم کا استعمال کرے، تحریروں کے ذریعے دوسروں کودعوت دے۔ تحریک کہاں جنم لیتی ہے: کوئی بھی تحریک ہمیشہ وہیں جنم لیتی ہے جہاں مسائل ہوتے ہیں، کسی ایسے معاشرے یاسول لائزیشن میں جہاں رہنے والوں کوانصاف فراہم کیاجاتا ہو، جہاں لوگوں کوان کے حقوق دیے جاتے ہوں وہاں حقوق اورانصاف کے حصول کے لئے کوئی تحریک جنم نہیں لیتی، آزادی اورحقوق وانصاف کے لئے کوئی تحریک ہمیشہ وہیں جنم لیتی ہے جہاں لوگوں کوان کے بنیادی حقوق اورانصاف نہیں ملتااور اگر لوگ انصاف کےحصول کےلئے عدالتوں کے پاس جاتے ہوں اورانہیں وہاں سے بھی انصاف نہیں مل رہا ہو تو وہاں انصاف کےحصول کے لئے تحریکیں جنم لیتی ہیں۔ پوری دنیا کی تاریخ میں جہاں ظالمانہ، سفاکانہ، آمرانہ یا ڈکٹیٹرشپ کانظام ہو، یا کسی بیرونی ملک کی فوج نے کسی ملک پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیاہو، یا وہاں کے عوام کوغلام بنالیا ہو تو وہاں کے عوام اس وقت تک غلام رہتے ہیں جب تک وہ اس قابض قوت سے آزادی کے لئے کوئی تحریک نہ چلائیں۔  اسی طرح اگرکسی ملک میں آمرانہ طرز حکومت ہو، ڈکٹیٹرشپ ہو وہاں اس آمرانہ حکومت کے خلاف تحریک جنم لیتی ہے اور آمرانہ حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ عوام پر ظلم کر ے، جولوگ اس کے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہوں انہیں مار دے، گرفتارکرکے قید کردے، جوانصاف اور حقوق کے لئے آواز اٹھائے، آزادی مانگے ان پر اتناظلم ڈھائے کہ لوگ اس کے ظلم سے تنگ آکر اس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبورہوجائیں۔ تحریک کیوں جنم لیتی ہے: تحریک ہمیشہ جاری نظام کی تبدیلی کے لئے جنم لیتی ہے اور تبدیلی یہ ہے کہ اگر غلامی ہو تو اس سے نجات حاصل کرنا، غیرمنصفانہ نظام ہوتو اس نظام کوتبدیل کرنااورشہریوں کوانصاف دلانا، حقوق سے محرومی ہو تو لوگوں کوان کے جائزحقوق دلانا۔  کوئی بھی تحریک کسی فردِ واحد پر مشتمل نہیں ہوتی بلکہ انسانو ں پر مشتمل ہوتی ہے، جواجتماعی طورپر کسی غلامی، کسی ظلم یاانصافی یا حقوق سے محرومی کا شکارہوتےہیں۔جواس غلامی، یا ظلم یاانصافی سے نجات چاہتے ہیں، یعنی کوئی بھی تحریک ذاتی مفاد کے لئے نہیں بلکہ انسانوں کے اجتماعی مفادکے حصول کے لئے ہوتی ہے۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ غلامی، ظلم، ناانصافی اور محرومی کا شکار لوگ اپنی آزادی، اپنے حقوق اور انصاف کے حصول کے لئے اجتماعی طور پر جدوجہد کررہے ہیں یا نہیں۔ دنیامیں لوگ اسی وقت تک غلام یا اپنے حقوق سے محروم رہتے ہیں جب تک وہ غلامی یا محرومی سے نجات کے لئے جدوجہد نہیں کرتے اوراس مقصدکے لئے قربانیاں نہیں دیتے۔ جن کا مقصدیہ ہوکہ ان کے ملک میں ایسا نظام قائم کیا جائے کہ جہاں شہریوں کوغلام یا دوسرے تیسرے درجے کا شہری نہ سمجھاجائے بلکہ تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے، جہاں تمام شہریوں کوان کے بنیادی حقوق حاصل ہوں، جہاں کسی بھی شہری کو اس کے رتبے اوردولت کے بل پر حقوق اور انصاف فراہم نہ کیا جاتا ہوبلکہ امیر اور غریب سب کویکساں حقوق اورانصاف میسر ہو، جہاں امیرغریب اورتمام زبان بولنے والے چین وسکون کے ساتھ زندگی گزاررہے ہوں۔ ریاست ماں ہوتی ہے: عموماًریاست کے لئے ”ماں“ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے کیونکہ ماں فطرتاً اپنے تمام بچوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے، وہ اپنے بچوں میں امتیازنہیں کرتی، وہ ایسا نہیں کرتی کہ جوبڑا بیٹا ہو اس کوزیادہ کھانا دے اورچھوٹے بیٹے کو کم کھانا دے، بڑ ے بیٹے کواچھے کپڑے فراہم کرے اور چھوٹے بیٹے کومعمولی کپڑے فراہم کرے، ماں کی نظرمیں سب بیٹے برابرہوتے ہیں۔لہٰذا ریاست کوجب ماں کہاجاتا ہے توریاست کافرض ہوتا ہےکہ وہ اپنے تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کرے،کسی امتیاز کے بغیرانہیں ان کے تمام حقوق فراہم کرے۔
13
116
187
4,297
ᑕOᗰᖇᗩᗪE retweeted
*اورنگی ٹاؤن سیکٹر* #سانحہ_31_اکتوبر_1986 ⬛️⬛️⬛️⬛️⬛️⬛️⬛️⬛️ سانحہ 31 اکتوبر 1986 کے شہداء کی چالیسویں برسی کے موقع پر اورنگی ٹاون سیکٹر کے وفاپرستوں کی جانب سے دعائیہ اجتماع 👇👇👇 #سانحہ_31_اکتوبر_1986
4
6
63
ᑕOᗰᖇᗩᗪE retweeted
*ناظم آباد گلبہار سیکٹر* #سانحہ_31_اکتوبر_1986 ⬛️⬛️⬛️⬛️⬛️⬛️⬛️⬛️ سانحہ 31 اکتوبر 1986 کے شہداء کی چالیسویں برسی کے موقع پر ناظم آباد گلبہار سیکٹر کے وفاپرستوں کی جانب سے دعائیہ اجتماع 👇👇👇
1
7
15
85
ᑕOᗰᖇᗩᗪE retweeted
نہ بھولے ہیں، نہ بھولیں گے! 31 اکتوبر 1986 کے شہداء کو ان کی 40ویں برسی پر عقیدت بھرا سلام۔ شہداء کی یاد کو زندہ رکھنا، تاریخ کو محفوظ کرنا اور آنے والی نسلوں کو حقائق سے آگاہ کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ #سانحہ_31_اکتوبر_1986 @AltafHussain_90 @AwazEhaq90 @BBCUrdu @voaurdu @dw_urdu @USAUrdu  @ImranKhanPTI @NawazSharifMNS @CMShehbaz @MoulanaOfficial @sakhtarmengal @AimalWali @NaeemRehmanEngr @SirajOfficial  @HamidMirPAK @AajKamranKhan @shazbkhanzdaGEO @Kashifabbasiary @AsadAToor @asmashirazi @MazharAbbasGEO @WusatUllahKhan @Xadeejournalist @UmarCheema1 @AzazSyed @WaseemBadami @mujibshami1 @NasimZehra @SaleemKhanSafi @meherbokhari @ShahzadIqbalGEO  @ImranRiazKhan @ZarrarKhuhro @nidaFsameer @AtikaRehman @haroon_natamam @suhailswarraich @mubasherlucman
24
2
36
152
ᑕOᗰᖇᗩᗪE retweeted
*ناظم آباد گلبہار سیکٹر* #سانحہ_31_اکتوبر_1986 ⬛️⬛️⬛️⬛️⬛️⬛️⬛️⬛️ سانحہ 31 اکتوبر 1986 کے شہداء کی چالیسویں برسی کے موقع پر ناظم آباد گلبہار سیکٹر کے وفاپرستوں کی جانب سے دعائیہ اجتماع 👇👇👇
5
8
44
ᑕOᗰᖇᗩᗪE retweeted
*اورنگی ٹاؤن سیکٹر* #سانحہ_31_اکتوبر_1986 ⬛️⬛️⬛️⬛️⬛️⬛️⬛️⬛️ @AltafHussain_90 سانحہ 31 اکتوبر 1986 کے شہداء کی چالیسویں برسی کے موقع پر اورنگی ٹاون سیکٹر کے وفاپرستوں کی جانب سے دعائیہ اجتماع 👇👇👇
16
2
25
221
ᑕOᗰᖇᗩᗪE retweeted
سانحہ 31 اکتوبر ایک المناک سانحہ تھا کراچی میں سہراب گوٹھ اور حیدرآباد میں مارکیٹ چوک کے مقام پر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایم کیو ایم کے جلوسوں پر حملے کئے گئے #سانحہ_31_اکتوبر_1986
3
6
54
31 اکتوبر 1986 ایم کیو ایم کی جدوجہد کا ایک ناقابل فراموش دن ہے قائد تحریک الطاف حسین بھائی #سانحہ_31_اکتوبر_1986
1
2
14